58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 02)

Garg Atishi By Atiqa Faiz

۔۔۔۔۔احمر کو رانیہ بھا گئی تھی رانیہ مادر پدر آزاد ایک چھوٹی موٹی ماڈل تھی اور احمر کی ملاقات اس سے ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ہوئی تھی جس میں وہ ایک سین کی کے لیے لی گئی تھی ۔۔۔احمر اسکو دیکھتے ہی اس پر فدا ہو گیا تھا اور رانیہ احمر کی خوبصورتی و دولت سے ۔۔۔۔احمر نے اظہار محبت کرنے اور رانیہ کے اقرار کرنے کے بعد فورا ہی شہناز بیگم سے بات کی تھی شہناز بیگم تو پہلے ہی احمر کے شوبز دنیا سے جڑنے پر تھوڑی نالاں رہتی تھیں یہ سن کر تو انکا جو ڈر تھا کہ احمر کو کوئی بےحیا ڈراموں میں کام کرنے والی نہ پھنسا لے سچ ثابت ہوا تھا انہوں نے منانے کی کوشش بھی کی مگر احمر اپنی بات پر ڈٹ گیا تھا ۔۔۔۔رانیہ کا جادو سر چڑھ کر بولتا تو احمر روٹھ کر دو دو دن گھر نہ آتا بلآخر شہناز بیگم کو ہتھیار ڈالنے پڑے ۔۔۔۔اور انہوں نے رانیہ کے لئے حامی بھر دی رانیہ انکی سوچ کے برعکس ایک اچھی بہو ثابت ہوئی تھی اس نے شہناز بیگم کے سارے خدشات مٹا دئیے تھا مگر رانیہ کے پہناوے پر انکو اعتراض تھا کیونکہ خضر کی موجودگی میں ایسے لباس مناسب نہیں لگتے تھے شہناز نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اسکو متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی تھی وہ کچھ دن تمیز والے کپڑے پہنتی اور پھر پرانی ڈگر پر واپس ۔۔۔رانیہ احمر اور خضر کا بہت خیال رکھتی تھی اور ہر کام ٹائم پر ہو جاتا تھا ۔۔۔پھر شادی کے ایک سال بعد احمر اور رانیہ کی زندگی میں ذین آیا تو پورے گھر میں بچے کی قلقاریوں میں شہناز بیگم سب بھول گئیں ۔۔۔۔خضر کی بھی ہاؤس جاب شروع ہو گئی تھی تو انہوں نے سوچا کیوں نہ اب خضر کی بھی بہو کے آئی جائے ۔۔۔ایک دھڑکا انہیں خضر اور بینش کی آپسی دوستی دیکھ کر ہی لگا رہتا تھا کہ کہیں خضر ۔۔۔۔

تائی جان ۔۔۔انہوں نے بینش کی آواز پر پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔اور بغور بینش کو دیکھا وہ سانولی ضرور تھی مگر تیکھے نین نقش کے ساتھ پرکشش لگتی تھی دراز قد متناسب سراپا اور شلوار قمیض کے ساتھ ڈوپٹہ چاہے سر پر نہیں مگر شانوں پر گرانے کے بجائے سلیقے سے پہنا ہوتا جس سے اسکی رعنائیاں چھپ جائیں ایم بی اے کرنے جا رہی تھی ۔۔۔ہاتھوں میں چوڑیاں ۔۔۔اسے چوڑیاں بہت پسند تھی ۔۔۔بے حد باتونی ۔۔۔اور پر اعتماد ۔۔۔وہ کسی کا بھی آئیڈیل ہو سکتی تھی مگر ۔۔۔انہوں نے پھر سوچا ۔۔۔میرے خضر کے برابر تو نہیں ۔۔۔ اللّٰہ نے اسے حسن سے نوازا ہے اور ۔۔۔

تائی امی ۔۔۔بینش نے ایک اور آواز دی تو وہ ہڑبڑا کر اب حقیقتا ہوش کی دنیا میں آئی تھیں ۔۔۔بینش متفکر سی کمرے میں آئی اور انکی پیشانی کو چھوا ۔۔

آپکی طبعیت تو ٹھیک ہے ناں ؟…..

ہممم۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں ۔۔۔انہوں نے نرم مسکراہٹ سے بینش کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر پریشانی تھی ۔۔۔

تائی امی ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ خضر کہاں ہے؟وہ کس قدر شہناز کے ذہنیت سے واقف تھی اسلئے ہچکچاتے ہوئے پوچھا

سو رہا ہے جا کر اٹھا دو ۔۔۔شہناز نے اسکو جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا بینش نے چند سیکنڈ لئے بنا ہی مسکرا کر کہا تھا

“نہیں تائی جان مناسب نہیں لگتا …آپکو میں وہیل چئیر پر بٹھا دیتی ہوں آپ اٹھا دیجئے گا ۔۔۔۔شہناز بیگم مسکرا اٹھیں ۔۔۔۔اسے بینش کی یہ محتاط پسندی بہت اچھی لگتی تھی وہ دوستی لڑکیوں کی طرح ایسا کوئی موقع نہیں چاہتی تھی ۔۔۔خضر سے دوستی ہونے کے باوجود وہ اس سے ایک فاصلے پر رہتی تھی ۔۔۔۔

ہاں بٹھا دو پھر ایک کام کرنا اپنے گھر سے اپنی امی کا بنایا تیل کا کر لگانا میرے سر میں ۔۔۔۔

جی ٹھیک ہے تائی جان ۔۔۔۔

وہیل چئیر پر بٹھا کر اسکے جانے کے بعد وہ پھر خیالوں میں کھو گئیں۔۔۔۔ایک دن یونہی خضر کے لئے لڑکی دیکھ کر آتے ہوئے انکی کار کا ایکسیڈینٹ ہوا احمر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا ۔۔۔۔اور انکی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں۔۔۔رانیہ نے تب بھی انکا ساتھ نہیں چھوڑا غم اور عدت میں ہونے کے باوجود وہ سارے کام بہت دلجمعی سے کرتی لیکن عدت کے بعد شہناز بیگم کو رانیہ کی دل جمعی سے عجیب سا کھٹکا ہونے لگا وہ ذین کا کم اور خضر کا زیادہ خیال رکھتی تھی اور پروڈکشن ہاؤس خود چلانے لگی تھی ۔۔۔ذین اسی بنا پر رانیہ سے دور ہوتا جا رہا تھا جسے اسکی پرواہ ہی نہیں تھی وہ خضر میں لگی رہتی اور خضر شاید تھوڑا بہت جانتا تھا اسلئے انکو وقتا فوقتاً منع کرتا رہتا دوستی طرف شہناز بھی وہیل چئیر پر ہونے کی وجہ سے خضر کے کام اور دوسری ضرورتیں پوری کرنے سے قاصر تھیں جس سے مجبوراً خضر کو ان پر ہی قناعت کرنا پڑتا ۔۔۔5 سال کا ہوتے ہی رانیہ نے ذین کو شہناز بیگم کی کافی مخالفت کے باوجود بورڈنگ میں بھیج دیا ۔۔ ۔۔۔اور شہناز جو پہلے محتاط رہتی تھیں اب تو ذیادہ شدو مد سے خضر کے لئے اسکی دلہن ڈھونڈنے لگی ایک بار خضر کی دلہن آجاتی تو رانیہ اور اسکے ارادوں کو لگام مل جاتی ۔۔۔بےلگام تو وہ اب بھی شہناز کی وجہ سے ہو نہیں پاتی تھی مگر کب تک ۔۔۔۔رانیہ کو تو موقع چاہئیے ہوتا تھا ۔۔۔اور شہناز بیگم وہ موقع نہیں دینا چاہتی تھیں ۔۔۔۔اسلئے انہوں نے پہلے بینش کے لئے اپنی دیورانی سے بات کی مگر انہیں اپنی بیٹی کے لئے وہ تلخ لفظ اب بھی یاد تھے جسکی وجہ سے انہوں نے نرمی سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔

دیکھئے بھابھی ۔۔۔نیری بیٹی آپکے خوبصورت بیٹے کے لئے مناسب نہیں

تم طنز کر رہی ہوں

نہیں بھابھی میں موازنہ کر رہی ہوں اور یہ سچائی بھی ہے کہ خضر کا حسن میری بیٹی کو ساری زندگی احساس کمتری میں مبتلا رکھے گا لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہو گا تو سب کی بہ مگوئیاں ۔۔۔۔اور خضر کا حسن ایک طرح سے فتنہ بھی ہے ۔۔۔جس نے اسی کی بھابھی ۔۔۔

انکی آباد سن کر شہناز کے سر پر چھت آگری تھی

تو تمہیں بھی شک ہے ۔۔۔

مجھے شک نہیں یقین ہے بھابھی اور شاید آپ بھی اس لئے ہی مجھ سے بینش کا رشتہ مانگنے آئی ہیں محض آپکی مجبوری ۔۔۔ورنہ آپ نے تو احمر کے لئے میری بینش کو رد کر دیا تھا تو خضر کے لئے کیسے مان سکتی ہیں ۔۔۔۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ خضر کے لئے لڑکی ڈھونڈنے میں میں آپکی مدد ضرور کروں گی ۔۔۔مگر بینش نہیں میں نے اسکی شخصیت کو سنوارنا ہے اور تاکہ اسکا رنگ روپ اسکی آنے والی زندگی میں رکاوٹ نہ ہو ۔۔۔”

ہننم۔۔۔۔شہناز بیگم نے ہنکارا بھرا تھا اور انکی دیورانی نے انکا ہاتھ نرمی سے تھاما تھا ۔۔۔

فجر مت کیجیئے گا بھابھی ۔۔۔میں ہوں آپکے ساتھ ۔۔۔بینش آپکی بہو بنے نہ بنے ایک بیٹی ضرور ہے ۔۔۔

اور تب سے بینش انکا اپنی بیٹیوں کی طرح خیال رکھتی تھی۔ ۔۔۔