Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 09)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 09)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
اجلے ،چمکیلے ،مخمل جیسے لوگ۔۔۔
واسطہ پڑا تو پتھر نکلے !!
اسد اور محب وشمہ کی فلاورز پھینکنے والی حرکت سے تھوڑا اپ سیٹ ہوچکے تھے انکو مزید وہیں رکنا مناسب نہیں لگا وہ کرنل کاظمی اور میجر ارسلان سے معزرت کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔
وشمہ بیٹا یہ کیا حرکت تھی بھلا کسی کے خلوص کی دھجیاں ایسے نہیں اڑانی چاہیئے سب تمہارے بے جا لاڈ پیار کا نتیجہ ہے جو مجھے ان بچوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا گیا کیا سوچتے ہوں گے وہ اک ریٹائرڈ کرنل کی اولاد اتنی مینر لیس ہے پاپا کی اواز کافی سخت تھی جو اسلان کو بہت کچھ باور کروا رہی تھی وشمہ نے امید بھری نگاہ بھائی پہ ڈالی تھی پر یہ کیا وہاں بھی نولفٹ کا بورڈ چسپاں تھا
اسنے خاموشی سے سر جھکا لیا اور اپنے آنسو ضبط کرنے لگی پاپا اسے سنانے کے بعد باہر چلے گئے تھے ارسلان بھی ڈسچارج پیپر بنوانے کا کہتا وہاں سے چل دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش اک بار میرا تم سے سامنا ہوجاۓ تمھارے کیے کی سزا تو ملے گی ہی محب صاحب آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جلد ہی قسمت انکو یہ موقع دینے والی تھی ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°
سر جی تسی بدلی دا انتظار کیتے بغیر ہی اتھوں روانہ ہو چلے سپاہی رضوان نے چائے کا کپ میجر کو کہا۔۔۔۔۔
میری بہن کی شادی ہے اسیلئے میرا جانا ضروری ہے کیونکہ میں اسکا اک ہی بھائی ہوں۔۔
ام بھی اپنی بہن کی شادی کیلئے جارہا ہے سرجی خستہ گل نے بھی اپنی رام لیلا سنانا مناسب سمجھا تھا لیکن سپاہی رضوان وہ خوشقسمت بندہ تھا جسے بغیر کسی حیلے بہانے کے چھٹی مل گئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان تمہارے گھر والے بھی تمہیں اچانک دیکھ کے یقینناً بہت خوش ہوں گے ارسلان نے بات بڑھانے کو بولا تھا کیونکہ وہ مسلسل دو دن سے نیچے کی جانب سفر کر رہے تھے تھوڑی دیر کو کہیں پہ رک کے سستا لیتے تھے اب اچانک گلیشئر کے تیور بدلتے نظر آرہے تھے اسلیے انھوں نے خیمہ گاڑا اور سکون سے بیٹھے تھے جبکہ باہر ہیوی سنوفالنگ شروع ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرجی تسی شادی کیدو کروا رے او؟
سپاہی رضوان نے تجسس سے پوچھا میجر نے اک مسکرتی نظر اس پہ ڈالی اور کہا اسکی بہن کے ساتھ اسکی بھی رخصتی کا پروگرام بنا رہے اسکے گھر والے خستہ گل اور رضوان نے اسے مبارکباد دی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ بھی کھلے دل سے مسکرا دیا تھا دو دن میں پہلی بار اسے دریہ کا خیال آیا تھا ملن کا اک خوشکن احساس جاگا تھا جو اسکے اندر تک سرشاری بھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر کسی کے نام پر نہیں گونجتی صاحب
دھڑکنیں ___بڑی بااصول ہوتی ہیں
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عجیب دھند کا منظر تھا چار سُو میرے _
میں منتظر ہی رہا اور گزر گیا کوئی
بیا کو لیفٹیننٹ شاہ کی جانب سے کارڈ اور پھول ریسیو ہوۓ تھے شومئ قسمت کے چھوٹے ہٹلر اسے دادا دادی اور بیا کے مما پپا کی فلائٹ کا بتانے کو آرہے تھے اور کورئیرر اسی نے ریسو کیا تھا واٹ دا ہیل ابہیا احمد واٹ از دس ۔۔۔۔بیا نے ناسمجھ میں اسکا شاؤٹ کرنا اور اسکے ہاتھ میں موجود کورئیر دیکھا یہ میں نے تو کچھ آرڈر نہیں کیا ۔۔اسے لگ رہا تھا کہ پارسل منگوانے پہ شاید اسکو غصہ آرہا ہے کھولو اسے اک اور آرڈر ۔۔جج۔ج۔جی اسنے جلدی سے کورئیر اسکے ہاتھ سے لیا پہلی نظر ان اشعار پہ پڑی ۔۔۔۔۔بھلا مجھے کوئی کیوں پوئٹری اور جیسے ہی پارسل کھلا اندر سے تازہ گلاب کی کلیاں اور کارڈ موصول ہوا تھا سوری اینڈ گیٹ ول سون تحریر تھا ۔۔۔
کون ہے یہ میں نہیں جانتی ۔۔۔
ایسے کیسے نہیں جانتی تم کارڈ پہ باقاعدہ نام مینشن ہے تمہارا اور بھیجنے والے صاحب کا ۔۔۔۔۔۔
اوکے جانتی ہوں میں تو ۔۔آپ کیوں آل ٹائم میرے پیچھے جاسوس بنکے گھومتے ہیں میری مضی میں چاہے جس سے رابطے رکھوں جس سے ملوں
Who the hell are you?? Mr Shuriam Ahmad
آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے اتنا انوسٹی گیٹ کرنے وا۔۔۔۔۔چٹاخ کی آواز نے بیا کی بولتی بند کروا دی تھی تم شاید بھول چکی ہو کے چچا جان تہیں میری سکیورٹی میں دے کے گئے ہیں اور یہ تھپڑ تمہاری بدتمیزی کا جواب ہے آئندہ بات کرنے سے پہلے اس تھپڑ کو ضرور یاد رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارسل اسکے منہ پہ مارنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوگیا تھا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ ریت کر کے میرے خوابوں کی زمینوں کو
میرے وجود میں دریا تلاش کرتا ہے __
گنوا کے مجھ کو کسی عہدِ خوش گمانی میں
وہ شاید اب کوئی مجھ سا تلاش کرتا ہے __
میجر ارسلان نے اپنی پوسٹنگ سیاچن گلشئیر کروائی تھی اور اسکے پاپا کی مکمل سپورٹ حاصل رہی تھی کیونکہ جلال کاظمی خود بھی کارگل جیسے مشن کا حصہ رہے تھے سفید پہاڑوں سے تو اسے ویسے بھی عشق تھا اور وہاں کی اک اہم شخصیت چاچا عبدالرحمن وہ انسے ملکے انہیں اک سلیوٹ پیش کرنا چاہتا تھا اک میجر اک عام سولین کو سلوٹ کرنے کو بےتاب تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وشمہ اپنے بھائی کے اس فیصلے سے زرا بھی خوش دکھائی نہ دیتی تھی بھائی کے مقابلے اسے پہاڑوں سے خوف آتا تھا دیوہیکل پہاڑوں کو دیکھ کے اسے لگتا تھا وہ اس اپنے اندر کو نگل لیں گے ۔۔۔۔۔محب کو دیکھ کے اسے اک دم بے چینی نے آن گھیرا تھا جسکی وجہ سے آج بھی پاپا اس سے خائف نظر آتے تھے اور پاپا کے ساتھ وہ پوری محفل میں گھومتا پھر رہا تھا گھر کے اک فرد کے جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وشمہ پاپا پاس گئی تھی کے انکے اک دوست انکو ڈھونڈ رہے ہیں پاپا اسکی بات سنکے اکسکیوز کرتے وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔
سے سوری ٹو می۔۔۔وشمہ نے پراؤڈ لہجے میں محب کومخاطب کیا تھا اسد نے دور سے ان دونوں کو اک ساتھ دیکھا تو مح کو تنگ کرنے کو نیا شگوفہ اسکے ہاتھ لگ چکا تھا۔۔۔
واٹ میم آر یو ان یور سینسسز۔۔۔۔۔محب نے تھوڑا گھورتے اسے ہوۓ دیکھا تھا۔۔
کیوں اتنی جلدی بھول گئے آپ کونسے بدلے اتارنے کو مجھے دھکا دیا تھا۔۔۔وشمہ نے طنزیہ نظریں اس پہ گاڑی تھیں ۔۔۔۔۔
میڈم وشمہ اپکو ہم پہلے ہی ایکسپلین کرچکے ہیں کے یہ صرف کوانسڈنٹ تھا۔۔۔
آہا رئیلی وشمہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا ول اوکے سی یو ۔۔کہتے ہوۓ وشمہ جان بوجھ کے اسکے کافی نزدیک سے ہوکے گزری پیچھے ہونے کے چکر میں محب کا پاؤں رپٹا تھا اور وہ پیچھے میز سے ٹکرایا اک زوردار چھناکے کی آواز آئی تھی اور میزکا سہارا لینے کی کوشش میں محب بھی نیچے گرا تھا ۔ ۔۔۔۔۔سب آفیسرز کے سامنے اسکی پوزیشن بہت آکورڈ ہوئی تھی اسد نے آگے بڑھ کے اسے اٹھایا اور وہ ارسلان سے اکسکیوز کرتے باہر کی جانب روانہ ہوے اسد کو پورا معاملہ پتا نہیں تھا اسلیئے وہ خاموش رہا تھا جبکہ ارسلان نے رات میں سی سی ٹی وی کیمرے سے دیکھ لیا تھا کہ وشمہ نے جان بوجھ کے ایسا کیا تھا ۔۔۔
اُف یہ لڑکی۔۔ارسلان نے بہن کے رویہ کی معزرت کیلئے مزرت کرنے کو محب کو کال ملائی۔۔۔۔
آخر وہ کب تک اور کس کس رویے کی معافی مانگے وشمہ نے تو نہ سدھرنے کی قسم کھا رکھی تھی۔۔
