Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 19)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

وحشت کے اِس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ

جانے کہاں سے آئے تھے ، جانے کدھر گئے __

دریہ ڈاکٹر حمزہ کے ساتھ لندن موو کر گئی تھی پھوپو اپنے دونوں فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد زیادہ تر وقت عبادت میں گزارنے لگی تھیں باقی وشمہ تھی جو ناچاہتے ہوے بھی کیپٹن محب کی کمی محسوس کرنے لگی تھی جس نے مڑ کے دیکھا ہی نہیں تھا کھٹکے کی آواز پہ پھوپو نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ کنفیوژ سی ٹہری تھی کوئی بات کرنی ہے بیٹا پھوپو نے اسے دیکھ کے کہا ۔۔۔

جی پھوپو میں واپس سے ہاسپٹل جوائن کرنا چاہہتی ہوں اس نے انتہائی مدھم آواز میں اپنا مدعا بیان کیا تھا سلمٰی بیگم نے جائے نماز لپیٹ کے سائیڈ میں رکھی اور اپنی جانب کا اشارہ کیا وہ آہستگی سے چلتی انکے نزدیک بیٹھ گئی۔۔

بیٹا انسان کی کامیابی اسی چیز میں ہے کہ وہ وقت کے ساتھ چلنا سیکھے جو وقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں وہ اپنا بہت نقصان کرجاتے ہیں میں نہیں جانتی کہ محب اچانک سے گھر چھوڑ کے کیوں چلا گیا نہ میں یہ سمجھ رہی کہ تم دونوں میں کوئی ان بن ہوئی تو وہ چلا گیا لیکن وہ تمہارا مجازی خدا ہے بیٹا اسکے حقوق سمجھو پھوپو نے نرمی سے اسکا ہاتھ دبایا جبکہ وہ انجان نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی جیسے محب کا یہاں کیا زکر پھوپو نے اسکی نظروں میں تیرتی الجھن کو واضع طور پہ محسوس کیا تھا ۔۔۔۔

بیٹا اب تمہارا ہر معاملہ تمہارے سر کے سائیں کے سپرد ہے تم اس سے اجازت لو اور مجھے امید ہے کہ وہ اس چیز پہ خوش ہوگا کہ تم نے بھی آگے بڑھنے کا سوچا ہے انہوں نے اسے پدرانہ شفقت سے سمجھایا ۔۔۔

جی پھوپو میں اس سے پوچھ لونگی اب وہ کیا کہتی کہ آپکے بیٹے نے تو اپنی نئی نویلی دلہن کو پوچھا نہیں ہے آیا کہ کوئی اجازت درکار کیسے کرے اس نے چپ سادھ لی تھی۔۔۔

وہ چاہ کے بھی محب سے کنٹیکٹ نہیں کرسکی اسکی انا ہمیشہ ہر رشتے پہ ہاوی رہی تھی محب کہتا ہے کہ وہ اس سے ہارا ہے مگر ہار تو وہ گئی تھی وقت قسمت حالات کے ساتھ محب سے بھی اس نے ہاسپٹل جوائن کرلیا پھوپو کو بھی یہ کہہ کے مطمئین کردیا کہ وہ محب کو بتا چکی اسے کوئی اعتراض نہیں ہے واہ کینٹ کے اندر ہی نجی ہاسپٹل وہ جوائن کرچکی تھی

اسے جوائیننگ دیے مہینہ سے اوپر ہوا تھا اب وہ کافی حد تک پرسکون رہنے لگی تھی اسکی پرسکون ذندگی میں تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب لیفیٹیننٹ اسد نے اسے ہاسپٹل میں دیکھا تو وہ اسے مخاطب کیے بنا نہیں رہ سکا بھابی آپ یہاں خیریت آنٹی کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا اسد نے پریشان ہوکے دریافت کیا تھا جی اسد بھائی میں یہاں اک عزیز سے ملنے آئی تھی اچانک سامنے پہ وہ بھی گڑبڑائی تھی کہ وہ محب کو بتا ہی نہ دے اسلیئے جھوٹ کا سہارا لیا تھا اوہ آل رائٹ محب سے ملاقات ہوئی آپکی وہ بھی میرے ساتھ یہاں ہے اسد نے سامنے سے آتے محب کو دیکھ کے بولا جبکہ وشمہ کی محب کی جانب پیٹھ تھی جی بتایا تھا انہوں نے وشمہ نے بروقت خود کو سنبھالتے ہوئے اک اور جھوٹ بولا محب اسد کو کسی لڑکی کے ساتھ محو گفتگو دیکھ کے حیران ہوا تھا لگا ہوگا یقینناً کسی لڑکی پہ لائن مارنے میں وہ سوچتے ہوے ان تک پہنچا تھا لیکن وشمہ کو دیکھ کے بہت حیران ہوا تھا ارے محب تم نے بتایا ہی نہیں کے تم بھابی کوبھی اپنے آنے کے بارے انفارم کرچکے ہو وہ بیچاری مجھے یہاں اکیلا دیکھ پریشان ہورہی ہیں کے انکے پتی پرمیشور کہاں ہیں اسد نے ہنستے ہوئے محب کو مخاطب کیا بھلا اس نے کب وشمہ کو اپنے آنے کا بتایا تھا وہ تو کرنل مبین کے کام سے یہاں آئے تھے بغیر یونیفارم اور ریفرینس کے اک سادہ سے حلیے میں۔۔

آہہم ہاں وہ مجھے بھول گیا تھا محب نے گلا کھنکار کے اس آکورڈ سچویشن سے نکلنا چاہا جبکہ وشمہ بھی اس کے انتظار والے جھوٹ پہ اسے آنکھیں دکھا گئی ۔۔۔۔۔

اوکے انجوائے کپل میں زرا چھوٹے موٹے کام نبٹا لوں اوکے بڈی ملتے ہیں پھر پوائنٹ پر اسد محب کو بولنے کا موقع دیے بغیر اسے اپنی سنا کے چل دیا تھا ۔۔۔

وشمہ کیا کروں والی سچویشن میں آ گئی تھی ۔۔

تم یہاں کیا کررہی محب نے ہی مخاطب کرنے میں پہل کی تھی ۔۔

میں وہ اصل میں پھوپو نے کہا گھر فری رہتی تو ہاسپٹل جوائن کرلو ابھی منتھ ہوا ہاؤس جاب سٹارٹ کیے یہاں وہ جلدی جلدی اپنی صفائی دینے لگی تھی محب کو اسکے سٹارٹ اپ پہ کوئی اعتراض نہیں تھا مگر کم ازکم اگروہ اس سے مشورہ کرلیتی تو ۔۔۔۔

خیر پہلے کونسا کبھی اس نے مجھے اہمیت دی ہے جو محب نے اپنے اردگرد ناچتے توہین آمیز سوالوں کو ہمیشہ کی طرح ڈانٹ کے چپ کرایا تھا اوکے گڈ اچھا ڈسیژن ہے تمہارا کیری آن کہتے ہوئے اس نے بھی واپسی کو قدم بڑھائے تھے۔۔۔محب۔۔۔۔

وشمہ کی آواز پہ اسکے قدم بے اختیار رکے تھے کائنات کی گردش جیسے اس نام میں آکی سمٹی تھی شاید ہی اسے اپنا نام کبھی اتنا مینگ ایبل لگا ہو جی فرمائیں محب نے ناچاہتے ہوے بھی روکھا انداز اپنایا تھا جبکہ دوسری سائیڈ وہ کنفیوژ سی ہاتھ میں پہنی رنگ کو گھما رہی تھی بلا تو لیا تھا مگر کیا بات کرنی ہے سمجھ نہیں آیا ۔۔۔

۔جی مسز وشمہ آپ نے بلایا محب نے اسکی خاموشی پہ ابرواچاکاتے ہوئے پوچھا تھا

میں کہہ رہی تھی اگر آپ چاہیں تو میرے روم میں چل کے کافی پی لیں اس نے جلدی سے بولا مبادا وہ اسے چپ دیکھ کے غصہ ہی نہ ہوجائے ۔۔۔ہہہم سوچ لیں آپ ہم اتنی عزت کے قابل ہیں بھی کہ نہیں اک بار پھر طنز کا تیر چلایا گیا اب وشمہ اس لمحے پہ پچھتائی جب اس نے اسے بلایا تھا ۔۔

خیر آپ انسسٹ کرہی رہی ہیں تو چلیں محب کے کہنے پہ وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھی اور وہ اسکے پیچھے ہی آیا کافی آرڈر کرنے کے بعد وہ اب ان کمفرٹیبل سی سٹینگ صوفے پہ بیٹھی تھی جبکہ محب کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔

ڈاکٹر وشمہ آپ سے بیڈ نمبر تھری کے پیشنٹ کی فائل بنانے کا کہاتھا ابھی تک روم میں نہیں آئی فائل میرے ڈاکٹر علی بغیر روم ناک کیے دائیں بائیں دیکھے بغیر اسکے سر پہ پہنچے تھے جی سر وہ تیار ہے سوری مجھے بات بھول گئی تھی اس نے جلدی سے فائل اٹھا کے انکے حوالے کی جب وہ اسد سے ملی وہ فائل۔ہی دینے جارہی تھی مگر اسکے دماغ سے یہ بات بلکل نکل چکی تھی تبھی ڈاکٹر علی کافی دیر انتظار کے بعد وہاں آئے تھے جبکہ وہاں پہ موجود تیسرا شخص وشمہ پہ اتنا رعب جتاتے شخص کو دیکھ کے سیخ پا ہورہا تھا اور وشمہ ڈاکٹر علی کو جھوٹے سچے عزر پیش کررہی تھی

دیکھیں یہ آپکو لاسٹ وارن ہے پہلے بھی ہم آپکی غائب دماغی سے کیے گئے کاموں سے پریشان رہتے ہیں اگر آپکو کام کرنا ہے تو ہر طرح سے پنکچوئل ہونا پڑے گا کیونکہ اپکے نان سریس رویے سے ہم کوئی اپنا نقصان نہیں کروانا چاہتے اسکی ہزار ایکسپلینشن کے بعد بھی وہ شخص اپنی سنا رہا تھا وشمہ تو اک منتھ سے برداشت کررہی تھی مگر محب کو اسکا رویہ کھٹک رہا تھا۔۔۔

ایکسکیوزمی مسٹر اتنے بڑے ہاسپٹل میں کام کرتے ہیں آپ تو کیا آپکو کسی نے مینرز نہیں سکھائے کے اپنے وکرز سے کیسے بات کرتے ہیں ایون کے آپ اتنے مینرز لیس ہیں کہ اک فیمل سٹاف کے روم میں بغیر ناک انٹر ہورہے ہیں پہلے کچھ رولز آپ بھی فالو کرلیں کڑیل فوجی لہجے میں محب ان سے مخاطب تھا جبکہ ڈاکٹر علی تیسرے شخص کی مداخلت پہ ہڑبڑائے تھے

Who are you??Mstr

ڈاکٹر علی نے لڑکھڑائے لیجے میں دریافت کیا وشمہ اس عجیب صورتحال پہ پریشان سی محب کو دیکھ رہی تھی

یہ میری مسسز ہیں وشمہ محب رضا اک اک لفظ پہ زور دیتے ہوئے اس نے کہا تھا اور میں اپنا تعادف کروانا لازمی نہیں سمجھتا میں چلیں ہم ۔۔۔۔۔۔

محب نے وشمہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا تھا اسکے پاس محب کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اس نے ڈاکٹر علی کے سامنے محب کا ہاتھ جھٹکنا مناسب نہیں سمجھا اسکے ہاتھ پہ اپنا لزرتا ہاتھ رکھا اور اسکے برابر میں چلتے ہوئے ہوسپٹل سے باہر نکل آئی گاڑی تک کا سفر اک جامد خاموشی کے نظر ہوا۔۔۔

کب سے چل رہا ہے یہ سب اور کیوں تم اتنا مس بے ہیو برداشت کررہی ہو محب نے چیختے ہوئے لہجے میں دریافت کیا تھا اور میں یہ بھی اچھے سے جانتا ہوں کہ تم نے اپنی مرضی سے ہاسپٹل جوائن کیا ہے پریقین لہجہ وشمہ پہ گھڑوں پانی پھرا تھا اسکی خاموشی محب کو مزید بھڑکا رہی تھی گھر پہنچ کے وہ غصے سے اپنے روم میں چلا گیا پھوپو شاید گھر پہ نہیں تھیں وہ روم میں جاؤں نا جاؤں کے محور میں گم تھی جو بھی تھا اسے محب کو فیس تو کرنا ہی تھا روم میں داخل ہوتے وہ بری پھنسی اپنا غصہ وہ روم کی ہر چیز پہ نکال چکا تھا وشمہ کیلئے اسکا یہ کریزی انداز بلکل نیا تھا ڈریسنگ ٹیبل کی ہرچیز زمین پہ پڑی اپنی قسمت پہ نوح کنا تھی جبکہ وہ شاید واشروم میں تھا واپس آ کے اس نے نوکرانی کو بلایا اور اسکے ساتھ لگ کے روم کی حالت ٹھیک کرنے لگی کیونکہ اگر بچپن سے آج تک اسے محب کی کوئی عادت پتا تھی تو وہ صرف یہ کہ وہ حددرجہ نفاست پسند تھا بے شک یہ اسکا اپنا پھلایا گیا کباڑ تھا پر واپس اس نے اس چیز پہ بھی شور ہی ڈالنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

داؤد مشہدی نے ملک اور شوکت اچکزائی سے ڈیلنگ کر لی ہے سر شاہ نے کرنل مبین کو اپنے مشن کے بارے مزید ڈیٹیل دی تھی۔۔

گڈ اب کیپٹن محب اور اپنی باقی کی ٹیم کو بھی ریڈ الرٹ رکھو ہوسکتا ہے کہ ہم اپنا مشن پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ہی بھی اچیو کرلیں کرنل مبین نے پرجوش لہجے میں کیپٹن شاہ کی ہمت بندھائی تھی اور شورائم احمد کے کوئی لنک ملک سے ملے انہوں نے کیس کی دوسری کڑی جوڑی تھی۔۔

نہیں سر ابھی تک تو فالو بیک کیا جارہا ہے مگر کوئی اتھنٹک ثبوت نہیں مل رہے سوائے اسکے کہ اک دو بار وہ بھی ملک کے ساتھ اچکزائی اور مشہدی سے ملا ہے مگر اپنی سیاست کے فیم کیلئے ۔ ۔۔۔۔۔

ہہنم آپ لوگ لیفٹیننٹ اسد کیلئے بیک اپ تیار رکھیں کیونکہ وہ ابھی انتہائی حساس ایریا میں ہیں کبھی بھی دشمن کی کسی چال کا شکار ہوسکتے ہیں کرنل مبین کے لہجے میں اپنے چہیتے سٹوڈنٹ کیلئے شفقت بھری ہوئی تھی اور کچھ پریشانی بھی۔۔

یس سر اللّٰہ انکا حامی ومددگار ہے انشاء اللّٰہ اس بار جیت ہماری ہوگی۔۔۔۔

شاہ کا لہجہ پریقین تھا پر وہ بھول رہا تھا کہ کبھی کبھی اپنے بھی غداری کرجاتے ہیں اور پاک فوج نے تو اپنی تاریخ میں ایسےکئی غدار دیکھے جو ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کے اپنے ہی وطن کی جڑیں کھوکھلی کرنے پہ لگے رہے ہیں ۔۔۔۔

‏جنوبی وزیرستان میں ایک جگہ، فوجی پوسٹ قائم کی گئی.

عصر کے وقت سپاہی نے اذان دی.

دو بزرگ اور بچے پاس سے گزر رہے تھے.

وہ ُرک کر کہنے لگے کہ

” آپ لوگ مسلمان ہیں، ہمیں بڑی خوشی ہوئی، پی ٹی ایم والے تو کہتے ہیں کہ یہ فوج انگریزوں کی ہے۔۔۔۔

راشد منہاس کو اپنے استاد کی غداری پہ اپنے وطن کیلئے جان کا نظرانہ دینا پڑا۔۔۔

ایسے میں کئی غدار اب بھی ملک کی جڑوں میں دیمک بن کے بیٹھ گئے ہیں آٹھ گرام کلاشنکوف کی گولی 750 میٹر فی سیکنڈ کی سپیڈ سے جب کسی وردی والے کے سینے میں گھستی ہے تو 10 مائیکرو سیکنڈز میں صرف خون ہی جسم سے نہیں جاتا بلکہ کسی کا سہاگ ،کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی بھی دنیا سے چلا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیا کے ہووش میں آنے تک وہ گھر سے دور اسکے اپارٹمنٹ تک آچکے تھے پورا راستہ وہ اپنی بےبسی پہ روتی آئی تھی سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا اپنے اپارٹمنٹ میں لانے کے بعد وہ خود بھی کہیں چلا گیا تھا بچپن سے شورائم۔کو اس پہ فوقیت دی گئی تھی اور آج بھی اسکی زور زبردستی پہ سب خاموش رہے بیا کا گلٹ اسے اور زیادہ اپنے مظلوم ہونے کا یقین دلا رہا تھا جس انداز میں وہ اسے ڈرائنگ روم کے صوفے پہ پھینک کے گیا تھا دو گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی وہ وہاں سے ہلی نہیں تھی دروازہ کھلنے کی آواز پہ اس نے سر اٹھا کے دیکھا سامنے وہ تروتازہ چہرے کے ساتھ موجود تھا جبکہ بیا زخمی شیرنی بنی اسکی طرف بڑھی تھی شورائم کو اسکے تیور سہی نہیں لگے تھے اس سے پہلے کے وہ اپنے نوکیلے ناخنوں سے اسکا منہ نوچتی بروقت اسکے دونوں ہاتھ مروڑ کے پیچھے کیے اور اسے گھما کے اپنے سینے سے اسکی پشت لگائی جیسے پولیس والے نے ہتکڑی لگا کے مجرم کو اپنے انڈر کیا ہو بیا اسکے جوابی کاروائی کیلئے بلکل تیار نہیں تھی ہاتھوں میں اٹھنے والے درد کی شدت نے اک بار پھر آنکھوں سے پانی رواں کیا تھا۔۔۔۔۔

شورائم احمد پہ وار اتنا آسان نہیں ہے “مائی لو” اسکے کان کی لو کو اپنے گرم لبوں سے چھوتے ہوئے پرحدت آواز میں اس سے مخاطب ہوا تھا جبکہ بیا اسکی سانسوں کی آواز بھی سن سکتی تھی چھوڑو مجھے جنگلی انسان درد ہورہا ہے مجھے

آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے جبکہ مسلسل گریہ زاری سے آواز بہت بھاری ہورہی تھی۔۔

اتنا آسان کہا ہے بیا احمد اب تک تو آپکو اپنی من مانی کیلئے چھوڑا ہوا تھا مگر شاید تمہیں ہی عزت راس نہیں تھی ۔۔۔

اپنے اس حال کی زمدار تم خود ہو کیا سوچ کے بولا تھا ہاں۔۔۔

اسکا اشارہ دادی ماں سے ہونے والی گفتگو کی طرف تھا۔۔

نہیں رہنا مجھے آپکے ساتھ باربار کہوں گی میں اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت سے خود کو آزاد کرواتے ہوئے وہ بولی تھی ۔۔۔

زبردستی کا رشتہ ہے یہ شورائم احمد جس کو میرے سر مسلط کیا گیا ہے۔۔۔

کہہ تو وہ ٹھیک رہی تھی کچھ عرصہ پہلے تک تو شورائم کیلئے بھی یہ ان چاہا رشتہ تھا مگر اب دل کی دنیا بدلی تو احساس ملکیت بھی جاگا تھا ۔۔۔۔۔

اس غیر ضروری بحث سے بہتر ہے کہ چپ چاپ یہاں خود کو ایڈجیسٹ کرو تھوڑی دیر میں آنی بی ڈرائیور کے ساتھ تمہاری ضرورت کی اشیاء لے کے آجائیں گی وہ اسے اپنی سناتے ہوئے کچن کی جانب بڑھا تھا کیونکہ کم ازکم اسے بیا سے امید نہیں تھی کہ وہ کھانا اسے سرو کرے گی۔۔۔۔۔۔

اپنے لیے کھانا نکالنے کے بعد اس نے بیا کو کھانے کی پیشکش کیے بغیر ہی کھانا کھایا اور روم میں جاتے ہوئے اسے بھی کھانے کا مشورہ دیتا گیا تھا جبکہ بیا اسکے انداز پہ تلملا کے رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

داؤد مشہدی نے ایران کے ذریعے کچھ تجارتی سامان منگایا تھا بظاہر اس نے پاکستان میں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس سٹارٹ کیا تھا اور اس کاروبار میں ملک اور اچکزائی بھی اسکے ہمراہ تھے ان تینوں کو لیڈ کرنے والے شخص کے نام سے وہ لوگ صرف واقف تھے جبکہ عنقریب وہ اس سے ملاقات بھی کرنے والے تھے بظاہر شرافانہ طرز پہ زندگی جینے والے یہ لوگ اندر سے کتنے خطرناک تھے اسکا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا تھا شاہ اپنی ٹیم کے ساتھ انہیں ٹارگٹ کیے ہوئے تھا اسد کے زریعے وہ انکی اک اک ایکٹوٹی پہ نظر رکھے ہوئے تھا داؤد مشہدی کے تجارتی سامان میں بہت بڑی تعداد میں اسلحے کی اطلاع انہیں مل چکی تھی مگر وہ فلحال کسی بھی طرح کی کاروائی کرکے اپنے دشمن کو مشکوک نہیں کرنا چاہتے تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *