Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 14)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

میں تمہیں ڈھونڈنے یادوں کی کُھلی راہوں پر

خُشک پتوں کی طرح روز بکھر جاتا ہوں _

اسد درانی مشہور انڈسٹریل راشد درانی کے سب سے لاڈلے اور چھوٹے سپوت تھے بزنس سے ہٹ کے انکی سوچ کچھ انوکھا کرنے کی تھی اسلیئے انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی جوائن کی تھی جہاں اسکی ملاقات شاہ اور محب سے ہوئی اور ان تینوں کی دوستی میں کبھی پروفیشنل جیلسی نہیں آئی تھی لیکن اسد کا بیا کی طرف رجحان ان دونوں سے مخفی نہ تھا شاہ کے ارادے بلند تھے اسکیلئے اپنی ڈیوٹی اپنی وردی سب سے زیادہ اہم تھے کسی بھی چیز سے بڑھ کے جبکہ اسد کے فرض کے درمیان ایک لڑکی آرہی تھی جو ان دونوں کو گوارہ نہ تھی محب نے تو پہلے ہی سارے رشتے قربان کیے تھے وطن کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حسن اچکزائی سے اسد کی ملاقات اتفاقاً ہوئی تھی پہاڑی راستوں پہ گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے اسد نے اسے لفٹ دی تھی پہاڑوں کے بیٹے اپنی یاری دوستی میں آپ کمال ہوتے ہیں اسد نے اسے ایک ٹورسٹ کی حثیت سے پہچان کرائی تھی حسن اس شہری لڑکے سے بہت مرعوب نظر آرہا تھا جسکا فائدہ اسد کو بخوبی سمجھ آرہا تھا یہ اسکی خوشنصیبی تھی کے بغیر کسی تردود کے اسے اچکزائی خاندان میں گھسنے کا موقع ملا تھا اس نے شاہ کو ڈن کا مسیج کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

گونگے بہروں میں رہا جیسے کوئی نابینا

زندگی تیرے بنا ایسے گزاری ہم نے __

وشمہ کا شدید نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اور اسکی کنڈیشن کافی سریس تھی محب پہنچا تو سلمٰی بیگم اسے گلے سے لگائے روتی رہیں اور محب کو واقعی ندامت ہورہی تھی کہ وہ کیسے اتنی بڑی قیامت کی گھڑی میں انکا سہارا بننے کے بجائے ایک فضول سی قسم کو نبھا رہا تھا سلمٰی بیگم نے جب کبھی اسے سوتیلے پن کا احساس نہیں دلایا مگر اسکی خودساختہ بنائی گئی باؤنڈریز نے اسے ان سب سے الگ کردیا تھا ادھر دریہ خود کو وشمہ کا جرم دار سمجھ رہی تھی اسنے محب کو سب کچھ بتا دیا تھا محب نے تاسف بھری نگاہ اس پہ ڈالی اگر وہ خود ہی سٹیپ لے لیتا تو آج حالات نارمل ہوتے ڈاکٹرز نے وشمہ کی جانب سے حوصلہ کن خبر سنائی تو دریہ وشمہ کی جانب بھاگی تھی اسے معافی مانگنی تھی جبکہ سلمٰی بیگم شکرانے کے نفل پڑھنے میں لگ گئیں محب ڈاکٹرز سے اسکا کیس ڈسکس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

وشمہ ۔۔دریہ کی آواز پہ اس نے دروازے کی جانب دیکھا اور مسکرادی ۔آئی۔ایم ۔سوری وش میں نے بہت روڈ بہیو کیا تھا وہ حقیقت میں شرمندہ نظر آرہی تھی۔۔۔

اٹس۔اوکے دریہ اندر کا غبار کبھی نہ کبھی باہر تو آنا ہی تھا آخر کون کب تک برداشت کرسکتا ہے تم سہی تھی اک میری ذات پہ تم تینوں کی زندگیاں داؤ پہ لگی ہیں اسنے بے رحمی سے الفاظ ادا کیے جو اندر آتے محب نے بخوبی سنے تھے دریہ کی نظر اندر آتے محب پہ پڑی تو وہ ہڑبڑا کے کھڑی ہوئی اس گھڑی کے بارے میں تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔بھا ۔بھائی آپ اس نے جیسے اسے روکنا چاہا تھا وشمہ نے بھی حیرت سے محب کی جانب دیکھا تھا اور گھڑیاں جیسے سال پیچھے گئیں تھیں ۔۔۔۔

بابا میں اک بدکردار ماں کی اولاد سے شادی نہیں کرونگی۔۔

میری مجبوری کی زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں محب رضا اس رشتے کو نبھانے والے اب جا چکے ہیں اسیلئے آپ بھی اس مجبوری کے رشتے سے جان چھڑوا لیں۔۔۔۔۔۔

اگر آپکو میرا ساتھ چاہیئے تو آپ کو فوج سے استعفٰی دینا ہوگا ہیں تو مجھے ابھی کے ابھی طلاق دیں اور محب کا بے ساختہ پڑنے والا تھپڑ اب بھی اسے اپنے گال پہ جلن محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر محب رضا یہاں آئے تو میں اسی دن یہ گھر چھوڑ دونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آرمی ریزائن نہیں کی محب رضا تو قسم سے میں خود ڈئیورس لے لونگی نہیں تو عمر بھر اپنی شکل نہ دکھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور اس قسم کو محب نے دوسال نبھایا تھا صرف اس سے جدا نہ ہونا پڑے چاہیے الگ ہی سہی لیکن اس کے نام سے منسلک تو تھی لیکن آخر کب تک وہ حقیقت سے نظریں چرا سکتے تھے وشمہ کی آنکھوں سے ان گنت خاموش شکوے آنسوؤں کی صورت بہہ رہے تھے

محب کو ان آنکھوں میں کہیں بھی پرانی ضدی وشمہ نظر نہیں آرہی تھی سلمٰی بیگم اس پہ مختلف سورتیں پڑھ کے پھونک رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

بیا اور شورائم کا نکاح سادگی سے کردیا گیا بغیر ان دونوں کے احتجاج کو کسی خاطر میں لائے ۔۔۔دادا جان بیاکیلئے اب پکے والے ہٹلر بن چکے تھے اس نے اپنا احتجاج بھوک ہڑتال کی صورت میں نوٹ کروایا تھا

شورائم کیلئے یہ سب بھلا کے آگے بڑھنا آسان تھا جیسے کہ وہ اس نکاح کو خاطر میں نہ لایا ہو یہ معمول کی کوئی کاروائی ہو تمام حالات معمول پہ آچکے تھے بیا ایڈمیشن کیلئے یونیورسٹی دیکھ رہی تھی شورائم بھی سیاست کے داؤپیچ سیکھنے میں مصروف تھا وہ ایک آزاد امیدوار کی حثیت سے آگے بڑھ رہا تھا جبکہ کئی پارٹیاں اسکے کام کرنے کے انداز سے امپریس نظر آرہی تھیں کسی کیلئے وہ آئیڈل بن رہا تھا تو کسی کیلئے خطرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مصروف زندگی میں پہلا پتھر اک سیاسی پارٹی کی شورائم کے گھر آمد تھی وہ اسے اپنی پارٹی کے ٹکٹ پہ الیکشن لڑنے کا موقع دینا چاہ رہے تھے شورائم کسی پارٹی ساتھ منسلک نہیں ہونا چاہ رہا تھا لیکن مستقبل کے اچھے فیم کیلئے اسنے بدنام زمانہ پارٹی جوائن کر لی تھی تاؤ اور دادا جان کی جانب سے ہلکا سا احتجاج ہوا جسے شورائم نے نوٹس ہی نہیں کیا اس پہ الگ دھن سوار تھی ۔۔۔۔

اپنا آپ منوانے کی چاہے جائز طریقہ ہو یا ناجائز اسکے نزدیک سب چلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

————

شاہ اک بار پھر اپنی ٹیم کے ساتھ سرگرم ہوچکا تھا اس بار چوٹ گہری پڑی تھی ہار کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا کیپٹن اسد حسن کے ساتھ گہرے روابط بڑھا رہا تھا حسن کا اسد پہ حد درجہ اعتماد نظر آرہا تھا یا وہ بے وقوف لڑکا اسد کے ہاتھوں بڑی جلدی ٹریپ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

اسد نے حسن سے شراب اور شباب کی محفل فرمائش کی جو جلد ہی حسن نے اسے اپنے فارم ہاؤس لے جاکے پوری کرنی تھی اور اسد کو لگ رہا تھا کہ انکا آبائی فارم ہاؤس اسکے مشن میں بہت کارآمد ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔۔

چھوٹے سردار شام میں گاؤں میں اک جرگے کا فیصلہ ہے بڑے صاحب کا حکم ہے کہ آپ اسکے سرپنچ بنیں انکا وفادار ملازم حسن سے مخاطب تھا ہنمم ۔۔۔حسن نے سر کے اشارے سے ہامی بھری تھی ۔۔۔۔۔

انکے قبائلی لوگ نسل در نسل اپنے پرکھوں کے رسم رواج پہ چلے آرہے تھے جہاں پہ کسی کی بے گناہی اور گناہ گار ہونے کا ثبوت اسے دہکتے کوئلوں پہ چلا کے یا پھر انہیں کاری کرکے ماردینے کا حکم ہوتا تھا اب بھی پنچائیت میں پسند کی شادی پہ فیصلہ تھا جہاں کا مختصر واقع یہ تھا کہ لڑکی کو اسکے بھا ئیوں کے حوالے کردیا گیا تھا اور لڑکے کو بھی اسکے ماں باپ لے گئے تھے اگر کسی نے ملنے کی کوشش کی تو وہ گولی کا حقدار ٹہرے گا دوسری صورت کچھ دن تک انکی طلاق کروا کے الگ الگ شادی کروا دی جاتی لڑکی کے بھائیوں کی طرف سے کچھ تحفاظات تھے چناچہ لڑکی کو کچھ دن سر پنچ کے گھر پہ رکھا جانا تھا اسد اس عجیب و غریب منطق سے زرا بھی ایگری نہیں تھا مگر وہ تھا کون حسن کے آدمی اس لڑکی کو حسن کے ڈیرے پہ چھوڑ گئے تھے اک تھکا دینے والے دن کے بعد اسد بھی سونے چلا گیا تھا اک تھکا دینے والے دن کے بعد کی صبح بھی اتنی ہی لرزہ خیز تھی رات جرگہ سے لائی گئی لڑکی غائب تھی بلکہ اسنے محبوب کی جدائی میں خودکشی کرلی تھی اک گھسی پٹی کہانی علاقے میں پھیلائی گئی تھی اور پاس والے دریا سے اس لڑکی کی میت کی تلاش جاری تھی لیکن ڈھونڈا تو انہیں جاتا ہے جو واقعی میں کودے ہوں لوگوں نے رات گئے اس لڑکی کو تلاش کیا تھا اور اگلے دن اس بدبخت لڑکی کی قسمت کو کوستے غائبانہ نماز جنازہ ادا کر کے چلے گئے اسد اس ان دیکھی پہیلی کو سلجھانے میں لگا تھا لیکن شطرنج کا کھلاڑی اسکی سوچ سے بھی تیز نکلا تھا پر آخر کب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

وشمہ کی کنڈیشن سٹیبل ہونے پہ ڈاکٹرز نے اسے ڈسچارج کردیا تھا واپسی پہ محب ان لوگوں کے ساتھ نہیں آیا تھا وہ انہیں گیٹ سے رخصت کر کے چلا گیا وش۔۔۔۔دریہ نے اسے سوچوں میں گم دیکھ کے پکارا ہہم۔۔وشمہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا معاف کردو نا یار دریہ کے ملتجانہ انداز کو اس نے غور سے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

میں سوچ رہی اپنا ہاوس جاب پھر سے سٹارٹ کردوں جانے والے تو بے رحم دنیا کے سہارے ہمیں چھوڑ گئے ہیں کیوں نا ہم بھی مووآن ہو جائیں وشمہ نے بے رحمی سے اپنے لب کچلے تھے دریہ کو لفظ مووآن نے سانپ کی طرح ڈنسا تھا کیا واقعی اتنا آسان ہے آگے بڑھنا جتنا وشمہ کہہ رہی دریہ نے خود سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

ہاں دریہ تمہیں آگے بڑھنا ہوگا اپنے لیے نہیں تو پھوپو کیلئے سہی اک بار پھر سے ان دونوں کے درمیان اک تکلیف دہ ٹاپک سٹارٹ ہوچکا تھا ٹھیک ہے مجھے تماہاری اور مما کی خواہش منظور ہے لیکن میری بھی شرط ہے ۔۔۔۔۔دریہ نے وقفہ دیا جبکہ وشمہ اسکے اتنی آسانی سے مان جانے پہ حیرت سے اسے دیکھا جو بھی تھا وہ اسکے بھائی کی بیوہ تھی اسے ارسلان کے حوالے سے ہمیشہ عزیز رہی تھی اک چبھن کا احساس ہوا تھا جیسے آج ارسلان اس سے بچھڑ رہا ہو دریہ کا حوالہ تبدیل ہوجائے گا مگر جب انسان ہی نہیں رہا تو کیا سابقے کیا لحقے اس نے اک ٹھنڈی سانس بھری ۔۔

ہمیں تمھاری ہر شرط منظور ہے دری وشمہ نے بغیر اسکی سنے بولا تھا ۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے پھر میرے ساتھ تم بھی رخصت ہوگی محب بھیا کے ساتھ آہاں ۔۔۔دریہ نے اسے بولنے سے روکا بغیر کسی شرط کے وش تمہیں رخصتی کروانی ہوگی وشمہ نے اک نظر اسے دیکھا اور خاموشی سے سر جھکا دیا جیسے اسے دریہ کی ہر شرط منظور تھی دریہ نے فرط جزبات سے اسے گلے سے لگا لیا اور کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے بچھڑوں کی یاد میں رو رہی تھیں ۔۔۔۔

دریہ نے صرف وشمہ اور محب کیلئے شادی کی حامی بھری تھی جبکہ وشمہ نے پھوآپو اور دریہ کیلئے شادی کی ہامی بھری تھی جو بھی تھا دریہ کی بےرنگ زندگی انکو دیمک کی طرح چاٹ رہی تھی اپنی خودغرضی میں وہ پہلے بھی انکی ازیت کا باعث بن رہی تھی جبکہ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ محب رضا کے وجود سے لاپرواہ تھی پر آخر کب تک ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *