Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 16,17)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 16,17)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
کہیں پر بھی تمہارے نقشِ پا باقی نہیں ہیں
بتاؤ کیا مرے رستوں کا دکھ بنتا نہیں ہے !
اپنے کام میں مصروف دل کے اک کونے میں اس ہنستی مسکراتی لڑکی کی تصویر بسائے نجانے لیفٹیننٹ اسد ملن کی گھڑیوں کا کیوں یقین رکھے ہوئے تھا اگر محب اور شاہ کو اسکے اندر کی اس تبدیلی کا پتا چلتا تو شاید اس کا بہت ریکارڈ لگانے والے تھے شاہ کی سوچ آنے پہ اسکے حلق میں اک کڑواہٹ بھر گئی تھی جو بھی تھا شاہ کو اس پہ گولی نہیں چلانی چاہیئے تھی اک اور زہریلی سوچ نے اسے اک دم مضطرب کردیا تھا پتا نہیں کون تھی کہاں تھی اسد صرف سوچ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
زندگی میں کئی مرتبہ ایسے لوگ ملتے ہیں جو پہلی نظر میں آپکی آنکھوں میں بس جاتے ہیں بیا کے ساتھ اسکی پہلی ملاقات اتنی خوشگوار نہیں رہی تھی مگر دوسری ملاقات جن حالات میں ہوئی تھی وہ ضرور اس پہ اثر چھوڑ چکی تھی اسد کی بیا سے محض ہمدردی ہی شاہ کو اتنا بھڑکا گئی تھی اور اسد کیلئے یہ ہمدردی بہت آگے کی کروٹ لے رہی تھی وہ تقدیر کے فیصلوں سے انجان تھا اس بات سے انجان کہ وہ تو کسی اور کا مقدر ٹہرائی جاچکی ہے پھر بھی وہ اس سے ملنے کی دعائیں روز کرتا تھا اور شاید کبھی تقدیر انکا سامنا کروا بھی دے۔۔۔۔۔۔۔
مگر تب کیا وہ سہہ پاتا اسکا کسی اور کے ساتھ جڑا نام ۔۔۔۔۔
سائیں آپکو حسن صاحب نے بلایا ہے ملازم کی آمد اور حسن کا پیغام اسے سوچوں کے بھنور سے باہر لایا تھا اسد ایک دم چوکنا ہوا تھا بیا سے ہٹ کے اسے اپنا مقصد یاد آرہا تھا اب وہ ملازم کے ساتھ باہر روانہ ہوا۔۔
خان اتنے لمبے عرصے کا مہمان وہ بھی دو دن کی جان پہچان ہمارے لیے کوئی مشکل نا پیدا کرے اندر سے آتی آواز نے اسد کے قدم باہر کو روک دیے تھے بابا سائیں وہ بہت اچھا بندہ ہے ولایت سے آیا ہے ادھر گھومنے پھرنے کو پھر اپنے علاقے میں آئے مہمان کی عزت کرنا تو ہمارا فرض ہے بابا سائیں حسن اسکی خاطر شوکت اچکزائی کو صفائیاں دے رہا تھا اسد کا دل اپنے لیے اسکی اتنی پرواہ دیکھ کے اک لمحے کو موم ہوا تھا لیکن شاہ کی بات اسکے گرد گھومنے لگی آن ڈیوٹی نا ہم کسی کے دوست ہیں ،بھائی نا ہی بیٹے سامنے میں ہی کیوں نا ہوں تم لوگوں کی پہلی ترجیح فرض ہوگا اسد نے دروازے پہ دستک دی تاکہ وہ اسکی آمد سے متوجہ ہوجائیں حسن نے اک خوش آئن مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی اور شوکت اچکزائی نے بھی بغور اسکا جائزہ لیاتھا۔۔۔۔۔۔بظاہر تو سب ٹھیک تھا مگر انہیں اس لڑکے سے خوامخواہ کے تحفظات تھے ۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بیا کو اپنے حواس منجمند دکھائی دیے تھے وہ جینٹس واشرومز سائیڈ تھی اسنے اپنی طرف گھورتے لڑکوں کو دیکھا اور آہستگی سے واپس اسی طرف قدم بڑھائے جس سائڈ سے وہ آئی تھی کسی کو کچھ سوچنے کا موقع دے بغیر وہ بھاگتے قدموں سے پیچھے کو دوڑی تھی پہلے ہی دن وہ بہت بری شرارت کا شکار ہوئی تھی جسنے اسکا رہا سہا اعتماد بھی ختم کردیا تھا واپس کو بھاگتے اس نے آنے والے راستے کو ذہن میں ضرور دہرایا تھا لیکن اک ہی طرز کی عمارت نے اسے بری طرح چکرا کے رکھ دیا تھا وہ اپنی بےبسی پہ روتی اک بینچ پہ بیٹھ گئی اسے بارہا سمجھایا گیا تھا کہ کسی پہ اعتماد نہیں کرنا اور وہ پہلے ہی دن سب نصیحتیں بھلا کے مصیبت اپنے سر لے بیٹھی ۔۔۔۔۔
بیٹا آپ کیوں یہاں بیٹھی ہیں اک شفیق آواز پہ اسنے ڈر کے سر اٹھایا تھا گارڈ کی یونیفارم میں ملبوس وہ شخص اسے پریشان سا دیکھ رہا تھا ووہ میں راستہ بھول گئی واپسی کا بیا نے بے تکے انداز میں بتایا چلو بیٹا میں آپکو مین گیٹ کی طرف چھوڑ دوں بیا نے کچھ مشکوک انداز میں انکی طرف دیکھا لیکن اسکے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا گارڈ کے ساتھ جانے کے واپس آتے اچانک اسکی نظر گیٹ سے کچھ دور واقع “ڈیپارٹمنٹ آف بزنس اینڈ منیجمنٹ” کے بڑے سے بورڈ پہ پڑی اور اسے اپنی کم عقلی پہ رونا آیا اسے یاد تھا کہ شورائم اسے یونیورسٹی کے اس گیٹ پہ شاید اس لیے چھوڑ کے گیا تھا تاکہ وہ آرام سے اپنے ڈپارٹ جاسکے مگر وہ سٹوڈنٹ ریگنگ کا حصّہ بن گئی تھی لیکن آج کیلئے وہ مزید وہاں نہیں ٹھہر سکتی تھی گیٹ پہ پہنچ کے اس نے پاس سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دیا ایڈرس سمجھا کے گھر کو روانہ ہو گئی ابھی اسے گھر جلدی واپس پہنچنے پہ سبکو تسلی بخش جوابوں کیلئے خود کو تیار کرنا تھا اور اگر جو وہاں کوئی اوباش لڑکے ہوتے تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا کے اسکے ساتھ ہوا کیا ہے اس وقت اسکا ذہہن مختلف سوچوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تادمِ مرگ ہے__ یک طرفہ محبت
آتشِ لامحدود ، عذاب مسلسل![]()
محب کی سوچیں مسلسل وشمہ کے گرد گھوم رہی تھیں آج کالونی میں جاننے والوں کے ذریعے دریہ کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے تھے اور اسکی موجودگی یہاں لازم تھی وہ دونوں کچن میں مصروف مختلف انواع اقسام کے کھانے میں مصروف تھیں دونوں کے دماغ اک ہی شخص کے گرد گھوم رہے تھے اور وہ تھا میجر ارسلان شہید اتنا آسان نہ تھا اسکا حوالہ اپنی ذات سے الگ کرنا پانچ سال کا عرصہ کم نہ تھا انکی محبتوں کی تو اک داستان رقم تھی دریہ کو اب بھی ہر وقت شرارتی مسکان لیے وہ اپنے اردگرد دکھائی دیتا تھا ادھر وشمہ کی سوچیں بھی اک مدار میں تھیں جب دریہ کا نام کسی اور سے جڑے گا تو وہ ارسلان سے جڑا واحد رشتہ بھی کھو دے گی اس گھر میں رونقیں بحال کرنے کیلئے اسے اک بار پھر سے اپنے پیاروں کی قربانی دینی تھی
اس نے اپنی آنکھوں میں امڈ آنے والے آنسؤں کا راستہ روکا تھا اور دریہ کو دیکھا وہ دونوں ہی اک دوسرے سے اپنی کفیت چھپانے کی زحمت نہیں کررہی تھیں وہ بچپن کی ہمراز اک جیسے دکھ سے سمجھوتا کرنے جارہیی تھیں مگر پھر بھی صبر تھا کہ آئے نہیں دے رہا تھا گڑیا تمہیں ماما بولا رہیی ہیں محب کی آواز نے زہریلی یادوں کی خاموشی کو توڑا تھا دریہ اسکی بات سن کے فوراً باہر کو نکلی تھی وشمہ نے اپنے تاثرات چھپانے کیلئے چہرہ مزید جھکا لیا تھا ۔۔۔
میں جانتا ہوں یہ سب تمہارے لیے بہت تکلیف دہ ہے وش مگر ہم سب جتنا جلدی خاموشی کے اس سمندر سے نکل کے دنیا کی بھیڑ میں آئیں گے اتنا اچھا ہوگا ہم سب کیلئے جانے والے لوٹ کے نہیں آئیں گے ہاں مگر ہماری اچھی یادوں اور نیک تمناؤں میں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے وش دھیمے لہجے میں کہتا وہ وشمہ کو اس جزباتی کیفیت سے نکالنے کی کوشش کررہا تھا جو اسکے چھپانے کے باوجود بھی محب کے سامنے تھی وہ چاہے جتنا خود کو اس سے چھپاتی مگر وہ تو اسکی دھڑکن کے انتشار سے بھی واقف تھا ۔۔وش ۔۔محبت سے چور لہجے میں پکارا گیا تھا وشمہ نے بے ساختہ اسکی پکار پہ اسے دیکھا تھا ۔۔تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرے گا اگر تم ہمارے رشتے کو اور ٹائم دینا چاہو تو میں مما اور دری کو راضی کر لونگا میں نہیں چاہتا کہ تم کسی بھی کسی قسم کے دباؤ میں آکے ہماری زندگی کا اتنا اہم قدم اٹھاؤ میں ہر طرح تمہارا ساتھ دونگا ۔۔وشمہ کو اسکا لہجہ احسان جتانے والا لگا تھا اک دم اسے اپنی انسلٹ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔آپ کو کس نے کہا کہ میں دوسروں کی مرضی سے فیصلے کرتی ہوں آپ سے شادی میرا اپنا فیصلہ ہے اور مجھے آپ سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں چاہیے اوکے۔۔۔ہمیشہ والا ضدی لہجہ محب کے چہرے پہ مسکراہٹ کھلا گیا تھا جو وشمہ کو مزید بھڑکا رہا تھا وہ اسے مکمل اگنور کرتے چیزوں کے ساتھ اٹخ پٹخ کرنے لگی تھی محب جانتا تھا اسکا غصہ چیزوں پہ اتارا جارہا ہے کیوں کھڑے ہیں جائیں آپ یہاں سے اک بھرپور غصے بھری گھوری سے اسے نوزا گیا پر وہ محب ہی کیا جس پہ کوئی اثر ہوجائے اک دلفریب سمائل پاس کرتا وہ باہر کی جانب چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔
لڑکے والے دریہ کو پسند کرنے کے ساتھ ہی شگن کی انگوٹھی بھی ڈال گئے تھے کچھ معملات پہلے سے طے تھے اور کچھ بعد میں طے کر کے شادی کی ڈیٹ فکس کر دی گئی تھی چونکہ دریہ اپنے بھائی کی شادی بھرپور طریقے سے انجوائے کرنا چاہتی تھی اسلئے محب اور وشمہ کی شادی کے اک ہفتہ بعد کی ڈیٹ دی گئ اسکے سسرال والوں کو ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر حمزہ وشمہ اور دریہ کے سنئر تھے اسلیئے بھی وہ ان سے کچھ حد تک واقف تھیں ۔۔ شاہ اور اسد کو جب محب کی شادی کا علم ہوا اسد نے تو مانو فون کے اندر گھس کے بھنگڑے ڈالنے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ اپنے دوست کی دوسالوں کی ہجر بھری گھڑیوں کا ساتھی رہا تھا جبکہ شاہ نے اپنے کرئیر کے اتنے اہم کیس کے دوران شادی کو محض اک گھڑاک پالنے جارہے ہو بول کے بات ہی ختم کردی محب کو افسوس ہوا تھا اسکے رویے سے لیکن وہ جانتا کہ وہ اپنے کیس کو لے کے کس حد تک پوزیسو ہو رہا ہے وہ اس سے تفصیلی بات کرنے کا سوچتے ہوے شادی کی مصروفیت میں گم ہو گیا وشمہ کی ضد تھی کی رخصتی سادگی سے عمل میں لائی جائے مگر سلمٰی بیگم اکلوتے بیٹے کی شادی پہ سارے ارمان پورے کرنا چاہتی تھیں جبکہ وشمہ کے پاس بحث کیلئے اک طویل موضع تھا پہلے بھی تو آپ لوگوں نے ارمان پورے کرنے چاہے تھے نتیجہ کیا نکلا تھا دو دو جنازے اٹھے تھے اس گھر سے پھر سے کیوں اسی ڈگر پہ چل رہی ہیں آپ کون بچا ہے آپکے پاس گنوانے کیلئے کیونکہ میں تو اپنا سب کچھ پہلے لٹا چکی ہوں وہ حد درجہ خودازیتی کا شکار ہورہی تھی اور دوسروں کو بھی کررہی تھی محب اسکی سوچ سے ناواقف تھا کبھی وہ ڈھٹائی سے خود اپنی رخصتی کی ہامی بھرکے اسے حیران کر رہی تھی تو کبھی پورے گھر کو سوگ میں ڈوبونے کی کوشش میں تھی اپنی کیفیت تو شاید اسے خود بھی نہیں پتا تھی سلمٰی بیگم کی آنکھوں سے بہتے آنسؤں نے اسے مزید تلخ کلامی سے روکا اور وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔اسے کیوں سمجھ نہیں آتی میں نے بھی اپنا شفیق سایہ اپنا بھائی کھویا ہے اپنا بیٹوں جیسا بھتیجا کھویا ہے وہ روتے ہوئے محب سے لپٹ گئیں اک دم اداسی نے جیسے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا ۔۔۔محب کو رہ رہ کے وشمہ پہ غصہ آرہا تھا جو اگر خود خوش نہیں رہ سکتی تھی تو کم ازکم دوسروں کی خوشیاں تو نا خراب کرے ۔۔۔
ڈونٹ وری مما جیسے آپ چاہتیں ویسے ہی سب کریں گے آپ ریلکس رہیں ۔۔۔اس نے ماں کو شانے سے لگائے تسلی دی ۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ملک اس بار کی ڈیل کی کافی تگڑی قیمت چکا رہے ہیں وہ لوگ بس شرط یہ ہے کہ کام مکمل رازداری کے ساتھ اپنی تکمیل کو پہنچنا چاہیے اور ہو سکتا ہے اس کام کے بعد ہمیں کچھ عرصے کیلئے منظر سے بھی ہٹنا پڑ جائے کیونکہ آئی۔ایس۔آئی کے کے ٹرینڈ کتے ہماری بو سونگھتے پھر رہے ہیں شوکت اچکزائی اپنے جگری یار اور سائیڈ بزنس پارٹنر سے اپنی نئی ڈیل کی بابت آگاہ کیا تھا ۔۔شورائم نے باقاعدہ سے اک پارٹی کو جوائن کرنے کی تقریب رکھی تھی جہاں اپنے ماموں کی شمولیت سے وہ اپنی شہرت میں اضافہ کر سکتا تھا اک طرح وہ ملک کو اپنی کامیابی کی سیڑھی بنانا چاہ رہا تھا انہوں نے شورائم کو اپنے سب خاص دوستوں سے ملوایا تھا جن میں انکا نیا بزنس پارٹنر داؤد مشہدی بھی تھا وہ دبئی پلٹ تھا اور انکے سمگلنگ کے کام میں انہیں بہت سے کارآمد پروجیکٹ دے رہا تھا مگر شورائم کو انہوں نے فلحال اپنے اصل کام کی بھنک نہیں پڑنے دی تھی وہ نہیں چاہہتے تھے کے انکے بھانجے کے سامنے انکی امیج خراب ہو وہیں پہ دو آنکھیں مسلسل ملک کے اوپر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھیں جو شاید اسکیلئے شاید وبال جان بننے کو تیار تھیں۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°
پارٹی سے فارغ ہونے کے بعد شورائم کا رخ روشنی ہاؤس کی طرف تھا وہ ابہیا سے آج والے واقعے کی بابت تفصیلاً آگہی چاہ رہا تھا جو رشنا بیگم نے اسے بیا کی زبانی سنی گئی سنائی تھی اسے لگ رہا تھا کے کوئی اسے فالو کررہا ہے مگر بار بار غور کرنے پہ بھی اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا مختلف گلیوں سے ٹرن لیتا وہ روشنی ولا پہنچا تھا رشنا بیگم سے بیا کی بابت دریافت کیا تو پتا چلا یونیورسٹی سے آنے کے بعد سے وہ کمرے سے نہیں نکلی اور یہی بات سبکو پریشان کررہی تھی میں دیکھتا ہوں رشنا بیگم کو تسلی دینے والے انداز میں کہتا وہ اسکے کمرے کی جانب بڑھا تھا دروازے کی ناب گھمانے پہ پتہ چلا ڈور اندر سے لاکڈ نہیں کیونکہ اک ہی کلک سے وہ کھل گیا تھا کمرے میں مکمل اندھیرا تھا
وہ کبھی کسی کے کمرے میں بغیر ناک نہیں جاتا تھا اور بیا کے کمرے میں تو وہ کبھی آیا ہی نہیں تھا اپنے بے تکلفی کے انداز پہ وہ خود بھی حیران ہوا تھا ناچاہہتے ہوے بھی شاید وہ اپنے اور اسکے رشتے میں سپیس پیداکرہا تھا اندازے سے بورڈ کی جانب ہاتھ بڑھا کے لائٹس آن کی اور ساتھ ہی اسے لمحے کو
پچھتایا تھا جب یہاں آنے کا سوچا تھا اگر سوچ ہی لیا تھا تو بیا کے روم میں ایسے نہیں آنا چاہیے تھا کیونکہ سامنے موجود وجود خود سے مکمل طور پہ غافل نیند کی وادیوں میں گم شورائم کو کسی اور ہی نگری لے کے جارہا تھا ڈھیلے ڈھالے سادے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس کرلی ہیئرز اسکے صاف شفاف چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھے اوندھے منہ لیٹنے کی وجہ سے شرٹ بے ترتیب تھی اور یہی بے ترتیبی شورائم کی سانسسیں اکھاڑ رہی تھیں آگے بڑھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا جبکہ پیچھے ہٹنے کی چاہ ہی نہیں تھی آج پہلی بار “شی از مائن” کے احساس نے اسکے قدم پکڑ رکھے تھے سوتے میں بیا کی ہلکی سی سسکنے کی آواز سنائی دی اور پھر سے اک جامد خاموشی چھاگئی تھی مگر یہ سسکی شورائم کو بیدار کر گئی تھی وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا بیا ۔۔۔اس نے پکارا مگر بیا شاید دوبارہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی تھی قریب آنے پہ بیا کے چہرے پہ آننسوؤں کے مٹے مٹے نشان صاف دکھائی دیے وہ سونے سے پہلے تک روتی رہی تھی تبھی نند میں بھی سسکی لی تھی شورائم کی بے چینی حد سے بڑھ رہی تھی کل تک جس لڑکی کی حددرجہ ژچ کردینے والی حرکتوں پہ وہ نالاں تھا آج اسی کیلئے اتنا بےقرار ہورہاتھا شاید نہیں یقنناً یہ انکے درمیان نکاح کے مقدس دو بولوں کا اثر تھا تبھی وہ اسکی جانب کھینچا چلا جارہاتھا اسنے ہاتھ بڑھا کے اسکے چہرے سے گھنگریالی لٹیں ہٹائیں تھیں روئی جیسے گالوں سے جیسے ہی اسکی انگلیاں ٹچ ہوئیں گویا اک کرنٹ کی لہر اسکے پورے جسم میں دوڑی تھی وہ تو لڑکیوں کے نام سے بھی دور بھاگتا تھا پہلے کہاں صنف نازک کی اس نازکی کو اس نے محسوس کیا تھا پہلے بے ساختگی میں ہوئی حرکت کو اسنے جان بوجھ کے دوبارہ دہرایا اس بار کی فیلنگز میں کچھ آگے کی چاہت ابھری تھی اگر بیا اس وقت جاگ رہی ہوتی تو یقینناً اسکی ان حرکتوں اچھی خاصی عزت کرچکی ہوتی اس سوچ نے شرائم کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھیری تھی” پاگل لڑکی ” اس کے اک اک نقش کو بغور دیکھتے اسے اک نئے لقب سے نوازا جبکہ حرکتیں وہ خود پاگلوں والی کررہا تھا کون کہہ سکتا کہ اچھے اچھے سیاستدانوں کی چیخیں نکلوانے والا شورائم خود کیسے اک آکٹوپس کا شکار ہوکے بچوں کی طرح کھلکھلا رہا تھا نرمی سے اسکے سر کو چھوا اور اٹھ کے روم سے باہر چلا گیا وہ کسی سے بھی ملے بغیر چلا گیا تھا جس قسم کی فیلنگز کا وہ شکار ہورہا تھا ایسے میں رشنا بیگم یا کسی اور سے سامنا کرنے کی ہمت اس میں نا تھی ۔۔۔۔۔۔محبت کی پری اس پہ اپنا جال بچھا کے جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مایوں کے جوڑے میں ملبوس سوگوار حسن نے محب کے دل میں اک کھلبلی مچا رکھی تھی جبکہ دوسری جانب وہ پوری طرح سے سلمٰی بیگم دریہ اور محب سے بدگمان ہوکے کسی اور دنیا کی باسی لگ رہی تھی دوسال پہلے کے منظر اسکی آنکھوں میں گھوم رہے تھے وہی زرد رنگ وہی مہندی کا رنگ مگر اب کوئی وسوسہ خوف اسے لاحق نہ تھا وہ کھنڈر آنکھیں لیے خود کو اس تماشے کا حصہ بنائے ہوئے تھی ۔۔
یار کیا قسمت پائی ہے دو دو بار دلہا بننے کا شرف مل گیا اک ہم ہیں جسکے سر سہرے کے پھول کھلنے کے ہی نہیں دے رہے اسد نے بےچاروں والی شکل بنائی تھی شاہ نے اسکی معصومیت بھری ڈرامے بازی پہ اسکے جل لگے بال بگاڑے ۔۔۔ٹینشن نا لے یار تیری پروموشن کے ساتھ ہی تیرے لیے کوئی حسینہ ماہ جبینہ ڈھونڈتے ہیں شاہ نے بات مزاق میں اڑائی ۔۔موقع اچھا ہے تم دونوں بھی اپنے لیے کوئی حسینہ دیکھ ہی لو محب کے کہنے پہ اک حسین شبہیہ اسد کی آنکھوں میں اتری تھی جبکہ شاہ کے لب بھینچے تھے اچھا اچھا بس ابھی وطن کے لاڈلے سپوت کے لیکچر شروع ہوجانے ہیں فوجیوں کے سر پہ شہادت کے سہرے سجتے ہیں اور فلحال میرا شہید ہونے کا کوئی موڈ نہیں ہے اچھی خاصی شادی کو اسنے فوجی پریڈ میں تبدیل کر دینا ہے اسنے۔۔۔۔۔
اسد کا شاہ کی جانب اشارہ دیکھ کے وہ دونوں ہنسے تھے یار یہ افسری بھی بری چیز ہے بندہ اپنے جونئیرز سامنے بھنگڑے بھی نہیں ڈال سکتا اسد نے اک اور شکوہ کیا ۔۔یار کیا تم ہر وقت دکھی آتما بنے رہتے ہو کیپٹن محب کی شادی پہ تم اپنی یہ افسری بھول جاؤ اور ویسے بھی میں آپ سے اک سٹپ آگے کا بندہ ہوں سو لیٹس انجوائے مائے بوائے محب کہیں سے بھی اک کھڑوس آرمی آفیسر نہیں لگ ریا تھا جو عموماً پروفیشنل ہوکے وہ اپنے جونیئرز ساتھ اپناتے تھے محب اور وشمہ کو جب اک ساتھ بٹھایا گیا سلمٰی بیگم اور دریہ نے کتنے پیسے ان پہ سے وار کے کام والوں کو پکڑائے تھے دل کا ڈر انہیں چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔۔۔تم تو اپنی مرضی سے شادی کر رہی ہو پھر سوگ کس بات کا محب نے سرگوشیانہ انداز میں وشمہ کو مخاطب کیا تھا جو خوبصورت مومی مجسمہ بنے بیٹھی تھی کسی بھی قسم کے احساس سے عاری نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔۔
پہلے بھی ارسلان اور دری کیلئے قربانی دی تھی اور آج بھی ارسلان کی روح کے سکون اور دری کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا آپ قربان کررہی ہوں کیپٹن صاحب نہ تو مجھے پہلے آپ سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ آج اس رشتے سے متعلق کوئی فیلنگز ہیں حددرجہ تلخ انداز میں وہ محب سے مخاطب تھی اک تاسف بھری نگاہ اس پہ ڈالنے کے بعد وہ وہاں سے اٹھ گیا ویسے بھی تمام رسمیں ہوچکی تھیں ۔۔۔۔۔
انسان کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ ناشکرا بہت ہے لاحاصل کی خاطر اپنے حاصل کی قدر نہیں کرتا وشمہ بھی کبھی اپنے حاصل پہ مطمئن نہ تھی اسے اپنا آپ دنیا کا مظلوم ترین وجود لگتا تھا اپنی اس خودساختہ مظلومیت نے اسے خوشیاں کشید کرنا بھلا دیا تھا اگر وہ خدا کے فیصلوں پہ راضی ہوتی تو اپنے ماضی کو بھلا کے آگے بھڑھتی بہرحال دنیا کا ازل سے یہی اک قانون رہا ہے کے مرنے والوں کے ساتھ کوئی مر نہیں جاتا اور رہنے والوں نے سدا رہنا نہیں ہے جب طے ہے کہ ہر زی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے تو قدرت کے قانون سے کون ماورا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن کا سورج اک نئی امید اور کرن لے کے طلوع ہوا تھا وہ دری کے ساتھ پارلر چلی گئی تھی جہاں سے انہوں نے ڈائریکٹ میرج ہال جانا تھا دنیا کی رسمیں نبھانی تھیں یتیم بھتیجی کی بابت خدا اور لوگوں کے سامنے سرخروئی کیلئے سلمٰی بیگم ہر چیز بہتر سے بہتریں کر رہی تھیں ڈیپ ریڈ کلر کی
میکسی پہنے ڈول لک میک اپ میں وہ واقعی آسمان سے اتری حور لگ رہی تھی محب کی نظریں جب اسٹیج کی جانب بڑھتی وشمہ پہ پڑیں تو اک لمحے کو اسنے قدرت کے اس شہکار کو جی بھر کے دیکھا اور سراہا تھا اس نے آگے بڑھ کے اسے سٹیج پہ چڑھنے کیلئے اسکا ہاتھ تھاما تھا جسے شاید اس نے لوگوں کے لحاظ میں چکراتے سر کے ساتھ تھام لیا تھا محب کی نظریں مسلسل اسکا طواف کررہی تھیں آہم بھائی زراہم پہ بھی نظر کرم ہوجائے دریہ کی شرارتی آواز پہ دونوں نے اسے دیکھا تھا جو انگوری کلر کے فراک میں بہت جازب نظر لگ رہی تھی وشمہ نے اسکے پہلو میں کھڑے ارسلان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ ریا تھا “بھائی ” وشمہ کہتے ہوئے سٹیج سے کھڑی ہوئی تھی اور اسی جانب بڑھی جہاں دریہ کھڑی تھی مگر وہ اک سیکنڈ کا الیوژن مسکراتا ہوا کہیں گم ہوگیا تھا محب اور دریہ اسکے رویے کو سمجھ نہیں پا رہے تھے محب اسے تھامنے کو آگے بڑھا تھا اور وہ ہوش وحواس کی دنیا سے بیگانہ ہوگئی تھی اتنے دن کی ٹنیشن کا انجام۔سامنے تھا یا پھر وہ اپنی ضد میں کوئی انتہائی قدم اٹھا چکی تھی محب نے دلہن کا روپ سجائے اس اپسراء کو اپنے بازوں میں اٹھایا اور کسی کو کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہال سے باہر دوڑا تھا وہاں پہ موجود ہر شخص اس خاندان پہ گزرنے والے سانحات سے واقف تھا نجانے کیا تھا اس لڑکی کی قسمت میں خوشی کیوں اسے راس نہ تھی وہاں پہ موجود لوگوں میں خوف کیسی کیفیت پیدا ہوئی تھی سب رشتہ دار دریہ اور سلمٰی بیگم کے گرد جمع تھے چند اک کی زبان سے وشمہ کیلئے برے الفاظ بھی نکلے تھے کہ لڑکی ہی منحوس ہے جسکی پہلی بارات پہ باپ اور بھائی دنیا سے گئے اور اب پتا نہیں کیا ہونے لگا تھا ۔
Episode 17
وہ اک لڑکی هے من بهاون
وہ رم جھم بادل ساون..
موتیوں کی لڑیوں جیسی هے
ساون کی جهڑیوں جیسی هے
وہ قصے سنتی پریوں کے
وہ خود بهی پریوں جیسی هے
پہلی بار شورائم کی سوچوں کا مرکز بیا کی ذات تھی آنکھوں کے سامنے لاپرواہ حسن اپنی آب وتاب سے چمکتا نظر آتا تھا اپنی اس کیفیت سے وہ خود ہی پریشان ہو اٹھا ابھی اسے بہت نام بنانا تھا کہیں یہ لڑکی اسکی راہ کا کانٹا نہ بن جائے بے چینی سے ٹہلتے وہ مسلسل اسے ہی سوچے جارہا تھا اچانک اک خیال آنے پہ اس نے بیا کا نمبر ملایا تھا دوسری جانب بیل جارہی تھی لیکن کال نہیں اٹھائی گئی اسے اس لڑکی کی حددرجہ لاپروائی پہ غصہ آرہا تھا اس جیسا انسان کبھی اٹنشین سیکر نہیں بنا تھا مگر اب ناجانے کیوں دل ضد کربیٹھا تھا کہ وہ اسے نوٹس میں لائے دوبارہ کال پہ بھی نمبر سے کوئی رسپونس نہ ملنے پہ اسکا ہمیشہ والا غصہ عود آیا تھا مٹھیاں بھینچے اک غیرمرئی نقطے پہ نگاہ جمائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
بیا کے واشروم سے نکلنے تک سیل بج بج کے چپ ہوگیا تھا یونیورسٹی میں باقاعدہ کلاسسز کا آغاز ہوچکا تھا مگر اس نے اک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی یونیورسٹی قدم نہیں رکھا تھا ابتدآئی دنوں کی ریگنگ اک معمول کا حصہ تھی مگر وہ اک خوف کے زیر سائیہ تھی جو اسے اب تک لپیٹ میں رکھے ہوئے تھے اس دن مما نے اسے چھوٹے ہٹلر کی آمد کا بتایا تو وہ حیران تھی اسکا شورائم سے سامنا نہیں ہوا تھا اور سب نے یہی اندازہ لگا لیا کے وہ بیا کو بنا دیکھے ہی واپس چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آنی بی کے ہاتھ میں فلاورز کا بوکے دیکھ کے اس کے دماغ میں کچھ دن پہلے والا واقع گھوما تھا کیپٹن شاہ اک مختصر تعارف او ساتھ ہی جلی حروف کے ساتھ اک پیغام درج تھا
“I’am not so good with names
Do you mind if I call u
Idiot???”
بیا حیران تھی کہ یہ کیسا پیغام تھا نہ ووکے بھیجنے کی وجہ درج تھی نہ کچھ اور کئی بار اس نے ان چند الفاظ کو پڑھا تھا جن کو بے معنی تحریر سمجھ رہی تھی وہ ان الفاظ میں دبے غصے سے انجان تھی ۔۔۔۔
موبائل رنگ کی آواز پہ اسنے موبائل کو گھورا تھا پھر سے وہی ان ناؤن نمبر سے کال تھی جہاں سے پہلے مسڈ کال آچکی تھیں اسنے بنا آواز کے یس بٹن دبایا ۔۔کہاں تھی اب تک کتنی کالز کرچکا ہوں میں شورائم کی غصے سے بھرپور آواز پہ وہ دنگ رہ گئی ۔۔وہ ۔۔آپ میں روم میں نہیں تھی اسکی کنفیوزڈ آواز پہ شورائم کو اپنے لہجے پہ قابو پانا پڑا تھا جبکہ وہ اسکے کال کرنے پہ حیران تھی کیونکہ اسنے کبھی بیا کو کال نہیں کی تھی ۔۔۔یونی کیوں نہیں جارہی تم شورائم کی جانب سے سوال پہ وہ حیران ہوئی انکو کسنے بتایا پھر مما بابا کا خیال آتے ہی اسکا موڈ مزید خراب ہوا تھا جب سے وہ انکا داماد بنا تھا وہ تو آل ٹائم اسکے سامنے بچھے جاتے تھے ۔۔۔میری مرضی بیا کا ازلی ڈھیٹ لہجہ واپس آیا تھا. ۔۔اوہ رائٹ تو اب مس بیا احمد اپنی مرضی کریں گی صبح سے تم واپس جوائن کررہی ہو اک حکم صادر ہوا تھا اور مزید کچھ کہے بنا شورائم نے کال بند کردی تھی۔۔۔۔۔کھڑوس،ہٹلر ،لچا،لفنگا،جاہل انسان نہ ہو تو یقیناً میں مما بابا کی اپنی اولاد نہیں تبھی انہوں نے اسے میرے سر سوار کیا ہے بدتمیزی سے سوچتے ہوے اسکے حلق میں آنسوؤں کی نمی گھلی تھی پھر سامنے پڑے عجیب وغریب کارڈ نے اسے مزید غصہ دلایا مطلب جسکا دل کرے اسے اجازت ہے وہ ابہیا احمد کو تنگ کرنا شروع کردے اسنے کارڈ کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ڈسٹ بن میں پھینک دیا ۔۔۔اگر بیا کی جگہ کوئی بھی اور لڑکی ہوتی تو شاہ کے رتبے سے ہی مرعوب ہوجاتی مگر وہ ابہیااحمد تھی جسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔۔پر کب تک وہ ان انجان کارڈز سے غافل رہ سکتی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تھکن نہیں ہے کٹھن راستوں پہ چلنے کی
بچھڑنے والوں کے دکھ نے بہت نڈھال کیا
وشمہ کی طبیعت اب بہتر تھی اسد اور شاہ بھی اسکے ہمراہ ہاسپٹل میں موجود تھے ڈاکٹرز نے جب انکی موجودگی میں بتایا کہ اس نے بڑی تعداد میں سلیپنگ پلز کھائی تھیں تب سے محب انکے سامنے نظر نہیں اٹھا پارہا تھا کتنا خوش تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہونے جارہا ہے مگر اس لڑکی کی خودغرضی نے اک بار وقت کو کھینچ کے دوبارہ دوسال پیچھے کھڑا کردیا تھا دریہ اور سلمٰی بیگم مہمانوں کورخصت کرکے اسکے پاس آئی تھیں انہیں بھی وشمہ کی یہ حرکت بہت دکھ دے رہی تھی کوئی اتنا ظالم کیسے ہوسکتا کے اپنی جان کا دشمن خود ہوجائے محب تو اپنی زات کی نفی پہ بری طرح ٹوٹا وہ سمجھتا تھا کہ وقت اسکا مرہم بن جائے گا مگر وقت بھی انہی کا مرہم بنتا ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہونا چاہتے ہیں وشمہ تو خود ترسی کے عالم سے کبھی باہر ہی نا آسکی تھی باری باری سب نے اسکی عیادت کی تھی سوائے محب کے اسد اور شاہ نے بھی اسکے لہجے کی سرد مہری دیکھی تھی مگر انکے پاس بھی کوئی الفاظ نہ تھا کچھ دیر ٹہر کے وہ لوگ چلے گئے اب صرف گھر کے لوگ باقی تھے سلمٰی بیگم اور دریہ نے اسے کچھ نہیں کہا تھا سب لوگ اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
وشمہ کا اقدام ہر طرح سے ناقابل قبول تھا اک مرد اپنی عورت کی بے اعتنائی تب تک سہتا ہے جبتک وہ کھلم کھلا اسکی زات کی منافی نہ کرے اور وشمہ کئی بار محب کو اس نفرت کی وادی میں دکھیلتی رہی تھی اور وہ ہمیشہ اک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھا تھا مگر اس بار وہ خود بھی ٹوٹ گیا تھا اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے اس زبردستی کے بندھن سے آزاد کردے گا وہ اسکلیئے مزید کسی تکلیف کا باعث نہیں بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شورائم نے اسے گھر سے پک کیا تھا ہمیشہ والا سادہ حلیہ اپنائے ہوے بھی آج وہ اسکے دل کے تار چھیڑ رہی تھی دل کی حالت کیا بدلی اسکی نگاہیں بیا سے ہٹ نہیں پاتی تھیں اسکی دیوانگی آگے جاکے اسکیلئے اک کڑا امتحان ثابت ہونے والی تھی وہ اپنے اردگرد بنتے جال سے انجان اک نئی دنیا میں قدم رکھ چکا تھا ۔۔۔
اتنے دن کی غیر حاضری کی وجہ اب تمیں بچپنا چھوڑ کے سٹڈی کو سریس لینا ہوگا ۔۔گاڑی یونیورسٹی کے راستے پہ ڈالتے ہوئے شورائم نے اسے مخاطب کیا تھا جبکہ وہ پھر سے اک انجانے خوف میں مبتلا ہورہی تھی ۔۔۔جی ۔۔
اک مختصر جواب دیا گیا گویا شورائم کی زات پہ احسان کیا گیا تھا اور نظریں باہر کے منظر پہ جمائی گئیں ۔۔۔۔۔
شورائم اسکا بے نیاز انداز دیکھ کے اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا فیلنگز اسکی بدلی تھیں جبکہ دوسری جانب تو دور دور تک کوئی آثار نہ تھے یونیورسٹی گیٹ پہ چھوڑنے کے بعد وہ آج واپس نہیں گیا تھا بلکہ بیا کے ساتھ ہی ڈپارٹمنٹ آیا تھا بیا کے استفسار پہ اسنے اسے یہ کہ کے چپ کروادیا کہ وہ ڈپارٹ کے ہیڈ سے ملیں گے تاکہ اسکی اتنے دن کی غیر حاضری پہ کوئی ایشو نا بنے واقعی اس بارے تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا اسکے ہمراہ ہی آفس گیا اسے تعارف پہ خصوصی پروٹوکول مل رہا تھا ویسے بھی وہ عوام میں اچھی خاصی مقبولیت حاصل کرچکا تھا جبکہ یہ چیز اسے کوفت میں مبتلا کر رہی تھی مسسز شورائم ایچ۔او۔ڈی کا طرز تخاطب بیا کو آگ لگانے کو کافی تھا پر شاید آج اپنے صبر پہ وہ خود ہی حیران تھی آپکو یہاں کسی قسم کی کوئی ٹینشن ہو آپ ڈائریکٹ مجھ سے رابطہ کر سکتی ہیں شورائم کے سامنے بار با مسسز شورائم کی رٹ اسے بہت زچ کر رہی تھی ۔۔۔۔
کیا ضرورت تھی اس حوالے کی باہر نکلتے ساتھ وہ اپنی جون میں آئی تھی کیوں تمہیں کوئی مسئلہ ہے اس حوالے سے ۔۔۔ہاں میرے لیے یہ حوالہ باعث شرمندگی ہے شورائم احمد سو پلیز مجھے یہاں اک سٹوڈنٹ کی حثیت سے سروائیوو کرنے دو تم ۔۔
انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتی وہ اسکے آگے سے گزرتی اپنی کلاس کی جانب بڑھ گئی تھی جبکہ وہ اسکی حرکت پہ آگ بگولہ ہوتا اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا تمہیں اسکا حساب دینا ہوگا مسسز ۔۔۔اک تلخ مسکراہٹ سے اس نے سوچا پارکنگ سے گاڑی نکالنے تک وہ کسی کی نگاہ کا مرکز رہا تھا اس لڑکی کا کیا تعلق شورائم احمد سے دیکھنے والے کی نگاہ سوالیہ انداز میں سکڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وشمہ دو دن سے اپنے کمرے کی ہو کے رہ گئی تھی اپنے جزباتی اقدام پہ وہ بھی شرمندہ تھی مگر اپنی کمزوری کسی کے ہاتھ نہیں دینا چاہتی تھی گھر میں دریہ کی شادی کادور شروع ہوچکا مہندی والے دن ہی نکاح کی رسم بھی انجام دی گئی تھی وشمہ کی غیر موجودگی کا سب نے نوٹس لیا تھا مگر اسکی طبیعت نہیں ٹھیک یہ کہہ کے سلمٰی بیگم نے سبکو تسلی دیے رکھی کچھ مہمان چلے گئے جبکہ کچھ باقی تھے جو دور سے آئے تھے اور شادی اٹینڈ کر کے ہی جانے تھے وشمہ کو نہیں معلوم تھا کہ گھر میں کون کیسے رہ رہا ہے وہ تازہ ہوا لینے کچھ دیر ٹیرس پہ گئی واپس آنے پہ معلوم پڑا کہ اسکا کمرہ بہت سی کزنز کی آمجگاہ بن چکا ہے وہ موقعے کی نزاکت دیکھ کے چپ ہوگئی اور سلمٰی بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی جو پہلے ہی آنٹیوں سے بھرا ہوا تھا وہ بوکھلائی گھر کا کونا کونا گھوم رہی تھی ہر جگہ ہی کوئی نہ کؤیی موجود تھا سلمٰی بیگم نے اسے دیکھا تو محب کے روم میں ریسٹ کرنے کو بولا کیونکہ اک تو ویسے ہی رشتہداروں کو انکے الگ رہنے کا پتا نہیں تھا دوسرا وہ مردوں کے ساتھ کالونی میں عارضی رہائش پہ لیے گئے گھر میں تھا اور تقریباً امکان تھا کہ اس نے وہی ٹہرنا ہے اسلیئے وہ بھی اسکے روم میں آگئ تھی روم سٹنگ اور دیواروں پہ مرجھائے پھول اسد کی محنت بے کار جانے پہ ابھی بھی اداس نظر آرہے تھے شاید وہ بھی اس روم میں اتنا نہیں آتا تھا ورنہ یہ بھی نظر نہ آتے ہر اک چیزی کی اداسی اپنے دل پہ محسوس کرتے ہوئے وہ بھی بیڈ پہ لیٹ گئ تھی اور ناچاہتے ہوئے بھی مح کوسوچے جارہی تھی اس شش وپنج میں وہ نیند کی وادی میں گم ہوگئی رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب اک عجیب سے احساس سے اسکی آنکھ کھلی اپنے قریب کسی دوسرے وجود کی سانس لینے کی آہٹ نے اسے آنکھیں کھولنے پہ مجبور کیا تھا وہ اک جھٹکے سے بستر سے اٹھی تھی اک ہلکی سے چیخ اسکے گلے سے برآمد ہوئی تھی محب بھی بیڈ پہ ہونے والی حرکت اور چیخ پہ بیدار ہوا تھا کچھ دیر وہ خود نہیں سمجھ پایا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے سائیڈ لیمپ کو آن کرتے ہی سامنے کھڑے سایے نے حرکت کی تھی محب حیران نظروں سے اپنے کمرے میں اسکی موجودگی دیکھ رہا تھا بستر سے اٹھ کے اس نے روم لائٹ آن کی اب ہر منظر واضع تھا ہرنی جیسی آنکھوں میں ہلکا سا خوف لیے وہ اسے دیکھ رہی تھی تم یہاں کیا کررہی ہو محب نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا تھا ۔۔ووہہ وہ پھوپو نے وشمہ کی آواز نے اسکا ساتھ چھوڑا۔۔او۔او اٹس مین رئیلی تم مما کے فورس کرنے پہ سب کو دکھانے کیلئے اس روم میں موجود ہو واؤ تم سے بڑا ایکٹر تو واقعی کوئی نہیں ہے مسسز وشمہ محب رضا اک اک لفظ کو محب نے چبا چبا کے ادا کیا تھا جبکہ وشمہ پہ تو گھڑوں پانی پھرا تھا وہ کیا سمجھ رہا کہ کسلیئے وہ اسکے روم میں موجود تھی ۔۔ ۔دیکھو تم غلط سمجھ رہے ہو اس نے کمزور لہجے میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہا تھا مگر محب نے اسے بات مکمل کرنےہی نہ دی تھی بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے روم س باہر نکال دیا تھا ۔۔تم یہ روم یہ بستر ڈیزرو نہیں کرتی محترمہ اور نہ ہی مجھے اک سلگتا ہوا تازیانہ پڑا تھا وشمہ کے اسنے شکوہ کناں نظریں اٹھائیں اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی تھی دروازے کو زور سے بند کرنے کے بعد وہ اپنا سر ہاتھوں میں پکڑے بستر پہ لیٹ گیا ۔۔کیا میں نے وش کے ساتھ غلط کیا ہے ضمیر نے تھوڑا ملامت کیا تھا.۔۔مگر وہ جو ہم سب کے جزباتوں سے کھیلتی آئی ہے اسکا کیا محب بری طرح سے الجھ گیا تھا دور کہی سے مؤذن نے اللہ اکبر کی سدا لگائی تو وہ اپنے سبھی فیصلے خدا کے سپرد کرتا ہوا وضو کیلئے کھڑا ہوگیا اب نیند تو اسے نہیں آنی تھی جو دشمن جان اپنے ساتھ لے جاچکی تھی۔۔۔۔۔
بن جاؤں اگر ”تم سا“ تمہیں کیسا لگے گا؟
ہر پل میں “رہوں تم سے خفا“ کیسا لگے گا؟
پڑھتے ہو مجھے تم جو نمازوں کی طرح سے
ہو جاؤں اگر ”تم سے قضا “ کیسا لگے گا؟
تم پیار میں حد کو بھی مٹانے پر ہو راضی
بن جائے اگر ”پیار سزا“ کیسا لگے گا؟
خود سے بھی زیادہ ہو یقیں تمکو کسی پر
وہ شخص ہی ”دے جائے دغا“ کیسا لگے گا؟
تم اوروں کی محفل کا دیا بن کہ جلو پر
تنہائی ملے ”تمکو صلہ“ کیسا لگے گا؟
وشمہ نے ٹیرس کا رخ کیا رونے کے بعد اسکا دل اور زیادہ بوجھل ہو رہا تھا مؤذن کی آوز پہ اسے یاد آیا کہ کتنے عرصے سے وہ تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوئی تھی تو کیا وہ تقدیر کے ساتھ ساتھ اپنے رب سے بھی روٹھ بیٹھی تھی خود کو گھسیٹتے ہوئے وہ نیچے آئی تھی بڑی اور بزرگ خواتین تقریباً جاگ چکی تھیں اور وہ بھی اپنے کمرے میں آگئ جہاں ینگ پارٹی سونے میں مصروف تھی وضو کرنے کے بعد اپنے رب کے سجود ہوئی تو پھر سے آنسوؤں نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا تھا ماضی کا اک اک منظر اسکی آنکھوں کے گرد گھوم رہا تھا وہ تقدیر سے کیوں لڑ رہی تھی جو عرش پہ ازل سے لکھا تھا کون مٹا سکتا تھا اسے صابرین میں سے ہونا چاہہئے تھا اس کے بھائی نے تو وہ عظیم شہادت پائی تھی جسکی دعا امت کے سردار نے اپنے لیے مانگ تھی کچھ تو تھا اس شہادت کا ثمر جس سے ہم دنیا والے انجان ہیں ۔۔ارسلان جب کرنل جلال کاظمی سے کہتا تھا بابا آپکو کیسے لگے گا کہ آپکا بیٹا شہید کہلائے تو جلال کاظمی نے کبھی اسے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ جوان بیٹی کی جدائی نہیں سہہ سکیں گے بلکہ ہمیشہ یہی کہا تھا تمھارا باپ غازی ہے جو موت اسے میسر نہیں ہوسکی واللّٰہ اگر انکے بیٹے کی وردی پہ یہ اعزاز سجتا ہے تو وہ اور زیادہ سینہ چوڑا کر کے چلیں گے اور وہ اتنے بہادر آدمی کی بیٹی اک عظیم بھائی کی بہن ہوکے بھی اتنی بزدل تھی اپنی بےبسی پہ حد سے زیادہ رونے کے بعد وہ اپنے گناہوں کے کفارے کیلئے تیار تھی زندگی کی طرف واپس لوٹنے کیلئے پہلا قدم بڑھا چکی تھی ۔۔۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسنے کچن کا رخ کیا تھا خانساماں کے سا تھ مل کے میمانوں کا ناشتہ تیار کیا سلمٰی بیگم کیلئے اسکا یہ رویہ ناقابل۔۔۔۔۔
یقین تھا مگر انہیں اس وقت کا انتظار بھی تھا دریہ۔کیلئے ناشتہ روم میں لے گئی سو بی بنو آج آپکا یہاں آخری دن ہے کیسا محسوس کررہی ہیں آپ ڈریسنگ ٹیبل سے ہیئر برش کو اٹھا کے وہ مائیک کی صورت پکڑے کھڑی تھی دریہ اسکے انداز پہ غش کھانے لگی تھی ۔۔مانا کہ ہم بہت خوبصورت ہیں مگر آج آپکو اسپیشل لگنا ہے حمزہ بھائی کےدل پہ بجلیاں گرانے کو جلدی جلدی ناشتہ کرو اور پھر پارلر کیلئے بھی نکلنا ہے وہ اتنا زیادہ بولنا تو کب کا چھوڑ چکی تھی اور پھوپو نے کہا ہے کہ تمھارا ضروری سامان پیک کردوں کیونکہ پھر مجھے بھی تمہارے ساتھ نکلنا ہے اور۔ دریہ اسکے بولنے کے انداز پہ حیران ہوتی اسکے سامنے کھڑی ہوئی تھی وش۔۔۔۔ دریہ کے بازو پکڑنے پہ اسکی چلتی زبان کو سٹاپ لگا تھا کیا ہوا اس نے دریہ کو سب نارمل ہے کا پوز کرتے ہوئے پوچھا کیا چھپانا چاہ رہی ہو اسنے اک شرمندہ سی نگاہ دریہ پہ ڈالی وہ ان سب کو اتنا بے اعتبار کرچکی تھی اسلیئے سب ٹھیک ہونے میں وقت درکار تھا شاید ۔۔کچھ بھی نہیں دریہ مجھے معاف کردو مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا آئی سوئیر میں اب کبھی قسمت سے شکوہ کناں نہیں ہونگی میں نے اپنے باپ بھائی کے معاملے میں صبر کرلیا ہے اور زندگی کے ساتھ بھی کمپرومائز کیلئے تیار ہوں۔۔۔۔۔اندر داخل ہوتے محب کے کانوں میں اسکے چند آخری فقرے پڑے تھے جو اک بار پھر اسکی ہستی کو مجروح کررہے تھے وہ وشمہ کی جانب سے اک بڑی غلط فہمی کا شکار ہوچکا تھا بنا کسی سے کچھ پوچھے خود سے نکالے گئے مطلب اکثر بہت بڑی غلط فہمی پیدا کرجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بیا نے خود کو یونیودسٹی روٹین میں ایڈجسٹ کرلیا تھا وہیں اسکی دوستی نہیا سے ہوئی جو باہر سے پڑھنے کی غرض سے پاکستان اپنے ماموں کے گھر رہ رہی تھی جبکہ اسکی پوری فیملی باہر سیٹلڈ تھی بیا کو اسکی کمپنی بہت اچھی لگنے لگی تھی بے تحاشا حسن کی مالک نہیا خان میں اک عجیب سی کشش تھی جو بیا کو اسکا گرویدہ بنائے ہوئے تھی اک پرائیوٹ وین کے زریعے بیا کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی گئی تھی اور نہیا نے بھی اسی کے ساتھ وین ہائر کی تھی بیا آہستہ آہستہ اسکے رنگ اپنا رہی تھی اسکی ڈریسنگ سے لے کر شوز تک نہیا کی پسند شامل ہوتی تھی مما اسکے بدلے رنگ نوٹ کررہی تھیں لیکن ماحول کا اثر اور سوسائیٹی کے ڈیمانڈ شاید یہی تھی شورائم بھی اپنے الیکشن کے آخری مراحل میں اس سے بلکل بے نیاز ہوچکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
گھر واپسی پہ بیا کیلئے اک سرپرائز منتظر تھا آج اسکی برتھڈے تھی اور تایا ابو فیملی سمیت گھر پہ موجود تھے اتنے دن بعد روٹین سے ہٹ کے کچھ ہوا تھا جو اسے بہت خوشی دے رہا تھا لاسٹ مومنٹ پہ شورائم کی آمد ہوئی تھی جیسے وہ فارمیلٹی پوری کرنے آیا تھا اور جلد ہی اپنی مصروفیت کا کہہ کے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔شورائم بچہ کچھ پریشان دکھائی دے رہا ہے بھائی صاحب بیا کے والد نے بڑے بھائی سے اسکی بابت پوچھا تھا الیکشن سر پہ ہے تو شاید اسی وجہ سے دادا ابو بھی انکی بات پہ متفق تھے اک خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کے بعد وہ سب اپنے رومز میں چلے گئے بیا نے نہیا کو کال۔ملائی اور اپنی سرپرائزڈ برتھڈے کے بارے اسے بتایا اور گفٹس اوپن کرنے لگی سب نے کچھ نا کچھ دیا تھا سوائے اس ہٹلر کھڑوس نے ۔۔۔کون کس کی بات کررہی ہوتم نہیا نے حیرانگی سے اس سے پوچھا ارے وہیں جو بابا کا بھتیجا ہے چھوٹا ہٹلر اسکے ساتھ وہ خود بھی ہنس پڑی تھی تو تمہیں اتنی ٹینشن کیوں ہورہی ہے بیا کیا تم اسکی جانب سے کدی گفٹ کی منتظر تھی نہیا کے سوال پہ وہ ہڑبڑا گئی تھی نہ نہیں میں کیوں انتظار کرونگی ظاہری بات ہے جب سب ساتھ آیا تھا تو اسکو بھی دینا چاہیئے تھا بیا نے اپنا لہجہ سر سری بنایا تھا۔۔۔۔آہممم مجھے لگتا بیا احمد معاملہ کچھ اور ہے نہیا نے کھلکھلاتے ہوے اسے چھیڑا تھا مزید ادھر کی جند اک باتیں کرکے انہوں نے کال بند کردی تھی تایا ابو نے اسے لیٹسٹ موبائل فون گفٹ کیا تھا اک بار پھر بچوں کی طرح اپنے گفٹس پہ خوش ہوتے وہ سونے کی تیاری کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیا کو لگا اسے کوئی آوازیں دے رہا ہے مگر وہ گہری نیند میں تھی اسلیئے ذہن ابھی صیح طرح بیدار نہیں ہو رہا تھا اپنے گھنگریالے بالوں پہ کسی کی سخت گرفت محسوس کرکے اس نے خوف سے آنکھیں کھولی تھیں زیرو بلب کی روشنی میں اپنے اوپر جھکے وجود دیکھ کے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی تھی کو کون ہو تم۔۔ڈر سے بیا کی آواز لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔۔ کالی گھور آنکھیں بیا پہ ٹکیں تھیں یہ آنکھیں انکا وہی سخت اجنبی پن وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی مگر کہاں ۔۔۔۔۔اسکے وجود پہ گرفت مضبوط ہوئی تو درد کے مارے اسکی چیخ نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔..اور اک پل میں ہی وہ اسکے روم کی کھلی کھڑکی سے جمپ کر کے باہر تھا بیا نے بھاگ کے روم کی لائٹ آن کی تھی کیا ہوا تھا کچھ لمحے پہلے وہ سمجھنے سے قاصر تھی اسکی نگاہ اپنے بیڈ کی سائیڈ لیمپ پہ پڑی جہاں پہ وہی ہمیش للی فلاورز والا فرش ووکے رکھا تھا اور ساتھ اک چٹ پھڑ پھڑا رہی تھی بیا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو کی جھری سی بندھ گئی تھی اس نے آگے بڑھ کے وہ چٹ اتاری وہیں مخصوص رائیٹنگ مگر آج کا پیغام تھوڑا مختلف تھا۔۔۔
I am the warrior who alighted off his horse, to smell the flowers on the road ,
in quite glee amidst a desert isle.
I am the survivor who kisses the earth where the dead ‘s bones moss and grass find the home.
I am the angry seagull who unleashes the rage of volcanoes up in the sky ,rage that settled in the hearts of wounded children but couldn’t escape.
I am darkness longing to get swallowed by the light of a full moon .
I am the cold breath of lifeless tree whos body offers to a sublime journey.
I am a blood that smears a gown of silk.
I am mud that ruins an immaculate glade.
I am flawed but free .I am imperfect but alive.I am warm and beating .I am love.
شاہ نے اپنے تعارف کیلئے انوکھا انداز اپنایا تھا اور بیا اس تعارف پہ سہم گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے یاد آرہا تھا کہ کچھ دن پہلے بیا کیلئے اک نام رکھا گیا تھا
Idiot۔”
