Ishq Tera by Laiba Khan NovelR50603 Ishq Tera (Episode 03)
Rate this Novel
Ishq Tera (Episode 03)
Ishq Tera by Laiba Khan
ک کون ہو تم …؟؟؟
ناچاہتے بھی اسکی اواز لرکھرائی تھی
مگر شاید دنیا کا سب سے ظالم انسان تھا جس کو نہ اسکی بھیگی انکھوں پر نہ کانپتے دل پر رحم ایا تھا
افسوس وہ تو ہر گز نہی جو میری ڈیئر وائفی سنجھتی ہے جو ہوں وہ بتانے کا ہر گز میرا موڈ نہی ہاں تم کیا ہو میرے لئے تو سن لو ایک کھلونا جس سے میں کھیل چکا ہوں اور اب میرا دل بھر چکا ہے اس لئے دفعہ ہو جاو ۔۔۔۔!!!
گیٹ آؤٹ ۔۔۔۔،،،
لیزہ احسن نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔۔۔!
اتنی نفرت کے ا س خوبصورت چہرے کو جلا دینے کا دل کرتا ہے
سب باتیں اگے پیچھے ہوتیں اسی نیند میں بری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی
ماضی ایک خواب بن چکا تھا اب
خوف و حراس اس قدر اس پر حاوی ہوا تھا کہ نیند میں پاس پرے تکیئ کو وہ بری طرح نوچتی اخر اٹھ بیٹھی تھی
اسکا ماضی ایک نائٹ نیئر بن چکا تھا اسکے لئے
کھرکھی سے اتی چاند کی روشنی میں اسکی خوف زدہ انکھوں میں بھرے انسو گواہ تھی وہ ماضی اب بھی اسے اشیت دیتا تھا
نیند تو شاید کبھی اب اسے سکون کی ملتی
راتوں کو نیند کا انتظار تو اب سہ چھور ہی بیٹھی تھی
ادھا گھنٹہ ہوا تھا تین گھنٹے جاگنے کے بعد اسکی انکھ لگی تھی
مگر اس ادھے گھنٹہ میں ماضی کسی فلم کی طرح گھوما تھا کہ اب شاید ہی وہ انکھیں بند کر پاتی
گھری پر نگاہ پرتے وہ اٹھ کر سیدھا واش روم کا رخ کرتی ہے
دور دور سے تحجد کی ازانوں کی اوازیں اب بھی گونج رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایلاف ٹھیک ہو تم کل سے دیکھ دہا ہوں پریشان ہو۔۔۔؟
اپنے بابا کے پوچھنے پر وہ نظر اٹھاتی کچھ سوچ کر اگے برھ کر انہیں کل کے واقعہ کے بارے میں سب بتاتی گئی تھی
کیا اور تم اب بتا رہی ہو اسی وقت بتاتی سیدھاکرتا اسے ۔۔۔!
پیچھے سے اپنے بھائی کی اواز سن وہ رخ موڈ کرنفی میں سر ہلاتی اسکا ہاتھ تھام کر کرسی پر لا کر بٹھاتی ہے
بھائی کوئی اتنی بری بات نہی ہوئی اگر اب کچھ ہوا میں بتاؤنگی اور ویسے مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔!
علیزہ اپ،،،
بولتے بولتے چانک اسکی زبان کو بریک لگی تھی
ایلاف سنیہا بولو۔۔!
اپنے بابا کی گھوری پر وہ ہان میں سر ہلا کر خاموشی سے بیٹھ گئی تھی
ڈانٹیں مت اسے بابا میں اپنی ہہچان کچھ بھی کر کے بدل نہی سکتی۔۔!
کچن سی اتی سنیہا کی اواز پر انکی مٹھی بند ہوئی تھی
اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے تو تنہاری ایک اور پہچان کیون نہیں ۔۔۔؟!!!
زوار کی بات پت وہ مسکرا دی تھی
ازیت بھری مسکراہٹ می کیا کچھ نہی چھپا تھا
وہاں بیٹھے تینوں افراد پہلو بدل کر رہ گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ اس نے تجھ سگ ٹھیک طریقہ سے بات نہی کی اور تجھے اہنا جواب مل گیا اب بولے گا بھی کیا جواب مل گیا ۔۔۔!!!!
معارج کب سے یہان وہان کیبن میں چلتا کاؤچ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے زرغامان کو گھورتا ہے
جو بیٹھا سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگاتا مسکرائے جا رہا تھا
اج تو شاید ان ڈمپل کی قسمت ہی کھل ائی تھی
ہاں مل گیا زندگی اسی کا نام ہے اس کے بدلاؤ یون ہی لمحوں میں تہ ہوتے ہیں تو سمجھ میری زندگی کا مور مجھے ملُ گیا ہے اس کی صورت ۔۔۔!!!؟
اس کا لفظ لفظ اسکی انکھوں سے سچائی واضح کر رہا تھا
یہ مت بولنا تجھے ا س سے کوئی پہلی نظر کی محبت ہو گئی ہے یقین جان میں زرغامان میر زر پر یقین نہی کر ہاؤنگا۔۔!
پاس بیٹھ کر بولتا وہ زرغامان کے قہقہ کی وجہ بن گیا تھا
محبت نہی اسکی نگاہوں کا جنون چڑھ گیا ہے جو تب تک نہی اترے گا جب تک میری پیاس نہی بجھ جائیگی ان انکھوں کو تب تک دیجھنے کی پیاس جب تک میری بینائی نہ چلی جائے شاید یہ محبت ہے پہلی نظر کی مگر میرا عشق اسکی نگاہیں ہیں۔۔۔!!!!
کھلا اعتراف کرتا وہ معارج کو حیران پر حیران کئے جا رہا تھا
تو جانتا ہے وہ دل بہلانے کا سامان ضرور ہو سکتی ہے مگر عشق اور محبت نہی بھول جا اسے اپنے ڈیڈ کو جانتا نہی ہے تو ۔۔۔!
کھرے ہو کر سیریس انداز میں بولتا وہ ابھی کچھ اور بھی بولنے کھا تھا
مگر اگلے ہی لمحہ اسکا کارلز زرغامان دونوں ہاتھوں میں دبوچے تقریبا پھنکارا تھا
ایک اورفظ راج اور لاش دیکھے گا میری تو یہاں ۔۔!
اسکا اس قدر جنونی انداز دیکھتا معارج خود ہر کنٹرول کرتا اسکے دونوں بازو نیچے جھٹکتا ہے
میرا وہ مب نہی تھا میں جزبات میں اگیا تھا مگر سوچ لے وہ کچھ پل کی دل لگی بھی ہو سکتی ہے۔۔!؟؟؟
معارج ناجانے کونسی بات نکال رہا تھا
شاید وہ ا س بات کو جھٹھلا دینا چاہتا تھا
میں سید زرغامان میر زر ہون دل لگی کرنا میرا شوق نہی ہے ۔۔۔!
غصہ میں پاس پری ٹیبل پر موجود گلدان اٹھا کر شیشہ کے دروازے پر مارتا وہ اسکے بکھرے کانچ پر چل کے باہر نکل گیا تھا
معارج کی نظرین نیچے بکھرے ٹوٹے کانچ پر تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے سنجھ نہی اتی ماں کے جانے کے بعد اپی نے ہمیں سنبھال لیا تھا اور ان کی اس ازیت کو تین سال گزر گئے مگر ہم تین ہو کر انہیں ا کمحہ خوشی نہی دے ہائے ۔۔۔!
احسن کے کمرے میں کرسی پر بیٹھی وہ اپنے باپسگ مخاطب تھی جو وکھرکی میں کھرا ناجانگ کن کھلاؤں میں تکھ جا رہا تھا
وہ شاید کسی سوچوںمیں مصروف تھا
جو مر جائیں ان ہر صبر ا جاتا ہے اور جو زندل ہون ان ہر صبر کیسے کیا جاتا ہے سمجھا دو ایلاف تھک گئی ہوں خود سے لرتے میرے جسم اس تھکن کا بوجھ اٹھا اٹھا بے جان ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔!
اپنے پئچھے سے اتی اواز پر وہ دونوں پلٹے تھے
جہاں سنیہا ارف علیزے کھری بے جان بے تاثر نگاہون سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی
اپ خود ہی نہی چاہتی بھولنا ورنہ عورت یہ ہنر رکھتی ہے کہ وہ لمحہ میں بھلا دے یہ روگ جو ہے ہم خود ہی جب تک چاہیں لگا کر بیٹھے رہیں ورنہ کمحہ لگتا ہے اس کو نوچ کر ہھینکنے میں۔۔۔!
اسکا ہاتھ تھام کر سمجھاتی وہ باہر نکل گئی تھی وہ چاہتی تھی وک بات کر لے اپنے بابا سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹھو سنیئا۔۔!
اب ایلاف کی جگہ ہر وہ بیٹھے تھے
اور ان کی جگہ سنیہا جا کھری ہوئی تھی
وہ بیٹھی نہی تھی
وہ بھی ان کی طرح باہر سیاہ بادلوں میں کچھ تلاش کر رہی تھی
کیا تلاش کر رہی ہو۔۔؟؟؟
کوئی بھی سوال نہ بنتے وہ اس قدر مگھن انداز میں اسے باہر تکتا دیکھ پوچھے بنا نئی رہ سکت
اپنا چانف کھو بیٹھی ہون اسی کی تلاش میں ہوں ۔۔۔!!!
اسکے جوا نے ہمیشہ کی طرح انہیں لاجوب کیا تھا
