Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 02)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 02)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
“واہ کینٹ پاکستان کا ایک عسکری شہر ہے جو صوبہ پنجاب کے شہر ٹیکسلا سے منسلک اور راولپنڈی اسلام آباد سے 30 کلومیٹر (19میل) شمال مغرب میں واقع ہے۔یہ پاکستان میں سب سے اعلی درجے کے ترقی یافتہ مقامات میں سے ایک ہے۔ اور واہ آرڈینیس فیکٹری جو ملک کو بڑے پیمانے پر اسلحہ مہیا کرتی ہے اس فیکٹری کو ٹارگٹ کیا جانے اور بہت بڑے پیمانے پر دشمنوں کی طرف سے نقصان پہنچانے کی سازش رچی جارہی ہے ہمارے ایجنٹس اپنی بھرپور کوشش کررہے ہیں کے ٹارگٹ کو ٹریپ کیا جاۓ۔۔”
میٹنگ روم میں ضبط سے بھرپور آواز لفٹیننٹ شاہ کی تھی جو تمام تر صورتحال سے آگاہ کررہے تھے ۔
“لیکن نوجوان یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ دشمن ہمارا دھیان اس طرف بٹا کر کچھ آگے کی سوچ رہا ہو۔”
لفٹیننٹ جنرل طاہر سلیم نے سوال اٹھایا جنکی سربراہی میں یہ اہم مشن انجام دیا جارہا تھا لفٹیننٹ شاہ نے اک طاۂرانہ نگاہ حاضرین پر ڈالی اور اپنی اسائمنٹ پر مزید ورک کرنے کا سوچتے ہوۓ میٹنگ انڈ ہونے کا عندیہ دیا۔
گڈورک ینگ مین کرنل مبین نے شاہ کے کندھے پہ تھپکی دیتے ہوۓ کہا جنگ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی ہمت بندھانے کیلئے اک آیت اتاری گئ تھی۔
سَیُھْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ
عنقریب یہ جماعت پسپا ہوگی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
“خود پہ یقین رکھو اور خدا پر پہلے.”
یہ کہتے ہوۓ کرنل مبین آگے بڑھ گۓ اور ساتھ میں شاہ کیلئے امید کی نئ راہ چھوڑ گئے۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ جو کرتے ہیں مٹانے کی باتیں
شاید وہ ہمارے حوصلوں سے واقف نہیں
“واہ واہ واہ اسد صاحب آپ نے تو میلہ لوٹ لیا ہے۔”
محب نے شابشی کے طور پر اسد کو اک دھپ رسید کرتے ہوئے کہا ۔
اتنی زوردار دھپ کھانے کے بعد اسد کی سانس اور زبان دونو بند ہوچکی تھیں البتہ آنکھوّں سے گولہ باری جاری تھی۔
” یار یہ اپنا مستقبل کا کیپٹن نظر نہیں آرہا۔”
محب نے لیفٹیننٹ شاہ کی کیبنٹ میں غیرموجودگی کا نوٹس لیا ۔
“وہیں ڈھونڈ رہا ہوگا ہمیں خوار کرنے کا کوئ مشن۔”
لفیٹننٹ اسد شبیر نے منہ کے زاویے بناتے ہوۓ کہا ۔
“سرچائے۔” بٹالین اللّٰہ دتہ نے انکو اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
” بٹالین آپکو یہ رولز فالو نہیں کرواۓ گئے جب دو بڑے آفیسر آپس میں بات کررے ہوں انکو درمیان میں انٹرپ نہیں کرنا چائیہے ۔”
“سوری سر.” اسد کے سخت لہجے میں سنائ گئ کو بجا لاتے ہوے بٹالین اسکے چہرے پر سجی شرارتی مسکان نہیں دیکھ سکا ۔
اسد نے مزید آوازکو روعب دار بناتے ہوے کہا ۔
“آپکو اسکی سخت سزا سنائ جائ گی۔”
محب نے حیرت سے اسد کو دیکھا کیونکہ انکے ٹرائنگل میں یہ ڈیساۂڈ تھا کہ وہ کبھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہی اٹھائیں گے ۔محب کی شکل کو دیکھتے اسد کا قہقہ بے ساختہ تھا۔ بٹالین پریشان سا اپنے آفیسرز کے بدلتے لہجے دیکھ رہا تھا اسد کی طرف سے جانے کا اشارہ پاتے ہی بٹالین نو دو گیارہ ہوگیا اور اسد محب کا موڈ ٹھیک کرنے کیلئے منتیں ترلے کرنے لگا۔
“اچھا سن ایک فوجی جوک سناتا ہوں دوزخ میں نا بہت سے فوجی مستی کر رہے تھے شیطان نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں اک فرشتہ بولا یہ فوجی بھائ ہیں ہر جگہ ایڈجیسٹ ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں یونٹ سے تو کچھ بہتر ماحول ہے.”
ہاہاہا کی آواز پر دونوں نے بری طرح چونک کے دیکھا جہاں شاہ اسد کے انتہائ فضول جوک پر ہنس رہا تھا۔ لیکن جب تھوڑی دیر بعد شاہ نے اپنے ہنسنے کی وجہ بتائ دونوں بونگے بنے اسکی شکل دیکھنے لگے کیونکہ شاہ نے انہیں اپنے ساتھ مشن میں شامل کیے جانے کی خوشخبری سنائ تھی ۔
°′°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اسلام آباد سے مانسہرہ کی ڈرائیو قریباً 136 کلو میٹر ہے لیکن نئ طرز کے ہائوے نے منزل آسان بنا دی تھی۔ آنی فرنٹ سیٹ پر ہٹلر کے چھوٹے جانشین کو کمپنی دینے میں مصروف تھیں اور وہ انکو ہر جگہ کی اہمیت و خصوصیت کو اجاگر کرنے میں مصروف تھا ۔اک ماہر ٹورسٹ گائیڈ کی طرح۔۔۔
اور آنی بی بھی ساتھ اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کرنا مناسب سمجھتی تھیں جبکہ بیا خیالوں میں ان صاحب کا خون پینے میں مصروف تھی ویمپاۂر کی طرح اب خون پی رہی تھی یا اپنا خون جلا رہی تھی لیکن وہ اس لمحے کو کوس رہی تھی جو ہٹلر کو سبق سکھانے کے چکر میں اس سفر کو تیار ہوئ تھی لیکن جلد ہی اسکی خواہش پوری ہونے والی تھی ۔
°°°°°°°°°°°°
“یار تجھے کوئ ڈھنگ کی جگہ نہیں ملی اپنا مشن سٹارٹ کرنے کیلئے۔”
اسد بار بار شاہ کے منتیں ترلے کرنے کے بعد راضی ہوگیا تھا اس مشن میں شامل ہونے کیلئے جبکہ محب ٹھرا صدا کا شاہ کا شیدائ اسکی اک صدا پہ لبیک کہنے والا ۔
دراصل شاہ نے کرنل مبین سے سیکرٹ مشن کی اجازت لی تھی جس میں فلحال وہ اپنی ٹرائینگل ٹیم کو لے کر چلنا چاہتا تھا اور اسی سلسلے میں ان لوگوں نے مانسہرہ روانہ ہونا تھا جبکہ اسد 3 سال مانسہرہ میں فرائض انجام دیتا رہا تھا۔
وہ وہاں کے علاقوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتا بقول محب “چلتا پھرتا گوگل میپ تھا “۔۔۔
چاروناچار انکو اپنے ٹیم لیڈر کو فا لو کرنا تھا جو کہ کوئ اور نہیں ون اینڈ اونلی اسدشبیر ہی تھا
ٹوٹ سکتا ہوں مگر جھکنا نہیں منظور۔۔۔
ہاں میں پاکستانی فوجی ہوں ہے مجھے اس بات کا غرور۔۔
