Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 08)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 08)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
وشمہ کی آنکھ جلال کاظمی کی آواز پہ کھلی تو خود کو ہاسپٹل میں پایا جلال کاظمی سے بات کرتے محب اور اسد اسکے پاپا کہنے پہ چونکے تھے وشمہ نے جب غور کیا تو اسے اپنے یہاں ہونے کی وجہ سامنے نظر آئی تھی
محب۔۔۔۔۔اگر محب نے اسکے ہاتھ کو نا جھٹکا ہوتا. تو اس سوچ سے اک غصے کی لہر وشمہ کے پورے جسم میں دوڑ گئی تھی اسد وشمہ کی سوالیہ نظروں پہ ہڑبڑا گیا اور جلدی سے اسکے پاس پہنچا ۔۔۔۔ وی۔آر رئیلی سوری مس وشمہ یہ سب مس ہیپ شاید ہماری وجہ سے ہوا اور آپکو نقصان اٹھانا پڑا ۔۔اسد نے محب کو بھی اشارہ کیا تھا کے وہ آگے آئے لیکن اسنے تو چپ کا روزہ رکھ لیا تھا مجبوراً اسد کو محب کے حصے کی معزرت بھی خود ہی کرنی تھی اسنے بولنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ وشمہ کی بات سنکے چپ ہونا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔آپ کے دوست اپنی زبان گروی رکھ آۓ ہیں کیا محب اور جلال کاظمی وشمہ کی بات سنکے مسکرا اٹھے تھے باپ کا لحاظ تو وہ رکھ گئی لیکن محب ۔۔۔۔۔وشمہ نے فلاسک میں رکھے فلاز اٹھا کے محب کو دے مارے تھے جو اسکے کشادہ سینے سے ٹکرانے کے بعد فرش پہ گرے اپنی قسمت کو رو دیے اسد کو لگا فلاورز اسے گھور رہے تھے ہمیں اسی ناقدری کیلئے لاۓ تھے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسلان کو اندر آتے ہی عجیب سچویشن کا سامنا کرنا پڑا تھا اپنی بہن کی یہ حرکت اسے اپنے جونئیرز کے سامنے آکورڈ پوزیشن میں لے آئی تھی محب اور اسد اسے سامنے پاکے اک دم الرٹ ہوۓ تھے اور سلوٹ دے جھاڑا سر جھکا کے مؤدب بننے کی کوشش کی گئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زینب اور علی کے منہ سے انوکھی داستان سنکے اسے چپ لگ گئی تھی اس پہ گولی نہیں چلائی گئی تھی بلکہ وہ پہاڑ کے اوپر چڑھنے کی کوشش میں سلپ ہوکے نیچے گری تھی اور پتھر پہ سر پڑنے وجہ سے چوٹ لگی تھی اسے ۔۔۔لیکن زینب میں نے خود آوز سنی تھی اور وہ کلر کی آنکھیں بھی دیکھی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں بیا آپی جب ہم نے کسی کو نہیں دیکھا تو پھر آپ کیسے علی نے بات درمیان میں چھوڑ دی تھی کیونکہ آنی بی اور انکی امّی اسی طرف آرہی تھیں جہاں بیا اداس بیٹھی علی اور زینب سے آج کے واقعے بارے ڈسکس کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ عائشہ خاتون نے اسے کچھ شاپر پکڑائے تھے جسے بیا نے حیرانگی سے دیکھا یہ کیا ہے آنٹی ہماری بیٹی پہلی بار ہمارے گھر آئی ہے اتنا تو ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم اسے اپنی مرضی اور خوشی سے کچھ دے سکیں میرا دل تھا کہ تم اور دن ہمارے پاس رکتی لیکن شورائم نے وعدہ کیا ہے کے وہ دوبارہ تمہیں ضرور لے کے آۓ گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ چھوٹے ہٹلر مجھے دوبارہ لے کے آئیں گے میں کالے پانی کی سزا منظور کر سکتی لیکن ہٹلر کے چھوٹے جانشین کے ساتھ کہیں بھی نا جانے کی قسم کھاتی ہوں۔۔ہمیشہ کی طرح ادھورے وعدے خود سے کرتی عائشہ بیگم سے شکریے کے ساتھ گفٹس وصول کیے۔۔۔
آدھا گھنٹا مزید رکنے کے بعد وہ واپسی کے سفر پہ روانہ ہوۓ
کیا واقعی میں شارٹ ٹرم میموری لوس کر چکی ہوں۔۔۔یا زینب اور علی جھوٹ بول رہے تھے یقینناً اس کلر نے انہیں ڈرایا ہوگا اور تبھی انھوں نے چھوٹے ہٹلر سے بھی جھوٹ بولا حیرت ہے اتنا بڑا ہوکے وہ ان بچوِں کی باتوں پہ بغیر تصدیق کے یقین کرگیا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پہلی بار بیا کے اندازے شاید درست سمت جارہے تھے اور اگر شورائم تصدیق کرتا بھی تو کس سے بیا سچ بھی بولتی تب بھی اسنے کونسا یقین کر لینا تھا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
جنگلی گلابوں کی سرزمین سیاہ چن
میجر ارسلان اس آپریشن کیلئے جتنی لگن اور جزبے سے گلئشیر پہ آۓ تھے اسکے برعکس واپسی کا سفر انکیلئے انتہائی کٹھن مرحلہ لگ رہا تھا انکے مقابلے سپاہی خستہ گل اور رضوان انکے سفر کا تیسرا ساتھی اپنے گھر لوٹ جانے کی خوشی میں مگن اونچے نیچے راستوں پہ چل رہے تھے رہے تھے دو سال سیاہ چن کے کی سخت سردی برداشت کرنے کے بعد وہ اتنے عادی ہو چکے تھے کے برف کی تہہ در تہہ ڈھلوانیں بھی انکو کوئی بڑا مسئلہ نہیں لگ رہی تھیں اگر قراقرم کے پہاڑیوں پہ چڑھائی کی جاۓ تو اس میں بہت دشواری پیش آتی ہے جبکہ گلشئر کا یہ سلسلہ جہاں پہ وہ لوگ موجود تھے زمین کی جانب کا سفر زیادہ تھکا دینے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جیسے جیسے وہ اس جنگلی گلابوں کی سرذمین سے دور ہوریے تھے میجر ارسلان کو اپنے آدھے وجود کا احساس ہورہا تھا کیونکہ انکے کے مقدر میں عشق کا ہجر آیا تھا انکا عشق چاچا عبدو سے شروع ہوکے جنگلی گلابوں کی سرزمین پہ ختم ہوتا تھا وائی قسمت لیکن چاچا عبدو کی موت نے انہیں ٹوٹ پھٹ کا شکار کیا تھا وہ شکستہ دل کے ساتھ زمین سے ہزاروں فٹ اوپر دوسری دنیا سے دلبرداشتہ ہو کے اپنے اصل کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاچا عبدو کی موت کوئی انہونی تو نہ تھی وہ عمر کے جس حصے میں تھے لیکن دنیا کو کون سمجھائے جب دو لوگوں کا جزبہ عشق محب الوطنی ہوتو عبدو چاچا جیسے انول ہیرے صدیوں بعد جنم لیتے ہیں لیکن قدرت کے قانون سے سرکشی انسان کے بس میں نہیں سو ارسلان کو شاید سب سمجھنے میں وقت درکار تھا
کلُ نفسُاً ذائقتہ الموت۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پرانی ہو کر اور بھی عذاب ہوتی جا رہی ہے ![]()
محبّت بے شرم بے حساب ہوتی جا رہی ہے![]()
محب نے موبائل گیلری میں اپنی متاع حیات کو دیکھتے ہوۓ اک ٹھنڈی سانس بھری اور ایک بار پھر سے اپنے نقصان کا جائزہ لیا کیا میں نے غلط کیا اسکے ساتھ؟ ہاں شاید عہدے کی ہوس میں ؟ نہیں شاید عشق حقیقی کیلئے اسنے عشق مجازی سے منہ موڑا تھا؟ نہیں بلکہ اسکے اندر کا روایتی مرد یہ چاہتا تھا اسکی عورت اسے تمام اچھائیوں اور برائیوں سمیت قبول کرے جبکہ اسنے خود کیا کیا تھا مڑ کے اسکا حال تک نہ پوچھا تھا آیا وہ زندہ بھی ہے یا مر مراگئی نہیں وہ دنیا کے ہجوم میں اپنے لیئے کوئی من پسند ساتھی چن چکی ہوگی کیونکہ نا محب کبھی اسکو کوئی آس امید دلائی تھی نا اسنے اپنا حق جتانے کی کبھی کوشش کی تھی وہ تو مجبوری کے بندھن میں بندھ گئی تھی لیکن محب نے یہ رشتہ کیوں استوار کیا جب اسکی ذات میں کوئی دلچسپی نا رکھتا تھا اسکے اندر سوالوں کے سرکش ناگ پھر سے سر اٹھانے لگے تھے محب نے درد کی لہر اپنے سر میں محسوس کی نامحسوس انداز میں اسنے موبائل کو پرے کیا تھا جیسے اسکی یادوں کو خود سے دور دکھیلا ہو ۔شاہ کی باتیں اسکے اردگرد گونجنے لگیں نہ ہم کسی کے رشتدار ہیں نا ہم رشتوں کو اپنی کمزور بنا کے پیچھے ہٹ سکتےہیں۔۔۔۔۔۔۔محب نے تو واقعی اس سے بے پناہ محبت کے باوجود اسکو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا تھا
دونوں کی انا نے ایک خوبصورت رشتے کی بنیادوں کو ابتدا ہی میں ختم کردیا تھا ۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا شاید وہ محب کی طرف سے بہت سی بدگمانیوں کا شکار ہوچکی تھی اس میں قصور سراسر محب کا تھا جسنے دل میں اسکلیئے خوبصورت جزبات رکھتے ہوۓ بھی کبھی اقرار نہیں کیا ان دونوں لوگوں کی ریجڈ سٹون نیچر نے دونوں کو ہی ہجر کی سولی پہ لٹکا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مانسہرہ سے اسلام آباد کے سفر کے دوران وہ لوگ دو پوئنٹ پہ رکے تھے ریفریشمنٹ کیلۓ لیکن میرا موڈ نہیں ہے کہ کے بیا نے کسی بھی طرح انکے ساتھ شمولیت سے انکار کر دیا تھا آنی بی اور شورائم نے اسکے ضدی لہجے کو زرا بھی نوٹس نہیں لیا تھا اور یہی بات بیا کو مزید بھڑکا رہی تھی ایسا بھی کیا کر دیا تھا اسنے جو آنی بی نے بھی اس سے ذرا ہمدردی نہ دکھائی تھی اب میں پکا آنی بی سے بات بھی نہیں کروں گی ہمیشہ والا ادھورا عہد![]()
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
روشنی ولا پہنچتے ہی بیا کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو چکا تھا کاکا کو اپنا سامان اسکے روم میں لانے کا کہہ کے کچن کا رخ کیا شارٹ ٹائم میں بننے والی من پسند ڈش نوڈلز بنائے اور بنا ادھر ادھر دیکھے اپنے کمرے میں جا گھسی پیٹ بھرا تو نہیں تھا لیکن گزارا ہوچکا تھا اور جلد ہی نیند کی پری اس پہ مہربان ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
لفیٹننٹ شاہ، اسد اور محب کو ہیڈ کواٹر میں رپورٹ کرنی تھی انکا مشن پہلے مرحلے میں ہی ناکام ہوچکا تھا اپنی طرف سے انکی پلاننگ بہت اچھی تھی لیکن انکے ہرقدم کی مخبری کی جا چکی تھی اسلیئے کسی طرح بھی وہ دشمن کوٹریپ نہ کرسکے تھے شاہ نے اپنی فطرت کے برعکس جاکے اسد اور محب سے ایکسکیوز کیا تھا بہرحال غلطی اسی کی تھی کسی بھی سولین کا غلطی سے باؤنڈری کراس کرنا اتنا بڑا جرم بھی شمار نہیں ہوتا تھا جتنا شاہ نے ریکٹ کیا تھا
کرنل مبین نے شاہ اور اسکی ٹیم پر اک طائرانہ نگاہ ڈالی اپنی بات کا آغاز کرنے س پہلے۔۔۔
تو ینگ مین آپ آپریشن وجے میں کامیاب نہیں ہوۓ مطلب ہم کسی بھی بڑے سانحے کیلئے تیار رہیں کرنل کی آواز سے جھلکتا غصہ انکی اندرونی حالت کو بیان کرہا تھا انہیں اپنے انتخاب پہ اب بھی یقین تھا کہ شاہ سے بڑھ کے کوئی آپریشن وجے مکمل نہ کر پاتا شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور شاہ بہت جلد انکے یقین کی لاج رکھنے والا تھا۔۔۔۔
پاکستانی خفیہ ایجنسی نے بھارت کی جانب سے بھیج گئے کچھ جاسوس کی ملک کی موجودگی کی اطلاع دی تھی اور ساتھ یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ انکا ٹارگٹ آرمڈ فوردسسز کے حساس ادارے ہیں جنکی پشت پناہی ملکی مقامی باشندے کر رہے ہیں اور کچھ سیاست دان بھی فوج سے کینہ پروری میں ملک سے غداری کرہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
