Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 14)

Ishq Tera by Laiba Khan

(ماضی۔۔۔۔۔۔۔)

احسن صاحب کے چہرے پر حیرانی اور مسکراہٹ بیک وقت ائی تھی

اپ ائی ہیں تو بے شک ہم اس پر غور کرینگے بہن جی بس ایک دو دن کا وقت دیں ہمیں ۔۔۔۔

علیزہ تو وہاں سے اٹھ کر ایک ہی سپیڈ سے اندر بھاگی تھی

اس کے پیچھے کیا بات ہوئی وہ کیا کہ کر گئیں وہ سب سے ناواقف سی اپنے کمرے میں بیٹھی تھی

سوچوں کا تسلسل صرف ان کھ الفاظوں پرموجود تھا

علیزہ بیٹے ۔۔۔۔،،اس کی سوچوں کا تسلسل احسن صاحب کی پکار پر ٹوٹا تھا

جی بابا ائیں اندر ۔۔۔!

ہوش میں لوٹتی وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتی انہیں دروازے میں کھرا دیکھ اندر بلاتی ہے

کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو پریشان کیوں ہو گیا ہاں ۔۔۔۔؟؟

اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر اپنے ساتھ لے کر بیٹھتی وہ بے حد نرمی سے ہاتھ پر تھپکی دیتے دوستانہ انداز میں سوال کرتے ہیں

وہ بابا یہ سب اچانک ہوا تو ۔۔۔

ہچکچاتے جواب دیتی وہ ماتھے پر نا محسوس طریقہ سے بار بار ہاتھ پھیر رہی تھی

وہ باپ تھا اس کی یہ پریشانی سمجھ چکا تھا

اچانک کیا ہر بیٹی امانت ہوتی ہے اپنے ماں باپ کے پاس جس کو اس کا ہمسفر لینے لازمی اتا ہے مگر یہ تم پر ہے تمھیں اگر رشتہ منظور ہے تو بتاؤ نہی تو میں انکار کر دونگا مگر بیٹا ایک باپ ہونے کے ناطے میرا یہ فرض ہے کہ تمھیں بتاؤں وہ لرکا میری بیٹی کے لئے ایک ہیرے جیسا ہے اس کو دیکھ کر بار میرے دل میں یہ خیال ایا ہے اور اب اللہ نے یہ نعمت کی صورت عطا کیا ہے فیصلہ تم پر ہے سوچ سمجھ کر مجھے رات تک جواب دے دینا ۔۔۔!!!!

سر پر ہاتھ پھیرتے وہ اسکی پیشانی پر پیار دیتے باہر نکل جاتے ہیں

پیچھے ایک بار پھر وہ اور اسکی سوچیں رہ گئی تھیں

عجیب سا فیصلہ اس پر سونپ دیا گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ جانتی ہے کبھی زندگی ہم سے تو ہم زندگی سے کھیل کھیلتے ہیں

ہم جب کھیل کھیلتے ہیں تو خود پر رحم نہی کھاتے اور جب زندگی کھیل کھیلتی ہے تو ہم رحم کھانے کے قابل نہی رہتے ۔۔،،،

اس وقت میری روح رحم کے بھیگ مانگ رہی ہے اور میرا وجود اس پر رحم نہی کھانا چاہتا !!

زندگی اتنی تکلیف دہ کیوں ہو جاتی ہے ہاں اپ تو جواب دھ سکتی ہیں نہ کیونکہ مجھے میرے سوالات کے جوابات نہی ملتے ۔۔

میں سیاح راستہ پر چل نکلا ہوں ،،،،

وہاں سے اپ کے پرنس کی واپسی نا ممکن ہے ،،،

ناممکن میں نے بنا دی ہے !!!

زمیں پر بیٹھا وہ وہیل چیئر پر بیٹے اس وجود کی گود میں سر رکھے بس دل کا حال ہلکا کیے جا رہا تھا

واقعات جو گزر گئے وہ میرے وجود کے ساتھ کہیں ٹھہر گئے ہیں ،،،،

میں گزر نہی پا رہا اس گزرے وقت سے !!!!

انکھیں موندتا وہ اس خاتون کے ہاتھ پر پیشانی ٹکا گیا تھا

جیسے وہ ہر ازمائش سے ہر درد ہر دکھ سے دوری اختیار کرنا چاہتا تھا

جو ناممکن تھا مگر شاید یہ کچھ سکون کے لمحہ اسے میسر تھے اس وجود کے ساتھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا میں اجاوں ۔۔۔؟

دو گھنٹہ ایلاف کی پٹر پٹر سننے کے بعد وہ اپنے باپ کے کمرے تک ہمت جمع کرتی ائی تھی

آؤ بیٹا اجاو اندر ،،،وہ جو کتاب پرھنے میں مگھن تھے

علیزہ کی اواز پر وہ چونک کر سر اٹھاتے کتاب سائیڈ پر رکھ کراسے اندر انے کی اجازت دیتے ہیں

ماما کے جانے کے بعد میں نے یہ خود سے وعدہ لیا تھا کہ جب تک ایلاف اور زوار کی شادی نہ ہ جائے وہ سیٹل نہ ہو جائیں اپنیُ،،

میں تب تک میں اپ کے ساتھ رہونگی میں جانتی ہوں سب میرے کنٹرول میں نہی مگر بابا یوں اپ تینوں کو کیسے چھور دوں میں نہی جا سکتی یوں اپ سب کی زمہ داری سے منہ موڑ کر ۔۔۔،،،

ان کے قریب اکر بیٹھتی وہ کب سے مچلتی دل کی باتیں سر جھکائے بول رہی تھی

احسن صاحب غور سے اسکے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے سن رہے تھے

تم پہلی زمہ داری ہو بیٹا اور شادی کے بعد بیٹیاں جدا تھوری ہوتی ہیں

ایلاف بری ہے زوار اور اسکی شادی ایک ساتھ کر دونگا تاکہ دونوں بیٹیوں جانے سے پہلے ایک بیٹی اجائے تم کیوں فکر کرتی ہو تم نے جس قدر میرا ساتھ دیا ہے انہیں سنبھالنے میں بلکہ تم نے اس عمر میں اپنے باپ کو سنبھالا ہے،،،

یہ گھر تم سے ہے میری جان کون باپ اپنی بیٹی کا جانا برداشت کرُسکتا ہے مگر یہ ازل سے چلتی ائی روایت ہے !!!!!

تم نے فرض سے زیادہ کیا ہے مگر اب میرا فرض ہے تمھارے بارے میں سوچنا اپنا جواب بتا دو میری جان ،،،؟

بے حد نرم لہجہ میں سمجھاتے وہ آخر میں اس سے سوال کرتے ہیں

اگر اپ کو منظور ہے تو بابا مجھے کوئی انکار نہی ،،،!

ان کا ہاتھ لبوں سے لگا کر جواب دیتی وہ باہر نکل گئی تھی

احسن صاحب ہنس دیے تھے

اس کی وجہ سے اس گھر میں رونق تھی

مگر وہ بیٹی تھی

جس کو ایک نہ ایک دن جانا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں ہو گئی ہے ابھی فون ایا تھا بیٹا انُکا ۔۔۔

عائشہ کی والدہ فون کان سے لگائے معارج کو اطلاع دیتی اس کا جوابُ سن فون نیچے رکھتی ہیں

اس نے جو کہا تھا اب انہیں اس پر کام کرنا تھا

کچھ سوچتی وہ اپنے کمرے کی جانب برھ جاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی صاحب منگنی نہی ہم ڈائریکٹ نکاح چاہتے ہیں اس ہفتہ کیوں نہ نکاح کر دیا جائے اور اگلے سال رخصتی ،،،؟؟

احسن صاحب کی جانب سے ہاں ہوتے وہ اگلے دن وہاں موجود تھی

جہاں منگنی کی بات چل رہی تھی وہُ اپنی بات سامنے رکھ دیتی ہیں

جس پر احسن صاحب اور زوار سوچ میں پر گئے تھی

یقینا ان لوگون نے ایسا کچھ نہ سوچا تھا

معارج ٹانگ پر ٹانگ رکھے ان کے چہرے کی جانب دیکھتا کسی سوچ میں گم تھا

مگر اتنی جلدی ،،؟؟،،،،

ابھی زوار اور کچھ کہتا احسن صاحب کے ہاتھ پکرنگ پر خاموش ہوتا انہیں دیکھتا ہے

یہ تو اچھا ہے بے شک نکاح میں برکت ہے ۔۔۔!

زوار کو نظروں سے سمجھاتے وہ معارج کو دیکھ عائشہ کی والدہ کو جواب دیتے ہیں

جس پر وہ مسکرا کر بولنے لگی تھیں

اگر کوئی اعتراض نہ ہو تو کیوں نہ اس جمعہ والے دن ظہر کے بعد رکھ لیا جائے بابرکت دن ہے اور ہفتہ رہتا ہے زیادہ کوئی دھوم دھام نہی بس اپنوں میں بروں کو بلا کر پرھوا لیا جائے ۔۔۔؟؟؟؟

وہ تو جیسے سب سوچ کر ائی بیٹھی تھیں

ان شاء اللہ اس جمعہ ہی رکھ لئتے ہیں اللہ خیر کریگا ۔۔۔!

ایلاف بیٹا میٹھا لاؤ اندر ۔۔۔!

ان کے ہاں پر سب خوش ہو گئے تھے

بس باہر کھری علیزہ کے پاؤں جیسے ایک ہی جگہ منجمد تھے جیسے وہ اب کبھی ہل ہی نہ پاتی یہ سب اس قدر جلدی کا سوچ وہ پسینہ پسینہ ہونے لگی تھی

اگر ساتھ دیوار نہ ہوتی تو وہ یقینا گر جاتی !!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *