Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 11)

Ishq Tera by Laiba Khan

سیاہ رنگ کی لونگ میکسی پہنے سر پر سیاہ ہی حجاب کیے ایک سائیڈ پر گرم بے انتہا پیاری پرنٹڈ بلڈ ریڈ کلر کی شال لئے وہ بلکل تیار کھری تھی

سیاہ رنگ اس پر بے انتہا جچا تھا

اس کے ساتھ ہی میچ کا زرغامان نے بھی بلکیک سوٹ پہم رکھا تھا

مہمان اچکے تھے

پورے لان کو بے انتئا خوبصورتی سے سجایا گیا تھا کہ ہر دیکھنے والی کی نظر دو لمحہ ہٹ نہی پائی تھی

ایلاف کو انتظار تھا تو اہنے گھر والوں کا

تبھی تیسری مرتبہ زرغامان گھری دیکھتا اندر داخل ہوتا ہے

فائنلی تم ریڈی ہو اور ہاں سلپرز ہی پہننا ہیلز میں زیادہ ٹائم ایشی فیل نہی کروگی کہیں موچ ہی نہ اجائے اور ہاں شال کو اس بازو پر بھی لے آؤ باہر سردی برھ گئی ہے اور یہ ۔۔۔،،،

بولتے بولتے اسکی نظر اسکے دونوں خالی ہاتھوں پر اکر رکی تھی

تم سے جب تک کچھ کہا نہ جائے تب تک کچھ کروگی نہی نہ ۔۔۔؟

نفی میں سرہلاتے وہ اگے برھ کر اسکے پاس سے گزرتا ٹیبل پر پرا جیولری بوکس اٹھا کر ا سکے نزدیک اتا ہے

جیولری پہننے کے لئے تھی بیگم اب کرو ہاتھ اگے ۔۔۔!

بوکس سے بھاری کنگن نکالتا وہ اسکے اگے برھے ہاتھ میں دو دو پئنا چکا تھا

اب وہ بے حد نرمی سے اسکی انگلیوں میں انگھوٹیاں پہنا رہا تھا

دو لمحہ کو بھی ایلاف کی نظر زرغامان سے نہی ہٹی تھی

جیسے اس پر کوئی سحر پھونک دیا گیا تھا

وہ تو اس میں مگھن تھا مگر اس وقت ایلاف کو سب سے مشکل کام اپنی نظریں ہٹانا لگ رہا تھا

کچھ زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں بیگم جو نظر نہی ہٹ رہی

اچانک ہی اسکی نظروں میں اپنی نظریں گاڑھ کر ہوچھتا وہ اسےکنفیوز کر گیا تھا

فورن سے پہلے ایلاف نے اپنی نظر پھیری تھی

اسکا وہ بیگم کہنا جیسے اس لفظ پر وقت کی سوئی اکر رک جاتی تھی

اس قدر عزت اور محبت سے اس لفظ کو وہ استعمال کرتا تھا کہ شائد ہی ویسا کسی کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا ہو

نہی بلکل بھی نہی ۔۔!

خود کو نارمل کرتی ایلاف شال درست کرتی جواب دیتی ہے

مگر کچھ لوگوں کی تو نظر ہفنے سے انکاری تھی۔۔!

ایلاف کی گڑھی نظریں وہ خود پر دیکھ چکا تھا اور ا سکے دیکھنے پر اچانک ہی نظریں ہٹانا

وہ خوش تھا جیسے اس نے ایلاف کا ریئکشن سوچا تھا وہ اسکے برعکس تھی

شائد وہ کافی سمجدار تھی جیسے اسکے بابا کہتے تھے

وہ یہ بات مانتا تھا مگر اکثر ہی انسان جلد بازی میں بہت کچھ کر جاتا ہ جس کی وجہ سے بعد میں اسے ہچھتانا پرتا ہے

مگر احسن صاحب ٹھیک تھے ایلاف ہر فیصلہ صبر اور تحمل سے کرتی تھی

اس رشتہ کو بھی اس نے کسی جلد بازی کی نظر نہ کیا تھا

نہ ہی جزباتی پن میں کوئی غلط قدم اٹھایا تھا

لو اگئے تمھارے گھر والے احسن بابا کی کال آ رہی ہے اب بھی یہیں رکو گی چلو اب ۔۔۔!

اسکے حجاب کی پن درست کرتا زرغامان ایلاف کا ہاتھ تھام کر باہر کی جانب قدم برھا لیتا ہے

کال پر وہ انہیں اپنے پئنچنے کی خبر بھی ساتھ دے رہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہیں پہنچنے میں کچھ ہی دیر لگی تھی

شاید اج زرغامان نے ڈروئیو فاسٹ کی تھی وہ دونوں بلکل تیار سے لان میں داخل ہوتے ہیں

کئی روشنیاں انکی جانب گھومی تھی آخر وہ اج شام کے مین لوگ تھے

یہ سب احتمام انہی کے لئے تھا

کئی انکھون میں شوک کئی میں حسد تو کئی میں مسکراہٹ تھی

ایلاف کو سٹیج کے قریب ہی اپنے بابا علیزہ اور زوار نظر اگئے تھے

مسٹر میر یہاں موجود نہی تھے ورنہ ایک ہنگامہ تا لازمی زرغامان نے سوچ رکھا تھا

انکے پاس ہی زرغامان کی والدہ بھی موجود تھیں

زرغامان نے ایک لمحہ کو اپنی مظبوط گرفت سے اسکا ہاتھ آزاد نہ کیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو نہ سچ میں ااف خوش ہو نہ ۔۔

زرغامن کے سٹیج سے اترتے علیزہ فورا ایلاف کے پاس ائی تھی

اس کے پاس بیٹھتے دوپہر کے کئے گئے سوال وہ دوبارہ دہراتی ہے

ہاں بابا سب ٹھیک ہے اتنی بھی بری نہی ہیں اپ مجھ سے اماں جیسے سوال کر رہی ہیں ۔۔۔!

علیزہ کا ہاتھ دبا کر شوخ لہجہ میں بولتے وہ علیزہ کو بھی ساتھ ہنسا گئی تھی

اب مجھے یقین ہے کہ تم خوش ہو اللہ تمھیں ڈھیروں خوشیاں فدے تمھارے نصیب میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ تنھارے لئے بہترین ثابت ہو ۔۔!

ایلاف کا ماتھا چوم کر دعائیں دیتی علیزہ اسکا ہاتھ لبوں سے لگا لیتی ہے

امین اپی یہی ہر دعا اپ کے لئے بھی ہے ۔۔۔!

وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے میں مصروف باتیں کرنے میں لگی تھیں

ایسی میں زوار کچھ دور کھرے زرغامان کی جانب برھ جاتا ہے

وہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ مگر زوار کو اپنے پاس اتے دیکھ وہ اسی کے قریب اجاتا ہے

یقینا تمھیں مجھ سے بات کرنی ہوگی ۔۔؟

اسکے نزدیک رک کر پوچھتا وہ اسے ایک سائیڈ چلنے کا شارہ کرتا ہے

بات نہی سوال اور تم ان سوالوں سےواقف ہو مگر اس وقت میں جواب نہی چاہتا تم سے وعدہ چاہتا ہوں اپنی بہن کی خوشیوں کا ،،،

اسے اس لمحہ مسکراتے دیکھ مجھے اتنا سمجھ اگیا ہے یہ سب کچھ جلد بازی کی نظر مہی تھا دلدب پری پیلنڈ تھا ،،،۔۔

جس میں انوولو نہی تھا میں مگر جلد ہی جان جاؤنگا !!

مگر بھائی ہوں چھوٹی بہن ہے وہ اسکی خوشی چاہتا ہوں امید ہے تم اسے خوش رکھوگے ،،،

کندھے پر زور دیتا وہ اسکے جواب کا منتظر تھا

اسے خوش نہی رکھونگا وہ خوش رہیگی میرے ساتھ اپنی اس نئی دنیا میں یہ دنیا اسکی ہے جو میرے ساتھ اسے جینی ہے گزارنی نہی ہے !!!

وہ ویسے ہی ازاد ہے وہ بیوی ہے میری میرا حصہ وہ ایلاف ہے ایلاف زرغامان ہم دونوں کا ملنا مقدر میں لکھا تھا !!

پلین تو سب اللہ بناتا ہے ہم جیسے لوگ کیا پلین بنائینگے ہاں کچھ راز ہیں جو وقت پر تمھیں بتا دیے جائینگے مگر ہر چیز کا وقت مقرر ہوتا ئے ،،،،

تو ان رازوں کا بھی !!!

بے حد نرمی سے بولتا وہ زوار کو چپ لگوا گیا تھا

ہر راز وقت کا پابند رکھا گیا ہوتا ہے اس کی اوپر سے کپرا بس اللہ کی رضا اے ہی اٹھ پاتا ہے نہ کے انسان کی چاہت سے !!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لال رنگ کا لانگ گاؤن پئنے گہرے گھیر والا وہ اج اس فنکشن پر چھائی ہوئی تھی

مگر کتنے ہی وقت سے وہ بار بار پہلو بدل تھک چکی تھی

ناجانے کیا تاھا کس کی نظر تھا جس کا حصار ہٹنے کا نام نئ لی رہا تھا

اخر چڑ کر وہ پانی پینے کے لئے گھر کے اندر اجاتی ہے

ایلاف کو بھی ابھی اس گھر میں موجود زرغامان نے کے کمرے میں لے جایا گیا تھا فریش ہونے کے لئے

پانی پی کر اسکے پاس جاننے کا سوچتی وہ اندر کی جانب قدم برھاتی ہے

جب اچانک اسے کوئی کچن کے اندر کھینچ لیتا ہے

وہ خوف سے چیخ مارتی مگر اسکے منہ پر بھاری ہتھیلی موجود تھی جس کے باعثاس کے لئے سانس لینا بھی دشوار تھا

شششش آواز نہ ائے ۔۔۔!!!

ہونٹوں ہر انگلی رکھے وہ سنگدل اسے شیلف سے پن کئے اپنے ہونٹوں ہر انگلی رکھ کر اسے اج ایک بار پھر خاموش رہنے کا کہُ رہا تھا

را را۔۔۔ اس کے الفاظ مکمل بھی نہ ہونے دیے تھے اس سامنے کھڑے ظالم نے ۔،

منہ دبوچ کر نزدیک کرتا وہ سخت ترین نظروں سے اسے دیکھتا ہوا جھلسا رہا تھا

میرے الفاظوں کو رد کرنے کی بھول ہر گز مت کرنا علیزے احسن ہر گز!!!!۔۔۔۔۔۔

اور وہ خاموش ہو گئی تھی

اس کا شریکِ حیات اپنا نام بھی اسکے نام کے ساتھ جوڑنا ہسند نہی کرتا تھا

میری جانب اپنی یہ نگاہیں ہر گز مت اٹھانا ورنہ نکال پھینکونگا ۔۔۔،،،

جھٹکہ سے اسے چھورتا وہ کچھ فاصلہ تہ کر چکا تھا

م میں جاؤں ۔۔!؟؟؟؟

جو بھی کر لیتی وہ اس شخص کے سامنے ہر ہمت ہار جایا کرتی تھی

میری جانب سے جا کر مر جاؤ ۔۔۔!

تیز کاٹ دار لہجہ میں تیزاب جیسے الفاظ اگلتا وہ اگے برھ کر گلاس میں پانی ڈال کر ہلک میں انڈیلنے لگتا ہے

ان شاء اللہ!

اسکے الفاظوں نے اسے وہیں اس لمحہ ساکت کر چھورا تھا

بھاگ کر وہ کچن سے نکلی تھی

مگر پیچھے ایک ازیت کا جہاں اس کے لئے چھور گئی تھی

ایک سنگ دل سے دل لگانے کی سزا ہے لیزہ۔۔۔!

گلاس ٹیبل پر پٹک کر بولتا وہ بھی باہر نکل گیا تھا

اور جو ا سنے کہا تھا وہی ہوا تھا

خاموشی سے سارے فنکشن میں وہ سر جھکا کر کھری رہ گئی تھی

اپنے بابا کے ہہلو میں چھپی سہمہ دی وہ کوئی پری لگی تھی

کئی انسو اس نے انکھ سے بہ کر زمین میں جزب ہوتے دیکھے تھے

مگر وہ لا تعلقی بنا قہقہ لگا رہا تھا

اس کے قہقہ بھی گہرا وار کر رہے تھے اس نازک دل پر!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپ جانا چاہتے ہیں ٹھیک ہے مگر علیزہ اپی اج یہیں رکیں گی بابا پلیز !!!

فنکشن ختم ہو چکا تھا

ہر مہمان جا چکا تھا

ایسے میں اب احسن صاحب زوار اور علیزہ جانے کے لئے اٹھتے ہیں

جب ایلاف فرمائش کرتی ہے

ایلی ٹھیک کہ رہی ہے کل اپکی طبیعت ٹھیک نہی تھی اج اپ کو رک جانا چاہیے ویسے بھی اپ دونوں باتیں بھی نہی کر پائیں ۔۔۔!

ایلاف کی ہاں میں ہاں ملاتے وہ وہاں سے خاموشی سے گزرتے راج کو اپنے قریب بلا لیتا ہے

علیزے کی گرفت احسن صاحب کے ہاتھ پر سخت ہوئی تھی

جس کو محسوس کرتے وہ اس کے گرد بازو کا حصار باندھ دیتے ہیں

نہی ایلاف میری بیٹی کا سائیبان میں ہوں تمھیں تمھاری سائیبان کے حوالے کر کے جا رئا ہوں اسے یوں نہی چھور سکتا تم جانتی ہو اپنے باپ کو ۔۔۔!

نہایت نرمی سے جواب دیتے وہ باہر کی جانب قدم براھنے لگتے ہیں

انکے ساتھ ایلاف بھی چلنگ لگی تھی

مگر اپ تو کہتے تھے سائیبان صرف بپ ہوتا ہے ؟؟؟

نا سمجھ نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ انہی کے بولے گئے الفاظ اٹھا کر انکے سامنے لے ائی تھی وہ

نہی سائیبان وہ ہوتا ہے جو عورت کا محافظ ہو عورت جس کو اہنے پاس پاُکر محفوظ محسوس کرے سائیبان وہ ہوتا ہے جو عورت کو کو یہ نہ کہے کہ یہ میرا گھر ہے بلکہ یہ الفاظ دہرائے یہ گھر ہمارا ہے تم سے ہے اور زرغامان سائیبان ہے وہ تمھارا محافظ ہے تمھاری عزت و ابرو کا رکھولا

ہر گرم سرد سے محفوظ رکھنے ولاا ایسے میں تم پر بھی کئ زمہ داریاں ہیں جو تمگیں نبھانے ہیں بے شک اس لمحہ کیا کسی بھی وقت میں علیزہ کو اپنے نظروں سے اوجھل نہی ہونے دے سکتا خیر چلتے ہیں اپان اور زرغامان کا خیال رکھنا میری جان ۔۔۔!

ایلاف کی ہیشانی چوم کر وہ باہر نکل گئے تھے

چل میں بھی چلتا ہوں ۔۔!

ایلاف کو زرغامان اندر چھور کر ایا تھا

جب راج اس سے گلے مل کر مبارک دیتا باہر نکل جاتا ہے

زندگی میں امتحان نہ ہوتے تو نہ جانے زندگی کو گزارہ کیسے جاتا

اج بھی اسکا سامنا اہپنگ ماضی کی حسین اور تلخ یادوں سے جا پراتھا دوبارہ

کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتا انکھیں موند کر وہ سیٹ سے ہی سر ٹکائے پرانی یادوں میں کھو گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *