58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 04)

Garg Atishi By Atiqa Faiz

رانیہ نے اپنی جانب کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے پہلے عباد کو اور پھر کوفت سے خراب موڈ لئے کھڑی اسکے پیچھے حورعین کو دیکھا تھا۔۔۔۔

اتنی گرمی میں کہاں خوار ہو رہے ہو ؟رانیہ نے اس سے دوستانہ انداز میں پوچھا تھا عباد تھوڑا خجل ہوا۔۔۔۔

وہ میم ۔۔بس اچانک نجانے کیا ہو گیا اسکو ۔۔۔

اوہ ۔۔۔۔ہو جاتا ہے ایسا کبھی کبھی ۔۔۔آو میں تم دونوں کو ڈراپ کر دیتی ہوں

میم نہیں ۔۔۔کوئی بات نہیں ۔۔۔عباد نے مروتا انکار کیا تھا رانیہ نے ہلکا سا نفی میں سر ہلایا

ارے نہیں کوئی بات نہیں ۔۔۔۔تم آؤ دونوں ۔۔۔۔بیٹھو ۔۔۔

غرض انکے بےحد اصرار پر وہ انکی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔عباد رانیہ کی ساتھ والی سیٹ جبکہ حورعین پیچھے بیٹھ گئی تھی اور تیکھی نظروں سے عباد کو گھور رہی تھی عباد نے اسکی نظروں کو بھانپ لیا تھا لیکن انجان بنا رہا البتہ رانیہ نے اب تک خاموش بیٹھی جلتی کڑھتی حورعین سے پوچھا تھا

تمہارا نام کیا ہے ؟؟

جی ۔۔۔۔وہ چونکی ۔۔۔میرا نام حورعین ہے ۔۔۔وہ زبردستی مسکان لبوں پر سجائے بولی

نائیس نیم ۔۔۔۔رانیہ نے سر دھنا ۔۔۔۔

ایکسکیوزمی میم ۔۔۔میری بس یہاں ہی آئے گی آپ مجھے یہاں اتار دیجئے ۔۔۔حورعین نے کہا تھا عباد گڑبڑا گیا

ارے تم یہاں کیوں ۔۔۔۔۔؟

مجھے پہلے ہی دیر ہو گئی ہے حورعین نے لٹھ مار لہجے میں کہا تھا

“مگر ۔۔۔۔”وہ گھگھیایا ۔۔۔۔

“پلیز میم اسکو اسکے گھر تک ڈراپ کر دیجئے گا “حورعین نے کہا تھا رانیہ نے ہنسی دبائی ۔۔۔۔عباد کی صورت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔۔۔حورعین نے کار کا دروازہ کھول کر باہر قدم رکھا تو تیز چلچلاتی دھوپ سے اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا لیکن اسے اپنی انا کا جھنڈا سر بلند رکھنا تھا عباد نے اسے باہر نکلتے دیکھ کر جانا چاہا تو رانیہ ایک دم بول پڑی تھی

“رکو عباد ۔۔۔۔مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے “حورعین جو عباد کو اپنے پیچھے آتے دیکھنے کی متمنی تھی اسکے یوں رکنے پر کلستی ہوئی کار سے دور ہو گئی اب پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے اسکے قدم من من کے ہو رہے تھے

کراس بیگ کندھے پر لٹکائے وہ چلا ہی جا رہا تھا کہ اسکی نظر اچانک اپنی شرٹ کی جیب پر گئی تو اسکا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔شہناز بیگم نے اسکو جو بہت چاہ سے گفٹ کیا تھا وہ پین غائب تھا اسے اچھے طریقے سے یاد تھا کہ کلاس میں سے نکلتے ہوئے اس نے وہ پین اپنی جیب میں اڑسا تھا کینٹین تک آتے آتے کہاں گیا ۔۔۔۔اسے اچانک آڈیٹوریم کے سامنے کریم سے اپنا ٹکرانا یاد آیا تھا ۔۔۔شاید اسی مڈبھیڑ میں وہ پین وہیں گر گیا تھا اسلئے یہی سوچ کر اس نے آڈیٹوریم کے پاس جا کر دیکھنے کا سوچا ملتا ملتا ورنہ تو اس نے گمشدہ چیز پر قل ہی پڑھنے تھے ۔۔۔۔: آڈیٹوریم کے سامنے جس جگہ وہ کریم سے ٹکرایا تھا وہاں دو لڑکیاں کھڑی تھیں جن میں سے ایک کے ہاتھ میں اسکا پین دوسری کی ناک پر تکبر اور نخوت تھہری ہوئی تھی ۔۔۔۔ان دونوں میں گرما گرم بحث جاری تھی ایک کو تو وہ اچھی طرح جانتا تھا کیونکہ وہ اسکی ہم جماعت یسرہ تھی اور اسکی بہت اچھی دوست تھی دوسری جس کے ہاتھ میں ہیں تھا شاید جونئیر تھی اسلئے وہ اس سے یکسر انجان تھا۔۔۔۔چند ایک کالج کے دوسرے طالبعلم بھی اب وہاں اکٹھے ہونے لگے تھے

وہ حالات حاضرہ جاننے کی غرض سے آگے آیا تو یسرہ کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔۔

“میں کہہ رہی ہوں ناں یہ میں دے دونگی “اسکی آواز میں جھنجھلاہٹ تھی

میں کیسے یقین کرلوں ؟؟اس لڑکی نے تیکھے سے جواب دیا تھا اور پین واپس اپنے ہاتھوں میں گھمایا “یہ کسی اور کی امانت ہے “

“یہ صرف ایک پین ہی ہے کوئی تجوری کی چابی نہیں جو تم اتنی حجتیں کر رہی ہو”یسرہ چڑی تھی

“تجوری کی چابی ہی لگ رہی جو تم اتنا اصرار کر رہی ہو”

اوہ۔۔۔۔۔ہہہ۔۔۔اچھا اااااا۔۔۔۔یسرہ نے اچھا کو لمبا کرکے کھینچا تھا جان گئی ہوں میں خضر کے سامنے امپریشن جمانا چاہتی ہو ناں تم ۔۔۔۔تم عام صورت لڑکیوں کو بس موقع چاہیے ہوتا ہے خضر کے سامنے شیخی بھگارنے کا “یسرہ کا لہجہ تیز اور ہتک آمیز تھا حورعین تلخ سا مسکرائی ۔۔۔

کتنے بیوٹی کمپاٹیشن جیت چکی ہیں آپ ۔۔۔۔اسکے غیر متوقع ٹھنڈے اور ناصحانہ لہجے پر یسرہ چونکی تھی ۔۔۔

کیا۔۔۔؟

کتنے بیوٹی کمپاٹیشن میں حصہ لے چکی ہیں اپ؟اب اسکے لہجے میں استہزاء کی آمیزش تھی طالبعلموں میں دبی دبی ہنسی گونجی تو یسرہ کا چہرہ ہتک سے سرخ ہوا تھا ۔۔۔اور جواب نہ بننے پر لب بھینچ لئے ۔۔۔

“سنئیے ۔۔۔اپ میں سے جو بھی ان “دیو مالائی حسن و جمال” رکھنے والے “ان” صاحب کو جانتے ہیں جنکا انہوں نے نام لیا ہے پلیز یہ پین انکو دے دیجئے گا “اس نے چھوٹے سے جھمگٹے کی جانب متوجہ ہو کر تیز لہجے میں کہا تھا اور جس نے اثبات میں سر ہلایا تھا اسکو پین پکڑا کر ایک طنزیہ مسکراہٹ یسرہ کی طرف اچھالتی وہاں سے چلی گئی

چند قدم آگے جا کر اس نے خضر کو پین لیتے دیکھا تھا اور تبھی خضر کی نظریں بھی اس سے چار ہوئی تھیں

خضر کو خلاف توقع اسکی آنکھوں میں پسندیدگی و ستائش تک کا شائبہ تک نہ نظر آیا تھا

جو وہ دیکھنے کا عادی تھا ۔۔۔۔بلکہ اسکی نگاہیں بےتاثر تھیں اور وہ سر جھٹکتی آگے نکل گئی تھی ۔۔۔

“سنئے۔۔۔۔”اس واقعے کے تین دن بعد وہ چھٹی کے وقت اس کو گیٹ سے تھوڑی دور کھڑی دکھائی دی تھی وہ کالج میں اسی سال آئی تھی اور آرٹس کی سٹوڈینٹ تھی خضر کی پکار پر اس نے زرا کی زرا پیچھے مڑ کر دیکھا تھا

“تھینک یو “خضر نے مسکراہٹ کی جگہ دکھائی

“جی۔۔۔”

“کیا آپ سے ایک بات پوچھ سکتا ہوں ؟”

“جی پوچھئیے “

“جب آپ نے وہ پین ازخود مجھے نہیں دینا تھا تو یسرہ کوبھی کیوں نہیں دیا؟؟”

” مجھے آپکا یہ” دیو مالائی” حسن دیکھنے کا شوق نہیں تھا ۔۔۔۔وہ سوچ ہی سکی لیکن کہہ نہ پائی البتہ اس نے یسرہ کا نام سنتے ہی ماتھے پر تیوری چڑھا لی تھی

اسکو کوئی امانت نہیں سونپی جا سکتی ایک دن اسی کی ہم جماعت جیا کے نوٹس ملے تھے مجھے ۔۔۔اس نے کہا کہ وہ جیا کو دے دے گی لیکن اس نے جیا کو دینے کے بجائے خود رکھ لئے اور جیا کو کہہ دیا کہ یہ نوٹس اسکے نہیں۔۔۔اسطرح اس نے جیا کی محنت اپنی طرف کرلی۔۔۔۔تو آپ سمجھتے ہیں انکو امانت دینی چائیے “یسرہ کے بارے میں سن کر اسکو حقیقتاً افسوس ہوا تھا

اور اس نے بے اختیار نفی میں سر ہلایا ۔

اسلئے میں نے بھی نہیں دیا ۔۔۔اکثر چھوٹی سے چھوٹی بڑی سے بڑی چیز سے ہمارے جذبات جڑے ہوتے ہیں اسلئے جس کی جو امانت ہے اس تک پہنچانا ضروری ہو جاتی ہے”

۔۔۔۔۔خضر نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور مڑ کر گیٹ کے پار دیکھنے لگی شاید اسکو لینے آگیا ہو کوئی ۔۔۔۔مگر ابھی تک کوئی نہ آیا تھا ۔۔۔

آپکا نام کیا ہے؟

“حورعین ۔۔۔”اس نے یک لفظی جواب دیا تھا

خضر نے بھی اسکی آنکھوں میں کوفت اور کسی کا انتظار بھانپ لیا تھا اسلئے پوچھا ۔۔۔۔

سنئے آپکے پاس فون ہے ؟؟

خضر کے اچانک و غیر متوقع سوال پر اسکا ماتھا ٹھنکا

“نہیں میں فون نہیں رکھتی ۔۔۔۔اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا تھا خضر نے زیرلب مسکراہٹ دبائی۔۔۔کیونکہ بیگ میں اسکا موبائل بجا تھا وہ اپنے سفید جھوٹ کا پول کھلنے پر وہاں سے تیز تیز قدم اٹھاتی گیٹ کے قریب گئی تھی ۔۔۔۔جہاں یسرہ کھڑی جلن کے مارے اس کو خضر سے باتیں کرتے ہوئے آگ اگل رہی تھی ۔۔۔وہ زرا کی زرا اسکے پاس کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

سنو ۔۔۔وہ “دیوتا “تمہیں ہی مبارک ۔۔۔کیونکہ آئی ہیو اے بوائے فرینڈ”وہ مزے سے طنزیہ کہہ کر دھواں دھواں چہرہ دیکھے بنا وہاں سے چلی گئی تھی

وہ خیالوں سے چونکا۔۔۔۔آج اسپتال میں اسکا تھوڑا سر درد ہونے لگا تھا تو وہ اپنے کیبن میں بیٹھ گیا تھا اور سوچتے سوچتے نجانے کب وہ خیالوں میں کھو گیا تھا ۔۔۔

“حورعین ۔۔۔۔”اس نے زیرلب نام دہرایا…اور گہرا سانس لیا تھا

رات دھیرے دھیرے پنگھل رہی تھی کمرے کی فضا میں تازہ گلاب کی مہک رچی ہوئی تھی حورعین نے کروٹ لے کر بے آرامی سے صوفے پر سوئے خضر کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اسی وقت خضر نے آنکھوں پر سے کہانی کو ہٹا کر اسے دیکھا تھا وہ نظریں چرا کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔

“کیا ہوا ؟۔۔۔۔۔کوئی تنگی تو نہیں آپکو ۔۔۔۔”خضر نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلایا تھا

“پوچھنا تو مجھے آپ سے چاہیے کیونکہ میرے سے زیادہ بےآرامی میں تو آپ ہیں اس وقت ۔۔۔۔”حورعین کا اشارہ اسکے صوفے پر سونے کی طرف تھا

“یہ وقت و حالات کا تقاضا ہے “خضر نرمی سے مسکرا کر اٹھ بیٹھا جوڑ جوڑ تو اسکا بھی دکھ رہا تھا

“حالانکہ میں نے تو کوئی قدغن نہیں لگائی آپ پر …..یہاں سو سکتے ہیں “

سو جاؤں ۔۔۔۔سچ میں ۔۔۔۔خضر نے شرارت سے پوچھا تھا

جی ۔۔۔ میں زمین پر سو جاؤں گی ۔۔۔۔حورعین کے ہونٹوں پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی خضر بھی مسکرایا ۔۔۔

ارے نہیں ۔۔۔۔بندہ بشر ہوں بہک گیا تو کیا ۔۔۔۔۔خضر نے آہستہ سے کہتے ہوئے صوفے کی ہتھی پر اپنا کشن درست کیا تھا اور لیٹ گیا ۔۔۔۔وہ بدستور بیڈ کراؤں سے ٹیک لگائے بیٹھی رہی ۔۔۔

کیا ہوا نیند نہیں آ رہی ؟؟؟

“نہیں ۔۔۔”اس نے نفی میں سر ہلایا تھا

باتیں کرنی ہیں ۔۔۔

باتیں کرنے کو ہیں کیا ؟؟؟

“بہت ۔۔۔..”خضر نے اسکو نظروں کے حصار میں لیتے محبت سے کہا تھا وہ گڑبڑا گئی

“نہیں۔۔۔۔۔۔مگر مجھے نیند آرہی ہے”وہ جلدی سے کروٹ لے کر لیٹ گئی ۔۔۔

“کس مشکل میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔”اس نے اپنا دل خضر کے لئے موم ہوتے ہی اپنے ذہن پر ابھرنے والی صورت سے جھنجھلا کر شکوہ کیا تھا ۔۔۔۔اور سونے کی کوشش کرنے لگی