Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 05)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

بیا مسلسل ٹانگیں ہلاتے ہوے کسی گہری سوچ میں گم تھی اور آنی بی اسکی بے چینی دیکھ کی ہول رہی تھیں۔بیا کو آنی کی آواز خیالی دنیا سے باہر لائی تھی کیونکہ چھوٹے ہٹلر کی پریشانی اسے اپنی حرکت ہہ شرمندہ کر رہی تھی اگر گاڑی کا مسئلہ حل نا ہوا پتا نہیں کتنے دن پھر نا وہ آگے جا سکیں گے نا پیچھے۔

جبکہ مسٹر ہٹلر نے گاڑی سٹ کروا لی تھی اور اب وہ خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف تھے. البتہ بیا میڈم “جو دوسروں کو پریشان کرتا خود بھی سکون سے نہیں رہ سکتا”

کے مقولے سے دوچار کروٹ پہ کروٹ بدل رہی تہیں۔

“بیا۔۔بیا۔۔بیا بیٹا اٹھ جاؤ بھائی بلا رہا ہے باہر۔”

وہ جو آوازیں سنکے بھی سستی سے پڑی تھ لفظ “بھائی” گویا بلاسٹ بن کے اسکے دماغ پر گرا تھا ۔

“کک کون بھائی ؟”اسنے ناسمجھ انداز میں آنی بی کو دیکھا۔ دراصل وہ اس بات کی تصدیق چاہ رہی تھی گویا جو اسنے سنا وہ ٹھیک تھا کیا چھوٹے ہٹلر کو اسکے بھائی ہونے کا شرف بخشا گیا ہے۔

“بیٹا وہ نیچے۔۔”

“کیا نیچے مطلب کیا! آنی بی آپکو مجھ معصوم پہ ذرا ترس نہیں آیا ادھر آئیں دیکھیں کہاں سے میں معصوم آپکو اس کھڑوس ،بددماغ ،سٹھیاۓ ہوے شخص کی بہن لگتی ہوں ۔”

“بیٹا وہ ۔۔۔”

“کیا بیٹا وہ مطلب کچھ بھی آٹس ناٹ فئیر اس ہٹلر کے آتے ہی آپ نے ایک دم پارٹی بدلی ہے آنی بی اسکیلئے میں آپکو کبھی معاف۔۔۔”

“آنی بی ۔۔۔”اک دم غصے بھری اسکی آواز پہ بیا نے پلٹ کے دیکھا۔

“یہ کب نازل ہوۓ۔”

اپنی طرف سے بہت دھیمی سرگوش کی گئ تھی جو بخوبی طور پر سامنے کھڑے شخص کے کانوں تک پہنچی تھی۔

” میں باہر انتظار کررہا ہوں آپکا آنی بی۔”

اک سخت نظر وہ اس پہ ڈال کے واپس پلٹ گیا۔

جب آنی اور بیا کے آنے کے آثار نظر نا آۓ تو وہ خود انکو بلانے کیلئے پہنچ گیا مگر اندر آتے سے بیا کو کسی شخص کی تعریفوں میں رطب السان دیکھ کے وہ اپنے اندر آنے والی گھڑی کو پچھتایا بیا کی اسکی جانب پیٹھ تھی جبکہ آنی بی نے کوشش بھی کی بیا کو الرٹ کر نے کی مگر وہ تو بیا احمد ہیں نا کسی کی سننی بس اپنی سنوانی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

“پپا جان آپ بھائی سے کہ دیں انکو دریہ اور مجھ میں سے کسی اک کو چننا ہوگا۔”

اندر داخل ہوتی سلمٰی بیگم نے جب وشمہ کے سنہری لفظ سنے دل تھام کے رہ گئیں نجانے انکی بیٹی ایسا کیا کر ڈالا تھا جو نوبت یہاں تک آن پہنچی تھی۔

“اوکے بھائی نے آپ کو چن لیا جبکہ پپا نے دریہ کو ۔”

میجر ارسلان کی آواز پہ اسنے مڑ کے بھائی کو دیکھا ۔

فوجی کٹ کلیں شیو میں نکھرا سا وہ وشمہ کے آگے آ رکا ۔

“آپ کب آئے؟” وہ ابھی تک شاکڈ نظروں سے بھائی کو دیکھ رہی تھی ۔ارسلان نے اسے کندھوں سے تھاما اور اپنے شانے ساتھ اسکا سر ٹکایا۔

“وشمہ یہ جو رشتے ہوتے ہیں نا گاڈ گفٹڈ ہوتے ہیں۔ بلکل آکسیجن کی طرح جبتک آپکا آکیسجن انہیلنگ سسٹم ورک کرتا آپ زندہ رہتے ہو اور اگر کمی واقعی ہو تو آپ آہستہ آہستہ مرجھا جاتے ہو اور ایک دن ختم ہو جاتے ہو سو مائی پرنسسز، دریہ ارسلان او او سوری مس دریہ سے اپنا ہو گیا ہے بریک اپ چلو اب اپنی نئی بھابھی ڈھونڈنا شروع کرتے ہیں ۔”

“کیوں سوری دری ہی میری بھابھی ہے اور رہے گی۔”

وشمہ نے غصے سے انگلی دکھائی جہاں سلمٰی بیگم اور ریٹائرڈ کرنل کاظمی نے سکون کا سانس لیا وہی دریہ کو بھی اپنی اہمیت پہ ناز ہوا ۔

ویسے بھی انکے فائنل وائوا کے بعد دریہ کی رخصتی کا فیصلہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔

جانا جب مٹی میں ہے۔۔۔

تو حسرتوں کے پہاڑ کیسے ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیا نے سارا راستہ خاموشی اختیار کی اور جسیے باہر کے منظر سے ہٹ کے اسکیلئے کچھ اہم نا ہو گاڑی اونچے نیچے راستے اختیار کرتی بلاآخر اک وادی نما علاقے میں پہاڑوں کے درمان میں واقع اک عالی شان گھر کے سامنے رکی۔

یہ مانسہرہ ڈویژن میں موجود کوہستان کالونی تھی گاڑی کے ہارن پہ سیکورٹی گارڈ انکی طرف آیا ۔

شاید چھوٹے ہٹلر کو وہ پہلے سے جانتا تھا تبھی نہایت عزت سے وہ ادب واداب بجا لایا تھا۔

باہر نکل کر چھوٹے ہٹلر نے اسکی طرف کا دروازہ کھول دیا اور ساتھ میں تنبہی انداز اپناتے ہوے اسے وارن کیا کہ یہاں پر کوئی شرارت نہیں چلے گی۔

بیا کا سانس اسکے انداز پہ اٹکا تو کیا اسکو پتا چل گیا ہے گاڑی کے ٹائر میں نے پنچر کیے دل کے چور نے آواز اٹھائی جسکو ان سنا کرتے اندر کو بڑھ گئی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جنگل کے اصول وہی جانتا ہے

جنکی یاری شیروں سے ہو۔۔۔

محب کی آواز نے ان دونوں کو متوجہ کیا مگراسد ابھی تک پہلے قدم پرہونے والی ناکامی کے صدمے سے باہر نہیں نکل پایا تھا۔

شاہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور ہمت بندھانے والے انداز میں بات شروع کی ۔

“دیکھو اسد ہمیں پی۔ایم۔اے میں دشمن کے خلاف مورچوں پہ لڑنے کو تیار کیا گیا ہے۔ ہمارے شانوں پہ اس ملک کے بیٹوں کی ،بہنوں کے سہاگ کی ماؤں کی گود ہری رکھنے کی زمداری ہے اگر ہم ہی دشمنوں پہ ترس کھانے لگے تو ہم اس وردی کا اس زمین کیلئے حق ادا نہیں کرسکیں گے ۔”

“کم آ ن یار موو آن تم ایک فوجی ہو تمہاری وردی پہ سجے ستارے تمہاری اس بزدلانہ روش پہ شرمندہ ہو رہے ہیں ۔”

محب نے اسد کو غیرت دلانی چاہی اور واقعی اب وہ اپنے پرانے موڈ میں لوٹ آیا تھا۔

“ہم نارمل لوگ نہیں ہیں اسد ہم SPYہیں جنکا گھر نہیں ہوتا ہمیں دشمن کی صفوں میں گھس کے اپنا گھر ڈھونڈنا ہوتا ہے مل جاۓ تو غاذی نا ملے تو ہم شہید، ہمارا کوئی رشتہ ہمیں اس وردی کی عصمت سے پیارا نہیں ہونا چاہیئے ، ہمیں اپنی جان اس ملک کے مقابلے پیاری نہیں ہونی چاہیۓ۔جہاں رشتے ، دشمن کیلۓ ہمدردیاں انسانیت کی تزلیل کے مقابل آجائیں وہاں ہم اک غدار کہلوائے جائیں گے ۔”

شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں، جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے۔ شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے…اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہونے والوں کو شہید کیوں کہتے ہیں ؟ اس بارے میں کئی اقوال ہیں۔

جو احکام القرآن جصاص،احکام القرآن قرطبی اور دیگرمستند تفاسیر میں مذکور ہیں۔

(1) کیونکہ شہید کے لیے جنت کی شہادت یعنی گواہی دی گئی ہے کہ وہ یقیناً جنتی ہے۔( 2 ) کیونکہ ان کی روحیں جنت میں شاہد یعنی حاضر رہتی ہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں،جب کہ دوسرے لوگوں کی روحیں قیامت کے دن جنت میں حاضر ہوں گی… نضر بن شمیل فرماتے ہیں کہ شہید بمعنی شاہد ہے اور شاہد کا مطلب جنت میں حاضر رہنے والا۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں یہی قول صحیح ہے…( 3) ابن فارس کہتے ہیں الشہید بمعنی المقتول یعنی اللہ کے راستے میں قتل کیا جانے والا…

( 4) کیونکہ فرشتے اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں…

( 5) جب اللہ تعالیٰ نے جنت کے بدلے اس کی جان کو خرید لیا اور اس پر لازم کیا کہ وہ اس عہد کو پورا کرے تو شہید نے جان دے کر گواہی دے دی کہ اس نے یہ عہد پورا کردیا ہے اور اس کی گواہی اللہ کی گواہی کے ساتھ مل گئی۔ اللہ کے حضور اپنی جان پر گواہی، شہادت کی وجہ سے اسے شہید کہا جاتا ہے۔

“اک بات یاد رکھنا تم لوگ اگر تمہارے سامنے میں ہی کیوں نہ ہوں میرا خون بہانا پڑے دریغ مت کرنا مگر غدار نہ ہونا۔۔”

شاہ نے سفاکیت سے بھرپور لہجے میں کہا ۔

اور دور کہی قبولیت کی گھڑی نے لیفٹیننٹ شاہ کی صدا پے لبیک کا تھا اگر شاہ کو زرا اندازہ ہوتا تو وہ سوچنے س پہلے سوچتا یا پھر اسد نہیں تو کم ازکم محب ضرور اسکے لب سی دیتا۔

تن من مٹاۓ جاؤ تم نام قومیت پر

راہ وطن پر اپنی جان لڑاۓ جاؤ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *