Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272

Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 15) Last Episode

58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 15) Last Episode

Garg Atishi By Atiqa Faiz

“آپ ۔۔۔”خضر اسے نشے میں دھت اپنے کمرے کی دہلیز پر کھڑے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا رانیہ کے ہاتھ میں اب بھی وہ سیل تھا جس میں ویڈیو تھی اور ویڈیو مسلسل چل رہی تھی “آپ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہیں ؟خصر نے کھدرے لہجے میں استفسار کیا اور رخ موڑا تھا وہ لڑکھڑاتے قدموں سے تیزی سے اسکی طرف لپکی اور اسکی پشت سے لگ گئی تھی

“میں ۔۔میرے ۔ساے۔۔ساتھ ایسا ک۔۔۔کیوں کیا؟رانیہ کی آواز نشے سے لڑکھڑا رہی تھی خضر نے اپنے سینے پر جمے ہاتھ سختی سے پیچھے کیا تھا اور باتھ روم کی جانب بڑھا آج اسکو رانیہ کا لمس آگ لگ رہا تھا جس نے پہلی ہی سب خاکستر کر دیا تھا اب بس ضمیر تھا جو کچوکے لگا رہا تھا رانیہ مچل کر واپس اسکے سامنے تن گئی تھی اور اسکے سینے سے جونک کی طرح چمٹی۔

“اب ۔۔۔اب میرا لمس بھی ۔۔۔برا لگ ۔۔۔رہا ہے ۔۔۔یاد یاد ہے تم مجھے یا یہاں ہیں بانہوں میں ۔۔۔لے کر سوتے تھے “رانیہ نے اسکے سینے میں منہ دیتے شکوہ کیا تھا خضر کو اس کے بدن سے اٹھتی مہک ناگوار گزر رہی تھی۔

“وہ پاسٹ تھا اور مجھے نہیں پتا تھا تم اتنا گر جاؤ گی “خضر نے چبا چبا کر کہا تھا اور اسے اپنے سے دور دھکیلا رانیہ نشے میں ہونے کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی اور ڈرسنگ سے لگی موبائل چھوٹ کر گر کر بند ہوگیا تھا ۔۔۔ خضر نے ندامت سے آگے بڑھتے اسکو سہارا دے کر بیڈ پر بٹھانا چاہا تھا ۔۔۔۔ رانیہ نے لڑکھڑا کر اپنا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔

“اب ۔۔۔اب کیوں لگا رہے ہو مجھے ہاتھ یو ۔۔۔”وہ اس سے پہلے کچھ کہتی

رانیہ ۔۔۔”شہناز کی تیز چنگھاڑ پر خضر نے کرنٹ کھا کر پیچھے دیکھا تھا جہاں شہناز بیگم کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہوئے جا رہا تھا اور حورعین کی آنکھوں میں بےیقینی تھی وہ یک ٹک صدمے سے خضر کو دیکھتی ہی جا رہی تھی۔ اور آنکھوں میں آنسو لئے وہاں سے الٹے قدموں بھاگ گئی ۔

“جی ساسو ماں ۔۔حکم دیجئے …”رانیہ نے کورنش بجا لاتے ہوئے پوچھا تھا اور بےتحاشا مسکرانے لگی وہ بالکل فراموش نہیں ہوئی تھی اپنا آپ اور ماحول کی سنگینی شہناز بیگم نے افسوس و تنفر سے دونوں کو دیکھا تھا اور وہیل چئیر واپس موڑی ۔

امی؟خضر نے اٹکتے ہوئے شہناز کو پکارا تھا لمحہ بھر کیلئے شہناز نے خضر کی جانب دیکھا تھا انکی آنکھوں میں بکھرے مان کی کرچیاں تھیں۔ خضر کو اپنے تہی دامن ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا

“جب تم دونوں اس گندگی سے نکل کر ہوش میں آجاؤ تو بات کر لینا مجھ سے “انہوں نے پتھریلے لہجے میں کہا تھا اور وہاں سے چلی گئیں رانیہ لڑکھڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی تھی اور خضر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

___________________

اگلی صبح شہناز بیگم کا چہرہ سپاٹ ہو رہا تھا سامنے پر اعتماد رانیہ اور شرمندہ سا خضر بیٹھا تھا البتہ حورعین رات سے کمرے میں سے نکلی نہیں تھی۔۔۔۔

“کل رات جو ہوا”شہناز بیگم نے تمہیدانہ بات کا آغاز کیا تو رانیہ نے نخوت سے انکی بات کاٹی تھی

“کل رات جو ہوا اسکو چھوڑئیے کیوں ہوا یہ دیکھ کر آپکو سب اندازہ ہو جائے گا “رانیہ نے خضر کی طرف مکاری سے دیکھتے ہوئے موبائل شہناز بیگم کی جانب بڑھایا تھا ۔۔۔ یہ الگ الگ مقامات کی چند منٹوں کی ویڈیو ملی ہوئی تھی جس میں خضر اور اسکا ملاپ ‘پھر معاہدے کے بارے میں باتیں ‘حورعین کو عباد کے سامنے کرنے کی پلاننگ ‘اور کل والی ملاقات سب تھیں ۔۔۔خصر صم بکم بیٹھا تھا جیسے اسکو سانپ سونگھ گیا ہوا۔۔۔ شہناز بیگم کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گر گیا تھا اور انکا ستا چہرہ آنسوؤں سے بھیگنے لگا۔

“تم سب جتنی بھی چالیں چل لو آخری جیت والا مہرہ رانیہ کسی کو نہیں دے گی “رانیہ نے اٹھ کر موبائل اٹھاتے ہوئے مغرورانہ کہا تھا اور ان دونوں کی حالت سے حظ اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔۔ لاؤنچ میں موت جیسا سکوت تھا ۔۔۔ خضر کافی دیر بعد لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے شہناز بیگم کی وہیل چئیر کے پاس آکر بھیگی آنکھیں لئے بیٹھا تھا شہناز بیگم نے اشکوں سے تر بھیگا چہرہ اٹھا کر اسکی جانب ملامتی انداز میں دیکھا۔

“چٹاخ ۔۔۔۔ “آنا فانا انکا ہاتھ اٹھا تھا اور خضر کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا ۔خضر نے لب کاٹا تھا لیکن کچھ کہہ نہ سکا۔

“میرے پیچھے آنے کی کوشش مت کرنا خضر ۔۔۔”وہ اپنی وہیل چئیر گھسیٹتے انتہائی سختی سے کہہ کر چلی گئی تھیں۔خضر اٹھا تھا اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتا نکل گیا

_______________

رانیہ اپنے بیٹے ذین کو لے کر محض شہناز بیگم کو اذیت دینے کے لئے باہر ملک چلی گئی تھی۔۔۔ شہناز بیگم کو کیا اثر ہونا تھا بھلا انکو تو خضر کا دیا زخم تڑپائے رکھتا انہیں اپنی تربیت سے اتنے گھٹیا پن کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔ حورعین بھی چلے جانا چاہتی تھی لیکن شہناز بیگم کے اکیلے پن نے اسے جانے نہیں دیا ۔۔۔۔ قدسیہ کو سچائی معلوم ہونے کے بعد وہ شہناز بیگم اور حورعین کو اپنے گھر لے آئی تھیں انہیں بھی خضر سے ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی وہ لاکھ لاکھ اپنے رب کا شکر ادا کرتی تھیں کہ خضر جیسے فتنے کی شادی بینش سے نہیں ہوئی ۔۔۔۔ خضر ان دونوں کو بارہا لینے آیا تھا لیکن شہناز بیگم اسکو دیکھ کر منہ پھیر لیتیں اور قدسیہ بیگم کی آنکھوں میں تنفر اسکو حقیقی شرمندگی میں ڈال دیتا تھا ۔خضر ان لوگوں کو سپیس دینے کے لئے اسپیشلائزیشن کی غرض سے یو ایس چلا گیا اور پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کی دکھ سکھ کی ساتھی بن گئیں ۔۔۔۔مگر خضر کا دیا گھاؤ شہناز بیگم کو اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔ حورعین کے امید سے ہونے کی خبر اس تک بھی پہنچی تھی لیکن بینش کے ذریعے وہ شہناز بیگم اور حورعین سے باتیں کرنے کے لئے فل مسوس کر رہ جاتا تھا اسکی حورعین سے ایک بار بھی بات نہیں ہوئی تھی البتہ ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر شہناز بیگم کبھی کبھار کر لیتی تھیں

___________________

چند سال بعد

خضر نے کار سے اتر کر اندر قدم رکھا تھا اسکی آنکھوں میں تھکن اور نمی بھری تھی وہ مزید صحت مند اور خوبصورت ہو گیا تھا۔گیٹ کے اندر پرسہ دینے آئے مرد حضرات لان میں بیٹھے تھے جن میں عباد ‘رانیہ کو کرسچن شوہر رابرٹ بھی تھا البتہ بینش کا شوہر راحم ادھر ادھر انتظامات دیکھ رہا تھا۔۔ خضر کو دیکھ کر اسکی جانب لپکا

بڑی دیر سے آئے آپ ۔۔۔وہ آپکی راہ دیکھتیں چلی گئیں “

“کیا انہوں نے میرا پوچھا تھا”خضر نے آہستہ سے پوچھا بہت مشکل تھا اپنی بھرائی آواز پر قابو پانا

“زبان سے ایک لفظ نہ بولیں لیکن محبت آنکھوں سے ظاہر نہ ہو تو محبت کیا کہلائے “ارحم نے ناصحانہ انداز میں کہا تھا اور ایک آدمی کی پکار پر اس طرف بڑھا ۔۔۔ خضر من من بھر پاؤں لئے تھکا ماندہ دروازے کو کھولتا اندر آیا تھا اندر کافور اور اگر بتیوں کی ملی جلی خوشبو بسی ہوئی تھی ہلکہی ہلکی سسکیوں کی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی سامنے لاؤنچ کے صوفے وغیرہ اٹھا کر دریاں بچھائی گئی تھیں بیچ میں جنازہ رکھا تھا اور اس پاس پرسے کے لئے آئی عورتیں بیٹھی تھیں انہی میں اس نے بینش کو دیکھا وہ قدرے فربہی مائل ہو گئی تھی اور روپ بھی نکھر گیا تھا لیکن اس وقت اسکی آنکھیں سرخ تھیں اسکی گود میں چند ماہ کی بچی تھی ۔۔ انہی پرسہ دینے والیوں میں اس گھرانے کو برباد کرنے والی رانیہ بھی تھی رانیہ اور خضر کی آنکھیں چار ہوئیں تو رانیہ نے دل کے شور سے اور خضر نے نفرت سے نظریں چرائی تھیں ۔۔۔ رانیہ نے ایک اور کینیڈا میں ہی ایک اور شادی کر لی تھی اور ذین کو وہیں بورڈنگ میں ڈال دیا تھا ۔

خضر قدم قدم چلتا میت کے پاس آیا تھا۔کفن دفن ہو چکا تھا خضر نے دھڑکتے دل کے ساتھ میت کا چہرہ دیکھنا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی قدسیہ اسکی جانب لپکی تھی اور سینے سے لگ کر سسکیاں لینے لگی

خضر نے سوچا کیا اسکو چہرہ دیکھنا اب بھی نصیب نہیں ہو گا کتنا تڑپا تھا وہ ان دونوں کو دیکھنے کے لئے اور آج بھی ۔۔۔۔خضر نے نم آنکھوں سے قدسیہ کی پشت پر تھپکیاں دیں وہ چاہ کر بھی رو نہیں سکتا تھا مرد تھا ناں ۔۔۔ ہمارے معاشرے میں مردوں پر یہ جملہ رائج کرکے کہ مرد کو درد نہیں ہوتا کسی مرد کو بے حس کسی کو سنگدل کسی کو بےدرد بنا دیا ہے اب مرد رونا بھی چاہے پچھتانا بھی چاہے تو اسکی انا کا مسلہ بن گیا ہے (مرد کو درد نہیں ہوتا)کے مصداق وہ بھی بس لب بھینچ کر اپنے جذبات کو قتل کر رہا تھا اپنے دکھ کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ بینش نے آکر قدسیہ کو سنبھالا دیا تھا

“خضر زرا جا کر حوریہ کو دیکھنا وہ رو رہی ہے “بینش نے اسکی جانب آکر سرگوشی کی تھی ۔

“وہ کہاں ہیں ؟”خضر نے پوچھا تھا

“وہ بھی اندر ہی ہیں”بینش نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا خضر اسکے لہجے پر خائف سا ہوتا پلٹ کر اندر کمرے میں آیا تھا کتنے سالوں بعد وہ اپنی ماں کے کمرے کی دہلیز پار کر رہا تھا اور ایک وقت تھا کہ اس کمرے میں حاضری دیے بنا وہ ایک رات نہ گزارتا تھا ۔۔۔ اس نے دیکھا پورے کا پورا کمرہ ایسا ہی تھا لیکن اس میں حوریہ کے کھلونوں کا اضافہ ہو گیا تھا ۔۔۔بیڈ پر دو سالہ حوریہ ضد میں ادھر ادھر کھلونے اٹھا کر پھینک رہی تھی اور بیڈ کے بلکل ساتھ رکھی وہیل چیئر پر شہناز بیگم جو کافی کمزور ہو گئ تھیں اسکو بہلانے کی کوشش کر رہی تھی

اپنے پیچھے کھٹکا پاکر مڑی تو وہ خضر کو اپنی دہلیز پر اتنے سالوں بعد دیکھ کر تڑپ اٹھی تھیں۔۔۔ انہوں نے ممتا کے ہاتھوں مجبور ترس کر بانہیں وا کر دیں وہ بھی بھاگ کر اس میں بچوں کی طرح سما گیا تھا ۔۔۔ حوریہ گھر میں نئے شخص کی آمد پر آنکھیں پٹپٹا کر ان دونوں کو دیکھنے لگی

معاف کر دیجیے مجھے ۔۔۔۔امی مجھے معاف کر دیجئے امی “وہ تڑپ کر ایک ہی گردان کئے جا رہا تھا۔

“میری بوڑھی ہڈیوں میں جان نہیں خضر کے اب مزید کچھ سہہ سکوں تمہاری جدائی اور حورعین کی جوان موت نے مجھے توڑ دیا ہے میں مزید نفرت نہیں کر پاؤں گی میں اکیلے نہیں رہ پاؤں گی “انہوں نے بھی ہچکیوں سے روتے ہوئے اپنی بےبسی کا اظہار کیا تھا خضر نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں اسکو تو بس یہ اطمینان تھا کہ اتنے عرصے بعد وہ انکی آغوش میں آگیا تھا ایک جلن پر ٹھنڈی میٹھی پھوار پڑ گئی تھی لیکن ایک زخم سے اب بھی خون رس رہا تھا حورعین ۔۔۔ اس نے زرا کی زرا الگ ہوکر حوریہ کو گود میں اٹھایا تھا ۔وہ بھی بلاچوں چراں اسکی گود میں آگئی تھی۔۔۔ اور اپنے ننھے ہاتھوں میں خضر کا چہرہ لیا

یہ پہچانتی ہے مجھے ؟؟خضر کے لہجے میں سرخوشی سی تھی شہناز بیگم نے سرد آہ بھری ۔

ہاں ۔۔حورعین روز کئی بار تمہاری تصویر اسکو دکھاتی تھی اور۔۔۔شہناز کی آواز بھرا گئی تھی خضر کی آنکھوں میں بھی نمی چمکی تھی حورعین کی ناگہانی موت اسکے لئے بھی کسی شاک سے کم نہیں تھی وہ حوریہ کو سینے سے لپٹائے واپس لاؤنچ میں آیا تھا اور حورعین کا چہرہ دیکھنے لگا تو قدسیہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔ رانیہ کو اس لمحے بھی کمینی سی خوشی نے آگھیرا

“نہیں ۔۔۔ اب تم اسکو نہیں دیکھ سکتے “قدسیہ نے روہانسی آواز میں کہا تھا

کیوں ؟؟”وہ پہلی بار کرلایا تھا

“نامحرم ہو چکی ہے یہ اب تمہارے لئے اسکی وفات ہوتے ہی نکاح ختم ہو گیا تھا “ایک بڑی سیانی عورت نے اسے پیار سے سمجھایا تھا خضر نے تکلیف سے آنکھیں بند کی تھیں اس نے آگے بڑھ کر بینش کی گود میں حوریہ کو دیا تھا بینش نے خضر کے اس اقدام سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

اسکو حورعین کو اتنا دکھا دو کہ کبھی جو مجھے اسکی ماں کی یاد آئے تو اسکی آنکھوں میں بسا اسکی ماں کا عکس میں دیکھ سکوں “خضر نے ٹوٹ ٹوٹ کر لفظ ادا کئے تھے۔۔۔بینش کی آنکھوں میں نمی چمکی

اس نے اب سب کا سامنا بھی تو کرنا تھا سب سے ملنا بھی تھا باہر نکلتے ہوئے اس نے ایک عورت کی پکار سنی تھی

“اسکے میکے تو بتا دیتے “

اطلاع دی ہے وہ کہتے کل پرسوں تک ہی پہنچ پائیں گے “جواب رانیہ نے دیا تھا وہ تھکے ٹوٹ چکے وجود کے ساتھ وہ مردانے میں آگیا تھا ۔

______________

رات میں بستر پر حوریہ کو لٹاتے اسکو حورعین کی بات یاد آئی تھی۔

بے آرام آپ سو رہے ہیں اور پوچھ مجھ سے رہے ہیں “حورعین کی یاد نے اسکے لبوں پر زخمی مسکراہٹ بکھیری تھی خضر نے سوئی حوریہ کے نرم سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسکا ماتھا چوما تھا

“آپ سے دھوکے کی پاداش میں میں ساری عمر بےسکون رہوں گا لیکن حورعین یہ میرا وعدہ ہے ہماری بیٹی کی زندگی میں ہمشہ سکون دیتا رہوں گا “اس نے دلگرفتگی سے کہہ کر لائٹ بند کر دی تھی اور حوریہ کو سینے میں چھپاتے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگا.

ہر پیار بھری کہانی کا اختتام ضروری تو نہیں صرف ملن ہی ہو میں نے محبتوں میں جدائ ہی دیکھی ہے

_________Thë Ëñd__________