Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Bara Harjai (Episode 04)

Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid

دریچے سے جھانکتی وہ لڑکی

عجیب دکھ سے بھری ہوئی ہے

کے اس کے آنگن میں پھول پر

ایک نیلی تتلی مری ہوئی ہے

کبھی اذانوں میں کھوئی کھوئی

کبھی نمازوں میں روئی روئی

وہ ایسے دنیا کو دیکھتی ہے

کے جیسے اس سے ڈری ہوئی ہے…

سلمیٰ بیگم نے ایک دکھ بھری نگاہ بلکنی میں رکی اس اداس شہزادی پہ ڈالی اور ہمیشہ کی طرح اپنا غم دل میں چھپاۓ اسکی دل جوئی کو آگے بڑھیں کہ بہرحال اسکا غم سلمیٰ بیگم کے مقابلے بہت بڑا تھا ۔

کچھ حادثے انسان پہ گہرے اثرات چھوڑ جاتے ہیں باوجود اسکے کہ انسان اپنے رب کےکُن کا محتاج ہے لیکن پھر بھی مایوسی تو جیسے فطرت سی بن گئ ہے ۔

شاید وشمہ جلال کے نزدیک وہ دنیا کی مظلوم ترین لڑکی،بہن اور بیٹی تھی۔

جانے والے تو اپنے سینے پر فخر سے شہادت کا تمغہ سجا کے گئے تھے .

اور “تم شہیدوں کو مردہ نا کہو وہ زندہ ہیں مگر تمہاے شعور میں نہیں۔”

مرتے ہیں ،اٹھتے ہیں ، پر جھکتے نہیں

اے میرے وطن تیرے یہ لال کبھی بکتے نہیں۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ایجنٹ 8090 نے ایک کورے کاغذوں کا اک بنڈل ردی والے کے حوالے کیا ۔بظاہر تو اک شخص نے اپنے گھر کچرا کباڑ اک ردی والے کے حوالے کیا تھا مگر گلی کے نکڑ پر موجود فقیر اور مفلوج شخص کی عقابی نظروں نے اس منظر کی پورے طریقے سے سکریننگ کی تھی۔

ردی والا شخص مخصوص پختون لہجہ اپناۓ گلی میں” ردی والا “کی صدا دیتا ہوا آگے بڑھا تھا حلانکہ اسنے پوری گلی میں کسی اور گھر سے کوئ ردی نہ لی تھی ۔

لفیٹیننٹ شاہ نے بلیوٹوتھ آن ائیر اسد اور محب کو الرٹ کیا تھا ۔

اسد نے گلی کے نکڑ سے آتے ہوئے ردی والے سے ردی مانگی تھی کیونکہ وہ فروٹس کاٹ کر بیجتا تھا اور اسے ردی کی اشد ضرورت تھی ۔مگر ردی والے نے اک بھی کاغز دینے سے انکار کردیا وہی سعد کا فوجی دماغ اپنی ٹون میں آیا تھا اسنے جھٹ چھری اسکی گردن پہ رکھی اور” نی۔بو” ہونے کا کہا ردی والے نے سامنے سے آتے محب کو دیکھا اسکا اندازہ صیحح تھا کے اس واچ کیا جا رہا بس کچھ لمحوں کا کھیل تھا اور وہ شخص نیچے کو گرتے ہوے ذمین پر لڑہک گیا۔

یہ سب اتنا اچانک تھا کہ کسی کو کچھ سوچنے کا موقع نہیں مل سکا اس آدمی کے منہ سے نکلتے جھاگ نے معاملہ حل کیا وہی جب جان پہ بن آۓ تو کسی دشمن ملک میں پکڑے جانے پر اپنا خاتمہ کر لینا۔

“خس کم جہاں پاک .” شاہ نے غصےمیں اس ایجنٹ پہ تھوکتے ہوے کہا۔

” کرنے دو جہنم میں مستیاں۔”

محب نے بھی ہلکا پھلکا انداز اپناتے ہوۓ کہا جبکہ اسد ابھی تک بے یقینی سے ساری صورتحال دیکھ رہا تھا کوئی اتنی آسانی سے اپنی جان کیسے لے سکتا ؟پانچ سال میں کبھی ایسا موقع نیں آیا تھا جب اسے اپنی وردی برداران میں کسی کی نعش اٹھانی پڑی ہو۔

لیکن تقدیر اب انسے کیا کروانے والی تھی وہ خود بھی انجان تھے مانسہرہ پولیس کو اک نامعلوم شخص کی گلی میں پڑی نعش کی خبر دیتے ہوۓ انہوں نے جاۓ وقوعہ خالی کردیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

“بیٹا اب ہم آگے کیسے جائیں گے۔”

آنی بی کی پریشانی میں ڈوبی آواز نے اسے چونکایا جو پہلے ہی پریشان سا ٹہرا گاڑی کا جائزہ لے رہا تھا ۔

معاملہ اسکی سمجھ سے باہر تھا کیونکہ گھر سے نکلتے وقت وہ ہر طرح سے گاڑی کو اوکے کر کے آیا تھا شام کے گہرے پڑتے ساۓ اسے تفکر میں ڈال رہے تھے اور آس پاس کوئی پنکچر شاپ بھی نظر نہیں آرہی تھی ۔

سو مجبوراً اس بیا کے ارادوں کو کامیاب کرنا پڑا تھا مطلب کے آشیانہ ہوٹل میں سٹے کرنے کا فیصلہ اگرچہ اس ملک ولا پہنچنے کی جلدی تھی لیکن صرتحال کے پیش نظر اسکو یہ فیصلہ لینا پڑا۔

ہوٹل رومز کیلئے فارمیلٹز پوری کرنے کے بعد اسنے آنی بی اور بیا کو ریسٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہوے باہر کی راہ لی اسے صبح سویرے جلدی نکلنا تھا جسکیلۓ گاڑی کے ٹائر بدلی ضروری تھی ۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” شورائم ۔۔۔واؤ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز تم “

You cant imagine how I am happy to see you here۔۔۔۔

نان سٹاپ بولتی لڑکی کی آواز پہ شورائم نے اسے سر اٹھا کے دیکھا ۔

“واہ ڈولے شولے کہاں گیا وہ سڑیل سا شورائم احمد۔”

سامنے والی لڑکی حددرجہ منہ پھٹ واقع ہوئی تھی شورائم بیچارہ شرمندہ شرمندہ نظر آنے لگا۔

“تم آئی مین آپ کیسی ہیں مس فزا ۔”

فزا اسکو ممناتے دیکھ اور فضا کا گلہ پھاڑ قہقہ برآمد ہوا ۔

“مس نہیں مسز فزا کہ سکتے تم مجھے ۔خیر ان سے ملو یہ ہیں ہماری کلاس کے ٹاپر شورائم احمد ۔”

فزا نے اپنے پیچھے کھڑی لڑکی کی طرف منہ کرتے ہوے کہا.

” ہاۓ آئی۔ ایم نائلہ فرام کینڈا۔”

ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نائلہ نے اپنا ہاتھ شورائم کی طرف بڑھایا جو شورائم نے ہلکا سے ٹچ کیا اور “نائس ٹو میٹ یو” کہتا ایکسکیوز کر گیا.

وہ جانتا تھا کہ وہ حددرجہ روڈ ہورہا ہے لیکن اس وقت وہ جس ذہنی خلفشار کا شکار تھا اسکیلۓ کچھ معنی نہ تھا کہ کون اسکے بارے کیا سوچتا ہے۔جبکہ نائلہ کو اسکی بے نیازی اک ادا لگی تھی جس پہ وہ دل ہار بیٹھی تھی حلانکہ جس ماحول سے وہ آئی تھی وہاں اک سے بڑھ کر اک خوبصورت شخص موجود تھا لیکن کچھ تو تھا جو شورائم کو باقیوں سے منفرد کرتا تھا۔

“He is mine”

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ہم حق پر جان لٹائیں گے ہم شوق شہادت والے ہیں۔۔

