Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

ﻋﺸﻖ ﺑﮍﺍ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ ڈﺍﻟﯽ ﺳﮯ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺮﺟﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ
ﺩﺭﯾﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﺎﭖ ﭼﮑﮯ
ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ
"بیا سٹاپ اٹ لگ جائے گی آپکو ۔"
آنی نے لان میں رکھی چئیرز کے ساتھ اچھل کود کرتی بیا کو گھورتے ہوئے کہا لیکن سنتا کون ہے کے مصداق پہ عمل پیرا بیا نے ایک کان سے سن کے دوسرے کان سے نکال دیا ۔
وہی پہ سامنے والے گھر کے ٹیرس پہ اک شخص انتہاۂی دلجمعی اور فرست سے بیا کی اک اک حرکت کا جائزہ لے رہا تھا جییسے اس سے بڑھ کر کچھ اہم کام نہ ہو۔آنی کی آہ بکا وقفے وقفے سے جاری تھی اچانک اندوہناک چیخ نے آنی کے ساتھ ساتھ اوپر کھڑے شخص کی بھی اک لمحے کو سانس ساکن کی جبکہ محترمہ بیا احمد اپنے کارنامے کے بعد" لو پڑ گیا ہنسی کا دورہ "پہ عمل پیرا ہوتے ہوے لان کی گھاس پہ پاؤں پسارے ہنسنے میں مشغول تھیں۔۔
وہی سامنے والے گھر کا گیٹ زور سے بند ہونے اور چند سیکنڈ بعد "روشنی ولا" کی گھنٹی بجنے کی آواز سنائ دی گیٹ کیپر نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے آنے والے کیلئے گیٹ وا کیا۔
آنی کی نظر جیسے ہی آنے والے شخص پر پڑی بیا کی متوقع کھنچائ کے بارے سوچتے ہوۓ گھر کے اندرونی جانب بڑھیں جبکہ اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے بیا کی تمام شوخیاں ہوا ہوئیں ۔
ڈرتے ڈرتے اس شخص کی جانب دیکھا جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
"چل بیا اب اک لمبے لیکچر کیلۓ تیار ہوجا حد ہے بیا تم بھول کیسے سکتی ہو اس ہٹلر کے آخری جانشین کو جسکی چار چار آنکھیں چوبیس گھنٹے تم پہ ٹکی ہیں ۔"
بیا نے اپنی کلاس دل دل میں لی اور اس ہٹلر سے بچنے کی سکیم شیطانی دماغ میں لانے لگی۔لیکن بیا احمد کی حیرت کی انتہا اسوقت ختم ہوگئ جب وہ ہٹلر کا آخری جانشین صرف آنکھوں کے وار کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا ۔
بیا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسکے اسطرح جانے پہ خوش ہو یا حیرت سے مرجاۓ۔ابھی وہ اسی کشمکش میں تھی کے وہ صاحب جیسے آۓ ویسے ہی چلتے بنے ۔
"خلاص ۔"کہتے ہوے وہ آنی کو آوازیں دیتے اندر داخل ہوئ اس بات سے بے خبر کے چند لمحے پہلے جو خوشی ملی ہے اسکا وقت تمام ہوا چاہتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *