Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 06)

Ishq Tera by Laiba Khan

نجانے رات سے ایلاف کا دل گھبرایا ہوا سا تھا

صبح ہوتے وہ کالج کے تیار ہونے لگی تھی مگر دل کی گھبراہٹ تھی جو کم ہونے کا نام نہی لے رہہ تھی

بابا میں جا رہی ہوں ۔۔!

گھر سے نکلتے وہ بلند اواز میں بول کر باہر نکل اتی ہے

سامنے ہی اسکا بھائی کار میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا

اوپر اپنے کمرے کی بالکونی میں کھری علیزے پودوں کو پانی لگا رہی تھی

اللہ حافظ ۔۔!

وہیں /۵ ہاتھ اٹھا کر خدا حافظ کرتی وہ کار میں بیٹھ جاتی ہے

علیزہ کی نظروں نے کار سٹارٹ ہوتے اور اسے انکھوں سے اوجھل ہونے تک دیکھا تھا

اللہ کی امان ۔

اچانک اٹھنے والی گھبراہٹ پر اسکی زبان سے یہی الفاظ ادا ہوئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب یہ کیا ہو گیا ہے حد ہے پہلے کم لیٹ ہو رہا تھا میں ۔۔۔؟

کار بیچ سٹک میں اچانک جھٹکا کھا کر رکتی ہے

ایلاف کی نظریں جو پہلے باہر تھیں اپنے بھائی کی غصہ بھری اواز سن وہ اسے دیکھتی ہے

جو غصہ میں باہر نکل رہا تھا

زوار بھائی ایک کام کریں اسے سائیڈ پر کھڑا کر دیں اور لاک کر دیں میرا کالج پاس ہے میں چلی جاتی ہوں اور اپ اپنے قریبی دوست کے ساتھ افس چلے جائیں ۔۔۔!

ایلاف اسان حل نکالتی اسکے ساتھ باہر نکلتی ہے

زوار کو بھی اسکی بات بہتر لگی تھی

اسکا دوست بھی قریب تھا اور ایلاف کا کالج بھی

اچھا ٹھیک ہے میں یہاں سے جاتا ہوں تم کالج کے اندر تو جاؤ ۔۔۔!

وہ بھائی تھا کیسے خود چلا جاتا اور بہن کو اکیلا چھور دیتا

افف بھائی جائیں اپ جا رہی ہوں ۔۔!

مسکراتی انکھوں سے زوار کو دیکھتی وہ اگے برھ جاتی ہے

زوار نے کئی لمحہ اسے جاتے دیکھا تھا

اپنے دوست کا میسج وصول ہوتے وہ بھی اپنی منزل کی جانب برھ جاتا ہے

ایلاف جو ابھی کالج کے اندر داخل ہونے لگی تھی

اچانک ہی اسکے نقاب لگائے چہرے پر کوئی رومال رکھ دیتا ہے

کالج سنسان سی روڈ پر تھا

نہ ہی اس وقت گیٹ پر گارڈ معجود تھا

انہیں ویسے لیٹ ہو گیا تھا شاید اس وجہ دے کوئی بھی سٹوڈینٹ بھی اس پاس نہی تھی

کئی اتفاق ایک ساتھ ہوئے تھے جس کا فائدہ اٹھا لیا گیا تھا

وہ کئی پل ہاتھ پاؤں مارتی رہتی ہے

مگر بے سود وہ مرد کی طاقت اور اس رومال میں لگی دوائی کے اگے ٹک نہی پائی تھی

کچھ ہی لمحوں میں بے ہوش ہو کر زمیں پر گرتی ہے

اسکے بے ہوش پیچھے کھری وین سے دو اور ادمی نکل کر اسے اٹھاتے وین میں ڈالتے جیسے ائے تھے ویسے نکل جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کیوں نہی گئے زرغامان ۔۔؟

میر زر کی طیش بھری اواز پر زرغامان جو کمرے میں پر سکون سا بیٹھا تھا

اکتا کر باہر نکل اتا ہے

نیچے ہی وہ کھرے اوپر کی جانب دیکھ رہے تھے

ڈیڈ میری زندگی میں اپنے حصاب سے گزارتا ہوں ۔۔۔۔!!

ناک سے مکھی اڑانےو الی انداز میں بولتا وہ ایک ہاتھ جیب میں ڈالتا سیرھیاں اترنے لگتا ہے

بکواس بند کرو زرغامان یہاں کوئی مزاق چل رہا ہے ۔۔۔؟؟؟

میری اتنی اہم میٹینگ تھی اگر علی نا جاتا تو جانتے ہو اس قدر برا لوس ہوتا مجھے ۔۔۔!

اکتاہٹ زرغامان کے چہرے پر صاف واضح تھی

جیسے میر زر کا بولنا ضائع ہو رہا تھا

چلا گیا نہ اپ کا لاڈلا تو یار چل ایپل کھائیں گے ۔۔۔!؟؟؟

پاس پری ٹوکری سے سیب اٹھا کر ایک بائٹ لیتا زرغامان ہنس کر پوچھا ہے

جس پر میر زر پیچ و تاب کھا کر باہر نکل جاتے ہیں

جانتے تھے اپنے اس سنکی بیٹے کے سامنے بولنا بیکار ہی جانا تھا

سوزی ماما کہاں ہیں ۔۔۔!؟؟؟

پاس سے گزرتی میڈ کو روک کر پوچھتا اس سے جواب ملتے وہ لیفٹ سائیڈ پر بنے کمرے کی طرف برھ جاتا ہے

بٹ سر وہ سو رہی ہیں میڈیسن لے کر ۔۔!

سوزی کی اواز ہر وہ ایک مظر مڑ کر دیکھتا ہاتھ کا صرف ایک اشارہ کرتا ہے

جس پر سوزی گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئی تھی

ویسے مسٹر مزرغامان بچ کر باپ ہے وہ تمھارا بدلا تو لیگا ۔۔!

اپنے پیچھے سگ مسز میر زر کی اواز پر وہ ہنس کر پلٹتا ہے البتہ ایک ہاتھ اب بھی لاک پر موجود تا

میر زر کے بدلوں کی اتنی اوقات نہی زرغامان کا سامنا کر سکیں ۔۔!

اسکے لہجہ میں غرور تھا جس پر سامنے کھری عورت کی انکھوں میں تنزیہ ہنسی ائی تھی

جیسے وہ اگے کیا ہونے وہاا تھا واقف تھی سب سے

۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما کیسی ہیں اپ ۔۔!

کمرے میں داخل ہوتے وہ شیشہ کے سامنے کھتی اپنی ماں کونپکارتا انکے قریب جاتا ہے

سیاہ رنگ کے سوٹ میں سلیقہ سے دوبٹہ سینگ اور سر پر لئے وہ خاموش نظرون سے اپنے عکس ائینہ میں دیکھ رہی تھی!

میرا شہزادہ تمھیں دیکھ لیا تو بلکل ٹھیک ۔۔!

زرغامان کی اواز سنتے انکی انکھوں میں چمک ائی تھی

جو زرغامب دیکھ مسکرا کر انہیں اہنے سینے میں بھینجتا ہے

اپ کو دیکھ کیا اس لئے ٹھیک ہوں ورنہ کسی نے قصر مہی چھوری مجھے خراب کرنے کی ۔۔۔!

مسکرا کر بولتا وہ اپنی ماں کے کندھے کے گرد بازو باندھ کر انہیں بیڈ کے قریب لاتا ہے

کب سے دیکھ رہی ہوں بتاؤ کون ہے وہ جس نے میرے بیٹے کے چہرے ہر یہ مسکراہٹیں لوٹائی ہیں۔۔۔

اسکے ہاتھ کی پشت پر تھپکی دے کر پوچھتی وہ اسکی خوبصورت مسکراہٹ کو انکھوں میں بسا رہی تھی

جیسے کتنے ہی وقت بعد وہ دیکھنے کو ملی تھیں انہیں

یوں مت دیکھیں اللہ نے چاہا تو اب یہ مسکراہٹیں کوئی نہی چھینے گا اپ کے بیٹے سے کیونکہ میری مسکراہٹ میری محبت کا دیا تحفہ ہے اپ کی ہونگے الی بہو کا ۔۔۔!!

رات کو اظہار کر چکا ہوں !!!

انکی انکھوں میں دیجھتا وہ سچ سچ بول رہا تھا

سب بتاتے رات کا گزرا وقت کسی فلئش بیک کی طرح اسکی انکھوں کے سامنے گھومتا ہے

رات بے چینی سی بے چینی تھی

نہ ہی نیند تھی جو اتی نہ ہی کہیں کوئی سکون

ایسے میں اچانک ہی ایک خیال زہن میں اتے وہ فون اھاتا کال ملاتا ہے

ناجانے اج شاید اسکی قسمت تھی جو لگ گئی تھی

فون تیسری ہی بیل ہر اٹھا لیا گیا تھا

ایلی ۔۔؟

دوسری جانب کی اواز سنے بغیر وہ جانتا تھا کال اسی نے اٹھائی تھی

پہلے بات میرا نام ائلی نہی اور دوسری اپ کو کوئی حق بھی نہی میرا نام لینے کا اور ایک اور بات اپ سے ڈر کر اپ کو لگتا ہے یہ کال اٹھائی کے تو سراسر اپ کی بھول ہے بس جاننا چاہتی ہوں ایسا کیا مسئلہ ہے اپ کو جو یوں آدھی راتون کو لرکیون کو کالُ کر تے ہیں شکل سے کافی مہذب گھرانے کے مظر اتے ہی۔ ۔۔۔!

دل میں جو ایا تھا ایلاف بولتی گئی تھی

اور دوسری جانب وہ پرسکون سا کھرا تھا

تمھیں لگتا ہے سید زرغامان راتونکو لرکیوں کو کالز کرتا ہے انٹرسٹنگ۔۔۔۔!!

وہ باتیں لمبی کر رہا تھا یہ جانتے وہ کال کٹ کر سکتی تھی

میری طرف سے بھار میں جائو جا بھی کریں بس میرا پیچھا چھور دیں ۔۔۔!

اسکی اکتاہٹ بھری اواز سنتے اچانک ہی اسکے چہرے پر سنجدگی در ائی تھی

پہلی اور آخر بار میں سن لو عشق ہو گیا ہے تم سے پاک عشق وہ اج کل کے لرکی اور لرکے کے افیئر والا نہی راتوں کے میسجز والا نہی وہ ائی لو یو ائی لو یو ٹو والا نہی !

نکاح کر کے لے جانے والا عشق ازمانہ چاہو ازما لو جو چاہے کرو بس یاد رکھو بہت جلد میری دسترس میں انا ہے تمھیں عشق ہے تم سے ڈنگے کی چوٹ پر بولنے کو تیار ہوں جلد اونگا تمھیں لینے چرا لے جانے کو ۔۔۔!

وہ بولنے پر ایا تھا تو اسے بلکل خاموش کروا گیا تھا

تمھاری بکواس سن لی میں نے اب سنو تم بھار میں جاؤ تم تمھارا عشق مجھے رتی بھر فرق مہی ہرتا ان گھٹیا لفظون دلزے ان انسانوں کے پیار محبت عشق کے دعوں سے ارے یہ دنیا ہے جہاں شریک حیات بھی چھور جاتا ہے تمھارا دو دن کا عشق کیا اکھاڑ لیگا اس لئے تنھارے لئے اچھا ہے ارام سے جان لو میں تکھاری نہ ہون اور نہ کبھی ہو سکتی ہو!

ایلاف کے الفاظ تھے یا تیز جو دوسری جانب موجود لائن پر کھرا وہ جسم اور روح پر محسوس کر رہا تھا بے انتئا شدت سے

شٹ اپ ایلی کوئی حق نہی تمھیں کسی کے سچے اور پاک جزبہ پر انگلیاں اھانے کا اور تم میری ہو کر رہوگی جلد ہی اپنے اس زہن میں یئ بات بٹھا لوُلگتا ہے لمیٹڈ ہے چلو فکر نہی کرو میرے پاس اوگی تو میرا ہی مل بانٹ کر چلا لینگے۔۔۔۔۔!

ہنس کر بولتا وہ اسکی کوئی اور بات سنتے فون رکھ چکا تھا

بھار میں جاؤ ۔۔!

فون کان سے ہٹا کر چیخ کر بولتی وہ کئی لمحہ اسے کوسنے میں گزار دیتی ہے

ہاں اسکی زندگی عجیب سے موڑ پر اگئی تھی

یا شاید وہ صرف اس شخص کی وجہ سے اپنی زندگی کو عجیب کہنے لگ گئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرغامان بات سن میری جلدی آ۔۔!

زرغامان جو ابھی اپنی ماں کے کمرے سے نکلا تھا

بھاگ کر گھر میں داخل ہوتے علی سے ٹکراتا ہے جو شاید اسے کے پاس ا رہا تھا

کیا ہوا ہے علی ۔۔۔؟

اسکے چہرے ہر اتنی پریشانی دیکھ وہ اسکو کندھے سے تھامتا اپنے سامن کرتا ہے

ابھی بابا کے سیکرٹری کی بات سن کر ا رہا ہوں وہ تیری بہت قیمتی چیز کو اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں میں نہی جانتا ہو کیا ہے یہ تو ہی پرا لگا سکتا ہے بٹ ائی ن ڈیڈ ا سمیٹینگ کی وجہ سے ناراض ہیں ۔۔۔!

علی بولُ رہا تھا اور زرغامان کو وہاں پر اکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی تھی

اسکے پاس قیمتی کیا تھا اسکا باپ جانتا تھا

اسکی مسکراہٹ کی وہ واحد وجہ

وہ اگلے ہی سیکینڈ بھاگا تھا جتنا تیز بھاگ سکتا تھا اتنا بس اسے یہی پتا تھا وہ وجود اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی تھا اپنی ماں کے بعد وہ واحد وجہ تھی اسکی مسکراہٹ کی

۔۔۔۔

معارج ۔۔!

کار فک سپیڈ سے ڈرائیو کرتے وہ کال ملا کر سپیکر پر رکھتا معارج کے کالُاٹھاتے اسے پکارتا ہے

کیا ہوا میرے جگر خیریت ۔۔؟

اسکی پریشان اواز سن معارج جیسے ئوش میں ایا تھا

ابھی ابھی وہ شاور لے کر اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا

گلے میں ٹاول ڈالے وہ صرف ٹراؤزر میں موجود تھا

میری انکھوں کا نور مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اس شخص نے ایک بار تو مے مجھ پر یقین نہی کیا مگر اس بار یقین کر یا نہ کر مگر میرے یقن پر یقین کر اسے لچھ ہوا تو زرغامان میر زر قسم کھا کس کہتا ہے اہنے باپ کو بیچ چوراہے پر لٹکا کر مارے گا ۔۔۔!

اسکے لفظوں میں وحشت تھی

جس نے دو ہل معارج کے بھی رونگھٹے کھرے کئے تھے

اس کے کہجہ میں موجود نفرت اور سچائی اور صاف محسوس کر سکتا تھا

کوستا تو وہ تھا ہی مگر اج شاید سچائی کا آسمان اس پر گرا دیا تھا

تین سال بعد اس بات کا زکر کر کے اس نے اور اسے پچھتاوؤں کی زد میں کیا تھا

ابھی پتا لگ جائیگا زرغامان ایلاف کے بیگ میں ایک چپ ہے جس کے زریعے میں پتا لگوا لونگا۔۔!

کچھ سنبھل کر بولتا وہ فون رکھتا شرٹ اٹھا کر پئنتا باہر بھاگا تھا

خود پر گزری وہ گزار چکا تھا

اب صرف ایک کی زمدگی سنوارنی تھے

اپنی تو برباد شاید اس نگ اپنے ہاتھوں ہی کی تھی

کار میں بیٹھتے وہ دو پل کچھ سوچ نہی پایا تھا

جسم بلکل ٹھنڈا تھا جیسے سارے جسم کا خون مچور کر پھینک دیا گیا ہو

مگر اسے اپنے یار کی مدد کرنی تھی

خود میں ہمف لاتا وہ گھرا سانس بھر کے کار سٹارٹ کرتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *