Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid NovelR50610 Ishq Bara Harjai (Episode 03)
Rate this Novel
Ishq Bara Harjai (Episode 03)
Ishq Bara Harjai by Uzma Mujahid
“بھوک لگی ہے آنی بی۔”
بیا نے آنی بی کو بتاتے ہوے اور ہٹلر کے جانشین کو سنواتے ہوے کہا ۔
“آپ لوگوں کا پیٹ باتوں سے بھر سکتا مگر میرا نہیں.”
اسنے مصنوعی مظلومیت خود پر طاری کرتے ہوے کہا جبکہ چھوٹے ہٹلر کے چہرے پہ اسکی یہ ادا مسکان بکھیر گئ ۔بیا نے فرنٹ مرر میں منظر بخوبی نوٹ کیا اور اپنے ارادوں کو مزید پختہ کرنے لگی۔
اسے تاؤ کا یہ بیٹا شروع سے ناپسند رہا تھا شاید ہی اسے خاندان میں اتنا برا کوئ لگتا ہو جتنا تاؤ جان کا چھوٹا ہٹلر اب تو ناپسندیدگی میں مزید اضافہ ہوچکا تھا جب سے مام ڈیڈ بیا کو اسکے حوالے کر کے گئے تھے پرلے درجے کا لیچڑ آوارہ کیسے بار بار مرر سے گھورتا رہا تھا اسے سفر کے دوران ۔
بہرحال یہ بیا کی زاتی راۓ تھی باقی خاندان کیلئے تو وہ اک آئیڈل بچہ تھا جسکا روم کئی سارے ایوارڈز سے بھرا پڑا تھا ۔
“بیا بیا۔”
آنی بی کے بار بار بلانے پر بھی جب جواب نہ آیا تو انہوں نے اس جھنجوڑا جو چھوٹے ہٹلر کی سوچوں میں گم تھی۔
“آ آں کیا ہے آنی بی ؟”
“چلو اترو ہوٹل آگیا۔”
تب بیا نے اپنے سامنے آشیانہ ہوٹل کے لگزژری ہوٹل کو دیکھا اور اسے خیال آیا کہ وہ کتنا تھکی ہوئ ہے اور ساتھ ہی اپنے انتقام کو عملی جامہ پہنانا تھا اک بجلی کی س کوندی اسکے دماغ اور شرارتی مسکراہٹ نے لبوں کا احاط کر لیا آنی اور چھوٹا ہٹلر آگے بڑھ چکے تھے۔
اسنے سنیکرز کے تسمے ٹھیک کرنے کے بہانے گاڑی کا سہارا لیا اور گھر سے لائ پن کے زریعے گاڑی کے ٹاۂر پنکچر کیے یہی عمل دوسری سائیڈ کے ٹائر کے ساتھ کرنے کو سیلفی کا بہانا لیا گیا ۔
چھوٹے ہٹلر نے اسکو بغور دیکھا کہاں وہ پورا راستہ منہ بنا کے آئ تھی اور اب آتے ساتھ سلفیاں لینا شروع بیا کو آواز دے کے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور واپس ہوٹل کی جانب رخ کیا بیا ویسے بھی اپنا کا نبٹا چکی تھی اسکے پیچھے ہو لی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
محب نے بغور اس لڑکی کا جائزہ لیا جو گاڑی کے آس پاس عجیب حرکتیں کرنے میں مشغول تھی اسنے فوراً شاہ اور اسد کو اپڈیٹ کیا ۔
شاہ کی معلومات کے مطابق دشمنں نے اپنے مقاصد کیلئے کوئ لڑکی ہائر نہیں کی البتہ اسد اپنی فطری تجسس سے مجبور ہوکے بیا کے سر پر پہنچ چکا تھا۔
” اے لڑکی!” کی صدا پر بیا نے حیرانگی سے مخاطب کو دیکھا اسکے بعد ہنسی کا اک غبارہ پھوٹا تھا اب حیران ہونے کی باری اسد کی تھی اسنے بھلا ایسا کونسا جوک سنا دیا تھا اچھا بھلا کنفیڈنٹ بندہ اک منٹ میں کنفیوژ ہوچکا تھا اسنے سرکھجاتے ہوے ادھر ادھر دیکھا بظاہر وہ نارمل دکھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن یہ ڈر بھی تھا کبھی شاہ اور محب اسے دکھ نا لیں اس آکورڈ کنڈیشن میں بیا کا ہنسنے کا شغل جاری تھا لٹرلی شی از میڈ وہ خود کو باور کرواتا وہاں سے ہٹ گیا ۔جبکہ شاہ نے پرسوچ انداز یہ منظر دکھا۔
ہم چھین لیں گے تم سے یہ اداۓ بے نیازی
تم مانگتے پھرو گے اپنا غرور ہم سے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“اتنی دیر لگا دی؟ “
آنی نے اسکے آتے ہی سوال داغا جبکہ چھوٹا ہٹلر نے بغور اسکے لال انار جیسے چمکتے چہرے کو دیکھا جہاں شرارت کی چمک واضع تھی۔
اپنے دل کی حالت پہ کنٹرول رکھتے ہوۓ اس نے دونوں خواتین کو مینیو کارڈ کی جانب متوجہ کیا ۔
بیا کا دل گارڈن گارڈن ہورہا تھا اپنے کارنامے پہ۔چونکہ آنی بی اور چھوٹے ہٹلر کے درمیان گفتگو سے اسے اندازہ ہوچکا تھا کے انکی منزل ابھی دور تھی ۔
بیا کا مانسہرہ کا یہ پہلا ٹور تھا لیکن وہ وہاں کی جغرافیائی حدود سے لے کر ٹورسٹ پوائنٹ سے اچھے سے واقفیت حاصل کرچکی تھی پر اسکی امیدوں پر گھڑوں پانی اس ٹائم پڑا جب اسے پتا چلا کے وہ یہاں تفریحی کیلئے نہیں بلکہ ہٹلر کے جانشین صاحب کے ماموں کے گھر ٹہرنے والے تھے۔
اور یہ جبری ٹور اسکی سمجھ سے بالاتر تھا لیکن خیر جیسے تیسے وہ وہاں آتوچکی تھی کیوں نا تھوڑا ایڈوینچر اور ہوجاۓ آغاز تو وہ کر ہی چکی تھی۔
ویٹر کی جانب سے کھانا سرو کیے جانے پہ وہ آنی بی اور ان صاحب کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
“مانسہرہ دو لفظوں کا مخفف ہے مان راجا مان سہرا سے سے مراد سرکا تاج۔”
آج کا مانسہرہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک شہر ہے۔ سبزہ زاروں، جھیلوں اور چراگاہوں کی یہ سرزمین ہزارہ سے علاحدہ ہو کر 1976ء میں وجود میں آئی۔ موجودہ ضلع بالا کوٹ ایف آر کالا ڈھاکہ، مانسہرہ اور اوگی پر مشتمل ہے۔ ضلع کی سرحدیں کشمیر، شمالی علاقہ جات اور مالاکنڈ ڈویژن سے ملی ہوئی ہیں اور شاہراہِ ریشم بھی اس ضلع سے گزرتی ہے۔ تاریخی طور پر ضلع مانسہرہ سید احمد شہید کی جنگ بالاکوٹ کی و جہ سے مشہور ہے۔ “
لفیٹیننٹ اسد شبیر اک مقامی باشندہ ہونے کے مظاہرہ کرتے ہوے انہیں مانسہرہ کی تاریخ اور جخرافیہ بتانے میں مشغول تھا۔
“زندگی کے ہر شعبے میں ہمہ گیر ترقی ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کا بڑا ذریعۂ معاش جنگلات ہیں جو لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی سنوارنے میں اہم کردار ادا کر ر ہے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی اخلاقی اقدار کے بارے میں بڑے حساس ہیں۔ سیروسیاحت اِس علاقہ کی تیزی سے ترقی کرنے والی منافع بخش صنعت ہے۔یہاں پر بولی جانی والوں زبانوں میں گوجری‘ہندکو اور پشتو شامل ہیں۔۔”
“بس بس تیری مہربانی بس کردے ہم یہاں ہسٹری پڑھنے نہیں بلکہ جاسوس بن کر دہشتگردوں کی کھوج کیلئے آۓ ہیں۔”
محب کی بیزار آواز نے اسد کی شرارتی شہہ رگ پہ ہاتھ رکھ دیا جبکہ شاہ ان دونوں کی بے پرکی سے لاپرواہ گاڑی والی لڑکی کے بارے سوچ رہا تھا ۔
“وہ کیا ہے نا کہ جاسوس صاحب آپکے بی۔لوڈ دہشتگرد آپکے انتظار میں پلکیں بچھاۓ بیٹھے ہیں آئے آپکا انتظار تھا۔”
اسد کے بے ساختہ طنز نے جہاں محب کو تھوڑا شرمندہ کیا وہی شاہ کے چہرے پہ بھی مسکان آئی۔
ظاہری بات ہے جس کام کیلئے وہ آۓ تھے اسکلیے انہییں علاقے کی ہر چیز پر ورک کرنا تھا ۔
جاری ہے۔۔۔۔
