Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 04)

Ishq Tera by Laiba Khan

زرغامان۔۔۔!

میر زر کی اواز پر اسکے اوپر کی جانب برھتے قدم رکے تھے

انکی جانب رخ موڑتا وہ انکے قریب ہی چل کر اجاتا ہے

وائٹ شرٹ پر بلو جیکٹ پہنے کہنیوں تک بازو چرھائے براؤں جیکٹ میں وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا

بالوں پر جوڑے کی شکل دیے ایک ہاتھ جیب میں ڈالے وہ دوسری پری چیئر سے ٹیک لگاتا ایک نظر ان کے پاس بیٹھی اپنی ماں کو دیکھ نگاہ پھیر گیا تھا

مجھے کچھ دنوں کے لئے انگلینڈ جانا ہے تمھاری ماں ،؟،،،،

ابھی وہ بول ہی رہے تھے

مگر انکی لفظ زرغامان نے روک کر اپنی بات انہیں جیسے باوف کروانج چاہی تھی

ماں نہی ہے یہ میری جو میری ماں ہے بس وہی ہے یہ عورت مسز میر زر ہو سکتی ہے مگر سید زرغامان کی ماں نہی ۔۔۔۔!گوٹ اٹ!

انکھوں میں سرخی برھ گئی تھی جیسے

اپنا ایک ایک لفظ پر وہ زور دے کر ادا کرتا جیسے ان سے کہ رہا تھا حفظ کر لیں میرے الفاظ

تمیز سے زرغامان ماں ہے یئ تمھارے کہنے سے کچھ نہی ہوگا اور دوسری بات میرے پیچھے کام تم سنبھالوگے ورنہ جہاں اج کل ہو نہ سارہ علم ہے مجھے جانتے ہو میر زر کیا کر سکتا ہے ۔۔۔!

وہ ابھی اور بھی کچھ بول رہے تھے

مگر زرغامان وحشت بھری انکھوں سے انہیں دیکھ انگلی انکی جانب اٹھاتا جب بولا تھا تو لہجہ میں چٹانوں سی سختی در ائی تھی

ڈونٹ یو ڈیئر مسٹر میر زر یاد رکھیں اب اتنی ہمت نہی ہے اپ میں اور اگر ہوتی تب بھی اپ زرغامان کا مقابلہ نہی کف سکتے میری عزت پر نگاہ ڈالنے سے پہلے اپنا اپ اپنے سامنے رکھ لینا ہد چیز کا علم تو مجھے بھی ہے زم۔۔۔!

اور وہ خاموش ہو گئے تھے

وہ جانتے تھے زرغامان انکے ہر افیئر ہر تعلق ہر راز سے واقف تھا ۔

مجھے نقصان پہچانا اپ کی اوقات نہی میر زر۔۔۔!

کالر پکر کر درست کرتا وہ نا دیکھی جانے والی دھول ان کے کندھے سے صاف کرتا کان میں سرگوشی کر رہا تھا

انکی خاموشی پر وہ طنزیہ مسکراتا اوپر کی جانب برھ جاتا ہے

پیچھے وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گئے تھے

ایک بیٹا تھا جس پر وہ جان سے زیادہ یقین رکھتے تھے اور ایک یہ تھا کسی مشکل سبق جیسا

سر جھٹک کر وہ واپس بیٹھ جاتے ہیں

پاس پری خالی کرسی دیکھ وہ سرد اہ بھر کر رہ گئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھری رات کے سارھے بارہ بجا رہی تھی اور اس لمحہ کچن میں ایلاف کھری ٹرگ میں دودھ کے گلاس اور ایک کپ کافی رکھے باہر نکلتی ہے

سب سے پہلے وہ اپنے بھائی کو دودھ دینے کے بعد اپنے بابا کے کمرے میں انہیں نماز پرھتا دیکھ ٹیبل پر ہی گلاس چھور کرعلیزہ کے کمرے میں داخل ہوتی ہے

سامنے ہی وہ واش روم سے بال ٹاول سے رگرتی ا رہی تھی

اسے دیکھ وہ مسکرا کر ٹاول رکھتی اسکے قریب اتی ہے

تم کیوں لائی میں ا رہی تھی نہ ۔۔!

اسکے ہاتھ سے اہنا کافی کا مگ پکرتی وہ مسکرا کر اسے ٹیبل پر رکھتی اسکی جانب مڑتی ہے

تو کیا ہوا اپ بھی تو ہمیشہ ہمارا خیال کرتی ہے جب کے اس گھر میں چھوٹی میں ہی ہوں اپ سے وہ بھی بس ایک سال۔۔۔!

علیزہ کو یاد دلانے والے انداز میں بتاتی وہ ٹرے پاس پری ٹیبل پر رکھے سائیڈ ٹیبل کی ڈرار کھولتی کچھ نکال کر اسکی طرف مڑتی ہے

میں لے لونگی ایلی تم جاؤ ۔۔!

بے تاثر لہجہ میں کہتی وہ اس کے ہاتھ سے وہ چیز چھین چکی تھی

اپی دیں مجھے نہی لینگی اپ جانتی ہوں ۔۔۔۔،

وہ لینے کے لئے اگے بھرتی ہے مگر علیزہ سائیڈ پر ہوتی اسکے سامنے ہی دوائی کھا کر ہاتھ باندھتی جانے کا اشارہ کرتی وہی جڑے ہوئے ہاتھ ماتھے پر لگاتی ہے

اپی یہ ضروری ہے اس لئے ۔۔

اس کی انکھوں میں ناجانے ایسا کیا تھا جو وہ صفائی دینے ہر اتر ائی تھی

ایلی پلیز مجھے اگر اس گھر میں کسی دوسری چیز سے گھٹن ہوتی ہے تو وہ یہی ہے میں رکھ سکتی ہو اپنا خیال ایلج سچ میں مجھے پتا ہے میں نے کیسے زندہ رہنا ہے تو خدارا یوں سب لگ بی ہیو کرنا چھور دو۔۔۔!

وہ شاید تھک گئی تھی

تبھی تو اج ایک شکرہ کرتی وہ سر ہکر کر بیٹھ جاتی ہے

میں دوائی پر کومپرومائز نہی کر سکتی اپی سچ میں یہ ضروری ۔۔،،،

وہ اپنی بات مکمل کرتی جب علزہ اٹھا کر پاس پرا کافی کا مگ دور اچھال دیتی ہے

وہ زمین پر گر کر چکنا چوڑ ہوا تھا

یہ سب اتنا جلدی ہوا تھا کہ ایلاف کچھ سمجھ ہی نہ پائی تھی

سٹوپ اٹ پلیز ایلی بس کر دو میں ہاگل ہو جاؤمگی جاؤ یہاں زے نہی مار رہی میں خود کو جب میری موت لکھی ہوگی اجائیگی ان دوائیوں نے زندہ نہی رکھا ہوا مجھے میں زندہ رہنا چاہتی ہوں تبھی زندہ ہوں کیونکہ زمیداریاں ہیں مجھپد بابا کی بھائی کی تمھاری ۔۔۔!

دونوں ہاتھ اٹھا کر بولتی وہ شدید ازیت میں نظر ا رہی تھی

اسکی ہاتھ اس قدر سختی اختیار کئے ہوئے تھے کہ رگیں صاف واضح دکھ رہی تھیں

اپی اپ کے پاس زندگی لے کیوں اخر پچھلے تین سال سے اسے یوں گزار رہی ہیں زندگی تو جینے کے لئے ہوتی ہے اپ نا شکری کر رہی ہیں اپی ۔۔!

وہ چھوٹی تھی مگر اکثر اپنے الفاظ سے وہ کئی سال علیزہ کو خود سے بری لگتی تھی

شائد اسکی ہمت اسکا صبر اسے نچورتا تھا کہ وہ کیوں نہی بن سکتی ایلاف جیسی

وہ مظبوط تھی

صرف دکھتی نہی تھی

اس نے خود کو بہت اچھے سے مظبوط بنایا تھا وہ اپنے باپ کے بے حد صابربیٹی تھی

ایلاف تم تم ہو میں علیزہ ہوں ایک ایسا پرندہ جس کے پر کٹ چکے ہیں

اور وہ خود کو دلاسہ دیتا ہے کہ اسے اڑان سے ہی نفرت ہے تاکہ یہ بھول جائے کہ اسکے پر کٹ گئے ا سلئے وہ اڑ نہی سکتا یہ ا یت کم کرنے کو یہ تو مان چکی ہوں اب یون ہی رہنے دو پلیز ۔۔۔!

دونوں ہاتھ جوڑ کر بولتی وہ اس پر ہی چہرہ ٹکا گئی تھی

اسکے الفاظ تیر کی طرح چبھتے تھے اس گھر کے ہر افراد کو ۔

اپی اپ سمجھتی کیون نہی ماضی کو جتنا کریدیں گیں گی اتنا ہی زخم گئرا ہوگا !

یاد رکھیں مگر ایسے کے یاد بھی ائے تو خاک کی مانند اپی ماضی یاد رکھنے کو ہوتا ہے مگر ایک سبق کی صورت نہ کہ ازیت کی ۔

سبق میں ملی ازیت نہی یاد رکھتے ،۔

اس سے ملی ہمت اس سے ملا سبق یاد رکھتے ہیں،،

یہ سبق ہی ہمیں حوصلہ دیتا ہے جینے کا ۔۔

وہ ابھی بول رہی تھی

جب رلیزہ پینک ہوتی اسے جانے کو بولتی ہے

مگر شاید اج وہ ٹھان کر ہی ائی تھی

ایلی میں نے کہا جاؤ ۔۔۔!

دونوں ہاتھوں سے پیشانی سہلاتی وہ چلا رہی تھی

ٹھیک ہے اپ رلیکس کریں ۔!!!!

اسے پینک ہوتا دیکھ وہ سیلینڈر کرنے والے انداز میں ہاتھ اٹھاتی دو قدم پیچھے لیتی ہے

تبھی اس کے بابا اور بھائی بھی دروازے تک اتے ہیں

شاید وہ کچھ ٹوٹنے کی اواز سن کر ائے تھے

اور اب وہ سامبے کھری علیزہ کو پھر سے پینک اٹیک اتے دیکھ پریشان ہو کر اسکی جانب برھتی ہیں

مگر وہ دونوں ہاتھون سے انہیں اپنے قریب انے سے روک رہی تھی

پلیز چلے جائیں خدارا اکیلا رہنا ہے مجھے جائیں ۔۔۔!

ان سط کو باہر نکال کر وہ دروازہ بند کرتی اسی سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس بھرنے لگتی ہے

ایلاف جاؤ کمرے میں ۔۔!

اپنے بابا کی سنجدہ اواز سن وہ علیزہ کے کمرے کا بند دروازہ دیکھ اگے بتھ گئی تھی

تم بھی زوار ۔۔!

بغیر اسکی جانب دیجھ وہ اس بند درواز کو دیکھتے اسے بھی جانے کا کہ دیتے ہیں

وہ بھی ایک نظر ان پر ڈال کر اپنے کمرے کی جانب برھ گیا تھا

ان کی نظر اب بھی اس بند دروازے پر تھی

ہم نہی سنبھال سکتت علیزہ تمھیں کیونکہ تمہاری زات اسی کو چاہتی ہے جس کا درد سینے میں چھپائے بیٹھی ہو۔۔!!

مگر کیا کروں علیزہ میں مجبور ہوں ۔۔!

ان کی انکھیں بھیگی ہوئی تھی

وہُ ایک بے بد بس تھا

انہیں یہ احساس اپنے ہاتھ پر گرے انسو سے ہوا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی کمرے میں ہی داخل ہوئی تھی

جب اسکا کب سے بجرا فون پھر بج اٹھتا ہے

اپنا فون اٹھا کر انون نمبر دیکھ وہ کٹ کرنے لگتی ہے

پھر اسے یاد ایا تھا کہ اسکی دوست کا دوسرا نمبر بھی ہو سکتا ہے

یہی سوچ وہ کال یس کے کے کان سے لگاتی ہے

مگر دوسری جانب بلکل خاموشی تھی

ایلاف احسن ۔۔!

وہ فون اپنے سامنے کر کے دیکھ رہی تھی

جب سپیکر سے بھاری مردانہ اواز گونجتی ہے

انکھیں سکیڑے وہ فون واپس کان سے لگاتی ہئے

اپ کون ۔۔؟

سرد لہجہ میں پوچھتی وہ حیران بھی تھی

کہ یہ کون تھا جو اسکا نام جانتا تھا

سید زرغامان میر زر !۔۔۔۔

اپنا نام پورا بتا کر وہ خاموشی سے بالکونی میں نکل ایا تھا

سامنے کا نظارہ بے انتہا حسین تھا

سیاہ اسان پر تارے چمکتے ایک حسین منظر پئش کر رہے تھے

چاند مکمل نہی تھا

مگر اس کی روشنی پھیلی ہوئی تھی

وہ اگے برھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے

سوری رونگ نمبر۔۔!

اسکی اواز پر زرغامان کی چہرے ہرمسکراہٹ بکھری تھی

زرغامان کبھی صحیح کو غلط نہی کرتا ۔۔!

ٹیک کگا کر انکھیں بند کرتا وہ دوسرے جانب ا س کی سانسوں کی چلتی کبھی سلو کبھی تیز ہوتی رفتار سن رہا تھا

بھار میں جاؤ جاہل انسان اگر اب یہاں فون کیا نہ تو ہشر دیکھنا اپنا ۔۔۔

غصہ میں بولتی وہ اچھی خاصی کر کے فون کھٹاک سے بند کر کے بیڈ پرپٹکتی واش روم میں گھس جاتی ہے

غصہ کسی صورت کم نہی ہو رہا تھا

کتنے ہی پانی کے چھینٹے چہرے پر مار کے وہ باہر نکلی تھی

فون پرایک ناگوار نظر ڈالتی وہ کاؤچ پر بوکس اٹھا کر بیٹھتی ہرھائی میں خود کو مگھن کر لیتی ہے

یہی روٹین تھی

مگر اج جو الگ ہوا تھا

وہ عکیزے کا بولنا اور یہ رونگ کال

بات شاید رونگ کال کی نہی تھی

وہ اواز اور اہنا نام سننا اسے اس جانب متوجہ کر رہا تھا

اس نے سوچ لیا تھا صبح ہوتے وہ یہ نمبر اپنے بھائی کو دیگی

اگے وہ جانے اور وہ شخص

خود ہی ڈر جائےگا بھائ کی ڈانٹ سے ۔۔

بربرا کر وہ رجسٹ پر کچھ لکھنگ گلتی ہے

مگر شاید اسے یہ سب اتنا اسان لگ رہا تھا وقت جو ناجانے کتنے ہی امتحان اس کے سامنے لانے والا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان سب کے جاتے اس کمرے میں موجود اس دوسرے وجود نے پردہ سرکا کر دروازے سے لگ کر بیٹھی علیزہ پر ایک نظر ڈالی تھی

جو گلے پر ہاتھ رکھے مسلی جا رہی تھی

شاید اسے سانس لینے میں دکت ہو رہی تھی

پردہ جھٹکے سے خود سے دور کرتا وہ لمحہ میں فاصلہ اپبے اور اس کے بیچ کا مٹاتا اسے اپنی جانب کھینچتا ہے

علیزہ جو انجان تھی ہر چیز سے

اچانک ہوئی کاروائی ہر اس شخص کے کھینچے پر کٹی ڈ کی طرح اس کے سینے سے لگی تھی

مگر چہرے اوپر اٹھاتے اس شخص پر نظر جاتے وہ سانس لینا جیسے بھولی تھی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *