Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 06,07)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

ملک ہاؤس میں بیا اور آنی بی کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا۔۔۔۔۔ملک دلاور جو کے چھوٹے ہٹلر کے ماموں تھے انکا نام مانسہرہ ڈویژن کے نامور سیاستدانوں میں سے اک تھا پنجاب سے تعلق ہونے کے باوجود وہ خود کو اپنی پہچان سے دور رکھے ہوۓ تھے وجہ انکا خاندانی روایت کے خلاف جا کے پسند کی شادی کرنا تھا جو انہوں نے اپنی کلاس فیلو اک یتم لڑکی سے شادی کر کے توڑی تھی اور انہیں اس چیز کا کوئی رنج نہ تھا اک دوست کے توسط کوہستان کالونی میں آباد ہوے اور پیچھے مڑ کے نا دیکھا تھا ۔۔۔عائشہ اک انتہائ نفیس طبیعت کی مالک خاتون تھیں بیا کو وہ بہت اچھی لگی تھیں انکی ٹوئنز بیٹا اور بیٹی تھے جو او لیول کر رہے تھےاک سادہ سی مگر پرخلوص فیملی سے مل کر بیا کی ساری بیزاری دور جا سوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے ہاتھ تھرلنگ کیلئے زینب اور علی لگ چکے تھے اور وہ چھوٹے ہٹلر کی ساری ہدایات بھلا چکی تھی

°°°°°°°°°°°°°°

ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب

ابھی حیات کا ماحول خوشگوار نہیں۔۔

وشمہ ڈاکٹر ریاض سے ملنے کے چکر میں دو دو سڑھیاں پھلانگتی تیزی سے تھرڈ فلور کی جانب بڑھی اپنے دھیان میں جاتے اسنے سامنے سے لڑتے جھگڑتے محب اور اسد کو نہیں دیکھا اپنی تیزی میں وہ محب کی سائڈ سے نکلنا چاہ رہی تھی اور آخری لمحوں میں محب کی نگاہ اس پہ پڑی محب نے بھی سائڈ دینی چاہی لیکن واۓ قسمت دونوں اک ہی سائڈ جالگے وشمہ اپنا بیلنس نہیں رکھ پائی اسنے سہارے کیلئے گرل تھامنی چاہہی لیکن ہاتھ محب کے ہاتھ پہ جا پڑا جو کی اتفاق سے اسی جگہ رکھا تھا وشمہ نے گرفت مظبوط کرنی چاہی محب نے درد کی شدت سے ہاتھ کھینچا لیکن یہ کیا وشمہ جتنی تیزی سے اوپر آئی تھی اس سے ڈبل رفتار میں پیچھے کی جانب گری محب اور اسد ابھی کچھ سمجھ ہی نا پائے تھے کہ اسد کی نگاہ نیچے گری وشمہ کے سر سے نکلتے خون نے اپنی جانب توجہ کھینچی اسد بھاگ کے اس تک پہنچا تھا اگر وہ مر مرا گئ تو انکا کرئیر شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

کوئی نہیں ھے جو تیری کمی کو بھر سکے

کوئی نہیں جس کو میں چاہ سکوں تیری طرح

میں نے سنا ہے جو سامنے پہاڑی ہے وہاں بھوت رہتے ہیں بیا نے سامنے پہاڑی کو دیکھتے ہوۓ کہا جہاں پر سبز ہلالی پرچم اپنی تاب دکھا رہا تھا ۔۔۔نہیں آپی زینب نے تھوڑا ڈرے لہجے میں نفی کی بیا آپی وہاں پر فوجی چھاؤنی ہے کوئی بھوت ووت نہیں ہے علی نے بہن کی طرف دیکھتے ہو ۓ تسلی آمیز لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں نا ہم خود چل کر دیکھیں بیا کی آنکھوں میں مخصوص چمک ابھری تھی علی اور زینب کو اسکے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکے جانا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسد نے حیرانگی سے فوجی مورچے کی جانب بڑھتی بیا کو دیکھا تھا بھلا وہ اسے بھول سکتا تھا ابھی دو دن پہلے کی تو بات تھی شاہ جو محب کے ساتھ ملکر اپنے حساب سے میپ تیار کرہا تھا اسنے اسد کی عدم دلچسپی دیکھتے ہوۓ اسکی نظروں کا پیچھا کیا بیا کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ اسکے خون میں شرارے پھوٹنے لگے۔۔۔۔۔ شاہ نے اپنی آرمڈ گن نکالی اور فائر کھول دیا بیا کی درد بھری چیخ گونجی اسکے بعد ہر طرف گہرا سناٹا چھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔

زخم بھر جائیں تو تکلیف کی شدت کیسی

درد بڑھ جائیں تو محسوس نہیں ہوتے ہیں

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

سیاچن ، ہمالیہ کے شمالی پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کا سب سے اونچا فوجی محاذ ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا سبب ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اب تک کی جنگوں میں یہ تنازع سرفہرست رہا ہے۔یہاں دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ٹو بھی واقع ہے۔عبدالرحمان عرف چاچا عبدو‘ جنہیں ان کے علاقے میں برفانی چیتے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے‘ کی شخصیت‘ دلیری اور حب الوطنی کے کارناموں سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کے دیس کے ضلع گھانچے کے گاؤں گوما سے تعلق رکھنے والے چاچا عبدو سویلین ہونے کے باوجود دفاع وطن کے لئے اس وقت صف ِ اول میں کھڑے نظر آئے‘ جب 1980ء کی دہائی میں بھارت نے اس نا پاک ارادے کے ساتھ سیاچن کا رخ کیا کہ وہ لداخ کے بعد گلگت بلتستان پر بھی قابض ہو جائے گا۔ بھارتی در اندازی کی خبر سب سے پہلے مقامی لوگوں کو ملی اور انہوں نے پاک فوج کو آگاہ کیا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ سیاچن گلیشئر نو مین لینڈ تھا اور اس تک رسائی کے زمینی راستے تک معلوم نہ تھے۔ چاچا عبدو ایسے مشکل وقت میں سامنے آئے۔ وہ جوانی سے کوہ پیمائی کرتے آئے تھے اور تمام دشوار گزار راستوں سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے پاک فوج کے جری جوانوں کو سیاچن کی چوٹیوں تک پہنچانے میں مدد کی۔ غالباً یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سیاچن‘ دریائے سندھ‘ کے ٹو اور ماشابروم کی فلک بوس چوٹیوں پر اگر آج سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے‘ تو اس کے ہیرو چاچا عبدو ہی ہیں۔ گلگت بلتستان کے گائوں گوما کے چاچا عبدو کے نام سے مشہور عبدالرحمان کے انتقال کی خبر سنتے ہی اپنی فوجی سروس میں سیاچن جیسی دنیا کی سب سے خطرناک جنگی محاذ پر خدمات دینے والا ہر فوجی افسر اور جوان اس طرح رو پڑا‘ جیسے ان کا کوئی بہت ہی عزیز دوست یا قریبی رشتہ دار بچھڑ گیا ہو۔ قوموں کو اپنی آزادی کی قیمت چکانے کیلئے خون کے دریا عبور کرتے ہوئے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اس خون سے اپنی قربانیوں اور شہادتوں کی داستانیں بیان کرتے سن کر آج اور کل کی نسلیں حوصلہ پاتی ہیں۔میجرارسلان کی گہری خاموشی انکے نوجوانوں کا حوصلہ پست کر رہی تھی

سر صوبیدار نعمان نے ارسلان کو بٹالین کا بتایا جو اسکے موڈ کے پیش نظر حددجہ ناامید اور مایوس ہونے لگے تھے

۔۔میجر ارسلان کو چاچا عبدو سے گہرا لگاؤ تھا انکے جوانی میں کیے گئے کارنامے اور داستانیں پوری یونٹ کے نوجوانوں کیلۓ ایک مشعل راہ تھیں اور انکی وقت گزاری کا زریعہ بھی زمین سے بیس ہزار فٹ کی بلندی پہ بیٹھ نوجوان زندگی اور موت کے احساس سے خود کو بے پہرہ سمجتے تھے برف کے ساتھ وہ بھی منجد تھے اور شاید دنیا واے بھی کبھی مائنس پوائنٹ کے درجہ حرارت کے ساتھ رہینے والے نوجوانوں کے مسائل سے آشنا نہیں ہوسکتے تھے ۔۔۔

Episode 07

25 مئی ۲۰۱۷

سر کنٹرول سیل کی ذریعے گھر بات ہوئی ہے ہمارا چھوٹی بہن کی شادی طے کردیا گیا ہے اور ام گھر جانا چاہتا ہے۔۔۔۔۔لیکن خستہ گل ایسا ممکن نہیں جب تک یونٹ بدلی نہیں ہوتی تب تک ہماری یونٹ نے یہی رہنا ہے صوبیدار کی آواز میں نرمی جیسی کوئ لچک نہیں تھی ۔۔۔سر ہمارا بچہ بھی دو سال کا ہوچکا ہے ہمارا دل چاہتا ہم اسکو دکھیں ۔۔۔

خستہ گل ٹھیک ہے تم اپنا سامان پیک کرو کل صبح ہم نکل جائیں گے ۔۔۔میجر کی آواز نے خستہ گل کو جیسے نئی زندگی دی شدت جزبات سے اسکی آنکھیں بھرا گئی تھیں ۔صوبیدار حیرانگی سے میجر کے “لفظ” ہم پہ حیران ہوا تھا میجر نے اسکی حیرانگی بھا نپی اور کہا کہ وہ ایمرجنسی میں بٹالین کی زمداری میجر احمر کو سپرد کرکے جارہے ہیں سو خستہ گل کی خوشقسمتی تھی کے اسکی سن لی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کون جانے کے اسکی واقعی سن لی گئی تھی یا اسکیلئے سہولت کی راہ ہموار ہوئی تھی

ہمارے نام سے ہوں گی روایتں زندہ

ہمارے حصے میں پرچم وفا کا آیا ہے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیا کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو نرم گرم بستر پہ پایا تھا تھوڑی دیر چھت کو گھورنے کے بعد اسے خیال آیا کہ وہ یہاں کیسے وہ توآرمی مین کی گولی کا نشانی بنی تھی نہیں گولی اسکو ڈرانے کیلئے چلائی گئی تھی اور وہ خوف سے وہیں گری اور پھر دھندلی پڑتی آنکھوں سے اسنے نفرت بھری دو اجنبی آنکھیں دیکھیں بعد کے حلات وہ زینب اور علی۔۔۔۔۔اوہ زینب اور علی وہ کہاں ہیں انکا خیال آتے ہی بیا نے اٹھنا چاہا لیکن سر سے اٹھتی درد کی لہر نے اسے سر پکڑکے واپس لیٹے پر مجبور کر دیا تھا اپنے سر پہ لگی پٹی اسے اب محسوس ہوئی یہ کب ہوا اسنے دماغ پر زور دیا مگر کچھ یاد نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔تو کیا میری یاداشت چلی گئی ہے______رئیلی مطلب کے حد ہوگئی تھی دروازہ کھلا آنی بی کو اندر آتے دیکھ بے ساختہ اسکے میں سے آنی نکلا تھا اسنے حیرت بھری نگاہ خود پہ ڈالی اوپس بیا میڈم یاداشت خوشقسمت لوگوں کی جاتی ہوتی ہے🤥🤥🤥

کیا ضرورت تھی پہاڑوں کے اوپر چڑھائی کی کونسے دور میں آپ کوہ پیمائی کرتی رہی ہیں بیا نے آواز پہ غور کیا یہ آنی بی کی آواذ چھوٹے ہٹلر جیسی کیوں ہوگئی ہے اسنے پوچھنے کیلئے سراٹھایا لیکن یہ کب ہوا آنی کے ساتھ ہٹلر بھی روم میں آیا تھا اسی نے ہی غور نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔ آج اتنے دن بعد بیا کی صیح کلاس لگنی تھی۔۔۔۔

آپ میں احساس نام کی کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے محترمہ آپ یہ ایڈوینچر کرکے کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں آپکی ان سٹوپڈ حرکتوں کی وجہ سے مجھے اتنے امپورٹنٹ کام چھوڑ کے واپس آنا پڑا ہے کیا لینے جارہی تھیں آپ ہاں آپکو ایڈوینچر کا اتنا شوق چڑھا تھا آپ مجھے کہ دیتں میں آپکو وزٹ کروا دیتا بنجر پہاڑوں کا۔۔۔۔۔

بیا نے اک شکوہ کناہ نگاہ اس پہ ڈالی کے کبھی لے ہی نا جاؤ مجھے آپ اور باتیں تو سنو صاحب کی جیسے یہ مجھے نہیں میں انکو یہاں لے کے آئی ہوں ۔۔۔وہ کیا بول رھا تھا یہ بات بیا کے فرشتے سن سکتے تھے کیونکہ وہ تو اپنی تخلیاتی دنیا میں غرق ہوکے اسکی کلاس لے رہی تھی جو کم از کم سامنے نہیں بول سکتی تھی جو بھی تھا وہ اس شخص کا بہت لحاظ رکھتی تھی لیکن کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنی بی آپ لوگ پیکینگ کریں ہم آج ہی اسلام آباد کیلئے نکلیں گے😐😐😐

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شاہ یہ تم نے کیا کیا ہے اسد نے انتہائی دکھ سے اسے دیکھا تھا ۔۔شکر کروں یہ گولی اسکی کھوپڑی میں نہیں گھسائی اسد اور محب اتنا تو جانتے تھے کے وہ لڑکیوں سے حد درجہ خائف رہتا ہے مگر اتنی حد تک وہ جاسکتا کے کسی معصوم لڑکی کی جان بھی لے سکتا تھا یہ دیکھ کے دونوں شدید غصے میں آۓ ہوے تھے ۔۔۔۔۔۔

شاہ انسانیت کا درس دینے والا خود انسانیت سے اتنا بے پہرہ ہوسکتا آج پتا چلا یہ تو کھلی منافقت ہے اسد کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا ابھی کچھ دنوں پہلے والا واقعہ مشکل سے اسنے اپنے ذہن سے کھرچا تھا

اگر گولی واقعی اس لڑکی کو لگ جاتی تو یہ سچ کے ہی اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ کو اک لڑکی کی خاطر اپنے دوست سے لڑنا مقصود نہ تھا لیکن اسد کا اتنا پوزیسو ہونا وہ بھی انجان لڑکی کیلئے اسکا پارہ مزید ہائی کر رہا تھا اور جسکی وجہ سے یہ آگ بھڑکی تھی اسکے فرشتے بھی اس چیز سے لاعلم تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ان دونوں پہ تاسف بھری نگاہ ڈال کے کیمپ کی جانب بڑھ گیا۔

ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے، سر راہ، عمر گزر گئی

کوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ادا ہُوا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آرمی کی گاڑی کا راستہ تقریباً نا ہونے کے برابر تھا جبکہ ہیلی کاپٹر کی گنجائش بھی اس سے زیادہ مشکل تھی سو میجر ارسلان کو خستہ گل اور ایک سپاہی کے ساتھ سیاہ چن کے گلشئیرز پار کرنے تھے جہاں تک گاڑی کی رسائی ممکن ہوسکے کنٹرول سیل سے رابطے کیلئے انکے پاس وائرلیس کی سہولت موجود تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شمال مغرب کی جانب سے شروع ہو کر بل کھاتا ہوا یہ گلیشئر جنوب مشرق کی طرف سانپ کی مانند نیچے آتے ہوئے انڈیا کے زیر انتظام وادی نبرا میں ختم ہوتا ہے جہاں جنگلی گلابوں کی بہتات ہے اور اسی مناسبت سے بلتی زبان میں اس گلیشیئر کا نام سیاچن، یعنی جنگلی گلابوں کی سرزمین ہے۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ33 برس سے جاری اس جنگ میں انسانوں کا مقابلہ انسانوں سے کم اور قدرت سے زیادہ ہے۔ سردی کے موسم میں سیاچن گلیشیئر پر درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے اور برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں سانس لینا دشوار تر ہو جاتا ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود دونوں ملکوں کی فوجیں اپنی تیاریاں برقرار رکھتی ہیں۔ یہاں پاکستانی فوجی توپ چلانے کی مشق کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ۔میجر ارسلان نے سفری تیاری باندھی پچھلے دو سالوں سے وہ اور انکی یونٹ ہیاں اپنے فرائض بہت ہمت اور بہیادری سے انجام دے رہی تھی لیکن وشمہ اور پپا کے پرزور اسرار نے اسے رخت سفر پہ مجبور کیا حلانکہ دو مہینے بعد انکی یونٹ بدلی تھی اور انکو واپس ہی آنا تھا چاچا عبدو کی موت نے اس پہ گہرا اثر ڈالا تھا کیونکہ ایک انہی کی ہستی کیلئے میجر ارسلان نے اتنی سخت جگہ کا انتخاب کیا تھا اسکے آفسران اسکی خود سے کی گئ پیشکیش پہ حیران ہوۓ تھے لیکن وہ اسکی قائدانہ صلاحیتوں سے خوب واقف تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھرپور کسرتی بدن چہرے پہ ہمہ وقت چھائی رہنے والی مسکراہٹ ہمشیہ فوجی سٹائل میں بناۓ گۓ بال اسکی شخصیت کے خاص پہلوؤں کو اجاگر کرتے تھے ہیزل آئیز میں کچھ کر دکھانے کی لگن اور اہکسٹرا آرڈنری صلاحیتوں کے مالک میجر ارسلان جلال نے بہت سے ایوارڈز اپنے نام کر رکھے تھے کم عمری میں ہی اسنے ترقی کے منازل طے کیے تھے ۔۔۔۔۔۔

وشمہ کے بقول اسکا پہلا کرش اسکے پاپا ریٹائرڈ کرنل جلال کاظمی تھے جبکہ آخری کرش میجر ارسلان تھے کیونکہ اسکی دنیا تو انہی دو انسانوں کے گرد گھومتی تھی اپنے بابا اور بھائی کی طرح اسکا ع ش ق تھا تو وہ صرف پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔۔اسلیئے وہ دریہ کو غدار کہتی تھی جو اک فوجی آفسر کی بیوی بننے جارہی تھی لیکن منزہ کے سامنے سچ کہنے کی ہمت نہ رکھتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

پاک فوج اور آئی۔ایس۔آئی کے ساتھ محبت اور عقیدت کے جو رشتے ہم استوار کر بیٹھے ہیں یہ کسی سے مستعار نہیں لیے گئے یہ تو پاک فوج کی بے لوث قربانیوں کی مرحون منت ہیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے کتنے ہی فوجیوں کے لاشے گھر آئے کتنے ہی نوجوان ایسے ہیں جو اس ملک کی حفاظت کیلئے اپنی جان سے گزر گئے ملک وملت کی نگہبانی کیلئے جوانیوں کو تج دینا اتنا آسان تو نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔

حیراں ہوں دل کو رؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدر ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *