Ishq Tera by Laiba Khan NovelR50603 Ishq Tera (Episode 15)
Rate this Novel
Ishq Tera (Episode 15)
Ishq Tera by Laiba Khan
(ماضی۔۔۔۔۔۔۔)
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
ان تین لفظوں کے بعد اسے اپنا اپ بلکل الگ سا محسوس ہو رہا تھا
عجیب سا احساس تھا
آخردوپہر میں ہی تو وہ اس کے نام لکھ دی گئی تھی
کس کے خیالوں میں کھوئی ہیں ۔۔۔؟
اسکی سوچوں کے تسلسل کو ایلاف کی شرارت بھری اواز نے توڑا تھا
اشش پاگل لرکی ،،،،
اسکے سر پر چپیت لگاتی وہ اج کا پہنا سوٹ سمٹنے لگتی ہے
اچھا بی سیریس بتائیں کیسا لگ رکا ہے کسی کی ہو کر اہم اہم ۔۔؟؟؟؟،،،،
سیریس پن میں بھی وہ شرارت لے ائی تھی
کیا مطلب کیسا لگ رہا جاؤ یہاں سے پھر تنگ کرنے ا گئی ہو ۔۔۔؟،،،
ان دنوں اس نے جتنا رلیزہ کو تنگ کیا تھا بس وہ اپنا سر دیوار میں مارنے سے رہ گئی تھی ورنہ اس نے اور کوئی قصر نہ چھوری تھی
اچھا نہی کرتی تنگ مگر آج میں نے سنا وہ جلدُرخصتی مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔!جب کے بات تو اگلے سال کی ہوئی تھی نہ ؟؟؟
ایلاف کے کہنے پر اسے چلتے ہاتھ رکے تھے
بے یقینی سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھتی وہ اپنے کمرے سے بھاگ کر نکلتیاحسن صاحب کے کمرے میں داخل ہوتی ہے
جہاں وہ واش روم سے عینک صاف کرتے باہر ا رہے تھے
بابا رخصتی کا تو اگلے سال کا ارادہ تھ ایلاف کیا کہ رہی ہے ۔۔۔؟؟؟
علیزہ کی پرشان اواز پر وہ عینک پہنتے سامنے کھری پریشان نظروں سے انہیں دیکھتی علیزہ کو وہ اشارے سے پاس بلاتے ہیں
ہوئی تھی مگر معارج کا کہنا ہے وہ اکیلا ہے بلکل اب اگر ایک رشتہ اسے مل ہی گیا ہے تو وہ کیوں اس سے دور رہے محبت جیسے لفظ سے اس بچے کاُکوئی تعلق نہی تھا اور ویسے بھی اگلے سال اگلے مہینے چاہے اگلے ہفے تمھیں جانا تو ہے نہ ۔۔۔،،،
نکاح تو ہو چکا ہے تو رخصتی دینے میں دیر کیسی ؟؟
اور مجھے بھی یہی بہتر لگا یوں نکاح کے بعد اتنا وقت بیٹی کو گھر بٹھانا اچھا نہی ہے تم سنجھ رہی ہو نہ اور دوسرا اسےُتمھارے پرھنے سے کوئی ایشو مہی تم اپنی پرھائی اگے جا کر شروع کر سکتی ہو مگر آخری فیصلہ بچہ نے ہم پر چھورا ہے !!!
مجھے یہی بہتر لگا اگلے ہفتے رخصتی دے دی جائے بیٹا تمھیں کوئی اعتراض تو نہی ؟؟؟؟
شفقت بھرے ہاتھ سے اسکا سر سہلاتے وہ اسے پریشان نہی کرنا چاہتے تھے
ان کے انداز ہی اتنا محبت بھرا تھا کہ علیزہ معارج کا سر جھک گیا تھا
۔۔۔۔۔۔
ہر جگہ افراتفری تھی
آخر پہلی شادی تھی اس گھر کی
کوئی کس کام میں مگھن تھا تو کوئی کس
دلہن کو تیار کرنے کے لئے بھی لرکیاں اگئی تھیں
دوسری جانب سب کام سے فارغ ہوتے جلدی سے تیار ہونے کے لئے گئے تھے
سجے ہوئے گھر کو انکھوں میں اشک لئے دیکھتے وہ کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھنے پر چونکے تھے
تم اگئے ۔۔۔!!!
رخُ مورتے جو انہیں اپنے سامنے نظر ایا تھا وہ اسے سینے میں بھینج گئے تھے
جانے کے لئے اج فلائیٹ ہے ورنہ ضرور اج کا فنکشن اٹینڈ کرتا اپ تو جانتے ہیں سب سوچا اپنی بہن کی یہ امانت اپ کو پکرا دوں ۔۔۔!!!
گھمبیر اواز میں بولتا وہ شخص ایک برا سا ڈبہ ان کے ہاتھ میں پکرا دیتا ہے
بہن کے سر پر ہاتھ رکھنا ان کے لئے تحفہ ہوتا ہے مگر میں سب سے واقف ہوں تو جاؤ اللہ کامیاب کرے میرے شیر کو ۔۔۔!
شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے وہ اس کے ساتھ بائر نکل گئے تھے
بھائی بھائی !!!
ائلاف لہنگا سنبھالتی ہوئی کمرے سے باہر اتی زوار کو اوازیں دیتی ہر جانب نظریں گھماتی ہے
جب وہ اسے کمرے سے نکلتا دکھائی دیتا ہے
ہمم کیا ہوا جلدی بولو ایلی مجھے بہت کام ہیں !!
کف لنکس بند کرتا وہ ہربری میں بولتا فون جیب سے نکالتا ہے
وہ میں نے چیزیں منگوائیں تھیں پلیز وہ جلدی سے لے ائیے گا یاد سے ۔۔۔!
اسے دوبارہ باور کراتی وہ علیزہ کے کمرے کی طرف برھ جاتی ہے
زوار سر ہلاتا فون کان سے لگائے باہر کی طرف نکلگیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخ رنگ کا جوڑا زیب تن کیے سر پر گولڈن حجاب پر گھونگھٹ اوڑھے وہ بے انتہا پرکشش لگ رہی تھی
میک اپ کے نہ نہ کے بعد بھی ایلاف نے اسے میک اپ کروا دیا تھا
مگر اس کی پسند کو سامنے رکھتے بس لپسٹک کا شیڈ ڈارک تھا باقی میک بے حد لائٹ سا کیا گیا تھا
دونوں ہاتھ مہمدی سے بھرے ہوئے تھے
ایسے میں وہ گھبرائی ہوئی سے بار بار اپبے ہاتھ مسل رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپیی بارات اگئی چلیں اٹھیں شاباش ۔۔!
ایلاف چیخ کر اندر داخل ہوتی علیزہ کو تھام کر کھڑا کرتی ہے
وہ جو پہلے نروس تھی
بارات کے انے کا سن کانپنے لگی تھی
ارے اپی اپ کانپ کیوں رہی ہیں بارات ائی ہے ڈائناسور تھوری ایا ہے ۔۔۔!
اپنے ہی مزاق پر ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستی وہ اندر داخل ہوتے احسن صاحب کو دیکھ خاموش ہوئی تھی
میری شہزادی !!
علیزہ کے قریب خر سر پہ پیار دیتے وہ اسے سینے میں بھیج گئے تھےعجیب لمحے تھے جس کو پال کر محبت سے اتنا برا کیا تھا اج اسے کسی اور کو سونپنے جا رہے تھے
اپنا خیال رکھنا اپنے سے جڑے نئے رشتوں کا بھی اور یاد رکھنا تمھارا باپ کھڑا ہے ہمیشہ اور رہے گا !!!!!پیشانی چومتے وہ واپس اسکا گھونگھٹ نیچے کر گئے
تھے
چلو ایلاف لے چلو زوار آؤ بہن کا ہاتھ پکرو !!!
دروازے میں کھرے نم انکھیں لئے زوار کو دیکھتے دیکھ وہ اسے مخاطب ہوتے باہر نکلگئے تھے
ایک ہاتھ زوار کے ہاتھ میں اور دوسرا ایلاف کے ہاتھ میں دے کر چلتی وہ باہر ائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی صاحب اب ہمیں اجازت ہے اپنی بیٹی لے جانے کی ۔۔۔!
عائشہ کی والدہ کھرے ہو کر انکے قریب اکر پوچھتی ہیں
جس پر وہ سر کو خم دیتی علیزہ کا ہاتھ تھام کر اسے دھیرے سے کھڑا کرتے ہیں
اسکا ہاتھ پسینے سے بھیگا ہواتھا
جس پر وہ ناچاہتے بھی مسکرا فیے تھے
بے حد نازک ہے یہ بچہ میرا خیال رکھنا اسکا ۔۔۔!!!پاس کھرے معارج کے کان میں سرگوشی کر وہ اسے اگے لئے برھنے لگے تھے
سب ساتھ ساتھ تھے ایسے میں زوار بھائیوں کا فرض پورا کرتا قرآن مجید تھامے اسکے سر پر کئے قرآن کے سائے میں اسے رخصت کر رہا تھا
سیاہ شیروانی میں معارج کسی سلطنت کے شہزادی کی طرح چلتا بے حد وجیح لگ رہا تھا
جس کی نظر اس پر پری تھی وہ ہٹنا بھول گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اکیلی بیڈ پربیٹھی انگلیاں مڑوڑنے کا شُگل فرما رہی تھی
اسے یہاں ابھی عائشہ چھور کے گئی تھی
وہ گھر اتنا برا اور اتنا خوبصورت تاھ ایسے میں اس کمرے کی خوبصورتی کو دیکھ وہ دو پل دنگ رہ گئی تھی
اس کمرے کو جس نے ڈیکوریٹ کیا تھا اس کی پسند لا جواب تھی
ایسے میں اس کمرے میں خاموشی اور پھولوں کی دھیمی سی مہک نے عجیب سے احساس پیدا کیے ہوئے تھے
اچانک ہی دروازے کالاک ٹک کر کے کھلنے کی اواز ائی تھی
کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہقنے کے بعد دوبارہ اسے بند کرتا وہیں رک گیا تھا
انے والے کے کلوم کی خوشبو نے اسکی موجودگی کا پتا دے دیا تھا
جتنی دیر وہ اسکے ساتھ بیٹھی تھی وہ خوشبو اسے اپنے زہن پر حاوی رہی تھی
کھری ہو ۔۔!
دروازے سے ٹیک لگائے سگار سلگا کر گئرا کش لیتا وہ وہیں سے حکم سناتا ہے
وہ انجانی نظروں سے اپنے ہاتھ دیکھتی بیٹھی رہی تھی
شاید وہ سمجھ ہی نہی پا رہی تھی وہ اسے اٹھمے کا کیوں کہ رہا تھا
قریب آؤ ۔۔۔۔!!!!
بھاری سنجیدہ آواز دوبارہ سنتے وہ اپنی جگہ سے اچھلی تھی
اس کے لہجہ کی سنجیدگی نے اسے دو قدم اسکی جانب برھانے پر مجبور کیا تھا
اور قریب !!!!
وہی لہجہ وہی اواز میں چھپا روعب مر مر کے قدم لیتی وہ اس سے چار قدم کے فاصلہ پر آ کر رک جاتی ہے
قریب انے کا مطلب جانتی ہو ۔۔۔؟؟؟؟
اچانک ہی اس نے علیزہ کا ہاتھ پکر کر اپنی جانب ایک لمحہ میں کھینچا تھا
اچانک کھینچے جانے پر وہ اسکے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی تھی
ایک وجہ مجھ سے دور رہنے کی ۔۔۔؟؟؟
گردن کے گرد ہاتھ پھنسا کر وہ اسکا چہرہ اوپر کرتا بھاری اواز میں بولتا اسکی انکھوں میں انکھیں گاڑھے اس پر اپنی وحشت طاری کر رہا تھا
ر راج ۔۔۔،،،،،
توڑ پھوڑ کر نام لیتی وہ اپنی گردن کے گرد لپٹے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیتی ہے
ہر محبوب ہی ستمگر ہوتا ہے جانتی ہو ۔۔۔؟
دوسرا بازو کمر کے گرد لپیٹتا وہ اسے خود سے لگا گیا تھا
پریشان نظروں سے اسے دیکھتی وہ کچھ کچھ دیر بعد خود کو چھروانے کی کوشش بھی کر رہی تھی مگر بے سود ہر کوشش پر وہ اپنی پکر مظبوط کیے جا رہا تھا
لیزہ معارج میری قید سے نکلنا نا ممکن ہے تمہارے لئے !!!،۔۔۔
اس کا دوبٹہ جو پہلے ہی اسکے کھینچنے پر ڈھلک گیا تھا اب وہ ہپورا ہی کمدھے تک اچکا تھا
پن شاید اتر گئی تھی
مگر سر پر حجاب اب بھی موجود تھا
سنہرے رنگ میں چمکتا چہرہ چاند کی مانند لگا تھا اسے
وہ جھک کر اسکی پیشانی کا بوسہ لے گیا تھا
یہ رشتہ میرے لئے بے انتہا قیمتی ہے ۔۔۔!!
اسکے ہاتھ تھام کر چومتا وہ اسے صاف الفاظ میں اس رشتہ کی اہمیت بتا رہا تھا
اور وہ اسکی حرکتوں پر کانپتی اس کے چھورتے ڈریسنگ روم میں جا بند ہوئی تھی
انہیں وقت چاہیے تھا ایک دوسرے کو جاننے کا !
یا وقت کو وقت چاہیے تھا علیزہعارج کو معارج کو جاننے کا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
چینج کرنے کے بعد وہ باہر نکلتی واش روم سے وضو کرتی کمرے میں اتی ہے
معارج بھی ایزی سا چینج کئے بالکونی میں بیٹھا اب سگریٹ سلگائے پی رہا تھا
تحجد کے نوافل ادا کرنے کے بعد وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی ہے تبھی معارج بھی اندر داخل ہوا تھا
اسے جائے نماز پر بیٹھا دیکھ وہ اسکے قریب ہی اکر گھٹنوں کے بل نزدیک بیٹھ گیا تھا
دعا مانگنے کے بعد وہ کچھ پعھ کر اسکے چہرے پر پھونک مارتی اٹھ کھری ہوئی ہے اسکے اٹھنھ پر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا
جادو کر رہی ہو ۔۔؟؟
اسکے نماز رکھتے وہ ہاتھ پکر کر نزدیک کرتا چہرہ اس کی جانب جھکا کر پوچھتا لب دانتوں میں دبا کر ہنسی روک گیا تھا
کیونکہ وہ انکھوں میں خوف لیے نہی نہی کرتی بے حد معصوم لگی تھی
وہ ڈر رہی تھی کیونکہ اسکی پرسنیلٹی تھی ہی ایسی روعب دار اور سنیدہ
تمھاری انکھیں سمندر کی مانند ہیں جو بار بار مجھے ڈوبنے کا پیغام بھیجنے لگی ہیں ۔۔۔
but im not the pErfect guy!!!!
کندھے سے تھام کر اور نزدیک کرتا وہ کان میں سرگوشی کرنے کے بعد اسے چھور کر بیڈ پر چلا گیا تھا
وہ کئی لمحہ اس کے کہے گئے الفاظوں کا مطلب ڈھونڈتی رہی تھی
لیزہ یہاں آؤ !!!
بیڈ کی دوسری جانب اشارہ کرتا وہ اسے وہیں کھرے دیکھ اٹھنے لگا تھا
جب وہ لمحہ ضائع کیے بنا بھاگ کر اتی کمبل میں گھس گئی تھی
معارج کے ہونٹوں ہر تبسم بکھرا تھا
کیوُنکہ وہ ہککی ہلکی اب بھی کپکپا رہی تھی
تم بے حد معصوم ہو ،،۔۔۔
کمبل میں قید علیزہ کو خود میں بھینج کر بولتا وہ اسے یوں ہی خود سے لگائے سو گیا تھا
لیزہ جو کئی لمحہ دور ہونے کی کوشش کرتی رہی تھی کچھ دیر بعد وہ بھی نیند کی وادی میں اتر گئی تھی
وہ اسکی ہر حرکت نوٹ کرتا رہا تھا کیونکہ بس اس نے سونے کا ناٹک کیا تھا اس کے پرسکون ہو کر سونے پر وہ اسکے سر پر اپنی ہیشانی ٹکاتا انکھیں بند کر لیتا ہے