وہ ساتھ ہمارا ترک کردیں جو موت سے لڑنے والے ہیں۔۔

اک خاموش آنسو وشمہ کی آنکھوں سے نکلا اور چہرے پے اپنا ہلکا رنگ چھوڑتا گردن میں کہیں گم ہو گیا۔

اس نے پپا جان کی ڈائری بند کی اور آنکھیں موندے انکی سٹڈی چیئر پر خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔

آنکھوں کے سامنے جیسے بہت سے منظر اک دوسرے سے ملنے کی آس میں تیزی سے گزرنے لگےماضی کے جھروکوں سے۔۔

°°°°°°°°°°°°°°

“پاکستان ایک شدت پسند ملک ہے کیونکہ وہ اپنا %80 بجٹ اپنے فوجیوں کے حوالے کردیتا ہے۔ہر طرح کی سہولتیں

فوجیوں کیلئے ہیں یا پھر انکے بچوں کیلئے ہیں اور ہمارے لیئے کیا ؟ لڑائی کیلئے دوسروں کا حق مارنا کہاں کا انصاف ہوا۔اور ہتھیار بھی وہ جو چند اک جگہ استمعال ہوں ورنہ تو بہانہ ہے عوام کا پیسہ سارا فوج کھا رہی اور فرنٹ لائن پہ مرنے والے بھی بچارے عام سپاہی ہوتے بڑے آفیسرز اور انکی اولادیں تو عیاشی کرتی ہیں عوام کی حلال کمائی پر۔”

عنیزہ اپنے گروپ میں جوش وخروش سے اپنی تقریر میں مصروف تھی۔ اسکی آواذ اتنی اونچی ضرور تھی کے دور بیٹھی وشمہ جلال اور دریہ ارسلان تک ضرور پہنچ رہی تھی یا پھر سنوایا ہی انہیں جارہا تھا ۔

حلانکہ جہاں وہ لوگ بیٹھے تھے وہاں پر اس قسم کی کوئی بھی انتشاری تقاریر” سٹک آؤٹ” کروانے کو کافی تھی۔

وشمہ کو جوابی کاروائی کیلئے تیار دیکھ کے دریہ نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھادیا اور زبردستی کینٹین سائڈ لا کے خاموش رہنے کی منت کی ۔وشمہ اسکو گھور کے رہ گئ ۔

اسوقت وہ واہ میڈیکل کالج میں فائنل ائر کے پریکٹیکل اور وائیوا کی تیاری کیلئے کالج میں موجود تھیں ریٹائرڈ میجر ڈاکٹر ریاض انکے ورک میں انکی راہنمائی کررہے تھے اک دکا سٹوڈنٹس کی موجودگی نے ماحول کو حد درجہ پرسکون بنا دیا تھا۔

اسکے علاوہ بھی واہ کینٹ کے اندر رہاشی اور سٹوڈنٹس حد درجہ کم گو اور رولز اینڈ ریگولیشن کے پابند نظر آتے تھے۔

“دریہ تم نمک حرام اور غدار ہوسکتی ہو میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا .میں آج ہی تمہں بھابھی کے عہدے سے فارغ کرتی ہوں.”

وشمہ غصے سے کہتی جانے کو مڑی لیکن کچھ یاد آنے پہ واپس اسکے پاس آئی۔

دریہ جانتی تھی کے وشمہ زبان کی تیز ضرور ہے مگر دل کی بہت اچھی ہے ۔ابھی اسکے گلے لگے گی مگر یہ کیا دریہ کا ہاتھ پکڑ کے بائیں ہاتھ سے اسکی نکاح کی رنگ اتاری یہ جا وہ جا ۔

دریہ کو جب تک سمجھ آئی کے اسکے ساتھ ہوا کیا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی تھی دریہ رونی صورت بنا کے اسکے پیچھے روانہ ہوئی اور جانا کہاں تھا پاس ہی کالونی میں گھر تھا۔

یاوحشت ایسے بھی رشتے ختم ہو سکتے دریہ نے اپنے خالی ہاتھ کو دکھا اک دم اسکے دل کو کچھ ہوا تھا اسکے قدموں میں مزید تیزی آگئ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *