Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera (Episode 02)

Ishq Tera by Laiba Khan

کر کیا رہا ہے تو ۔۔۔؟؟؟

معارج جو ایک ہفتہ کے لئے باہر گیا ہوا تھا

سیدھا وہ زرغامان کے گھر اسکے کمرے میں میں داخل ہوتا ہے

مگر وہ تو شاید کسی اور ہی دنیا میں گم تھا

ششش ۔۔۔!

کمرے میں اندھیرا کیے کھرکی کے ہاس کھرے ہاتھ میں حرام مشروب تھامے وہ گھونٹ گھونٹ ہلک میں انڈیل رہا تھا

بنا کیا رکھی ہے تو نگ اپنی حالت ہاں کونسے روگ لئے بیٹھا ہے ایک ہفتہ پہلے تک تو ٹھیک تھا اور اس ہفتہ کتوں کی طرح زلیل ہو کر فون کیا پر مگر “دی زرغامان میر زر “کیوں اٹھاتے فون ۔۔۔!!!

آپے سے باہر ہوتا وہ اسکا گلاس کھینچ کر زمین پر پٹکتا اپنی بھراس اس پر نکال رہا تھا

مگر وہ کنپٹی سہلاتا کس ضبط سے کھرا تھا وہ نا واقف تھا

اور یہ اندھیرا کیا موت پر گئی ہے ہاں ۔۔؟

کمرے میں اندھیرے پر ایک ناگوار نظر ڈتا وہ سوئچ بورڈ کی جانب برھتا ہے

جب تیزی زے ایک شیشے کی بول اس سوئچ بورڈ کے قریب دیوار پہ لگ کر چکنا چور ہوئی تھی

ہر گز روشنی مت لانا میرے قریب ۔۔۔!

چیخ کر بولتا وہ الماری سے دوسری بوتل نکالتا سیدھا اسے منہ سے لگا چکا تھا

کیا بکواس ہے کیوں پاگلوں کی طرح پیے جا رہا ہے بتائے گا ۔۔؟

اسے پہلی بار معارج ایسے دیکھ رہا تھا

وہ زیادہ پیتا تھا مگر ایک جوش ہوتا تھا مگر شاید اس بار وہ اپنھ اعصاب چٹکھنے کی وجہ سے ہی پی رہا تھا

وہ حیران تھا مگر ہریشانی اس سے زیادہ تھی

وہ انکھیں معارج وہ انکھیں وہ کالا جادو تھا یا کیا وہ پئچھا نہی چھور رہی میرا۔۔۔!

خواب سے کیفیت میں بولتا وہ گٹا گٹ بوتل اپنے اندر انڈیل چکا تھا

معارج کی نظر اب اسکی دگرگوں سی حالت پر گئی تھی

بکھرے ہیشانی پر بال ساتھ برھ ہوئی داڑھی انکھوں کے گرد ہلکے اور ان میں اتری سرخی گواہ تھی وہ کب سے سویا نہی تھا

کونسی انکھیں بول ابھی لا کر پٹکونگا یہاں ۔۔۔تیری انکھون کے سامنے۔۔۔

یہ شخص اس دن والے شخص سے الگ تھا

اس میں غرور تھا کچھ بھی کر دینے کا غرور

نہی مجھے دور کر دے وہ انکھیں نہی معارج آہہہہہ۔۔۔۔وہ علاج نہی سزا ہیں میرے لئے۔۔!

توڑ پھور کر لفظ بولتا وہ آخر میں ہزیانتی انداز میں گھٹنوں کے بل گر کے چیخ پرا تھا

کیا ہوا ہے اس ایک ہفتہ میں بول ابھی کونسی انکھیں کون ہئے وہ بول ۔۔؟؟؟؟

خود پر کنٹرول کرتا وہ اس کے قریب ہی نیچے بیٹھ جاتا ہے

اس رات وہ انکھیں نقاب سے جو انکھیں نظر آ رہی تھیں ان میں وہ پانی وہ کیا تھا مجھے بتا وہ کاجا تھا مجھے راتون کو سونے نہی دے رہا انکھیں بندکروں وہی نظر اتیں ہیں مجھے روک دیا ہے ان انکھوں نے کہیں مجھے ملا دے ایک بار مجھے اس سگ سوال کرنا ہے معارج مجھے اسی زے ہوچھنا ہے اسکی انکھوں میں کیا تھا۔۔۔!!!

زرغامان میر زر تو مشکل /۶ بھی معارج کو نظر نہ ایا تھا سامنے بیٹھے شخص میں

کل ہی ملے گا تو اس سے مگر ابھی اور اسی وقت اٹھ خود کا حلیہ بدل کل اسکی ہر ڈٹیل تیری انکھوں کے سامنے ہوگی اس لرکی کے ساتھ مگر ابھی اٹھ ۔۔۔۔!

منہ کو سختی سے پکر کے بولا وہ کھرا ہو کر باہر نکل گیا تھا

پیچھے اس پر وحشت سوار ہوئی تھی

کھرے ہو کر وہ ہر بوتل اٹھا کر زمیں ہت پٹکے لگا تھا

ہھر ایک نئے عزم کے ساتھ وہ گھرا سانس بھرتا بالکونی میں نکل اتا ہے

کل تم سے ملونگا !!!جادوگرنی ہو تم ایک ۔۔۔۔،،،

کتنے ہی لمحہ وہ ہوا میں اسکی خوشبو ڈھونڈتا رہا تھا ممگر محسوس ہوتے کہ وہ کیا کر رہاہے پٹ سے انکھیں کھولی تھیں

نہی تم نے جادو کیا ہے مجھ پع کل ہی تنھارا سارا حساب جکتا کرونگا

دانت پیس کر بولتا وہ ڈیسینگ روم میں گھسا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھے گھنٹے بعد وہ باہر نکلا تھا

پورے کمرہ بلکل صاف تھا جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہی تھا

جانتا تھا یہ کس کا کام ہوگا

مگر سب نظر انداز کرتا وہ ائینہ کے سامنے اتا ڈرار سے اپنی واچ نکال کر کلائی پر باندھنے لگتا ہے

براؤن جینز پر بلیک شرٹ پہنے ا سپر بلو جیکٹ اور ی میں کئی چینز ڈالے بالوں کی پونی بنائے وہ زرغام میر زر ہی لگ رہا تھا

ہر کسی کے دل پر راج کرنے ولاا مغرور شہزادہ

کسی کی اتنی اوقات نہی جو سید زرغامان میر زرکھے اعصاب پع سوارہو جائے اور زرغامان کو پٹکنا نہ ائے واپس زمین پر

اس کے لہجہ میں حقارت بول رہی تھی

چہرے ہرغرور لئے وہ کمرے سے نکل ایا تھا

سیرھیاں اترتا بغیر کسی کو بھی دیکھے وہ پورچ میں اتا اپنی کار میں بیٹھ کر باہر نکل گیا تھا

کھرکی میب کھری ان انکھوں نے دور تک ہیچھا کیا تھا

ہچھلے ایک ہفتہ سے وہ مل نہی پائیں تھیں اسسے نہ ہی وہ خود ایا تھا

مایوسی سے سر جھٹکتی وہ کھرکی سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نام ایلاف احسن !

ایک ریٹائر افسر کی بیٹی ہے !

ایک بہن اور بھائی ہیں ماں مر چکی ہے

یہ ایڈریس۔۔۔۔ یہ نمبر۔۔۔ یہ کالج کا ایڈریس ۔۔۔۔یہ ہر ائی ڈی !

اسکی جو کرنا ہے کر اب ۔۔،،

اگر کچھ بھی ہو تو ایک حکم کر کمرے میں لا کر نہ پٹکا تو بولنا!!!

اگلے دن زرغامان کے پاس معارج افس میں موجود تھا

کرسی پر جھولتا وہ سامنے پری ہر ڈیٹیل جھ رہا تھا

مگر نظر ایک جگہ ہی ٹکی تھی

سیاہ برقہ میں ملبوس اس لرکی پر

جو اس تصویر میں کھری شاید مسکرا رہی تھی

شاید نہی یقینا کیونکہ اسمی انکھیں واضح بتا رہی تھی ان ہونٹون پر مسکراہٹ موجود تھی

دونوں ہاتھ ٹیبل پر مار کے کھرا ہوتا ہر چیز اٹھا کر وہ کیبن سگ باہر نکل ایا تھا

اس کا مقصد اب ایک تھی

“ایلاف احسن”!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلی !!

ایلی !!

یار جلدی کرو لیٹ ہو رہا ہوں میں ۔۔۔۔

ایلاف کا بھائی زوار کب سے کھرا اس کا ویٹ کر رہا تھا

جو انے کا نام نہی لے رہی تھی

وہ افس کے لئے بلکل تیار کھرا تھا

دوسری جانب وہ جلدی جکدی سے حجاب کرتی کمرے سے باہر۔ ا رہی تھی

اللہ حافظ اپی

اللہ حافظ بابا

کلدی جکدی بوکتی وہ باہر نکلتی ہے

اگئی اگئی

تبھی وہ بھاگتی ہوئی باہر نکلتی ہوئی اسے نظر اتی ہے

چہرے پرنقاب کرتی وہ بھاگتی ہوئی اکر کے قریب اتی سوری سوری بولتی کار میں بیٹھ جاتی ہے

زوار نفی میں سر ہلاتا دروازے میں کھرے اپنے بابا کو خدا حافظ کر کے بیٹھ چکا تھا

کار تیز دفتار سے باہر نکلی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلی فائنلی تم اگئی ۔۔۔!

پاؤں کیسا ہے تنہارا ہاں۔۔؟

ایلاف کے کالج داخل ہوتے اسکی دوست منتہا اسکے پاس بھاگ کر اتے ہوئے گلے لگی تھی

ٹھیک ہے اور رہے گا اگر تم اہبگ سہارے لر کھری ہوگی تو اور بھی ٹھیک ہو جائیگا موٹی ۔۔۔!!!

اسکے ہیلتھی پن ہر ٹونٹ کرتی وہ مسکراہٹ دبا کر اگے برھی تھی

وہ گرلز کالج تھا۔۔

وہ چلتے چلتے منتئا کی چلتی تیز رفتار ٹرین بھی سن رہی تھی

جانتی تھی ایک ہفتہ کی بھری ہوئی باتیں تھی

وہ خاموش ہو نہی سکتی تھی

چلتے چلے وہ نقاب نیچے کر چکی تھی

منتہا منتہا اللہ کو مانو بس کر جاؤ بریک لگاؤ ۔۔

اخر کار تنگ اتی وہ ہلٹ کر ہاتھ جوڑ چکی تھی

افف بولبے نا دینا تم۔۔۔!

منہ بنا کر بولتی اس کا بازو تھام کر وہ کلاس روم کی جانب برھ جاتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کالج سے چھٹی ہوئے ادھا گھنٹہ ہو گیا تھا

اور اب تک اسے لینے اس کا بھائی نہی ایا تھا

کچھ دیت پہکےمبتئا گئی تھی

اس نے ڈراپ کرنے کا کہا تھا مگر وہ مسکرا کر اسے منع کر چکی تھی اور اب پچھتا رہی تھی

دو منٹ ہی گزرے تھے وہ روڈ کے قریب ائی تھی

کالج بھی پورا خالی ہو چکا تھا

بس ایم گارڈ بچا تھا

تبھی وہ ڈر کر پئچھے ہٹتی

کیونکہ سیاہ رنگ کی چمکتی گاری تیز رفتاری سے اس کے بلکل قریب اکر رکی تھی

اگلے ہی منٹ اس میں سے ایک شخص نکلا تھا

لمبا چورا قد وہ اسے کسی فلم کا ہیرو ہی لگا تھا کیونکہ اس کا انداز اور سٹائل ویسا ہی تھا

مگر اسے اپنے سامنے کھرے دیکھ ناگوار نظر اس پر ڈالتی وہ سائیڈ پر ہونے لگتی ہے

جب زرغامان نے ہاتھ برھا کر اسے کہیں ہپد بھی ہونے سے روکا تھا

جو جو سوال کروں مجھے سیدھی زبان میں اسکا جواب چاہیے ۔۔۔!

بھاری وحشت زدہ سی اواز اس سنسان روڈ پر گونجی تھی

سیاہ چشمہ کے اندر موجود نظریں سامنے برقعہ میں چھپی اس لرکی پرتھیں

جو ایک ہفتہ سے اسے پوگل کیے بیٹھی تھی

کیا بد تعمیزی ہے یہ ہاں ہٹیے راستہ سے۔۔۔!

سنسان روڈ اور اس شخص کی اواز سن اسے خوف محسوس ہوا تھا

مگر خود پر کنٹرول کرتی وہ کچھ قدم ہیچھے ہوتی ہمت کر کے بولتی ہے

شٹ اپ جو ہوچھوں اس کا سچ سچ جواب دو۔۔۔!

اپنی وحشت زدہ سی سرخ انکھیں ان خوف زدہ انکھوں میں گاڑھے وہ غراتے ہوئے سوال کرتا اپنی کیفیت سے بھی انجان تھا

کیا جادو کیا ہے ہاں تم نے کونسا کالا جادو کیا ہے مجھ پر جو کوئی بھی نشہ کر لوں میرے اعصاب پر سے تم ہٹتی نہی ہو ۔۔۔۔!

جھکاؤ اپنی انکھیں ورنہ نکال پھینکونگا!!! جھکاؤ میں نے کہا

بھرے ہوئے شیر کی طرح دحار کر بولتا وہ اسے سہما گیا تھا اپنے رویہ سے وہ خود بھی حیران ہوا تھا وہ اتنا سخت لہجہ میں اخر کیوں اس سے مخاطب تھا

ایک تو انجان روڈ اوپر سے سامنے کھرے وحشی کی انکھوں سے جھلکتا غصہ !

وہ ناواقف تھی ہر چیز سے ۔۔۔

اور قسمت وہ مسکدا کر ان دو اجنبیعں کو دیکھ رہی تھی

آپ چاہتے کیا ہیں کیا بوے جا رہے ہیں ۔۔۔!؟؟

وہ سامنے کھرےشخص کو پہچان ہی نہی پائی تھی۔

ناجانے کون پاگل تھا !

زہن میں اسے پاگل کا خطاب دیتی وہ لیفٹ سائیڈ سے اپنی بھائی کی کار نظر اتے اس کی جانب بھاگی تھی

وہ کیوں ڈری تھی نہی جانتی تھی

مگر اس شخص سے دور بھاگنا تھا اسے جتنا جلدی ہو سکتا

کار کے نزدیک پہنچتی وہ کار رکتے اس میں بیٹھ کر اپنے بھائی کو جلدی سے چلانے کا کہتی ہے

وہ ارے ارے کرتا رہ گیا تھا

مگر اسکے ایک رٹ تھی جلدی چلاؤ

جانتی تھی دو آگ اگلتی نگاہیں ان پر ہی ٹکی تھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا میرے چیتے ۔۔؟؟

اسکی کار پر سلگتی نگاہیں گارھے وہ کال رسیو کرتا کان سے فون لگاتا

ہے

دوسری جانب سے معارج کی اواز اسے سنائی دی تھی

وہ انسان نہی ہو سکتی اسکی انکھیں وہ عام نہی اسکی خوشبو ۔۔۔،،،،،،،،،،

بولتے بولتے وہ خاموشی اختیار کرتا نکھیوں کو ب!: کرتا اسکی وہ خوشبو اب بھی اپنے نزدیک محسوس کررہا تگا

سمجھ میری ہار میری دہلیز پر بھیج دی گئی ہے ایک خوبصورت ہار ۔۔۔!

وہ دلکشی سے مسکرا دیا تھا

کیا بکواس کر رہا ہے ؟؟؟

کسی کی اتنی جرات ہے جو سید زرغامان کو ہرا کے دکھائے ۔۔۔؟؟؟

دوسری جانب سے ابھری اواز پر زرغامان ہنس کر فون دوسرے کان سے لگاتا کار میں بیٹھتا ہے

اس دلکش ہار پر میری جان سو بار قربان۔۔!

اسکی مسکراہٹ نے اسکے چہرے کو نکھار بخشی تھی

کیا بولی جا ہا ہے ۔۔۔!

معارج کی جھنجھلائے ہوئے اواز سنتا وہ ہنس کر اسے باتیں کرتا کار سٹارٹ کر تا اگے برھا دیتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو جب سے ائی ہو ہریشان لگ رہی ئو ۔۔؟

کالج دست اتے ہے وہ اپبے مرت میں گھسی تھی

اب شام ہو چکی تھی

سنیہا ست انتظار اور نہی ہوتا ا سلئے کمرے میں اجاتی ہے

میں ٹھیک ہو مجھے کیا ہونا ئے ۔۔؟

یوں اسکےا چانک انے ہر وہ جو کھرکی میں کھری تھی چہرے کے اتار چرھاؤ ٹھیک کرتی پلٹ کر ہنس کے جواب دیتی وہ اسکے سامنے کچھ بھی شو نہی کرنا چاہتی تھی

تم کہتی ہو مان لیتی ہوں بابا بلا رہے ہیں اجاؤ تم ۔۔!

سفید رنگ کی شلواد قمیض پر نیلے رنگ کا دوبٹہ اورھے بالوں کا رف سا جورا بنائے وہ بے انتئا ہیاری لگ رہی تھی

تکیھی ناک بری بری انکھیں گلابی لن وہ دکھنے میں بلکل ایک گریا تھی جو مرجھا چکی تھی

دوسری جانب ایلاف بھی اسکی طرح ہی تھی نرم و نازک سی گریا درمیانی انکھیں گلابی ہونٹ گلابی سے گال اور تیکھی ناک س پر سیاہ تل تھا اسکی گھنی پلکیں اسکے چہرے پر حسن میں اضافہ ہی کرتی تھیں

بس سنیہا کے چہرے پر موجود اداسی نے اسکی معصومیت چھپا لی تھی خود میں شاید

یہی سب سوچتی وہ باہر نکل اتی ہے اسکے پئچھے سنیئا بھی ائی تھی بالوں کی کئی لٹیں چہرے پر ارہی تھی مگر وہ لا تعلق بنی کام میں لگ جاتی ہے

وہ خود کو مصروف ہی رکھتی تھی

ایلاف سوچتی اہنے بابا کے کمرے کی طرف برھ جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *