Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 18)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 18)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
دریہ کی رخصتی کے بعد پھوپو نے باقاعدہ اسے محب کے کمرے میں رہنے کا حکم دیا تھا جبکہ پچھلی رات کا واقع اپنی بھرپور یاداشت سے اسکے حافظے میں محفوظ تھا لیکن چند اک رشتہ دار خواتین کے ساتھ سلمٰی بیگم نے باقاعدہ اسے رخصت کیا تھا ۔۔محب اور پھوپو کے درمیان اک طویل بحث ہوئی تھی مگر انکا کہنا تھا کہہ وہ اپنی زندگی میں ہی اسے اور وشمہ کو ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے اسکی پہلی نگاہ اپنے بیڈ پہ پڑی تھی لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی اک بار پھر اسکا غصہ عود آیا تھا اک بار پھر وہ اسکی زات کو ٹھکرا گئی کھٹکے کی آواز پہ اس نے سامنے دیکھا جہاں وہ نائٹ گاؤن پہنے واشروم سے نکل رہی تھی محب نے اک ٹھنڈی سانس بھری تھی اور فریش ہونے چلا گیا وشمہ نے اک چور نگاہ اس پہ ڈالی تھی اور بیڈ کی سائیڈ پہ لیٹ گئی ۔۔
کمپرمائزز کرنا اچھی بات ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ انسان اپنی سلف ریسپکٹ ہی بھول جائے محب نے اسکے بیڈ پہ لیٹے وجود پہ چوٹ کی تھی وہ اک جھٹکے سے کھڑی ہوئی آپ کیا سمجھ رہے ہیں مسٹر محب کے میں اپنی خوشی سے یہاں ہوں اسکی شہد رنگ آنکھیں دکھ سے تربتر ہورہی تھیں ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آواز بھرا گئی تھی ۔۔۔جی مسز وشمہ محب میں یہی سمجھ رہا ہوں کیونکہ جتنا میں وشمہ میڈم کو جانتا ہوں انکی مرضی کے بغیر کوئی پتا نہیں توڑ سکتا آیا کہ پوری زندگی کا فیصلہ ۔۔نا نا۔۔ طنز کرتے ہوئے محب نے اسے بازو سے پکڑ کے اپنے قریب کیا تھا وہ اس اچانک عمل کیلئے بلکل تیار نہیں تھی لہزا توازن رکھے بغیر وہ اسکے بے حد قریب آگئی تھی اتنی کے محب اسکی تیز دھڑکنوں کی آواز سن سکتا تھا یہ پہلا موقع تھا جب پانچ سال اس پاکیزہ بندھن میں بندھے ہونے کے باوجود قربت کے یہ لمحات کبھی نہیں آئے تھے محب تو شاید اپنی حرکت پہ خود ہی ہوش گنوا رہا تھا مگر۔۔۔ ۔۔وہ اسکی گرفت میں کسمسائی تھی۔۔محب کو اک بار پھر اپنی ذات کی نفی کے احساس نے گیھرا تھا اسکی گرفت وشمہ پہ ڈھیلی ہونے کے بجائے اور زیادہ مضبوط ہوئی تھی وشمہ کیلئے اسکے بدلتے انداز بلکل نئے تھے اسکے اردگرد خطرے کے الارم بجے تھے ۔۔۔کیا کررہے ہو محب چھوڑو مجھے اس نے اپنے لہجے کو سخت بنایا تھا مگر محب پہ تو جیسے اثر ہی نہیں تھا چھوڑ ہی تو نہیں سکتا میری جان بستی ہے تم میں گھمبیر لہجہ اسے اپنے حصار میں لے رہا تھا۔۔۔جانتی ہو وش تم میری اک بےجا ضد تھی تمہارے بابا کو جھکانے کیلئے میں نے انکے سامنے شرط رکھی تھی مجھے لگا وہ انکار کردیں گے اور میں جیت جاؤنگا انہوں نے مجھے ہرادیا ۔۔۔۔اور پھر میں ہار کے بھی جیت گیا وش مگر آج میں ہار گیا ہوں تمہارے سامنے وش آج سے نہیں شاید اسوقت سے جب تم مجھے اگنور کرکے فیملی میں موجود اور کزنز کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے لگی۔۔یا شاید اسوقت جب تم نے مجھ پہ الزام لگایا کہ میں نے جان بوجھ کے گرل سے تمہارا ہاتھ چھوڑا تھا ۔۔۔پر نہیں شاید اسوقت جب بھری محفل میں تم نے مجھے ان بیلنس کر کے ہمیشہ کیلئے بیلنس کر دیا ۔۔اسوقت سے جب میرے لائے فلاورز تم نے ڈسٹ بن کی نظر کر دیے ۔۔۔میں اپنے دل سے ہار گیا وش اسوقت جب تم ماموں کے کہنے پہ میرے نام کی مہندی لگا کے بیٹھی تھی ۔۔۔پر نہیں میں اسوقت ہارا تھا جب جب تم نے مجھے ٹھکرایا تھا وہ اسکے بالوں سے کھیلتا سروں میں آپ بیتی گنگنا رہا تھا وشمہ کو اسکا یہ رویہ ڈرا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آریا تھا وہ ماضی کیوں کرید رہا ہے وہ سہمی ہوئی ہرنی لگ رہی تھی ۔۔۔پر آج نہیں وشمہ آج میں نہیں ہاروں گا آج کا دن میری جیت کا دن ہے نرمی سے بالوں کے ساتھ کھیلتے ہاتھوِں نے اسکے بال مٹھی میں دبوچے تھے ۔۔سی۔کی آواز وشمہ کے لبوِں سے نکلی تھی اور آنکھوں میں بے اختیار پانی جمع ہوا تھا ۔ ۔۔چھوڑو جنگلی انسان وشمہ نے اسکا ہاتھ اپنے بالوں سے کھینچا تھا ۔ ۔۔کتنی بار بتاؤں کے چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میری جان بالوں پہ مزید گرفت سخت کرتے اس نے چبا چبا کے اک اک لفظ ادا کیا تھا ۔۔۔کیا چاہتے ہوتم کیوں اتنا سائیکو ہورہے کیوں اپنی ہار برداشت نہیں ہورہی اک عورت سے ہار گئے اب اپنے نفس کے آگے ہار رہے ہو مگر میں کبھی خود کو تمہاری ہوس کا نشانہ نہیں بننے دونگی وہ بھوکی شیرنی بنکے غرائی تھی جو کچھ دیر پہلے ڈری سہمی ہوئی ہرنی تھی ۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو تم زبردستی میرا جسم حاصل کرلوگے ۔۔۔۔بیڑہ غرق ان ٹی۔وی ڈراموں کا جنہوں نے ڈائیلاگ بولنا تو سکھا دیے مگر جگہ اور وقت نہیں وشمہ کی زبان کے آگے تو کھائی تھی ہی نہیں بغیر انجام کے وہ شروع تھی اس سوچ سے بالاتر کے جسکے سامنے وہ ہوس کے گیت گا رہی وہ اسکا مجازی خدا تھا جسکیلئے خدا کے بعد سجدہ تک کی بات گئی ۔۔۔۔۔۔
اور محب کو اسکے الفاظوں نے زہریلے ناگوں کی طرح ڈنسا تھا وہ اک دم پیچھے ہوا تھا اس نے اک دکھ بھری نگاہ وشمہ پہ ڈالی جس نے وشمہ کو پانی پانی کردیا تھا اب احساس ہورہا تھا کہ جزبات دکھاتے دکھاتے وہ کچھ زیادہ ہی اوور ایکٹنگ کرگئی تھی محب چپ چاپ روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔اور گھر سے بھی اک بار پھر ناامید لٹایا گیا تھا ۔۔۔۔۔شاہ کے اتنے لیکچرز کے باوجود بھی اس کے اندر چاہے جانے کی خواہش تھی اک فوجی کی زندگی نارمل لوگوں جیسی نہیں اسکے باوجود اسکی گھر بنانے کی چاہ تھی مگر وہ بار بار آزمایا جارہا تھا اور بارگاہ خداوندی میں وہی شخص ہی مقبول ہے جو آزمایا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کیوں اک خیال سا آیا تھا
ہم نہ ہونگے تو کیا کمی ہوگی؟
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بیا ان انجان پیغاموں سے ڈر سی گئ تھی اس نے جب اپنی بیسٹ فرینڈ سے زکر کیا تو اس نے کسی کی شرارت ہے کہہ کے ٹال دیا مگر اب تو روز ووکے اسکے روم میں ہوتے کھلی کھڑکی اس بات کا اشارہ دیتی کےکوئی اسکے روم میں آتا ہے وہ نیند کی شیدائی چاہ کے بھی جاگ نہیں سکتی تھی اسیلئے وہ کچن میں کافی بنانے چلی گئی تھی تاکہ وہ جاگ سکے پندرہ منٹ بعد کمرے میں قدم رکھا وہی مخصوص خوشبو اسکی ہارٹ بیٹ تیز ہوئی تھی اس نے آگے بڑھ کے کھڑکی کی طرف سے باہر دیکھا مگر باہر ہمیشہ والا سناٹا اسکا منتظر تھا آج کوئی ووکے نہیں تھا مگر روم میں کچھ بھی قابل گرفت نہ تھا اسکا سر بری طرح چکرا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔چھوٹے ہٹلر سے مدد مانگتی مگر نہیں کہیں وہ کچھ غلط نہ سمجھ لے ۔۔۔بے دھڑک بولنے والی ابہیااحمد آج رشتوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی تھی مما پاپا کی فکر الگ ہورہی تھی اک آنسو نمودار ہوا اور کہیں کھو گیا شاید اسے بھی بیا کی طرح اپنی کمزوری کا احساس تھا ۔۔۔میں ہر چییز اگنور کردونگی مگر اپنے کمرے میں اسکی آمد وہ کیسے اگنور کرسکتی تھی وہ بے شک آج تک کوئی لمٹ کراس نہیں ہوئی تھی مگر اک ڈر نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا وہ روم چینج کرلے گی اک بزدلانہ سوچ نے اسے تسلی دی تھی یا شاید اک خوش فہمی نے۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شورائم پہ احمد پہ کڑی نگاہ رکھی جارہی تھی ملک کی وجہ سے وہ ISI کی نظر میں تھا جبکہ وہ بھی اس بات سے آگاہ تھا کہ کوئی اسے فالو کرتا ہے مگر کون؟ اک بے ہنگم اور تھکا دینے والی روٹین کے بعد آج اسے بیا کی طرف آنے کا موقع ملا تھا چھٹی کا دن تھا اسلیئے سب گھر پہ ہی تھے سامنے ہی دادی اماں تیل ڈالنے کے بعد اسکے ہلکے کرلی ہیرز کا گھونسلہ بنائے بیٹھی تھیں اور ساتھ میں بالوں پہ توجہ نہ دینے اسکی سستی کاہلی اور اگلے گھر جا کے ناک کٹوانے پہ لمبا لیکچر جاری تھا۔۔۔ دادی اماں آپ تو ہمیشہ سے ہی اگلا گھر اگلا گھر کرتی تھیں تبھی آپ نے اسی اگلے گھر میں مجھے لا پھینکا ہے بیا نے خفگی بھری آواز میں گلا کیا تھا۔۔۔۔اے ہائے کتنی گز بھر کی زبان ہے اس لڑکی کی یہ تو شکر کرو تایا ہیں تمہارے تیوروں اور عادتوں سے اچھے سے آگاہ ہیں اور شورائم تو ہے ہی میرا فرمانبردار اور پیارا بچہ مجال ہے جو اسکے منہ میں زبان ہو اپنے چاچا کا لحاظ میں تمہیں بھی برداشت کر ہی لے گا دادی نے اک بار پھر سخت سنائیں تھیں اور بیا کے تو سر پہ لگی تھی ہاں ہے میری غلطی جو تیل کی چمپی کا بول دیا اور وہہہ آپکا لاڈ دلارا پیارا ہٹلر کا جانشین جائیں ڈھونڈ لیں اسکیلئے سگھڑ خاتوِن نہیں کرنی مجھے اس سے شادی بتا رہی ہوں دادی میں شادی کے دن بھاگ جاؤں گی پر آپکے لاڈ دلارے سے نہیں کرونگی شادی اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا تھا آخر میں اسکی آواز بھرائی تھی شورائم جو کب سے انکے پیچھے کھڑا دادی پوتی کی نوک جھوک انجوائے کررہا تھا بات کو اتنے سریس رخ پہ جاتے دیکھ اسکا موڈ بھی بگڑا تھا رشنا بیگم نے کچن سے نکلتے ہوئے بیا کے الفاظ بخوبی سنے تھے وہ اسکی دھلائی کرنے کا سوچتے لاؤنچ میں آئیں شورائم کو کھڑے دیکھ اک اور پریشانی سر پہ سوار ہوئی تھی کہیں اس نے بیا کی بکواس سن تو نہیں لی ۔۔۔بیا کتنی بار بولا ہے سوچ سمجھ کے بولا کرو رشنا بیگم کی آواز نے اسے اور غصہ دلایا تھا میں نے کہا تھا آپکو نہ کریں میرا رشتہ ادھر مگر نہیں آپ نے تو میری کوئی بات نہیں مانی یہ دادی مجھے احسان جتا رہیں کہ کیسے انکے راج کمار پوتے نے مجھے قبول کرکے میری ذات پہ احسان کیا ہے اب باقاعدہ آنسو کی بارش شروع ہوئی تھی رشنا بیگم اسکے زبان کی جوہر پہ مزید پریشان ہوتیں شورائم کی طرف بڑھیں تھیں ارے شورائم بیٹا آپ اسکی باتوں کو دل پہ نہ لینا پاگل ہے یہ رشنا بیگم نے بات سنبھالنی چاہی تھی شورائم کی موجودگی کا پتا چلنے پہ اسنے بھی پیچھے مڑ کے دیکھا جو سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا خوف سے اک سنسنی سی لہر بیا کے جسم میں دوڑی تھی مگر وہ زمین پہ پاؤں پٹختی روم کی طرف واک آوٹ کر نے لگی دوسرے ہی لمحے اک جھٹکے سے رکی تھی کیونکہ شورائم نے سختی سے اسکا بازو کھنچ کے اسے واپس اسکی جگہ لایا تھا سب کے سامنے اس طرح کی حرکت بیا کو پانی پانی کر گئی تھی اس نے زبان کھولنی چاہی مگر شورائم کے الفاظ نے اس پہ بجلی گرائی تھی”بیٹی کی رخصتی مبارک ہو چچی جان” جہاں اسنے حیرت سے اسے دیکھا وہی دادی اور چچی جان کے ہاتھ پاؤں بھی اسکی بات پہ پھولے تھے یہ کیا کہہ رہے بیٹا ایسے کیسے رشنا بیگم نے کمزور سے لہجے میں احتجاج کیا کیونکہ اپنی بیٹی کے الفاظ انہیں بھی ہلا گئے تھے وہ تو پھر شوہر تھا اور کوئی بھی غیرت مند مرد اپنے بیوی کی زبان سے نکلے ایسے لفظ قبول نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔۔بیا نے غصے سے اسکی گرفت سے نکلنا چاہ تھا مگر اسکے ہاتھ تو گویا لوہے کی ماند مضبوطی سے اسکے بازو میں گڑے تھے ۔۔۔آپکی بیٹی کی عقل ٹھکانے لگانے کیلئے یہ قدم جائز ہے چچی جان اس سے پہلے کہ آپ لوگ مزید کسی بڑے سانحے سے گزریں دادا جان سے میں خود بات کر لونگا ۔۔یہ کہہ کے وہ اسے کھینچتے ہوئے باہر لایا تھا لاؤنچ میں کھڑی گاڑی میں اسے زبردستی پھینکا اور گاڑی نکالی گاڑی کی آواز پہ دادی اور رشنا بیگم کو ہوش آیا تھا انکو لگ رہا تھا کچھ دیر تک جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوگا وہ اسے واپس لے آئیں گی مگر گھر تو سامنے تھا پھر وہ اسے کہاں لے گیا انکا دل دھڑک رہا تھا ٹھیک ہے وہ اسکے نکاح میں تھی مگر باقاعدہ رخصت تو نہ ہوئی تھی وہ سسر اور شوہر کو کیا منہ دکھاتیں اک بے چینی نے انہیں آگھیرا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہی بیا کو زبردستی گھسیٹ کے ڈالتے ہوئے کسی نے اسے بہت نفرت سے دیکھا تھا اسکا انجام تم بھگتو گے۔۔۔۔۔۔۔اک نفرت کی لہر پورے جسم میں خون بن کے دوڑی تھی
