Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 09)

Ishq Tera by Laiba Khan

احمر کیا امی اگئی ہیں ۔۔۔؟؟

زرغامان جو ایلاف کو اپنے پرسنل فلیٹ میں لایا تھا فلیٹ کے اندر داخل ہوتے اپبے وفادار ملازم کو سامنے کھرا پا کر سوال کرتا اسے ایلاف کا بیگ پکرا دیتا ہے

یس سر وہ اس وقت اپنے کنرے میں موجود ہیں ۔۔!

احمر کا جواب سنتا وہ پاس کھری ایلاف کا ہاتھ تھامتا لیفٹ سائیڈ پر بنے کمرے کا دروازہ نوک کرتا اندر داخل ہو جاتا ہے

کمرے میں داخل ہوتے سامنے ہئی بیڈ ہر ایک خاتون بیٹھی تھیں جو لک بھک ساٹھ کی عمر تھی

ایلاف نے دیجھتے ہی انئیں پہچان لیا تھا

وجہ یہ نہی تھی کہ زرغامان نے پئلے ہی انکے بارے میں پوچھ لیا تھا

وجہ ان کی انکھوں کا رنگ تھا یا بال

جو زرغامان اور اسکی والدہ کے ہم رنگ تھے

اس کی والدہ اس عمر میں ہوتے ہوئے بھی ایک صحت مند خاتون نظر آ رہی تھیں

ہاں انکھوں جے نیچے بے شمار ہلکے موجود تھے

امی یہ ایلاف ہے ایلاف زرغامان ۔۔۔!!!سرشاری سے بولتا وہ اپنی والدہ کی مسکراہٹ کی وجہ بن گیا تھا

اسکے خوشی اسکے چہرے سے بیان تھی جو اسکی مقدر بن چکی تھی

ادھر آؤ ۔۔!!

ایلاف کو ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب بلات وہ اپنے پاس خالی جگہ کی جانب اشارہ کرتی اسے بیٹھنے کا کہ رہی تھیں

اچانک ہی زرغامان کا فون رنگ ہوا تھا

جس ہر وہ اکسکیوز کرتا کمرے سے باہر نکل جاتا ہے

اب اس کمرے میں اس کی والدہ اور ایلاف موجود تھیں

کمرے خاموشی کی نظر تھا

جس کو زرغامان کی والدہ توڑتی ہیں

جانتی ہوں بہت سے امتحانات سے گزر کر ائی ہوگی !!

مگر تمہارا چہرہ دیکھ لگتا ہے اس وقت کے امتحان تمھارے چٹان سی مظبوطی کو توڑنے میں ناکام رہے ہونگےواقف ہوں جیسے نکاح ہوا ئے

زرغامان مجھ سے سب شیئر کرتا ہے !!

میرے نہ انے کی وجہ وہ ہے

بات ادھوری چھورتیں وہ لیفٹ سائید لگی وال پر تصویر کی جانب اشارہ کر رہی تھیں

ایلاف جو غور سے انہیں سن رہی تھی انکے یوں اچانک اشارہ کرنے پر اپنی نظر اسی جانب کرتی ہے جس جانب انہون نے اشارہ کیا تھا

سامنے ئی وال پر ایک تصویر لگی تھی جس میں زرغامان کی والدہ ان کے ساتھ ایک شخص اور بچہ تھا

یقینا وہ شخص انکا شوہر اور زرغامان کا والد تھا اور وہ بچہ زرغامان

دنیا پر موجود بہت سے رشتے کومپلیکیٹڈ ہوتے ہیں !!

مگر سب سے الگ رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے

جس کو ہمیں سمجھنا نہی سلجھانا ہوتا ہے ساری عمر ۔۔

ہر میاں بیوی کا رشتہ الگ سا ہوتا ہے

جیسے کہانیاں الگ ہوتہیں,,,

ویسے ہی ہر ایک کی زندگی کی کہانی مختلف ہوتی ہے تو رشتہ بھی الگ ہوتا ہے

کچھ اجنبی ایک ہو جاتے ئیں ،،،تو کچھ محبت کرنے والے

بس ملانے والا اللہ ہوتا ہے !!

تمہارا اور زرغامان کا جوڑ میرے رب نے لکھا تھا

اور میرا رب کوئی غلط فیصلہ نہی کر سکتا ہمیں اس کی مصلیحتیں سمجھ نہی اتیں کیونکہ ہم انسان ہیں !

یہ سب باتیں کرنےکی وجہ بس ایک ہے کسی مجبوری کی تحت کسی منصوبے کی تحت موجود نہی ہو تم یہاں میرا بیٹا محبت کرتا ہے تم سے وہ بس تنھارے لئے اچھا چاہتا ئے بہترین چاہتا تھا ۔۔!

اب تم دونوں ایک مظبوط بندھن میں بند چکے ہو

جتنا زرغامان نے تمہارا زکر کیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ تم بہت سمجھدار ہو یہ باتیں بتانے کی وجہ یہی ہے میری بیٹی اگر میں نے بیٹی کہا ہے تو ایک ماں ہونے کا فرض بھی ہور کرونگی ۔۔

میاں بیوی کا رشتہ ایک لباس کی طرح ہوتا ہے وہ دونوں ایک دوسرے کا لباسہوتے ہیں

ایک دوسرے کے دوست ،

زرغامان کو سمجھنا ہے تو اسکی دوست بن جانا !!

وہ جان وار دینے والوں میں سے ہے

ارے کب سے میں ئی بولی جا رہے ہوں تم بھی تو بولو نہ ۔۔!

اسے خاموشی سے خود کو سنتا دیجھ وہ ہنس کر اسکا چہرہ ہیار سے چھوتی ہوئی کہتی ہیں

ان کے کہنے پر ایلاف محض مسکرا کر نفی میں سر ہلاتی ان کا ہاتھ تھام لیتی ہے

زندگی کے امتحان زندگی کے پاس زندگی ہونے تک رہتے ہیں

اور بہادری تو ہر عورت میں ہوتی ہے شاید یہ اسکے پیدا ہونے کے ساتھ اسے دے دی جاتی ہے

وہ جتنی باہر سے کنزور ہو اندر سے اس قدر مظبوط ہوتی ہے۔۔!

جانتی ہوں ہر ماں کو اپنی اولاد کا ڈر ہوتا ہے اسکا جڑا نیا رشتہ کہیں اس گھر کے لئے کوئی امتحان بن کر نہ کھرا ہو جائے یہ ڈر ہوتا ہے

میں جانتی ہوں یہ اللہ کا فیصلہ جس ہر مجھے کوئی اعتراض نئی !

میں یہ بھی جانتی ہوں وہ اچھے ہیں وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں

یہ بات اپ اور میں جانتے ہیں ان کا طریقہ کار غلط تھا جس کی سزا انئیں اپ کی بیٹی ضرور دیگی فکر مت کریں اس گھر کو اپنا گھر مان کر پہلا قدم رکھا ہے اس گھر کے لئے انتحان نہی بنونگی

اپ میرے لئے میری ماں ہیں کوئی نصیحت کچھ بھی کر سکتی ہیں ٹوک سکتی ہیں ۔۔۔

بس یہ مت چاہیں کہ اتنی جلدی میں انئیں اپنا لوب

میرے لئے یہ مشکل ہے !

یہ وقت یہ لمحہ یہ رشتہ سب ایک کٹھن راستہ کی صورت ہے ،،،

میں کوشش کرونگی

اللہ کریگا اپنے کوشش میں کانیاب بھی ہونگی !!

یہ رشتہ اللہ نے بنایا ہے تو سنوارنے اور بنھانے میں میری مدد بھی کریگا

ہر رشتہ کی سچائیاں ہوتی ہے

میں جانتی ئو اپ کے نا انے کی وجہ اپ سے جڑی اس رشتہ کی سچائی ہے

اور میرے یہا ہونے کی وجہ میرے رشتہ کی سچائی رات بہت ہوگئی ہے انٹی اپ کو آرام کرنا چاہیے۔۔!

ان کا ہاتھ تھانت فکر مندی سے بولتی وہ بے حد معصوم لگی تھی

میرے بیٹے کی ہپسند اور اللہ کی دی یہ رحمت واقع لا جواب ہے ۔۔

ایلاف کی ہیشانی چومتی وہ فخریہ بولتی اندر اتے زرغامان کے چہرے ہر بھی مسکراہٹ کے ائی تھیں

ہوگئےلمبی چوری ملاقات اب سو جائیں ایلی بھی تھک گئی ہوگی میں اسے بھی روم میں لے جاتا ہوں اور اپ نے میڈیسنز لی تھیں نہ ۔۔؟

ان کے قریب اتا سائیڈ ٹیبل پر پڑی میڈیسنز دیجھ کر سوال کرتا وہ ایک نظر خاموش کھری ایلی ہر بھی ڈال دیتا ہے

جو سرچجھکائے کسی غیر مرعی نقطے کو تکنے میں مصعوف تھی

لے لی تھی لے جاؤ میری بیٹی کو بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہے جاؤ ایلاف ارام کرو تم بھی ۔۔۔!

محبت بھرت لہجہ میں کہتیں وہ اپنی اوپر کمفرٹر ڈالتی لیٹ جاتی ہیں

چلو اجاؤ ۔۔!

زرغامان ایک نظر اہنی والدہ ہر ڈالتا کمرے کی لائٹ اوف کرتا ایلاف کا ہاتھ تھام کر باہر نکل اتا ہے

تمھارا زب سامان اس روم میں موجود ہے جاؤ چینج کر لو ایلی ۔۔!

اس کمرے کے قریب دوسرے کنرے کا دروازے کھولتا اسے اندر لا کر وہ واپس مڑ جر دروازہ بند کرتا اسے برا رہا تھا

جو کمرے کو دیجھنے میں گم تھی

وئ کمرہ اپنی خوبصورتی کی مثال اپ تھا

سفید اور سیاہ فرنیچر دیواروں ہر لگی مہنگی ہینٹینگز بے حد حسین تھی

جس پینٹینگ ہر اسکی نظر رکی تھی وہ سامنے لگی خانہ کعبہ اور روضہ رسول کی بنائی گئی تصویر ہد تھی

جو بہت حد خوبصورت طریقہ سے بنائی گئی تھی

حسین ہے نہ یہ مجھے ماما نے گفٹ کی تھی ۔۔!

اسے سامنے لگاتار دیکھتا دکجھ زرغامان مسکرا کر اسکی نالج میں اضافہ جرتا دو قدم دور کبرڈ سے کہتے نکالتا اسکے نزدیک اتا ہے

یہیں رہنا ہے میڈم باقی کنرے کو بعد میں دیکھینا ابھی جاؤ چینج کرو دیکھو گردن پر اس بھاری گلے کی وجہ سے سرخی اتر ائی ہے جاؤ زخم نہ ئو جائیں تکیلف ہونی اس سے ہئلے ئی چینج کر کو ۔۔۔!

اسکے ہاتھ میں ٹراؤزر اور شرٹ پجراتا اپنے بھی جہرے کےتا وہ ڈرسینگ میں بند ہو جاتا ہے

جب کچھ زخن نصیب میں ہوں تو ول مل کر ہی رہتے ہیں ۔۔!

ہاں ان پر کیا جابے ولا صبر ہمیں بے انتہا حسین مستقبل سے نوازتا ہے۔۔!مسکرا کر ایک نظر سامنے ڈالتی وہ واش روم کی جان برھ جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلی کیا کر رہی ہو رکو ۔۔؟

زرغامان جو چینج کرنے کے بعد باہر کھانا لانے گیا تھا

ابندر داخل ہوتے ٹھٹھک کر رکتا ہےکیونکہ ایلاف اپنے بالوں سے جنگ کرنے میں مصروف تھی

کچھ بال چہرے ہر بکھرے پرے تھے کچھ پیٹ ہر تو کچھ الجھے ہوئے کندھے ہر

یقینا اس سے پنز نئی نکل رہی تھیں

مجھ سے ہو نہی رہا تھا تنگ اگئی تھی اس لئے ۔۔!

سادگی بھرا جواب دیتی وہ دونوں ہاتھ نیچے کر دیتی ہے

میں کس مرض کی دوا ہوں بیٹھو یہاں ارام سے ۔۔!

ٹیبل پر ہاتھ ہکر کے بٹھاتا وہ نرمی سے پنز ڈھونڈھتا نکالنے کگتا ہے

لو ہو گیا اتنا آسان تھا خامخاہ خود کو ہلکان کر رہی تھی ۔۔!

بال کو ہیئر برش سے سلجھاتا وہ ایک دو انگلیوں سے اسکی پیشانی کو چھوتا اسے چھیر رہا تھا

مجھ سے جتنا ہوا میں نے کیا ۔۔!

نظریں جھکا کر جواب دیتی وہ اسکے ہاتھ سے بال چھراتی انہیں کیچر میں قید کرُلیتی ئے

بچی ہو کیا تم سمجھ نئی اتی یہ کیچر لگا کر سوئی تو لگے گا نہی گردن ہر ۔۔

بالوں میں لگا کیچر اتار کر ربر بینڈ دیتا کھانا پلیزت میں نکالن لگتا ہے

اب خاموشی سے ایلاف تنھارے قدم نمری جانب انے چاہیے اکر کھانا کھاؤ ورنہ اگر میں کھلانے ہر ایا تو تم مجھے جانتی ئو ۔۔!

اسے بیڈ کی جانب جاتا دیکھ زرغامان یوں ہی کام جرتا اسے وارننگ دیتا ہے

مجھے بھوک نئی ئے جب لگے گی کھا لونگی اپ کو فکر کرنے کی حرورت نئی ئے ۔۔!

جوابی کاروائی کرتی بیڈ ہر بیٹھر وہ جوتا اتارتی بلینکٹ میں گھستی ہے

ایلی کیوں بات بات پر ضد اجاتی ہے ؟؟

کرو نکھرے ہر نکھرا اٹھاؤنگا مگر اہنی صحت کھ ساتھ یوں کروگی تو ہر گز بھی نہی سن سکتا اٹھو اور آو یہاں ۔۔!

روعب دار کہجہ میں بولتا وہ چہرے ہر سنجیدہ تاثروت لے ایا تھا

ہر بات ہر زبردستی کیوں کرتے ہیں آپ ۔۔!؟؟

جب کہ دیا نئی کھانا تو نہی کھانا نہ میرے ہاتھ ہیں بنا کر جب بھوک لگی جکاگ ہونگی یوں فکر مت دکھائیں اپ کو کھانا ہے کھا لیں!!

اکتاہٹ بھرت کہجہ میں جواب دیتی وہ پیشانی مسلنے کگتی ہے

ایک نظر کھانے ہر ڈاکتا وہ اٹھ کر اسکے قریب اجاتا ہے

کیوں کھانے کو دوڑ رہی ہے یہ جنگلی بلی جب کہ اتنی مظبوط اور بہادر ہےبتاؤ مجھے کیا کہیں سے میری نظروں میں دوغلہ پن نظر ایا ہے ؟؟؟

کیا کوی ایسا الفاظ جس سے سچائی نہ جھلکی ہو تو کیوں یوں خود پر پہرے بٹھانا چاہ رہی ہو ۔۔؟

تم ایلاف زرغامان ہو سب کے لئے مگر میری ایلی ہو جس میں جان قید ہے میری ۔۔!

اسکے قریب بیٹھتا نرمی سے حصار میں قید کرتا سر اسکا سینے ہر رکھے بال سہلاتا اسے پرسکون کر رہا تھا

اس رات میرے لئے اپ فرشتہ بن کر ایے تھے اور اج وہ سب کیوں آخر کیون نئی دیتا کوئی جواب میرے دماغکی نس پھٹ جائےگی سوچ سوچ کر ۔۔۔!

اس سب کھیل کی وجہ آخر تھی کیا مجھ کوئی جواب نئی مل رہا مان ۔۔؟!!

مظبوطی سے اسکے گرد حصار باند کر بولتی وہ آخر میں رو دی تھی

انسوؤں کے سیکلاب کے زریعے شاید وہ اپنا غم ببہا دینا چاہتی تھی

مان ہے نہ تمھارا سب جواب دیگا مگر تب نہ جب اس میں ہمت ہوگی اور میری ہمت کون ئے تم ۔۔۔؟؟!!!

تو مظبوط بنو جب کمزور پروگی میں ہوں ہر قدم پر چلو اٹھو کھانا کھا لو ہھر سو جانا ۔۔!

نرمی سے اسکی ہیشانی چومتا زرغاماں اسے یون ہئی خود سے لگائے کھرا کرتا۔ صوفہ کے قریب لے اتا ہے ۔۔!

مجھے چائے پینی ہے ۔۔

اسکے ہاتھ سے نوالہ لیتی وہاں موجود کولڈ ڈرنگ ہر نظر ڈال کر کہتی اسے بے حد کیوٹ لگی تھی

ابھی اجائگی پہلے کھانا ختم کرو ۔۔!

چہرت ہر موجود اسکے بالوزن کی لٹ ہٹاتا وہ اہنے ساتھ اسے بھی کھانا کھلا رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔

اسوقت اس مینشن میں ہر جانب روشنی تھی

سوائے اس کمرے کے

کمرے میں ہرجانب اندھرا تھا سوائے کھرکی میں کھرے اس شخص کے ہاتھ میں جلتی اس سگریٹ کی روشنی کے

کتنے ہی گھنٹے گزر گئے تھے وہ یہیں ہر کھرا ناجانے کتنی سگریٹ ہھونک چکا تھا

مگر زہن تھا جو مفلوج ہوا ہڑا تھا

انکھیں بند کرتے ایک بار ہھر ان حسین منظرں نے اسے قید کر کیا تھا

راج ۔۔۔

میں یہاں ئوں!!!

راج!!

راج،،،

سفید سوٹ میں ملبوس وہ لرکی بھاگتی ہوئی سیرھیوں سے اترتی وہ راج اگے اگے بھاگتی بار بار مڑ کر ہچھے دکجھ رہے تھی

اس کے حسین بال بار بار ہیچھے مرنے کی وجہ سے اسکےچہرے ہر ا رہے تھے

جس کا فائدہ اٹھاتا وہ اس تک پہنچ کر اسے بازوؤں میں اٹھا چکا تھا

راج کی دنیا یار اسے دور اچھی نہی لگتی ۔۔!

اس گونجتی ہوئی اواز میں ان لمحوں میں اس لمس میں محبت تھی

یا انتقام سے بھری نفرت

اسکی گود میں موجود لرکی اب کھلکھا کر ہنستی اسکا چہرہ دور کرنے میں لگی تھی

شاید اسے داڑھی کی چبھن سے اسے گدگدی ہوئی تھی

جھٹکہ سے انکھیں جھولتا وہ وہاں اس اندھیرے میں لوٹ ایا تھا

میں اس نفرت کو اختتام تک لے کر جاؤنگا ۔۔!

یہ وجود اب کبھی تمھیں اہنے وجود کا حصہ نہی بننے دیگا لیزہ !!!

زور دار مکہ سامنے لگے ونڈو کے شیشہ ہر مارتا وہ اسے چکنک چور کر گیا تھا

جس سے کئی شیشہ کے ٹکرے اس کے ہاتھ میں کھب گئے تھے

مگر وہاں ہرواہ کس سے تھی ،؟؟

درد کیسا تھا

خون کی بوندیں زمیں ہر گر رہی تھیں

مگر وہ شاید حسین گزرے منظروں میں مگن تھا !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *