Ishq Tera by Laiba Khan NovelR50603 Ishq Tera (Episode 10)
Rate this Novel
Ishq Tera (Episode 10)
Ishq Tera by Laiba Khan
ایلی …!
نرمی بھری اواز سے اسے بیدار کرنے کی کوشش میں لگے وہ مسکرائے جا رہا تھا
مگر وہ منہ بناتی بار بار کروٹ بدل لیتی تھی
اس سب میں بیس منٹ تو پہلے سے ہی گزر چکے تھے
زرغامان نو بجے سے جاگنےکھے بعد جاگنگ سے فارغ ہوتا اب ساڑھے دس بجے اسے اٹھانے لگا تھا
مگر اسکے انداز سےلگاگا تھا جیسے اسے اج نیند سے بیدار نہ ہونے میں قسم اٹھا رکھی تھی
ایلیی۔۔۔،،،
اسکا چہرہ سیدھا کر کے دونوں گال کھینچ کر پکارتا وہ آخری کوشش کر رہا تھا
سونااا ہےےے ۔۔۔!
نیند بھری اواز میں بول کر وہ چہرے پر تکیہ رکھ چکی تھی
سونا ہے کی بچی ناشتہ کا ٹائم ہے اٹھو دو دن میں کالج بھی سٹارٹ کرنا ئے تم نے شاباش اٹھ جاؤ ۔۔۔!
دونوں ہاتھ تھام کر اسے بٹھاتا وہ خود کو داد دینے لگا تھا
مگر وہ دوبارہ لیٹ چکی تھی
تمھاری تو ۔۔!
کچھ سوچ کر معنی خیز نظر سے اسے دیکھ کر مسکراتا بے حد نرمی سے جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھاتا وہ واش روم کیُ جانب برھ جاتا ہے
میری لاڈلی بیوی سوچ لو آخری موقع ہے ۔۔۔،،،
اسکے معصوم چہرے ہر نظر ڈال کر بولتا زرغامان اسے شاور کے نیچے لا کر کھرا کر دیتا ہے
خود دو قدم پیچھے ہٹ کر اس نے ایلاف کے دونوں ہاتھ اہنے ایک ہاتھ میں تھام رکھے تھے
ائیییی ۔۔۔۔
ٹھنڈے پانی کی گرتی بوندوں پر وہ چیخ کر جاگی تھی
زرغامان پر نظر پرتے وہ دو لمحہ میں اسکی حرکت سمجھ چکی تھی
اپ کی ہمت کیسے ہوئی چھوریں مجھے ۔۔۔!
اپنے ہاتھ چھرانے کی جدوجہد میں لگی وہ جنگلی بلی کی طرح غراتی اسے بے حد پیاری لگ رہی تھی
نہی چھور رہا کیا کر لوگی ۔۔۔؟
اپنی جانب کھینچ کر اسے سینے سے لگاتے زرغامان نے اسکے دونوں ہاتھ پیٹ پر باندھ دے تھے
جس سے اسکا چہرہ زرغامان کے بے حد نزدیک ہو چکا تھا
یہ غلط ہے آپ کیسے کر سکتے ہیں یہ کونسا جگانے کا طریقہ ہے مجھے کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔؟
انکھیں پٹپٹا کر بولتی وہ اسے اپنی معصومیت میں پھنسا رہی تھی
مگر شاید وہ بھول بیٹھی تھی
سامنے بھی سید زرغامان تھا
میری معصوم سی زوجہ فکر کیوں کرتی ہو میں کچھ بھی نہ ہونے دیتا جگانا بھی ضروری تھا نہ اب جاؤ چینج کرو میرے بھی اچھے خاصے حلیہ کا تم بیرہ غرق کر چکی ہو ۔۔۔۔
شاوربند کرتا وہ کچھ اب اسے دور ہوا تھا
میں ؟؟؟
دونوں انکھوں کو پورا کھولے وہ شوک میں تھی
یعنی لایا خود تھ اور الزام اس پر
جی آپ کرو اب چینج ۔۔۔!
تین انگکیوں سے گال تھپتھپا کر وہ باہر نکل گیا تھا
اسے باہر جاتے زور سے زمیں پر پاؤں پٹکتی وہ دروازہ لاک کر دیتی ہے
کیا بھروسہ وہ بلا پھر سے ٹپک پرتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا کیا ہم ایلی کے پاس نہی جائینگے ۔۔؟
سفید رنگ کا سوٹ پہنے سر پر پیرٹ گرین کلر کا دوبٹہ لیے کنرے سے نکلتی وہ ڈائننگ پر بیٹھے احسن صاحب سے پوچھ رہی تھی
نہی بیٹا اج رات شاید تقریب ہو ہم وہاں جائں اور تم بھی چلو گی ۔۔۔!
علیزہ کے چہرے پر ایک سایہ سا اکر گزرا تھا
جو وہ یقینا دیکھ چکے تھے
تو اتنے پتھر دل اخر وہ کیوں بنے بیٹھے تھے
زوار کل رات سے گھر نہی ایا تھا
وہ اسکی وجہ سمجھ سکتے تھے
مگر علیزہ کا کوئی بھی ریئکشن نہ دینا ان کی سمجھ سے باہر تھا
نا سنجھی سے اسکی چہرے کی جانب دیکھتے وہ انہی سوچوں میں کھانے کی ہلیٹ میں چمچ ہلا رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایلی ماما اج میر مینشن میں ایک فنکشن ہے ایلی اور میری شادی اناؤنس کرنے کا ۔۔۔
زرغامان کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکراہٹ موجود تھی
اور اسکی ماں اس مسکراہٹ کی وجہ سے باخوبی واقف تھی
ایلاف کے کھانا کھاتے ہاتھ رکے تھے
یہ صحیح تھا مگر شاید وہ یہ سب اتنا جلدی فیس نہی کر سکتی تھی سب
ایلی رلیکس۔۔۔!
ایلاف کے گھٹنے پر پڑا ہاتھ تھامتا وہ اسے ہمت دے رہا تھا
وہ جانتی تھی یہی شخص اسکی ہمت تھا اب مگر عجیب سا ڈر تھا جو دل میں بیٹھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اج گھر میں کیا ہے علی ۔۔؟
میر زر جو ابھی اپنے کمرے س تیار ہو کر باہر نکلتے تھے
سب کو روبوٹ کی طرح کام کرتا دیکھ وہ سامنے کھرے علی سے مخاطب ہوتے ہیں
سرپرائز ڈیڈ ۔۔
معنی خیز مسکراہٹ لیے بولتا وہ واپس اپنے کام کی جانب متوجہ ہو چکا تھا
Uh i really dont care!!!
سر جھٹکتے وہ ڈائننگ پر اجاتے ہیں
نہ انہوں نے اپنی پہلی بیوی کا پوچھا تھا نہ رغامان کا
خاموشی سے اپنی دوسری بیوی کے سر پر پیار دیتے وہ اپنی کرسی سمبھال چکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسی ہو ایلی ٹھیک ہو نہ تم ۔۔۔!
ایلاف کو بے دھیانی میں علیزہ نے کال ملائی تھی
مگر دوسری طرف سے کال رسیو ہوتے ہی وہ ڈائریکٹ بے تابی بھرے لہجہ میں پوچھتی ہے
میں ٹھیک ہو اپی اپ کیسی ہیں طبیعت ٹھیک ہے نہ اب ۔۔؟؟؟
ایلاف جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی
سامنے بیڈ پر اپنا فون پرا دیکھ وہ فورا اٹھا لیتی ہے ۔۔۔!
تبھی اچانک علیزہ کی کال انے لگی تھی
جو وہ رسیو کر لیتی ہے
مجھے چھورو ایلی تم بتاؤ سب ٹھیک ہے ۔۔؟
وہ شخص یہ سب اتنا جلدی ہوا کچھ سمجھ نہی ایا !!!
بابا نے بتایا اج رسیپشن ہے پہلے تم بتاؤ تم خوش ہو وہ شخص اچھا ہے ،؟؟؟؟؟
ایلاف علیزہ کی ہریشانی پر نا چاہتے بھی مسکرا دی تھی
وہ سب کی فکر کرتی تھی سوائے خود کے
اپ اج خود دیکھ لینا اور ہاں اپ وہ بلیک ڈریس ہی پہننا اور جلدی اجانا پلیز !!!!
ایک دو باتیں اور کر کے وہ فون رکھ دیتی ہے
۔۔۔۔۔۔
ایلی چلو پہلے بہت لیٹ ہو چکا ہے ۔۔۔!
زرغامان جلد بازی میں کمرے میں داخل ہوتا اسکا ہاتھ تھامے باہر لے جانے لگتا ہے
مگر اس وقت کہاں ۔۔؟
اسکے ساتھ وہ کھینچتی چلی جا رہی تھی
اج کیا اس سوٹ میں فنکشن اٹینڈ کروگی میری زوجہ؟؟؟
اس کے پنک کلر کے سمپل سوٹ پر چوٹ کرتا وہ اسے سلگا گیا تھا
آپ سے ابھی صبح کا بدلہ رہتا ہے اور پنگا لیا نہ تو دیکھنا اپنا مسٹر ۔۔۔!
دانت پیس کر بولتی وہ زرغامان کے قہقہ کی وجہ بن گئی تھی
اوہ میری پیاری سی جنگلی بلی جو چاہے کرو مگر ابھی چلو۔۔۔!
اسکی ناک دباتا اسے دو منٹ میں چادر لے کر انے کا بولتا وہ باہر نکل جاتا ہے
تو عجیب ہو مگر اچھے ہو ۔۔!
بند دروازے کو تکتی وہ یہ الفاظ ادا اکیلے میں ہی کر پائی تھی
