Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 01)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 01)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
ﻋﺸﻖ ﺑﮍﺍ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﮍﺍ ﮨﻮﮞ ڈﺍﻟﯽ ﺳﮯ
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺮﺟﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ
ﺩﺭﯾﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﻧﺎﭖ ﭼﮑﮯ
ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ
“بیا سٹاپ اٹ لگ جائے گی آپکو ۔”
آنی نے لان میں رکھی چئیرز کے ساتھ اچھل کود کرتی بیا کو گھورتے ہوئے کہا لیکن سنتا کون ہے کے مصداق پہ عمل پیرا بیا نے ایک کان سے سن کے دوسرے کان سے نکال دیا ۔
وہی پہ سامنے والے گھر کے ٹیرس پہ اک شخص انتہاۂی دلجمعی اور فرست سے بیا کی اک اک حرکت کا جائزہ لے رہا تھا جییسے اس سے بڑھ کر کچھ اہم کام نہ ہو۔آنی کی آہ بکا وقفے وقفے سے جاری تھی اچانک اندوہناک چیخ نے آنی کے ساتھ ساتھ اوپر کھڑے شخص کی بھی اک لمحے کو سانس ساکن کی جبکہ محترمہ بیا احمد اپنے کارنامے کے بعد” لو پڑ گیا ہنسی کا دورہ “پہ عمل پیرا ہوتے ہوے لان کی گھاس پہ پاؤں پسارے ہنسنے میں مشغول تھیں۔۔
وہی سامنے والے گھر کا گیٹ زور سے بند ہونے اور چند سیکنڈ بعد “روشنی ولا” کی گھنٹی بجنے کی آواز سنائ دی گیٹ کیپر نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے آنے والے کیلئے گیٹ وا کیا۔
آنی کی نظر جیسے ہی آنے والے شخص پر پڑی بیا کی متوقع کھنچائ کے بارے سوچتے ہوۓ گھر کے اندرونی جانب بڑھیں جبکہ اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے بیا کی تمام شوخیاں ہوا ہوئیں ۔
ڈرتے ڈرتے اس شخص کی جانب دیکھا جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“چل بیا اب اک لمبے لیکچر کیلۓ تیار ہوجا حد ہے بیا تم بھول کیسے سکتی ہو اس ہٹلر کے آخری جانشین کو جسکی چار چار آنکھیں چوبیس گھنٹے تم پہ ٹکی ہیں ۔”
بیا نے اپنی کلاس دل دل میں لی اور اس ہٹلر سے بچنے کی سکیم شیطانی دماغ میں لانے لگی۔لیکن بیا احمد کی حیرت کی انتہا اسوقت ختم ہوگئ جب وہ ہٹلر کا آخری جانشین صرف آنکھوں کے وار کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا ۔
بیا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسکے اسطرح جانے پہ خوش ہو یا حیرت سے مرجاۓ۔ابھی وہ اسی کشمکش میں تھی کے وہ صاحب جیسے آۓ ویسے ہی چلتے بنے ۔
“خلاص ۔”کہتے ہوے وہ آنی کو آوازیں دیتے اندر داخل ہوئ اس بات سے بے خبر کے چند لمحے پہلے جو خوشی ملی ہے اسکا وقت تمام ہوا چاہتا ہے۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“سر لفٹیننٹ شاہ جی۔ایچ۔کیو سے رپورٹ کررہے ہیں۔”
سوار امجد نے کرنل مبین احمد کو ریسور تمھاتے ہوۓ مخصوص فوجی لہجہ اپنایا جبکہ کرنل مبین دوسری طرف سے دی جانے والی رپورٹ کو بغور سننے لگے جہاں سے انٹیلجنس ادارے کی طرف سے جی۔ایچ۔کیو میں موجود لفٹیننٹ شاہ کو دہشگردی کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا جو حکام اعلیٰ کو اس خطرے سے آگاہ کر رہے تھے ۔
کرنل مبین نے ریسور کریڈل پہ رکھا اور پُرسوچ انداز میں آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگے۔
انکے اور انکی ٹیم کے پاس وقت کم تھا جبکہ چیلنج بڑا لیکن انکو اپنی ٹیم پہ پورا بھروسہ تھا کے وہ دشمن کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بیا کے حواسوں پہ تو گویا بم پھوڑا گیا تھا ۔
“ایسے کیسے آنی اٹس فاؤل پلے نو نیور ایور ہم کہی نہیں جارہے اور ویسے بھی مما پپا نے گھر سے باہر فضول جانے پر سختی سے منع کیا ہے ۔”
کہتے ہوۓ بیا نے آنی کی طرف دیکھا جو اسے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے بغور دیکھ رہی تھیں جیسے انکو بیا سے اتنی تابعداری کی امید نہ تھی ۔
لیکن اس سے بحث فضول تھی کیونکہ ہونا وہی تھا جو ہٹلر کا چھوٹا جانشین حکم دے چکا تھا مطلب کہ بیا اور آنی کا مانسہرہ کی جانب سفر جو یقنناً بیا کیلئے تو یادگار ہونے والا تھا کیونکہ بیا احمد کے اصولوں کی خلاف ورزی مطلب کے ایک جنگ کا اعلان اور اسکلئے دفل خود ہٹلر کا چھوٹا جانشین بجا چکا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ابہیا احمد عرف عام بیا،روشنی ولا کی سچ میں روشنی تھی جو ظفر احمد اور رشنا احمد کی اکلوتی لخت جگر ہونے کے عہدے پر فائز تھی ۔
نٹ کھٹ سی بیا جو ایف۔ایس۔سی کے امتحانات سے فارغ آجکل آنی بی کیلئے اک امتحان بنی ہوئ تھی اور ہٹلر کے چھوٹے جانشین کیلئے بھی۔
جو کہ ظفر احمد اور رشنا بیگم کے ساتھ بڑے ہٹلر (دادا جان) اور دادی بیگم کے حج کی سعادت کو جانے کے بعد مکمل طور پر اسکی ذمداری پہ تھی ۔
تاؤ جان نے بہت کوشش کی کے وہ بیا کو اپنے ساتھ لے جاسکیں لیکن وہ بیا ہی کیا جو کسی کی مان کے دے مجبوراً انکو اسکے حال پر چھوڑ کے جانا پڑا اور اسطرح چوٹے ہٹلر کو بیا کیلئے سی۔سی۔ٹی۔وی بننا پڑا۔
آج آنی بی کیلئے حیرت بھرا دن تھا جب ہٹلر کے جانشین کی گاڑی کے ہارن پر بیا کو خاموشی سے اپنا ہینڈ کیری باہر کی جانب گھسیٹتے دیکھا انکا تو خیال تھا جسطرح تاؤ جان خالی ہاتھ گئے ایسے ہی یہ صاحب بھی اپنی بات نہیں منوا سکیں گے لیکن نہیں یہ تو بیا محترمہ ہیں ان سے کچھ بھی امید کی جاسکتی جو اس بار بغیر بحث ومبحاثے کے چل پڑی تھیں۔جبکہ وہ دونوں اسکے شیطانی دماغ میں پلتے منصوبوں سے انجان اپنی منزل کو روانہ ہوۓ۔
