Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 15)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 15)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
کیپٹن محب کو دریہ کی کال آئی اور جو بات اس نے کی وہ ناقابل یقین تھی کیونکہ وشمہ کی ضدی طبیعت سے وہ بچپن سے واقف تھا وہ اتنی جلدی سرینڈر کرنے والوں میں سے نہ تھی بہرحال ابھی وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا سلمٰی بیگم اسے دریہ کے حوالے سے آنے والے رشتوں سے بھی آگاہ کرچکی تھیں اگرچہ میجر ارسلان اسکا بھی فیورٹ اور آئیڈل پرسن رہا تھا اور اسکی جوان مرگ شہادت کا اسے بہت دکھ تھا لیکن بحثیت اک سپاہی وہ سب سے زیادہ مشیت الہٰی پہ راضی ہونے والوں میں سے تھا اسکی بہن بن بیاہی بیوگی کی چادر اوڑھے کب تک اکیلے رہتی اگر اسکا انجام بھی میجر ارسلان جیسا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے محب نے اپنی سوچ کے دروازے بند کیے سیل کی رنگ ٹون پہ وہ متوجہ ہوا تھا شاہ کی کال تھی اور اسنے کانفرس پہ اسد کو بھی لے رکھا تھا محب کیپٹن اسد اور میں ٹارگٹ ایچیو کرنے کے نزدیک ہیں اور اب نیکسٹ موومنٹ تمہاری جانب سے ہوگی شاہ نے اسے مزید اپنے مشن سے آگاہ کیا تھا اور ساتھ کچھ ہدایات دے کے سلسلہ منطقہ کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔محب نے کچھ دیر تمام صورتحال کو سمجھا کے اسے کس طرح انکے ساتھ رہنا ہے اسکے بعد وہ گھر جانے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔گیٹ پہ ہونے والی رنگ نے وشمہ کو گہری نیند سے جگا دیا تھا سمجھو آنے والے نے اسکی نیند میں خلل ڈال کے اپنے سر مصیبت مول لی تھی
لوگوں کو اتنی دوپہر میں بھی اپنے گھر سکون نہیں کم ازکم دوسروں کے سکون کا خیال رکھ لیں وہ بلند آواز بولتے دروازے کی جانب بڑھی تھی کون ہے وشمہ کی آواز پہ محب کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی تھی جو بھی تھا یہ لڑکی ہمیشہ اسکے حواسوں پہ سوار رہی تھی وشمہ کی اک بار پھر سے چنگھاڑتی آواز اسکے کانوں تک آئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے اسے کسنے زبردستی گیٹ پہ بھیجا تھا اب اگر آہی گئی تھی تو تھوڑا لحاظ رکھ لیتی محب کے علاوہ بھی کوئی ہوسکتا تھا او گونگے فقیر معاف کرو جمعرات کو آنا ویسے بھی ابھی گھر پہ کوئی نہیں یہ کہتے وہ واپس مڑ گئ محب نے حیرانگی سے گیٹ کو گھورا اک بار پھر بیل گونجی وشمہ الٹے پاؤں واپس آئی تھی اور کھٹاک سے دروازہ کھول کے اپنی زبان کے جوہر دکھانے چاہے مگر محب پہ نگاہ پڑتے ہی چپ ہوگئ
وہ۔گھر پہ کوئی نہیں ہے محب کو اپنی جانب بغور گھورتے دیکھ کے وہ جلدی سے بولی ایک ہلکی سی مسکراہٹ محب کے عنابی ہونٹوں پہ بیدار ہوئی اسنے سر سے پاؤں تک سامنے کھڑی لڑکی کو گھورا جیسے کہہ رہا ہو اگر واقعی گھر پہ کوئی نہیں تو سامنے کوئی بھوت کھڑا ہے کیا ۔۔۔۔وشمہ اسکی آنکھوں کا مفہوم سمجھتے ہوے تھوڑا کنفیوز ہوئی لیکن پھر سے اپنے ازلی اعتماد کو بحال کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ پھوپو اور دریہ گھر نہیں بازار گئی ہوئی ہیں وشمہ نے بیزار لہجے میں کہا آہاں گڈ اگر وہ نہیں تو انکی بہو تو ہیں گھر پہ محب نے آگے بڑھتے ہوے اسے کندھے سے پکڑ کے گیٹ سے ہٹایا اور گھر کے اندر داخل ہوا وشمہ کو کچھ دیر لگی تھی سمجھنے میں وہ گیٹ کو زور سے بند کرتی ہوئی تیز قدموں سے اسکی جانب بڑھی آپ جانتے ہیں کسی کے گھر زبردستی گھسنے کا انجام کیا ہے چیلنجیگ انداز میں کہتی دونوں ہاتھوں کو سینے پہ باندھے وہ اسکا راستہ روکے کھڑی ہوگئی تھی
اوہ رئیلی مسسز وشمہ محب کسی کے گھر گھس آیا ہوں میں محب نے اپنی جانب انگلی کا اشارہ کیا وشمہ اسکی آنکھوں میں چھائے سرمستی کے عالم پہ حیران تھی وہ کہیں سے بھی وہ دبو سا محب رضا نہیں لگ رہا تھا جو وشمہ کی جی حضوری میں اتنے سال اس گھر سے دور رہا تھا آخر کس لیے وہ اتنا کنفیڈنٹ ہو رہا تھا۔
۔دریہ یقیناً دریہ نے اسے رخصتی والی بات بتا دی ہوگی یہ کیا سمجھ رہا کہ میں ہار گئ نہیں میں ابھی اسے بتا دونگی کے کہ اس سب کے پیچھے وجہ کیا ہے دیکھو کیپٹن محب رضا اس نے انگلی اٹھا کے اسے وارن کر نا چاہا
۔جی دیکھ ہی تو رہا ہوں محب نے شرارتی انداز اپنایا تھا وشمہ اسکے نئے انداز پہ زچ ہورہی تھی اسے اس ٹائم محب کو کچھ بھی کہنا بے معنی لگ رہا تھا وہ تن فن کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی محب کے چہرے پہ اک شرارتی مسکان نے احاطہ کیا جو بھی تھا اس لڑکی میں اسکی جان بستی تھی ابتک اسنے اپنے ساتھ ساتھ اس پہ بھی بہت ظلم کیا تھا اب بس اب میں اسے منا لونگا اسے اپنے رشتے کا احساس دونگا اپنے خیالوں کو اسکی سوچ سے معطر کرتا وہ بھی گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
وشمہ اسے کہیں نظر نہیں آرہی تھی وہ گیسٹ روم کی جانب بڑھ گیا کیونکہ وہ کبھی انکے ساتھ نہیں رہا تھا اسلیئے اسکا کوئی مخصوص کمرہ نہ تھا فریش ہونے کے بعد اسنے شاہ اور اپنی ٹیم کو پنڈی میں اپنی موجودگی کا بتایا باقی کا مختصر لائحہ عمل انہیں بتا کے اٹھ کھڑا ہوا ارادہ اپنے لیے چائے بنانے کا تھا کچن میں کھٹرپٹڑ کی آوازوں نے اسے اچھے سے سمجھا دیا تھا کے اندر کون ہے وہ یقیناً اسکا غصہ چیزوں پہ اتار رہی تھی اسنے واپس جانا مناسب سوچا مگر وہی دل کی سرکشی نے اسے دوبارہ اسی کی جانب لاکھڑا کیا تھا اتنے دن بعد محبوب کا دیدار نصیب ہوا تھا تو دل نے اپنی الگ ہی تال لے رکھی ہوئی تھی ۔۔
چائے مل سکتی ہے محب کی آواز کو وشمہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا اور اپنے کام میں مشغول رہی تھی کافی پھینٹنے میں تیزی آگئی تھی محب جواب کا منتظر تھا جو یقیناً نہیں ملنے والا تھا وہ خاموشی سے کھڑا بغور اسکی اک اک حرکت دیکھنے لگا تھا کافی تیار کر کے وہ اپنا مگ اٹھانے کی نیت سے آگے بڑھی کہ اسکے ہاتھ سے پہلے محب کا ہاتھ مگ پکڑ چکا تھا ۔۔۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ وشمہ نے غصے سے اسے گھورا تھا بدتمیزی یہ نہیں وہ ہے جو آپ کر رہی ہیں اپنے شوہر کے حقوق نظرانداز کرکے محب نے نارمل انداز اپنائے اس پہ طنز کیا تھا اور ساتھ ہی کافی کا پہلا گھونٹ بھرا اور اک توصیفی نگاہ اس پہ ڈالی ویسے کافی بہت مزے کی بنائی ہے تم نے اس نے وشمہ کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا او ہیلو کونسا شوہر کونسے حقوق آپ شاید اپنے بارے میری رائے بھول چکے ہیں اسنے اک طنزیہ مسکراہٹ محب کی جانب اچھالی
وہی شوہر جس سے ہفتہ بعد آپکی رخصتی طے پائی ہے وہی شوہر جو اسوقت آپکے ساتھ اکیلے گھر میں موجود ہے اور حقوق فرائض کی بات کہتی ہیں تو بندہ ناچیز حاضر ہے آپکو تفصیلاً سب سمجھا سکتا ہوں محب نے پراسرار انداز اپنایا جو وشمہ کے رونگٹے کھڑے کر رہا تھا دیکھو تم اپنی لمٹس سے بڑھ رہے ہو اب وشمہ نے پغر س شہادت کی انگلی اٹھا کے حتمی انداز اپنائے جیسے اسے وارن کرنا چاہا محب نے اسکی انگلی پکڑ کے ہلکے سے اپنے ہونٹوں سے چھوا تھینکس کافی بہت اچھی تھی اور ذائقہ بھی محب نے اسکی انگلی کی طرف نگاہ دوڑائی اور کچن سے باہر نکلا وشمہ ابھی تک اسکی اتنی جرأت اور حرکت پہ ششدر ٹہری تھی سمجھتا کیا ہے خود کو اگر میں یہ رشتہ برقرار رکھ رہی تو صرف دری کیلئے جیسے ہی وہ سیٹل ہوگی ہم دونوں کی راہیں ہمیشہ کیلئے الگ ہونگی مسٹرمحب رضا ۔۔۔
وشمہ نے خیالوں میں ہی محب کی کلاس لی تھی ۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بیاکا یونیورسٹی میں پہلا دن تھا بڑے ہٹلر اور دادی ماں کی ہزار نصیحتیں اسکے ساتھ تھیں جیسے وہ یونیورسٹی نہیں بلکہ کسی میدان جنگ میں جارہی ہو جہاں اسکا مقابلہ ہر طرف سے دشمنوں سے ہونے والا تھا اسنے بے بس نگاہ ماں باپ پہ ڈالی اور سٹوڈنٹ بیگ لیے باہر کی جانب بڑھی لیکن وہ اتنی خوقسمت کہاں کے سکون سے رہے راستے میں ہی تائی جان اپنے ہونہار سپوت کے ساتھ حاضر تھیں ہماری بیٹی کا آج یونیورسٹی کا پہلا دن ہے ہم نے سوچا ہم اسے اپنی دعاؤں کے سائے میں رخصت کریں تائی اماں ہمیشہ کی طرح اپنی سلیس اردو کے ساتھ اسے مزید تاو دلا رہی تھیں ارے بھابی بیگم آپ اندر آئیے باقی باتیں واپسی پہ کر لیجئے گا رشنا بیگم نے جیسے بیٹی کی حالت سمجھ کے انہیں ٹالنے کی کوشش کی تھی بیا نے جلدی جان خلاصی پہ تشکرانہ نگاہوں سے ماں کو دیکھا ارے شورائم بیٹا تم خود جاؤ ہماری بیٹی کے ساتھ آج اسکا پہلا دن ہے تو بچی گھبرا رہی ہے ذرا حوصلہ رہے گا اسکی کلاس تک چھوڑ کے آنا دادی اماں کی بات پہ بیا خش کھانے لگی ۔۔
مطلب کیا ،کیا ہیں میں کوئی پانی پت کی لڑائی پہ جارہی ہوں اللّٰہ توبہ دادی ماں آپ کرمو چاچا کو آنی بی کو بھی میرے ساتھ بھیج دیں کلاس میں میرے ساتھ کرسی لگا کے بیٹھیں گے یہ لوگ بھی انجوائے کریں گے بیا نے دانت پیس پیس کے اک اک لفظ ادا کیا تھا دادی ماں نے اک نظر اسے دیکھا اور پھر آنی بی اور کرمو چاچا کو ۔۔۔
بیا انکی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کے خود پہ سوبار ملامتیں بھیجنے لگی تھی دادی تو سچ میں اسکی بات پہ سریس ہوگئ تھیں ۔۔میں چھوڑ آتا ہوں آپ لوگ پریشان مت ہوں دادی ماں یہ کوئی بچی نہیں ہے جو آپ لوگ اتنے پریشان ہورہے ہیں چھوٹے ہٹلر کا جان خلاصی والا انداز دیکھ کے بیا کے حواس واپس لوٹے تھے بہرحال آنی بی اور کرمو چاچا سے تو بیٹر آپشن تھا چھوٹا ہٹلر اسے چھوڑ کے واپس آجاتا ۔۔چلیں شورائم نے اسے مخاطب کیا ہم ہاں بیا نے مبہم انداز میں جواب دیا اور گاڑی کی جانب روانہ ہوئی تھی شورائم نے اسکیلئے فرنٹ سائیڈ اوپن کی اور وہ اچھے بچوں کی طرح اندر بیٹھ گئی تھی
تو مس بیا میں یہ آپ کو یہ نہیں کہوں گا کہ آپ یونی میں لمیٹیڈ ہوکے وقت گزاریں لیکن بغیر ضرورت لوگوں سے گھلنے ملنے سے پرہیز ضرور کیجئے گا آپ لوگوں سے جتنا فاصلہ رکھ کے ملیں گی اتنا آپکلیئے اور ہم سب کیلئے بہت اچھا ہوگا باقی باتیں آپ وقت کے ساتھ سیکھ جائیں گی کوشش کیجئے گا کہ آپکی وجہ سے ہماری فیملی کسی مسلے سے دوچار نہ ہو یونیورسٹی گیٹ پہ اسے اتارتے ہوے نصیحتوں کا اک نیا سلسلہ شروع ہوا تھا ۔۔۔
اسے ڈراپ کرنے کے بعد شورائم وہاں سے رخصت ہوگیا تھا اب بیا کو واقعی گھبراہٹ ہورہی تھی اک نئی اور انجان جگہ اسکی ساری پھرتیاں گم تھیں ۔۔۔
۔ایکسکیوزمی کیا آپ مجھے فزکس ڈیپارٹمانٹ کے بارے میں بتا سکتی ہیں کہ کس سائیڈ پہ ہے اک لڑکی نے بیا کو مخاطب کیا اس نے چونک کے مخاطب کی جانب دیکھا تھا لائٹ براؤن آئیز کے ساتھ بے حد خوبصورت اور ماڈرن لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھی جو عمر میں ابہیا سے شاید بڑی تھی لیکن اپنی ماڈرن لکس سے وہ کافی کم عمر دکھائی دے رہی تھی شولڈر کٹ ہیئرز بڑے سلیقے سے بنائے گئے تھے ٹاپ جینز کے ساتھ برائے نام سکارف اوڑھا ہوا تھا اسکا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بیا کو اپنا آپ اک پینڈو جیسا لگا جو لونگ کرتا اور ٹائیٹس ساتھ میں سر پہ سلیقے سے سجایا گیا ڈوپٹہ بالوں کو ربڑ بینڈ میں قید کیے مکمل لگ رہی تھی لیکن اب ابہیا کو خود میں ہزار خامیاں نظر آنے لگیں ۔۔۔ایکسکیوزمی لڑکی پھر ابہیا سے مخاطب ہوئی تھی جج۔۔جی سوری میں خود فریشر ہوں بیا نے بے ڈھنگے پن سے جواب دیا اسے آتنا جلدی اپنا کنفیڈنٹ لوز کرنے پہ غصہ آنے لگا ۔
اوہ ان وچ ڈیپارٹ۔۔
بی۔بی۔اے بیا نے جلدی سے جواب دیا اہم رائٹ چلیں پہلے آپکا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈتے ہیں پھر مل کے میرا ڈھونڈ لیں گے اس نے دوستانہ انداز اپناتے ہوئے بیا کو کہا جیسے ان میں پہلے کی جان پہچان رہی ہو۔۔
بائے دا وے آئی ایم حرا اینڈ یو ۔۔۔اس لڑکی نے بے تکلفی سے بیا کی جانب ہاتھ بڑھایا جو بیا نے جلدی سے تھام لیا تھا اسکی حالت میلے میں کھوئے ہوئے بچے جیسی لگ رہی تھی بیا آئی مین ابہیا احمد ۔۔اسنے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا مختصر تعارف کروایا ۔۔بیا اسکے ساتھ اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھی اس لڑکی نے دو تین سٹوڈنٹ کو روک کے مزید رہنمائی لی اور ساتھ میں اپنی کلاس کا پوچھا بیا کو اسکے ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ سامنے چھوڑنے کے بعد وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئ تھی۔۔۔
کچھ دیر خود کو ریلکس کرنے کے بعد بیا نے اپنی کلاس کی جانب قدم بڑھائے انٹرس ڈور کراس کر کے وہ آگے کی جانب بڑھی تھی جب اسے کسی کلاس والا ماحول محسوس نہیں ہوا سامنے ہی کوریڈور میں کچھ سٹوڈنٹس سموکنگ کرنے میں مصروف تھے جو بیا کو اپنی جانب آتا دیکھ کے کھڑے ہوئے وہاں آتا جاتا ہر شخص عجیب نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔
نیو سٹوڈنٹ ان میں سے اک لڑکے نے آگے بڑھ کے اسے مخاطب کیا۔۔جج جی بیا پہ گھبراہٹ طاری ہوئی آپکو کس نے بھیجا یہاں اس نے پھر تشویشی انداز اپنایا ۔۔۔۔۔۔
وہ ۔۔بیا کو اب احساس ہورہا تھا کہ وہ کسی گڑ بڑ کا شکار ہوچکی ہے ڈیم فول۔۔ اور ساتھ ہی اک قہقہ پڑا تھا اپنے اردگرد اور سامنے اسنے اب غور کیا تھا اور شرم کے مارے اسکا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا تھا اسے اپنا دماغ اور اردگرد سب کچھ. گھومتا دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
