Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 08)

Ishq Tera by Laiba Khan

چلے جاؤ یہاں سے تم نے مجھے میری زندگی سب برباد کر دیا تم نے تمھیں ایک اچھا شخص سمجھا تھا میں نے مگر نہی تم بھی باقی سو کالڈ ان بدمعاشوں کی طرح نکلے دفع ہو جاؤ ا سسے پہلے میں کچھ کر گزروں ۔۔۔۔!!!!

علیزہ کو کمرہ میں چھورنے کے بعد باہر اتے جس پر اس کی نظر پری تھی

بغیر وہاں موجود کسی کا لحاظ کیے وہ اسے گریبان سے پکرے اس پر چلائے جا رہی تھی

وہاں موجود ہر کوئی حیران تھا کہ زرغامان کیسے کسی کی اتنی اونچی اواز برداشت کر رہا تھا

سب سے زیادہ وہ اسکا گریبان پکرے کھری تھی جس پر بھی اس نے ایک لمحہ کے کئے اسے ہاتھوں کو جھٹکا نہی تھا

ایلاف چھورو اور اندر جاؤ ۔۔۔!!!

احسن صاحب اسکے ہاتھ جھٹک کر زرغامان سے دور کرتے حکم دینے کے انداز سے بولتے اس کی جانب سے رخ پھیر گئے تھے

کیسے بابا اپ کو اس شخص کا قتل کر دینا چاہیے بلکہ یہ میں ہی کر دیتا ہوں شدید نفرت ہو رہی ہے بابا اس نے ہمیں برباد کر دیا اپ کی عزت پر اس کی وجہ سے حرف ایا اپ کیوں اتنے رلیکس ہیں ہاں ۔۔۔۔؟؟؟؟

ایلاف کو دور کرتے زوار اس کے قریب جانے لگا تھا

بولتے بولتے اپنے باپ کے پکرنے کے انداز پر اس کے قدم رکے تھے

وہ کیوں اس قدر پرسکون تھے

وہ سب یہ راز جاننا چاہتے تھے

بابا اپ اسے جانتے ہیں ۔۔؟

اپنی پیٹ پیچھے کھری ایلاف کی اواز پر وہ محظ سر ہلا کر جواب دیتے زرغامان کو اشارہ کرتے باہر نکلنے لگتے ہیں

جب وہ بھاگنے کے انداز سے انکے سامنے ائی تھی اس کی نظروں میں موجود بے یقینی سے وہ نظریں چرا رہے تھے

مجھے سب جاننا ہے بابا ۔۔۔!

اسکی آنکھوں میں خوف تھا کوئی جو وہ پہچان کر نظریں پھیرتے زرغامان کو دیجھتے ہیں

یہ سب میری اجازت سے ہوا ہے جان گئی ہو نہ اب جاؤ علیزہ کو دیکھو اسے ہوش دلاؤ میں زرغامان سے بات کرکے اتا ہوں ۔۔۔۔!

بے انتہا پرسکون انداز میں بولتے وہ زرغامان کے ساتھ باہر نکل جاتے ہیں

مگر پیچھے کھرے ایلاف اور زوار پر جیسے ا س گھر کی چھت گری تھی

یہ انکشاف کوئی چھوٹا سا نہ تھا

کیا پلیننگ تھی کیا تھا وہ دونوں یہ سمجھنے سے انکارہ تھے

یہ سب با۔۔۔،،،

ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے ایلافنےے یہی الفاظ ادا کیے تھے ا سکے بعد اسکی انکھیں بلکل بند ہو گئی تھی

جیسے اس میں یہ حقیقت سہنے کی ہمت نہ بچی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احسن بابا بہت سے سوال ہیں کیسے دیں گے ان کا جواب سوچ لیں مجھے بات کرنے دیں ایلی سے اسے میں ہینڈل کر لونگا۔۔۔۔!!!

ان کے دونوں ہاتھ تھامے وہ بے انتہا پریشانی لئے ان سے کہتا انہیں بہت بھلا لگا تھا

میرے شیر اب تم نے ہی اس شیرنی کو سنبھالنا ہے ۔۔۔!

فکر مت کرو پالا ہے اسے جانتا ہوں سمجھ جائے گی مگر تم ۔۔۔۔

ابھی وہ الفاظ مکمل کرتے اندر سے زوار کے چیخنے کی اواز پر وہ فورا اندر کی جانب لپکتے ہیں

ٹی وی لاؤنچ میں داخل ہوتے ان کی نظر زمیں پر بے سدھ پری ایلاف پر جاتی ہت

ایکی

زرغام نے اندر اتے اسے یوں گرے دیکھ جس شدت سے پکارا تھا

احسن صاحب کے ایلاف کی جانب برھتے قدم رکے تھے

زرغامان رخصتی کا وقت ہے ایسے ہی اٹھا کر لے جاؤ ۔۔۔!

یہ محظ وہ جانتے تھے

دل پر کیسے جبر کر کے انہوں نے یہ الفاظ ادا کیے تھے

ایک بیٹی کی رخصتی وہ بھی یوں جب وہ ہوش میں ہی نہی تھی

کیا کر رہے ہیں اپ بابا ایلی کو ہوش نہی اور اپ اس گھٹیا شخص کے ساتھ اسے بھیج رہے ہیں۔۔۔!

گھٹیا نہی ہے وہ زوار درست الفاظ کا چناؤ کر کے بولو بلکہ جاؤ اندر قرآن لاؤ بہن کو رخصت کرو اب اور ایک لفظ نہی ۔۔۔!!!!

اسے کچھ بولتے دیکھ وہ بیچ میں ٹوک کر زرغامان کو نظروں سے اشارہ کرتے اندر کمرے میں گھس جاتے ہیں

زرغامان گھنٹوں کے بل بیٹھتا ایلاف کا وجود بازوؤں میں بھر کر ابھی کھڑا ہوا تھا

جب احسن صاحب ایک بیگ اٹھاتے باہر اتے ہیں

زوار جلدی آؤ علیزہ بھی نہی ہے ۔۔۔٭٭

سب مہمان اس تماشہ کے فورا بعد سے جا چکے تھے

علیزہ اب تک بے ہوش تھی

ناجانے معارج بھی کہاں چلا گیا تھا

زرغامان کو اسے کال کرنے کی مہلت ہی نہی ملی تھی

سوچیں جھٹکتا وہ دوسرے کمرے سے نکلتے زوار کی جانب نگاہ اٹھاتا ہے

جو ہاتھ میں قرآن پاک اٹھائے ان کی جانب ہی آ رہا تھا

رکھو قرآن سر پر بہن کے چلو زرغامان اگے برھو ۔۔۔!

اگے برھ کر ایلاف کی پیشانی چوم دوبٹہ اس کے چہرے پر کرتے وہ ان دونوں کو بول کر ساتھ ہی چلنے لگتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زرغامان ایلاف کو کار میں لٹاتا بیگ لے کر ڈگی میں رکھتا احسن صاحب سے مل کر زوار کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے

جس کو وہ خانخوار نظروں دے دیکھ بغیر ہاتھ ملائے اندر چلا گیا تھا

زرغامان نے دو لمحہ اپنے برھے ہوئے خالی ہاتھ پر نظر ڈالی تھی

پھر اسے واپس پیچھے کرتا وہ احسن صاحب سے ایک دو باتیں کرتا کار میں آ بیٹھتا ہے

آج فرنٹ سیٹ پر اس کا من چاہا وجود موجود تھا

ناجانے یہ کیسا احساس اور خوشی تھی جو لہو میں جیسے گھل سی گئی تھی

زرغامان کی سانس ہو تم ایلاف زرغامان ۔۔۔!

پاس پرے وجود کے چہرے سے دوبٹہ ہٹا کر ماتھے پر محبت کی پہلی مہر ثبت کرتا وہ ڈرائیوینگ کی طرف دیہان دیتا ہے

ایلاف کی سیٹ وہ نیچے کر چکا تھا تاکہ وہ ایزی رہے

اسے ہوش ناجانے کب انا تھا

مگر اس نے راستہ سے ڈاکٹر سے ہوتے ہوئے ہی جانا تھا

راستہ زیادہ تھا

اور اسکی زندگی کو وہ تکلیف دینا کا سوچ بھی نہی سکتا تھا

۔۔۔۔

بابا بابا۔۔۔!

علیزہ خوف کے زیر اثر چیخ کر بے ہوشی سے اٹھ بیٹھتی ہے

احسن صاحب جو ابھی ایلاف کو چھور کر گھر میں داخل ہوئے تھے

علیزہ کی چیخ سن فورا کمرہ میں داخل ہوتے ہیں

علیزہ سامنے ہی بیڈ پر پسینے میں بھیگی خوف سے تھر تھر کانپتی بار بار انہیں پکار رہی تھی

زوار نا جانے کہاں نکل گیا تھا

بابا بابا ۔۔۔!!!

وہ وہ اگیا بابا!! وہ اج ،،،بابا ایا تھا !!میں نے خود دیکھا بابا!!! وہ لے جائیگا بابا۔ ۔میں مر جاؤمگی ،،،میں سچ کہ رہی ہوں وہ مجھے اب مار دیگا نہی چھوریگا !!!!!

راج مار دینگے بابا نہی نہی مجھے چھپا لیں !!!!

توڑ توڑ کر جملہ بول رہی تھی وہ مگر پھر بھی وہ سمجھ گئے تھے

یہاں کس شخص کا ذکر ہو رہا تھا

معارج تمہارا کچھ نہی بگاڑ سکتا سنا تم نے علیزہ احسن کچھ بھی نہی وہ ماضی تھا بھول جاو ۔۔۔!

بازو پکر کر جھنجھورتے وہ جیسے اسے حقیقیت کا روپ دکھا رہےتھے

یہ ماضی ہی تو پیچھا نہی چھورتا بابا ۔۔۔!

یہ ماضی میرا مستقبل کھانے لوٹ ایا ہے بابا یہ ماضی کبھی ماضی کیوںنہی بنتا ماضی میں کیوں نہی رہتا ہمارے حال میں وحشتیں دکھ درد لے کے کیون لوٹ اتا ہے ۔۔۔۔؟؟

نفرت ہے مجھے اس ماضی سے بلکہ اس ماضی لفظ سے ۔۔۔

کاش ماضی میں ہوا سب ماضی میں نہ ہوتا ،،،

کاش بابا کسی انسان کا کوئی ماضی نہ ہوتا !!

یہ ماضی ہی کیون زمدگی کا حصہ بنتا ہے ،،،

حلا اور مستقبل پر کیوں راج کرتا ہے یہ ؟؟؟

میں اب مر جاؤنگی بابا ۔۔۔!!

یہ ماضی میری تین سال کی سکون بھری نیندیں کھا گیا بابا!!!!

چیخ چیخ کر بولتی جب وہ تھکی تھی تو خاموش ہوتے ان کے پاس اجاتی ہے

یہ ماضی میرا ہر لمحہ ہر پل کھانے ایا ہے ۔۔۔!!

کیون سامنا ہوا میرا بابا میرے اس ازیت ناک ماضی سے ؟؟؟

کاش میں اندھی ہو جاتی !!

مجھے نہی دیکھنا کچھ مجھے نہی جاننا کچھ بابا دعا کریں میں مر جاؤ ۔۔۔

علیزہ معارج مر جائے بابا ۔۔۔

“وہ میری ازیت کی آخری حد تھی

خود کو ہی بدُدعا دین”۔۔

یہ نام مٹ جائے ۔۔۔!

علیزہ کا نام مٹ جائے بابا !!

سینہ پیٹتی وہ شدت سے چیختی ساتھ اپنے باپ کا کلیجہ بھی کاٹ رہی تھی

علیزہ ہوش کرو کہاں ہے وہ نہی ہے ۔۔۔کہیں نہی ہے وہ

کچھ لمحہ اتے ہیں چلے جاتے ہیں باقی نہی رہتے وہ بھی ایک جھلک تھی تنھارے ماضی کی جو آئی اور چلی گئی اب خدارا مت لوٹو اس ازیتوں کے سفر میں ۔۔۔!

ان کانٹوں نے کم زخمی نہی کیا تمھاری روح کو ہوش کرو ٹھیک کرو اپنی حالت۔۔۔!

اپنی بہن پر دیہان دو !!

ہو چکی ہے وہ رخصت ارام کرو شاباش ۔۔۔۔

اس کے سوالوں سے بچنے کے لئے دوائی دینے کے ساتھ اسے بات ختم کرتے وہ فورا باہر نکل گئے تھے

ان کی بات پر وہ دو لمحہ سکتے کی حالت میں رہی تھی

مگر شاید دوائی کا اثر اج کچھ جلدی ہوا تھا

نیند سے بھاری ہوتے سر کو پکرتے وہ واپس لیٹ گئی تھی

اس رات میں کئی سوال لپٹے تھے مگر جواب شاید ابھی وقت لئے بیٹھا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔

اپ …??کہاں ہو میں ۔۔۔؟؟

کس کی کار ہے یہ ؟؟؟

کہان لے جا رہے ہو ؟؟؟

پلیز سٹوپ دا کار مجھ میں اور چلانے کی بحث کی ہمت نہی بتاؤ کہاں لے جا رہے ہو ۔۔۔؟

ہوش میں اتے ہی وہ خود کو کار میں ہا کر اس سے سوال کرنے لگی تھی

زرغامان جو ہرسکون سا ڈرائیو کر رہا تھا

اس کے کہی سوالوں پر ہلکی سی مسکراہٹ چہرے ہر لاتا کار ایک سائیڈ پر روک فیتا ہے

روک دی بولو کیا کہنا ہے ۔۔!؟؟؟

رخ اسکی جانب کرتا اپنی انگلی میں پہنی انگھوٹی کو گھماتا وہ سامنے بیٹھی ایلاف کے چہرے کا طواف کر رہا تھا

مٹا مٹا میک اپ چند انسوؤن کے مٹے مٹے نشان جو اب بھی موجود تھے

میرے کیا سوال ہیں نہی جانتے آپ ۔۔۔؟

تلخ انداز میں پوچھتی وہ سیٹ بیلٹ کھولتی دوبٹہ صحیح کرنے لگتی ہے

جو پہلے سے ہی صحیح تھا

میں جواب دونگا پوچھو ہر سوال کا ۔۔۔!

اسکا ہاتھ تھامتا وہ اپنے سینہ پر رکھتا سیٹ سے ٹیک لگائے اسکی جانب دی رہا تھا

بابا اور تم کیسے جانتے ہو ایک دوسرے کو ۔۔۔

پہلی تو ایلاف نے کئی لمحہ اپنا ہاتھ چھروانے کی کوشش کی تھی

مگر زرغامان کی گرفت دیکھ لگ رہا تھا جیسے وہ اپنے ہاتھ زے اسکا ہاتھ سیے بیٹھا تھا جو ہلا تک نہ تھا

ہمارے حال سے ماضی جڑا ہے ایلی وقت انے ہر بابا تمھیں سب بتا دینگے فلحال یہ جان لو غلطی پر کوئی بھی تمھارا اپنا نہی ہے ۔۔۔!

تمھارے بابا کہ پاس جسٹیفیکیچن ہے ایلی ہر سوالُ کا جواب ہے مگر ابھی وقت مناسب نہی ۔۔

رہی ہماری شادی کی بات وہ ہو چکی تمھارے بابا رخصتی دے چکے تم اہپنے بھائی کے ہاتھوں قرآن کے سائے تلے رخصت ہو کر ائی ہو کوئی اور سوال ۔۔۔!؟

اسے ہاتھ پر لکیریں کھینچتا وہ بلکل سیریس انداز میں اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا

پلیز ہاتھ چھور دو میرا ۔۔!

اپنا وہ جواب نہ ملنے پر وہ بس اس وقت اس شخص سے دوری چاہتی تھی

جو اس کے لئے نا ممکن بنا دی گئی تھی

وہ جانتی تھی وہ سچ کہ رہا تھا

ناجانے کیوں وہ اسکی بولتی نظریں پرھ لئتی تھی

وہ ہمیشہ ہی شاید سچ بولتا تھا اس وجہ سے

یا اس کے پاس ہی یہ ہنر تھا سید زرغامان کینبظرون کو پرھنے کا یا زرغامان نے اسے اجازت دے دی تھی

اپنی بولتی نظروں کو اس پر واضح ہونے دیا تھا

ایک سوال کا جواب دے دیں مجھ سے نکاح کرنے کی اپ کے پاس کیا وجہ تھی ۔۔۔

اس کو واپس ڈرائیوینگ کی طرف متوجہ ہوتے دیکھ اپنا ہاتھ چھوروا کر پوچھتی وہ اسکے جواب کا انتظار کرنے لگتی ہے

تم میری ہو صرف اس لئے ۔۔۔!

نگاہوں نے اس کی ایلافکو بہت کچھ باور کروایا تھا

نکاح عزت دینے کے لئے کیا جاتا ہے محبت میں کیا جاتا ہے۔۔۔!

اسی کے انداز میں بولتی وہ اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ بلھیر گئی تھی

تم وہ محبت ہو جس کے بعد محبت نہی کی جا سکتی اب سو جاؤ ایلاف زرغامان۔۔۔!

آنکھوں میں انکھیں ڈال کر جواب دیا گیا تھا

یا شاید اسے لاجواب کیا گیا تھا

آپ کو اور اتا ہی کیا ہے روعب جمانے کے علاوہ ۔۔۔!

اسکے حکم دینے والےا نداز ہر وہ تپ گئی تھی

روعب تو تم جماؤگی انکھیں دیکھو اہنی بس یہی نگاہیں ہیں جو زرغامان کو خاموش کروا سلتی ہے اپنی منواُسکتی ہیں ۔۔۔!

تم وہ ہو جو میری انکھون میں انکھیں ڈال کر مجھے ہرا سکت ہو اور سید زرغامان ایسی ئی عورت ڈیزرو کرتا ہے سید زرغامان کو شکست دینے کا ہنر صرف تم میں ہے۔۔۔

اسکے لہجہ میں اسکا غرور بول رہا تھا

ایک غرور وہ ہوتا ہے

جو خود ہر ناز کرنے ہر ہوتا ہے ۔۔

اور ایک غرور ان نعمتوں ہر شکر ادا کرتا ہے

سید زرغامان کو ایسا ہی غرور تھا خود ہر

اس کے پاس کئی نعمتیں تھیں جس کاوہ دل سے ہر بار اس رب کا شکر ادا کرتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *