Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 05)

Ishq Tera by Laiba Khan

وہ اس سے پہلے زمین بوس ہوتی سامنے کھرا وجود اسے اپنے بازوں میں بھر چکا تھا

عجیب سا احساس رگ و پہ میں اترا تھا

جیسے وہ قیمتی متاعِ جان کتنے ہی وقت بعد یوں اسے ملی تھی

اتنے قریب

اس قرب کا احساس وہ کتنے ہی پلوں سے چاہتا تھا

مگر وقت کے گہرے واروں نے اسے کیا بنا دیا تھا

ایک ظالم اور جابر انسان

اب بھی اسکی سکون بھری مظروں میں اچانک وحشت اتر وئی تھی

بے ہوشی میں بھی لیزہ کے چہرے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے موجود تھے

یقینا وہ بے ہوش اسے ہی دیکھ کر ہوئی تھی یون اچانک

اپنے سامنے روبرو دیکھ شاید وہ ہوش میں سچ میں نہ رہ پاتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی

ایلاف نماز کے سٹائل میں دبٹہ کرتی سیرھیاں اترتے ہوئے سامنے بیٹھے زوار کو اواز دیتی ا رہی تھی

جو سکون سے بیٹھا کھانے کے ساتھ فون بھی یوز کر رہا تھا

مگر اس کے بلانے پر منہ بناتا وہ جو چیز دیکھ رہا تھا اسے پوز کرتا ائیبرو اچکاتا ہے

جیسے پوچھ رہا ہو

بکو بھی مجھے واپس اپنے پرانے مشغلہ پر لگنا ہے

یہ نمبر والا مجھے تنگ کر رہ ہے پتا نہی کون ہے میرا نام بھی جانتا تھا ۔۔۔!

اس نمبر والے کا نام وہ سرے سے ہی بتانا بھول گئی تھی

یا شاید وہ اتنا اہم نہی سمجھ رہی تھی

ہمم بے فکر رہو اب نہی کرے گا ۔۔۔!

ایلاف کے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولتا وہ نمبر اپنے فون میں سیو کرتا اپنے کمرے کے جانب برھ گیا تھا

ایلاف کی نظر اپنے بھائی کے کمرے کے بند دروازے پر تھی

جب علیزہ کے کمرے کا دروازہ اچانک کھلتا ہے

ایلاف نے فورا رخ موڑ کے اسے دیکھا تھا

جو سرخ انکھوں سمیت بجھی بجھی سی سوگوار سی چلتی ڈائننگ کی طرف ہی ا رہی تھی

ایلاف ناشتہ بنا کر اوپر گئی تھی

اس کا بھائی اور بابا ناشتہ کر چکے تھے

جبکہ اس نے لیزہ کے ساتھ ناشتہ کرنے کا سوچا تھا

اپی بیٹھیں بہت بھوک لگی ہے ۔۔!

ہلکہ پھلکہ سے انداز میں بولتی وہ اسے رلیکس کرنے کے لئے اسے دیکھے بغیر کرسی کھسکا کر بیٹھ چکی تھی

علیزہ ایک نظر اسے دیکھ اپنی جگہ بھی سنبھال لیتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں یاور یہ جو نمبر دیا ہے زرا چیک کرنا ۔۔!

اور جو بھی پتا لگے فورا بتانا۔۔۔،،،

فون کان سے لگائے وہ اسے ایلاف سے لیا نمبر اپنے دوست کو بھیج چکا تھا

بے فلر ہو جا جلد ہی بتاتا ہوں ۔۔۔!

دوسری جانب کی بات سن وہ کچھ اور اہم باتیں کرنے لگا تھا

ایلاف جو زوار کے پئچھے ائی تھی اب اسے فون پر بات کرتے دیکھ واپس پلٹ جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ لو ایلی نیو سم وہ والی نکال کے رکھ دو ۔۔۔!

شام میں سب لوگ ڈائننگ پر موجود تھے

جب زوار ایک سم اسکی جانب برھاتا ہوا کرسی سے اٹھ کھرا ہوتا ہے

مگر کیوں میری سم تو بلکل ٹھیک ہے ۔!؟؟؟

نا سمجھی سگ ایلاف اسکے ہاتھ میں موجود سم دیکھ رہی تھی

ایلی نکال لو اسے نیو نمبر ہے صحیح رہتا ہے ۔۔!

نرمی سے بول کر وہ اسکی ہاتھ کی ہتھیلی پر سم رکھتا کمرے کی جانب برھ جاتا ہے وہ جانتا تھا اس نے اپنے بھائی کی بات لازمی ماننی تھی

ایلاف کی نظروں نے اسکے غائب ہونے تک پئچھا کیا تھا

کیا اس نمبر کی وجہ سے ۔۔؟؟

ہاتھ میں موجود اس سم کو دیکھ وہ خود سے سوال کر رہی تھی

ایلی کھانا کھاؤ ۔۔!

وہ علیزہ کی اواز سے ہوش میں لوٹتی ہے

جی کھا لیا بس ہے میری ۔۔!

پلیٹ کھسکا کر کھری ہوتی وہ اوپر کی جانب برھ جاتی ہے

اوپر کمرے میں جا کر اسے سب ست پہلا کام سم بدلنے کا کرنا تھا

۔۔۔۔۔۔

اسے سم بدلے ابھی دو منٹ ہی گزرے تھے

جب اسکے فون بج اٹھتا ہے

نا سمجھی سے بیڈ پر پڑا اپنا فون دیکھتی وہ کچھ سوچ کر اٹھا لئتی ہے البتہ اب تک کال رسیو نہی کی تھی اس نے

ایک بار دو بار

فون بج کر بند ہو چکا تھا

تیسری بار بجنے پر وہ ڈھیٹ کے لقب سے نوازتی فون کو وہیں بیڈ پر پھینکتی وضو کے لئے واش روم میں گھس جاتی ہے

فون بیڈ پر پرا اب تک بج رہاتھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا۔۔۔!

علیزہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے دروازے میں کھری تھی

اسکی اواز پر اسکے بابا جو کوئی کتاب پرھ رہے تھے اس پر سے نظریں ہٹا کر علیزہ کی جانب دیکھتے ہیں

جو اب کچھ بہتر لگ رہی تھی

دو دن سے تو وہ کچھ بولنا بھی چھور چکی تھی

وہ کیا وجہ سمجھے تھے اور شاید صرف سامنے کھری لرکی ہی جانتی تھی

اسکی خاموشی کی وجہ کیا تھا

اس شخص کی موجودگی یا اپنے قریب موجودگی

اجاؤ بیٹا ۔۔!

کتاب کو بیڈ پر رکھتے وہ اسے اندر بلاتے ہیں

جو چھوٹے چھوٹے قدم لیتی ان تک پہنچ کر چائے کا کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتی ہے

یٹھو ۔۔

اپنے قریب جگہ بناتے وہ اپنا چشمہ اتار کے رکھ چکے تھے

قریب کی نگاہ انکی کمزور تھی

اسی وجہ سے کتاب پرھتے وہ چچمہ لگا کر پرھتے تھے

جی بابا ۔۔؟

ان کی قریب بیٹھتی وہ ان کا ہاتھ تھامتی محبت سے بھرے لہجہ میں پوچھتی ہے

میری بیٹی ٹھیک ہے ۔۔۔

اسکے سر پر تھپکی دیتے وہ ہنیشہ کیے جانے والا سوال دہراتے ہیں

جی بابا ۔۔۔!

اسکا جواب بھی وہی تھا جس کی انہیں توقع تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلاف ابھی کالج سے نکلی تھی

جب اس دن کی طرح ایک سیاہ کار اسکے قریب ا رکتی ہے

اگلے ہی لمحہ اس کار سے سیاہ جینز پہنے اس پر لونگ وائٹ شرٹ پر کوٹ اور گلے میں چینز کے ساتھ ہاتھوں میں کئی چیزیں پہنے زرغامان باہر نکلا تھا

اسکی موجودگی تھی جو وہاں سے گزرتا کئی کوگوں نے ہلٹ کر اس خوبرو کو دیکھا تھا

ہمیشہ کئ طرح اسکے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ موجودتھی

کافی بزی لگتی ہو تم ۔۔؟

کار سے ٹیک کگائےوہ سامنے کھری ایلاف کا جائزہ لے رہا تھا

جو فون ہاتھ میں پکرے شاید اپنے بھائی کو کال ملانے لگی تھی

ہٹیے راستہ سے اپ کو جواب دینا میں ضروری نہی سمجھتی ۔۔۔!

ایک ناگوار نظر اس پر ڈالتی وہ سائیڈ سے گزرنے لگتی ہے

جب اسکی اواز نے اسکے چلتے قدم روکے تھے

اج کال رسیو کر لئنا ورنہ تمھارے گھر انے سےبھی مجھے کوئی نہی روک سکتا ۔۔!

وہ نہ کوئی دھمکی تھی نئ وارننگ شاید وہ اپنی پاور جتا رہا تھا

یا دکھا رہا تھا وہ کیا کر سکتا ہے

“ہاں وہ سید زرغامان تھا “!

اس کے لئے کچھ بھی کرنا مشکل نہ تھا

وہ اپنی بات کہ کر ایک نظر اسکی غصہ سے بھری مظروں پر ڈالتا کار میں بیٹھ کر جا چکا تھا

تبھی وہاں اسجے بھائی کی کار ائی تھی مگر اسکی نظر دور جاتی زرغامان کی کار پر تھی

کچھ سوچ کر وہ اپنے فون کے نوٹس میں کچھ لکھتی کار میں بیٹھ جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کوئی عام شخص نہی بابا جو ایلی کے پئچھے ہاتھ دھو کے پڑ گیا ہے ۔۔۔!

وہ سید زرغامان میر زر ہے !

ہر پاور ہے اس کے ہاتھ میں !

پولیٹکس میں جانے مانے میر زر کا بیٹا ۔۔۔۔

اج ایلاف کی دی جانے والی انفو سے یہ سب پتا لگوایا ہے۔ میں نے۔۔!

ایلاف جو اپنے بابا سی ہی ملنے ائی تھی

اندر ہوتی گفتگو وہ کب سے کھری سن رہی تھی

کوئی ضرورت نہی ہے ہمیں اس جاہل سے ڈرنے کی بھار میں جائے کچھ نہی بگاڑ سکتا وہ ہمارا ۔۔!

ایلاف اپنے بھائی کو دیکھ کر بات کر رہی تھی

مگر مسٹر احسن کا تو زہن ایک جگہ جیسے اکر رک سا گیا تھا “میر زر “

آہ یہ وقت کے کھیل

ان کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ رونما ہوئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *