Ishq Tera by Laiba Khan NovelR50603 Ishq Tera (Episode 12)
Rate this Novel
Ishq Tera (Episode 12)
Ishq Tera by Laiba Khan
“ماضی”
نہی چھور دو ۔۔
آنی آنی ،،،
چھور دو میری آنی کو ؟
شچچ
گندے انکل پلیز لیو ہر پلیز۔۔۔!
بند کمرے میں اس معصوم بچے کی چیخیں وہیں گھٹتی جا رہی تھیں
نہ ان انسان کے روپ میں چھپے جانوروں کو خدا یاد ایا تھا
نہ اس وقت زمین پھٹی تھی جس میں وہ معصوم چھپ جاتی اس بچی کو لے کر ۔
اس ظلم کی داستان نہ ختم ہوئی تھی نہ ہو سکتی تھی
اچانک ہی بیڈ پر لیٹا وہ وجود حرکت میں اتا اٹھ بیٹھتا ہے
اس سردی کے موسم میں بھی وہ پسینے میں شرابور تھا
جیسے ایک بار پھر اسے ان ماضی کی تلخ یادوں نے جھجھور ڈالا تھا
چھے فٹ قد چوڑا سینہ وہ اب جوان تھا ہاں وہ بچہ اس تلخ ماضی کو ساتھ جیتے جیتے جوان ہو گیا تھا
مگر اس ماضی میں ہوئی درمدگی کا انتقام باقی ہے کل سے تمھاری بربادی شروع !!!
دیوار پر لگی تصاویر کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتا وہ پاس پرا ایک تیر اٹھا کر اسکے دل کا نشانہ باند دیتا ہے
اگلے ہی سیکیکنڈ تیر اسکے ہاتھ سے نکل کر سیدھا نشانے پر لگا تھا
اب گیم شروع اس بار کھیل بھی میرا بسات بھی میری اور ہار تمھاری
اس کے لہجہ میں چٹانوں سی سختی تھی اور لہجہ میں پختگی تھی
وہ ہتھر تھا
یا بنا دیا گیا تھا
اب ایک خون کے لوتھرے سے موابلہ تھا ائک بے جان سخت ہتھر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا کیا ہوا اپ کو ۔۔!
سامنے سے اتے اپنے باپ کو کسی کا سہارا لے کر چلتے دیکھ وہ چیخ کر انکی جانب بھاگ ائی تھی
ان کے سر پر پٹی بھی موجود تھی جس پر خون کے دھبے صاف واضح
تھے
ارے کچھ نہی ہواپرئشان مت ہو یہ تو بروقت نوجوان نے بچا لیا ورنہ تو ۔۔۔۔۔!
ہنس کر بولتے وہ ساتھ چلتے لرکے کے کندھے پر تھپکی دیتے شک کرنے والے انداز میں بول رہے تھے
وہ واقف تھے کوئی بھی تو نہی تھا ان کی اولاد کا ان کے سوا
یہ فرض تھا میرا آپ خیال رکھیے گا اپنا اب۔
صوفہ پر بٹھاتا وہ نوجوان لرکا رخ موڑ لیتا ہے
سیاح جینز پر سیاہ ہی شرٹ ا سپر براؤں جیکٹ پہنے سلیوز کہنیوں تک فولڈ کیے ہلکی میسی سی داڑھی میں وہ غضب کا ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔!
اس پر جادو کرتی اس کی سیاہ آنکھوں کی چمک جو کسی کو بھی اہنے سحر میں جکھڑ سکتی تھیں
ارے بیٹے بیٹھو بیٹے جاؤ چائے بنا کر بھیجو ۔۔!
پاس پریشان کھری بیٹی کو کہتے وہ واپس اس لرکے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں
برخوردار نام بتاؤ اور بیٹھو آرام سے ۔۔۔!
اسکے کمدھے ہر زور دیتے وہ اسے پاسپرے صوفہ پر بٹھا دیتے ہیں
معارج ۔۔
ان کا ہاتھ نا محسوس طریقے سے اپنے کندھے سے ہٹاتا وہ جبرا مسکرا کر جواب دیتا ہے
بابا کیا ہوا ہے اپ کو اور یہ لرکا کون ہے ۔۔؟
گھر میں داخل ہوتے زوار اپنے باپ کو یوں بیٹھے دیکھ لپک کر سوال کرتا ہے
ارے کچھ نہی ہوا ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے ان ہسپتال والوں نے پٹی باندھ دی ست پر بس اللہ کا شکر کے اس لرکے نے باقی نقصان سے بچا لیا اور ہسپتال۔ بھی لے گیا ۔۔۔
سچ میں تم جیسے جوان اج کل کہاں پائے جاتے ہیں ۔۔؟؟
اپنے بیٹے کو واقعہ بتاتے وہ پاس بیٹھے معارج کو بھی تشکر بھری نظرون سے دکھھ رہے تھے
میں نے کہا نہ کوئی ہریشانی نہی اپ خیال رکھئے اور کوئی تکلف مت کیجیے میں چلتا ہوں ۔۔!
ان کی بغیر سنے وہ ایک ائک بھاری قدم لئتا باہر نکل گیا تھا
بابا شکر ہے وہ چلا گیا یہ کیا بات ہوئی ہوں اتنی کالز کی میں نے اوپر سے ایجسیڈینٹ کرا کر اگیے کہا بھی تھا مت جائں مت جائین مگر کیون سنیں گے میں تو فالتو بولتی ہوں نہ ؟؟؟ اوپر سے اس لرکھ کو بٹھا دیا تاکہ اپ کی کلاس نہ لوں نہی اج بتا دیں کونسا بدلہ لے رہے ہیں اپ ،،،آپ جانتے ہیں اپ میں سانس اٹکی رہتی ہین ہماری پھر بھی !!بولتی بولتی وہ اچانک ہی رو دی تھی
لو بھئی شروع ہوگئی یہ میسمی میں کہتا ہوں کر دیں اس چریل کی شادی تاکہ میری باری ائے بابا ۔۔!
اپنی بہن کو باپ کے گلے سے لگا دیکھ زوار بھی نوالہ پھینکتا ہے
جو درست وقت پر درست جگہ جا کر لگا تھا
ہاں تمھیں بس اہنی شادی کی ہے فکر مت کرو تم دونوں شیطانوں کی کر کے کہیں جاؤنگی یوں اپنے باپُ کوکیوں تم جیسے پاگلوں کے حوالے کروں ہوں ۔۔۔!
لاڈ سے باپ کی گلے مین بازو ڈال کر بولتی وہ بے حد معصوم لگی تھی
ابھی تو دوسری پٹاخہ نہی ہے ورنہ اس کا بھی لئکثر ابھی سننا پرتا ۔۔!
کانوں کوُہاتھ لگاتے دوسری بیٹی کا سوچ وہ ہنس دیتے ئیں
انہی مین تو جان بستی تھی انکی
بابا پلیز بی سیریس اپ خیال رکھئں ہم ہیں نہ کیوں کرتے ہیں اپ بھائی ا رہا تھا لے اتا سب سامان اپ کیوں گیے خدا نا خواستہ کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔؟
اب وہ بیٹھے شام کی چائے کے ساتھ دوسری بیٹی کا لیکچر سن رہ تھے
عجیب پھنسا ہوں یا خدا لوگ بیمار ہوتے ہیں ارام کرتے ہیں میں لیکچر سنتا ہوں ۔۔۔
اسمان کی جانب دیکھ کر بولتے وہ زوار کی ہنسی کی وجہ بن گئے تھے
کیا بولا ہھر بولیے گا ۔۔!
پاس بیٹھی لیکچر دیتی ایلاف شائد ان کی کہی بات سننہی سکی تھی
جس پر اب بحث جاری تھی
کھرکی کے پاس کھری علیزہ بس ہمسے ہی جا رہی تھی
وہ ایک خوشحال فیملی تھی
جو ہر دکھ درد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمقدم تھی
زوار اور علیزہ ہاتھ پر ہاتھ مارتے اپنےباپ کی بنیُ معصوم چشل دیکھ رہے تھے
جس پر صاف لکھا تھا بچا لو اس ڈائن سے
مگر وہ دونوں پاپ کورن کھاتے اس فلم کا مزہ لینے می مںصروف تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بابا مجھے لازمی اس شوپ سے پرفیوم لینا ہے پلیز چلیں ۔۔۔
علیزہ احسن صاحب کا ہاتھ ہکرے انہیں کھجنچتی ہوئی دو قدم کے فاصلہ پر بنی پرفیوم کی شوپ پر لے جا رہی تھی
نہی بھئی تم نے زمدگی میں ایک بار بھی ہرفیوم چوز کیا ہے کوئی بھی پسند اتا ہے تمھیں ۔۔؟
میں نہی جا رہا تین گھنٹے لگاؤگی اور کہوگی نہی اس میں کوئی خاص بات نہی ۔۔
اس کی ہنیشہ کی کہی بات منہ بنا کر بولتے وہ ہاتھ چھرا لیتے ئیں
اب نہی کرونگی چلیں نہ پلیزززز ۔۔!
سر پر دوبٹہ سے حجاب کیے نیچے سیاہ برقعہ پئنے وہ شاپنگ مال کے تھرڈ فلور پر اپنے بابا کے ساتھ موجود تھی
ایلی اور زوار کیفہہ ٹیریا میں بیٹھے ان کاُانتظار کرہے تھے
انکھیں پٹپٹاتی وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑتی انہیں آخر لے ہی ائی تھی اندر
مگر اندر داخل ہوتے زوردار وہ کسی پلر جیسی چیز سے ٹکرائی تھی
آوچ بابا پلر کہاں سے ایا ۔۔!؟
انکھیں بند کیے ماتھا مسلتی وہ پاس کھرے اپنے باپ کو پکارتی ہے
ارے تم معارج ہے نہ ۔۔
اپنے سامنے کھرے ا س مہربام کو دیکھ وہ اسے بلغلگیر ہوتے علیزہ کو بھول بیٹھے تھے
بابا ۔۔
اپنے باپ کو کہیں مصروف دیکھ وہ دانت پیستی ہلکی اواز میں احتجاج کر بیتھی تھی
اوہ سوری ٹھیک ہو نہ تم ؟؟ویسے تنھیں یاد ہے نہ معارج ارے وہی جس نے اس دن میری مدمد کی تھی ۔۔!
ہفتہ پہلے والاُپوا واقعہ بتاتے وہ اپنی بیٹی کے بورنگ ایکسپریشن نہی دیکھ پائے تھے
کیونکہ اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا
اہ بات کریں میں اتی ہوں ۔۔!
دانت پیس پیا کر بولتی اج شاید وہ اپنے دانت پیس ہی ڈالنے کا سوچت بیٹھی تھی
کیسے ہیں اپ انکل ۔۔
وہ کہتے ہیں نہ شکار کی نظر دور سے بھی پہچان لیتی ہے شاید یہ لمحہ بھی وہی تھا
نظر کہان تھی مگر سوچ شکار پر موجود تھی
اللہ کاشکر ہے بیٹے تم سناؤ ۔۔؟
دکان کے بیچ میں وہ دونوں کھرے ناجانے کونسے راز و نیاز کر رہے تھے
ادھا گنٹہ ہوچلا تھا
دوسری طرف علیزہ ہر پرفیوم ہی ریجیکٹ کیے جا رہی تھی
ہاں بھئی ایا کوئی پسند ؟؟
احسن صاحب جانتے تھے یہ سوال بے معنی تھا مگر پھر بھی پا س کھرے اجنبی لرکے کی خاطر پوچھ بیٹھتے ہیں
نو بابا چلیں ہم چلتے ہیں ۔۔!
اب تک معارج کو اہنے باپ کے ساتھ دیکھ نظریں جھکا کر پرفیوم کی بوٹل واپس کرتی وہ اگے برھنے لگتی ہے
رکئے ۔۔
اچانک ہی معارج دور جاتی علیزہ کو پکار کر اسکے رخ مورتے ایک لمحہ ٹھرنے کا شارہ کرتا پاس کھرے لرکے کو کچھ کہتا ہے
کچھ ہی لمحہ بعد وہ ہاتھ میں ایک ہرفیوم کی بوٹل لیے واپس اتا ہے
کچھ لوگ ہوتے ہیں انکل جنہیں خوشبو پسند ہوتی ہے مگر اپنے احساس سے ملتی خوشبو کہیں نہی ملتی اپ ایک بار یہ چیک کریں ائی ہوپ یو لائک اٹ ۔۔
اس کے انداز میں عجیب سی کشش تھی
پرفیوم کی بوٹل پکرتے وہ سکیزہ کو پکرا دیتے ہیں
جو کندھے اچکاتی منہ بناتی بوٹل ناک کے قریب کرتی ہے
ایک لمحہ د لمحہ تین لمحہ ناجانے کتنے لمحہ گزر گئے تھے
وہ حیران سی وہ پرفوم انکھون کے سامنے کرتی اہنے بابا کو واپس پکرا دیتی ہے
مجھے یہ لینا ہے پیک کرا دیں بابا ۔۔
نرمی سے بول کر وہ دوکان سے باہر نکل ائی تھی
وہ خوشبو عجیب تھی
جو پہلی سوچ علیزہ کے زہن میں ائی تھی وہ یہ تھی
کچھ دیر بعد احسن صاحب بھی معارج سے بات کرتے باہر نکل اتے ہیں
باہر اتےعارجیفٹ سائیڈ مڑ جاتا ہے احسن صاحب علیزہ کے قریب اجاتے ہیں
واؤ میری بیٹی کو کچھ پسمد اگیا ماشایاللہ اج انوکھا دن تھا یا وہ شخص ہے ہی انوکھا ۔۔!
علیزہ کے ساتھ چلتے وہ جتنی دیر میں کئفے پہمچے تھے بس ان کی زبان پر معارج کا زکر رہا تھا
عشق کی پہلی چوٹ لگی ہے مولا، درد تو ہوگا۔اصلی کہانی تو اب شروع ہوئی ہے اس ماضی کے انتقام کی![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
