Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 11,12)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

ستم کی داستاں یہی ختم نہیں ہوئی تھی شاید اس مادر وطن کو اپنے اور سپوتوں کی قربانی منظور تھی شاید لیفٹیننٹ شاہ نے زندگی میں کبھی اتنی ناکامیوں کا سامنانہیں کیا تھا جو اب اسکا مقدر بن رہی تھیں۔۔۔۔

اک اہم خبر سے آگاہ کرتے چلیں “پالستان کے دارلحکموت اسلام آباد سے پینتس کلو میٹر دور واقع

پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مرکزی دروازں پہ دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔۔۔ٹی۔وی اینکر کی چنگھاڑتی آواز نے شاہ سمیت پوری کیبنٹ کے پیروں تلے سے زمین نکلی تھی جبکہ ٹی ۔وی اینکر اپنی بات کو طول دیے جارہی تھی ۔۔۔۔پولیس کے مطابق ان خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چالیس سے ذائد ہے۔۔۔۔واہ آرڈیننس فیکٹری پاکستان کی سب سے بڑی فیکٹری ہے جہاں لگ بھگ پچیس ہزار کے قریب افراد کام کرتے ہیں اب ٹی۔وی اینکر جائے وقوعہ کی داستان سنانے میں مصروف تھی ۔۔۔دشمن شاہ کی سوچ سے بھی آگے جارہاتھا اسکی اطلاع کے مطابق کسی بھی ملکی دشمن گیر مہم کیلئے اسلحہ ایران کے ذریعے آنا تھا لیکن یہ خبر صرف ان لوگوں کو گمراہ کرنے کو دی گئ تھی اسد اور محب نے اسے تھوڑی دیر پہلے یہی خبر دی تھی کہ تفتان بارڈر پہ آل ریڈی اتنی سختی کی گئ ہے کہ وہاں کوئی مشکوک سرگرمی نظر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ کے کرئیر کیلئے پہ در پہ ہونے والی ناکامی اک سوالیہ نشان بن چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ

اک شخص سارے شہر کو ویراں کر گیا

دریہ نے اپنے ہاتھوں کی مہندی اتارنے کو اپنے ہاتھ نوچ ڈالے تھے چوڑیاں جس انداز میں توڑی گئ تھیں کلائیوں پہ خون جم چکا تھا گویا اسکی دنیا بسنے سے پہلے اجڑ چکی تھی میجر ارسلان کو مکمل فوجی پروٹوکول کی مد میں اور اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کہ کیا شخص زمانے سے اٹھا

بیشک اس سے بڑی فضیلت والی کوئی موت نہ ہوگی جسکی گواہی خود قرآن نے بیاں کی ہے اللّٰہ کے محبوب نے کی ہے۔۔۔۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میری یہ آرزو اور تمنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل (شہید) کیاجائوں، پھر زندہ کیاجائوں، پھر شہید کیا جائوں، پھر زندہ کیاجائوں، پھرشہید کیا جائوں، پھرزندہ کیاجائوں اور پھر شہیدکیا جائوں‘‘۔(صحیح بخاری،مشکوٰۃ المصابیح)

۔۔۔۔۔۔۔

ارشاد ِربانی ہے:ترجمہ:تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ (سورۃ النساء)اس آیت کریمہ میں راہِ خدا کے جاں باز شہیدوں کو انبیاءؑ و صدیقین کے بعد تیسرا مرتبہ عطا کیا گیا ہے۔

بیٹے کو دفنانے کے بعد جلال کاظمی گھر آۓ اور کسی نے انکے سکون کی خاطر ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا تھا اور اگلی صبح وہ بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ہمشہ کیلے ابدی نیند سوچکے تھے جس گھر میں کل زندگی کی مہکار تھی وہاں اک دم موت کا بسیرا ہوا تھا اور وشمہ نے باپ کی موت پہ اک آنسو بھی نہ بہایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چالیسوے کے بعد محب نے اسے سادے طریقے سے رخصت کر کے اپنے ساتھ لے جانا چاہا مگر اسکی کڑی شرائط نے محب کو خاموشی سے چلے جانا مناسب لگا ۔۔۔۔۔اور آج دو سال بعد بھی اسنے لوٹ کے وشمہ کو دیکھا نہ تھا وہ خودغرض تھا تو نہیں پر بن ضرور گیا تھا اور ہر پل خود بھی بے چین گھومتا تھا جبکہ وشمہ بھی دور خلاؤں میں نجانے کسے تلاش کرتی تھی کیونکہ یہ تو تے تھا جانے والوں نے کبھی لوٹ کے نہیں آنا تھا اور جسکو لوٹ کے آنا تھا اسکو وشمہ کی قسم نے روک رکھا تھا ۔۔۔۔۔لیکن آخر کب تک۔۔۔۔

Episode 12

ہیں نا میرے خواب کتنے خوبصورت _

جب بھی تمھیں دیکھا اپنے ساتھ دیکھا

محب سلمٰی بیگم کے ہسبینڈ کی پہلی بیوی کا بیٹا تھا جو اسے پیدا کرتے ہی اپنے آشنا کے ساتھ چلی گئ تھی محب کے ہوش سنبھالتے اسے ماں کی شکل میں سلمٰی بیگم کی گود ملی تھی جنہوں نے اسے سوتیلے پن کا کبھی احساس نہیں دلایا تھا نہ ہی محب کو یہ حقیقت بتائی گئی تھی جب انکی زندگی میں دریہ آئی چھوٹی سی ننھی پری محب کی جان تھی وہ اس چار سال بڑا تھا محب جب بھی نانو کے گھر آتا اسے وہاں آکے عجیب سا کمپلیکس رہتا تھا اک لڑکا ہونے کی حثیت سے جو اسکو خصوصی اہمیت ملنی چاہیئے تھی وہ دریہ ،وشمہ کو زیادہ ملتی تھی ارسلان بھائی تو ان لوگوں سے بڑے تھے ۔وہ جب نانی ماں کے گھر آتا اک کونے میں خاموش بیٹھا رہتا ۔۔۔۔

جب وہ پری انجنیرنگ کر رہا تھا اسکے سامنے اسکے بابا یہ حقیقت لائے کہ سلمٰی بیگم انکی سگی ماں نہیں ہیں اس بات نے اسکی شخصیت پہ گہرا اثر ڈالا تھا اور اسنے بورڈنگ کی ضد باندھ لی سب اسکے اندر کی جنگ سے خوب واقف تھے اس لیے اسکو اسکے حال پہ چھوڑ دیا گیا تھا جو مزید اسے اپنی کم مائیگی کا احساس دلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رضا صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جانبر نہ ہوسکے سلمٰی بیگم اور دریہ انکے جانے کے بعد اکیلی پڑ چکی تھیں وہ چاہتی تھیں کے محب انکے پاس رہے مگر اس نے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔ رضا صاحب پہلے ہی محب کے اکاؤنٹ میں اسکی ضروریات کیلئے کافی رقم جمع کروا چکے تھے لیکن سلمٰی بیگم اسے اب بھی اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

بابا آپ پھوپو جانی سے کہیں کے وہ اور دریہ ہمارے ساتھ چلیں وہ کیوں اپنے سوتیلے بیٹے کیلئے اتنا کریزی ہورہی ہیں جبکہ وہ انہیں لفٹ نہیں کروا رہا پور بوائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وشمہ شاید آگے بھی کچھ کہہ رہی تھی لیکن محب وہاں سے ہٹ گیا تھا ۔۔

بیٹا یہ سگا سوتیلا کچھ نہیں ہوتا جب وہ چھ منتھ کا تھا آپکی پھوپو کی گود میں آیا تھا ایسے میں سلمٰی کا لگاؤ فطری ہے میں اسے سمجھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔

اور جب محب کو کرنل کاظمی نے سمجھانا چاہا اور اپنی ماں کے ساتھ رہنے کا کہا اسکی شرط نے انہیں اک دم خاموش کردیا تھا لیکن وہ اس سگے سوتیلے کی باڑ کو ختم کرنے آئے تھے کچھ لمحے سوچنے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ محب صرف ضد میں اتنی بڑی بات کہہ رہا ہے پھر بھی انہوں نے اسکی شرط مان لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرنل صاحب کی سیدھی سادی بات کے جواب میں محب کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا اسکا خیال تھا کہ کرنل ماموں اسکی بات سنکے بھڑک اٹھیں گے اور اسے اسکی اوقات اسکی ماں کے ماضی کی حثیت واضع کریں گے پھر وہ انکو کہے گا کہ سوتیلا ہونے کی وجہ سے وہ یہ سب سنایا جا رہا مگر محب کی ساری چال الٹ گئی تھی اسکی سوچ میں بھی وہ بات نہیں تھی جو وہ مان گئے تھے ۔۔۔۔

ا

ماموں اگر آپ چاہتے میں ساری زندگی دریہ اور سلمٰی ماما کے ساتھ رہوں تو میری اک شرط ہے ۔۔۔۔۔۔کچھ دیر توقف کے بعد اسنے کہا ۔آپ وشمہ کا نکاح مجھ سے کردیں۔

مجھ تمہاری شرط منظور ہے اور آج ہی وشمہ کا نکاح تم سے دریہ کا نکاح ارسلان دے ہوگا یہ کہہ کے وہ کمرے سے چلے گئے تھے جبکہ اسکے اردگرد نئی سوچوں کا بھنور چھوڑ گئے تھے۔۔۔

اور وہ نہیں جانتا کہ ماما وشمہ نانی ماں اور باقی سب کیسے مان گئے تھے لیکن شام کو انکا نکاح کردیا گیا تھا اور وہ لوگ ماموں کے ساتھ واہ کینٹ آگئے بعد میں جہاں ارسلان بھائی کے ساتھ اسکا بھی ایڈمیشن کیڈٹ کالج میں کروادیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وشمہ اور دریہ پکی سہلیاں اک ساتھ ماتم میں ڈوبی تھیں وشمہ کا سہاگ تو قدرت کی طرف سے اجڑا تھا جبکہ وشمہ نے خود اپنے سہاگ سے منہ موڑا تھا کرنل صاحب جوان بیٹے کی موت اور دریہ کی اجڑی زندگی کو دو دن بھی نا دیکھ پائے تھے اور میجر ارسلان کی تدفین کے تین دن بعد وہ بھی اپنے بیٹے کے برابر جا سوئے تھے

وشمہ کی زندگی کے ہیروز چلے گئے اور ساتھ اسکی ہنسی ،شرارتیں بھی لے گئے تھے محب نے کوشش کی اسکے پاس رہنے کی لیکن اسنے قسم دے کے اسکے اور اپنے رشتے کے درمیان اک دیوار کھڑی کردی اسکے بعد محب نے اس سے کسی رابطے کی کوشش نہیں کی شاید وہ اس ضدی لڑکی کی اکڑ سے تھک گیا تھا یا پھر اسکی شرائط ہی ایسی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

لیفیٹننٹ شاہ واہ کینٹ حملوں میں ملوث اک تنظیم نے اسکی ذمداری قبول کر لی ہے کرنل مبین نے اک مایوس کن نگاہ اس پہ ڈالی تھی جبکہ آئی۔ایس۔ائی کی تحقیقات کے مطابق اسکی پلایننگ میں کئی اک سیاستدان بھی شامل ہیں اور یہ ان کنفرم لوگوں کی کے نام ہیں کرنل نے اک لسٹ اسکی جانب بڑھائی تھی۔

اسکے علاوہ بھی یہ لوگ غیرقانونی کاموں میں ملوث ہیں جن میں سرفہرست ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کر فوج کے خلاف غلط پروپوگنڈا کرنا ہے کرنل اسے اور بھی بہت کچھ بتا رہے تھے جبکہ اسکی نگاہیں سامنے رکھی تصاویر میں سے اک تصویر اور اسکی مکمل ڈیٹل پر رکی ہوئی تھیں اتنی بڑی غلطی وہ خود ہی مہرہ بن گیا تھا کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محب اور اسد کو پلان سمجھانے کے بعد اس نے اس بار کسی قسم کی غلطی نہ کدنے کی قسم ٹھانی تھی واہ کینٹ حملوں کے شہداء کا خون اسے اپنے ہاتھوں پہ لگا نظر آتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیا ،شورائم(چھوٹے ہٹلر) ،تاؤجان اسکے مما پاپا اور دادا دادی کو لینے ائیرپورٹ آئے تھے اتنے دن بعد وہ ان لوگوں کے گلے لگ کے بہت روئی تھی پبللک پلیس پہ ایسا سین کری ایٹ کرنے پہ جہاں شورائم نے اسے گھورا تھا وہاں اور لوگ بھی پریشان ہوگئے تھے واپسی پہ اک ظلم کی لمبی داستان اور شورائم کے خلاف شکایتوں کا پہاڑ جمع تھا جہاں وہ اتنی ڈھیٹ بنی شکایتں لگا رہی تھی وہیں شورائم سبکے سامنے شرمندہ ہوے جارہا تھا۔۔۔۔۔

بیا بہت خوش تھی اسنے شورائم کو سبکے سامنے نیچا دکھایا تھا جبکہ اندر بڑے بیٹھے اسکی قسمت کا فیصلہ لکھ رہے تھے

وہیں لفٹیننٹ شاہ بیا کو مہرہ بنانے کو سوچنے لگا تھا ۔۔۔

اسد مانسہرہ پواینٹ سے جہاں اپنے مشن کو لیے ہوئے تھا وہیں بے تحاشا ہنستی بیا کی ہنسی اسے سرشار رکھنے لگی تھی وہ اس سے دوبارہ ملنے کی دعائیں مانگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شورائم بڑوں کے ارادوں سے انجان تھا اور اپنی منزل کے قریب پہنچنے کی خوشی میں گھر والوں کو سرپرائز دینا چا ہتا تھا۔۔۔۔۔

محب کا دل اسے قسم توڑنے کی دہائی دیتا اور دماغ اپنی انا کا غرور سربلند رکھنے کو جبکہ ان سب کی سوچوں پہ مسکراتی تقدیر تو پہلے ہی کڑیاں جوڑ چکی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *