Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 13)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 13)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
لَا تعلقی بـھی ایـــک تــعلق
ہے بعض اوقات لا تــعـلقی
کے نــــام پر ہم اس شخص
کو پہلے سے زیادہ سوچنے
لگتے ہیں۔۔۔
شورائم اور بیا کے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کے انکا نکاح کردیا جائے اور شادی بیا کی سٹڈی کمپلیٹ ہونے کے بعد کریں گے بیا تک جب خبر پہنچی اس نے اک طوفان کھڑا کیا تھا ۔۔۔
نہیں مما آپ لوگوں نے سوچ بھی کیسے لیا میں اس ہٹلر کے جانیشین سے شادی کروں گی ۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا کمی ہے گھر کا بچہ ہے اور سب سے بڑھ کے میرے ہاتھوں میں پلا ہے میں اسکی ہر اک عادت سے واقف ہوں اس سے بڑھ کے تہھارے لیے کوئی مناسب نہیں ویسے بھی یہ تمھارے بابا اور دادا ابو کا فیصلہ ہے اگر اختلاف رائے رکھ سکتی ہو تو انکے سامنے جاکے بولو ۔۔رشنا احمد کا دوٹوک انداز تو بیا کو اور زیادہ ہائیپر کر گیا تھا یہ یقیناً اسی ہٹلر کی کارستانی ہے میں کبھی اس سے شادی نہیں کرونگی ہمیشہ والے کمزور عہدوپیماں جو کرتے تھے ہمیشہ پشیمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شورائم کا سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ بہت اچانک تھا جہاں تاؤ جان کو حیرت ہوئی وہی اسکے ماموں اور دادا جان کو بہت خوشی ۔۔۔بیٹا ہمارے ملک کو تمھارے جیسے جوشیلے نوجوان سیاست دانوں کی بہت ضرورت ہے دادا جان تو پہلے ہی اپنے ہونہار پوتے سے امپریس رہتے تھے وہ خود اک عرصہ اس شعبے سے منسلک رہے تھے اور ماموں جان بھی اسکو سیاست کے داؤ پیچ سے آگاہ کرنے لگے تھے ایسے میں اسکیلئے بھی بڑوں کا فیصلہ انتہائی حیران کن تھا جب اسکے کرئیر کا آغاذ ہونے کو تھا اس نے بھی ماں پاپ کے آگے چوں چراں کی کیونکہ یہ فیصلہ دادا کا تھا اسلیئے اسکی بھی نہیں چلی لیکن پھر بھی اپنے درمیان ایج ڈیفرینسز اور بیا کی حددرجہ امیچور نیچر کو لے کے اس نے اک کمزور احتجاج ضرور کیا تھا جو بیا کے کانوں تک بھی پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان بیا ایک چائلڈش نیچر کی لڑکی ہے جبکہ میں اک آئیڈل لائف چاہتا ہوں شورائم کی آواذ کمرے میں ممنائی تھی تو بیٹا جان یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں آپکی دادی میرے سے پندرہ سال چھوٹی ہیں اور وہ اک آئیڈل ساتھی ثابت ہوئی ہیں دادا جان نے مصلحانہ انداز اپنایا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ سمجھدار ہوجائے گی ابھی اکلوتی بھی ہے ۔۔۔۔
تو دادا جان میں اسکے سمجھدار ہونے کے انتظار میں اپنا ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتا اسنے دوٹوک مؤقف اپنایا جو دادا جان کی تیوری چڑھا گیا تھا
کونسا ٹائم برخودار اور فیصلہ وہی ہے جو ہم کرچکے ہیں آپ اپنے سر سہرا سجانے کی تیاری کریں ۔۔۔۔
بیا کو لگا تھا وہ دادا جان کو منا لے گا اسکو سر نہیں اٹھانا پڑے گا لیکن جتنا اسکی ذات کی نفی کی گئی تھی اس نے شورائم کیلئے اک منفی جزبہ اسکے اندر پروان چڑھایا تھا تمہیں تو میں اب دیکھوں گی چھوٹے ہٹلر جتنی مجھ سے امیدیں لے کے آئے تھے بڑے ہٹلر پاس اس سے زیادہ نہ کر کے دکھایا تو میرا نام ابہیا احمد نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پہلی دفعہ اسکے ارادوں کو قبولیت کی سند ملی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اُسی کی ذات سے منسوب قصے تمام
وہی ایک شحص سرمایہ حیات ٹھہرا
آج اتنے عرصے بعد اپنے غموں سے نکل کے وہ دریہ کے کمرے میں آئی تھی سہاگ تو اسکا اجڑا تھا وہ اسکے والد اور بھائی کی خواہش تھی دری ۔۔۔۔
وقت تھما تھا دریہ کو لگا ارسلان نے اسے پکارا ہے اسے نے بے چینی سے نگاہ دروازے کی جانب کی تھی جہاں وشمہ کھڑی تھی اک بار پھر وقت کی گرد نے انکے اردگرد دھول بکھیری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریہ آئی ایم سو ہیپی کے تم میری بھابھی بنکے ہمیشہ ہمارے پاس رہوگی وشمہ پھوپو اور بابا کے منہ سے ارسلان اور دریہ کے نکاح کا سنکے اتنی ایکسائٹڈ ہوئی تھی کے اس نے مزید وہاں رک کے انکی اگلی بات سنی ہی نہ تھی دریہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے اسکے بولنے پہ اسکو شک ہو گویا یہ مزاق تھا یا سچ مزاق تھا تو کیوں حقیقت تھی تو کیسے ؟؟
دریہ کا دماغ مختلف سوچوں کی آماجگاہ بن رہا تھا دونوں ہم عمر ہونے کے باوجود دریہ کی طبیعت میں بہت ٹھراؤ تھا وجہ بڑے بھا ئی کی سردمہری اور مما پپا کا ہمیشہ سے پریشان رویہ جبکہ دریہ کی نسبت وشمہ حد دردجہ لاپرواہ اور شوخ طبیعت کی مالک تھی شام میں جب دادی اور پھوپو نے دریہ جیسا سوٹ وشمہ کے سامنے رکھا تو اسنے اس چیز کا اتنا نوٹس نہیں لیا لیکن سر پہ آسمان اسوقت گرا جب اسے محب کے ساتھ نکاح کیلئے مولوی کے سامنے بٹھایا گیا اس نے سر اٹھا کے کرنل صاحب کو دیکھا انکی خاموش منت بھری نظروں نے اسے چپ رہنے پہ مجبور کردیا محب جو سوچ رہا تھا کہ بات ابھی پگڑیوں تک جائے گی پھر سے اسکی سوچیں شکست کھا گئ تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محب اور وشمہ تو کبھی قریب آ نا سکے کیونکہ وشمہ نے اس نکاح کو بابا کی عزت کی لاج رکھنے کو اپنا ناٹک کہہ کے سبکو خاموش کروادیا جبکہ دریہ اور ارسلان نے تو ہر اک پل زندگی کے کتنے خوبصورت خواب ایک ساتھ دیکھے تھے اسے ایک شہید کی بیوہ ہونے پہ فخر تھا لیکن وشمہ اس سے یہ فخر بھی چھیننے آئی تھی۔ ۔۔۔۔
دری مجھے تم سے اک بات کرنی ہے وہ۔۔اک لمحے کا توقف تھا دریہ اصل میں اس گھر کو اک سہارے کی ضرورت ہے اک مرد کی پھوپو چاہتی ہیں کہ تمھاری شادی کردی جائے کالونی میں اک دو بہت اچھے رشتے دیکھے ہیں پھوپو نے تمھارے لیے۔۔۔وشمہ نے حددرجہ بے رحمی سے پھوپو کا پیغام بغیر سانس لیے اسے سنایا وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ اک ہارے ہوئے جواری کی طرح اسکے بستر پہ گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
دریہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا اسنے اک دم وشمہ کو اسکے بازو سے پکڑ کے کھڑا کیا تھا۔۔۔
تمھیں کب سے اختیار مل گیا وشمہ کے تم آکے میری زندگی اور موت پیامنبر بن جاؤ پانچ سال پہلے تم ہی آئی تھی نا مجھے ارسلان سے منصوب ہونے کی خوشیوں بھری زندگی کی نوید سنانے تو آج موت کا پروانہ کیوں لے کے آئی ہو ۔۔۔کیوں وشمہ تم کیوں مجھے میرے حال پہ نہیں چھوڑنا چاہتی ۔۔
دری وہ پھوپو۔ ۔۔وشمہ نے اپنے خلاف لگے الزامات کے خلاف کمزور سا احتجاج کرنا چاہا تھا۔۔۔
کیا مما ہاں بولو اس گھر کو اگر مرد کی ضرورت ہے تو اس گھر کا مرد ہے پڑا وشمہ محب رضا ہے اس گھر کے مکینوں کا سہارا جو صرف تمھاری ضد وجہ سے اپنی ماں بہن سے دور ہے تمہارے سر کا سائیں نہ تم ماموں اور ارسلان کے جانے کے بعد لاوارث ہو نہ میں وشمہ میرا سہاگ تو قسمت نے چھینا تم نے کیا کیا۔۔تم نے میری ماں کی گود اجاڑی میرے سر کا آنچل ہٹادیا تمہاری بے وجہ کی ضد نے مما کو بھی خاموش کروادیا ورنہ وہ تو آج بھی اپنے بیٹے کیلئے ترس رہی ہیں تمہیں انہوں نے کہا اس گھر کو اک مرد کی ضرورت ہے کیونکہ وہ تمہیں یہ نہیں کہہ سکتی تھیں کے اس گھر کو محب رضا کی ضرورت ہے کیوں ڈائن بن کے تم ہماری خوشیاں کھا گئی وشمہ کیوں تم۔چاہتی تو ہر چیز اپنے مقام پہ آسکتی تھی مگر تم ایسا چاہوگی کیوں تم تو خود ترسی کا شکار ہو چکی ہو اور۔۔۔۔۔۔
دریہ نے حیرانگی سے اپنے ہاتھوں سے نکلتی وشمہ کو دیکھا جو سر پہ ہاتھ رکھتی نیچے ڈھے گئی تھی وش۔وشمہ دریہ نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا کیا موت نے اک بار پھر انکی دہیلز دیکھ لی نہیں ۔۔۔۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں
خُود پابند رہتے ہیں اُسے آزاد رکھتے ہیں !
محب کی آنکھ سرہانے رکھے موبائل کی آواذ سے کھلی اٹھتالیس گھنٹے کی سخت ڈیوٹی کے بعد اسے لیٹنے کا ٹائم ملا تھا جو کہ اسے موبائل کی رنگ ڈسٹرب کرچکی تھی اس نے ادھ کھلی بیزار سی نگاہ موبائل سکرین پہ ڈالی تھی اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی دو سال بعد لائف۔لائن کے نام سے سیو نمبر سکرین پہ روشن ہوا تھا اور ساتھ میں مایوں کی دلہن بنی اسکی تصویر بھی جو دریہ نے اسے پارلر سے ہی بھیجی تھی محب کی جانب خاموشی سے موبائل بھی بج بج کے چپ ہو گیا محب اب پوری کھلی آنکھوں سے موبائل کو گھور رہا تھا جب پھر سے موبائل بج اٹھا اسنے خاموشی سے کال اٹینڈ کی اور اسکی آواز کا انتظار کرنے لگا سسکیوں کی آواز پہ وہ چونکا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا وش۔۔۔ ۔اسنے بے قراری سے دریافت کیا تھا ۔۔۔
بھائی وہ وشمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وشمہ کی بجائے دریہ کی روتی آواز نے اسکے دل کو مٹھی میں لیا تھا کہیں کچھ کر تو نہیں لیا اس بے وقوف لڑکی نے محب کانپتے دل سے سوچ رہا تھا جب دریہ۔کی آواز آئی بھائی آپ آجائیں اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور واقعی اب اسے لوٹ جانا چاہہے تھا۔
