Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 06)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 06)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
اس نے کچن کی کھڑکی سے اچک کر دیکھا خضر اپنے موبائل میں بینش کو کچھ دکھا رہا تھا اور وہ اسکے صوفے کے ساتھ کھڑی ہلکا سا اسکی طرف جھکی ہوئی تھی وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے ۔۔۔جلن کی ایک فطری لہر اسکے اندر سرایت کر گئی تھی اور بے اختیار اس نے ساس پین سلیب پر پٹخا تھا اس سے بھی ان دونوں کا آپسی ارتکاز ٹوٹا نہیں تھا بلکہ پہلے کی ہی طرح وہ دونوں مگن رہے ۔۔۔حورعین نے لب بھینچے تھے اس لمحے وہ اپنا عزم اپنا مقصد بھول کر بس ایک شریک حیات بن کر کلس رہی تھی ۔۔۔۔ خضر کے کسی چٹکلے پر بینش کا نقرئی قہقہہ گونجا تو اسکے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اور وہ کچن کے دروازے میں اکھڑی ہوئی
“سنئے …”اس نے نہایت سنجیدگی سے خضر کو پکارا تھا خضر نے چونک کر اسے دیکھا
جی ۔۔۔؟
“آپ نے ہاسپٹل نہیں جانا ۔۔”اس نے کمر پر ہاتھ ٹکائے کڑے تیوروں سے گھورا
“بس جانے والا ہوں “
بینش وضعداری نبھاتے شہناز بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی
تو تیاری کریں گے تو ہو گی ناں “حورعین جھنجھلائی خضر نے ایک ابرو اچکا کر اسے مشکوک نظروں سے جانچا تو وہ اسکے اتنی فرصت سے دیکھنے پر ہی گلابی ہو گئی۔۔
“میرے کپڑے نہیں نکالے آپ نے “خضر کو اسکا ایسا استحقاق بھرا رویہ بھایا تھا اسلئے بات کو طول دیا
آپ جا کر دیکھئے تو سہی سب نکلا ہوا ہے “حورعین نے بھی دوبدو جتایا تھا
“آپ آکر دے دیجئے شاید مجھے نہ نظر آئے “خضر شوخ ہوا اسکا دل تیز رفتاری سے دھڑکا تھا
“ٹھیک ہے آپ یہ چائے دیکھ لیجیے کہ چھلک نہ جائے میں آپ کے کپڑے دیکھ آتی ہوں “
“کیا ایک وقت میں ایک مقام پر ہم اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔۔۔”خضر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکو خود میں مبتلا کرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا تھا اسکی زومعنی بات پر حورعین سٹپٹا کر واپس کچن میں چلی گئی اسکا گمان تھا کہ خضر اسکے پیچھے کچن میں آئے گا مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ایک طرف اسے برا بھی لگا تھا دوسری طرف اس نے شکر ادا بھی کیا تھا
حورعین ۔۔۔؟حورعین کچن سے نکلی تو شہناز نے اسکو آواز دی تھی
جی ۔۔۔جی آنٹی۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس طرف آگئی کیونکہ اس وقت رانیہ گھر نہیں تھی اور وہ اسکی مجاز بھی نہیں تھی
مجھے وضو کروا دو بیٹا ۔۔۔انہوں نے لجاجت سے کہا تھا اسکو خود کی بےبسی پر غصہ اور شہناز کی لجاجت بھری پکار پر ترس آیا تھا
“جی آنٹی میں کروا دیتی ہوں “
وضو کروا کر شہناز نے جتنی دیر نماز پڑھی وہ پاس بیٹھی گھٹنوں کے گرد بازؤں کا گھیرا بنائے انکو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ وہ کیا کر رہی ہے اتنے اچھے لوگوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ سلام پھیر کر شہناز نے اسکو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا تھا وہ کھسک کر انکی جانب آگئی شہناز نے کچھ پڑھ کر اس پر پھونک ماری تو اچانک ہی احساس ندامت سے اسکا دل بھر آیا اور دو آنسو آنکھوں سے لڑھک کر گالوں پر بہہ گئے جو شہناز بیگم کی زیرک نظروں سے چھپے نہ رہ سکے تھے
کیا ہوا؟
کچھ نہیں ۔۔۔حورعین نے جلدی سے اشکوں کو پونچھ کر نفی میں سر ہلایا شہناز نے کچھ لمحے اسے کھوجتی نظروں سے دیکھا تھا پھر گویا ہوئیں
گھر والوں کی یاد آرہی ؟؟
جی ۔۔۔جی ۔۔اپی یاد آگئ تھیں ۔۔۔حورعین نے جھوٹ گڑھا کیونکہ ایسی کوئی یاد اسے رابعہ کی جانب سے آہی نہیں سکتی تھی کیونکہ رابعہ نے اسے بڑی بہنوں والا مان ہی نہیں دیا تھا
اچھی آپی ہے بھلا ۔۔۔یوں رخصت کیا جیسے بوجھ اتارا ہو اس کے بعد نہ خیر نہ خبر ۔۔ انہوں نے تزخ کر کہا تھا حورعین بھی کیا کہتی بھلا سچ ہی تو تھا بے شک کروا ہی سہی
جیی ۔۔۔وہ دھیمے سے بس اتنا ہی کہہ سکی اور انکی پشت پر آکر انکے بالوں پر سے ڈوپٹہ ہٹا کر مالش کرنے لگی وہ یہ سب غیر ارادی طور پر کر رہی تھی اسکا ذہن نجانے کہاں بھٹکا ہوا تھا ۔۔۔شہناز نے اسکا ہاتھ نرمی سے تھاما وہ چونکی ۔
کیا ہوا آنٹی ؟
آنٹی نہیں ماں۔۔۔جو بات پریشان کر رہی ہے وہ بات کیوں نہیں بتاتیں ؟؟شہناز نے اسکا ہاتھ تھپتھپا کر نرمی سے پوچھا تھا ذرا سی ہمدردی پر ہی اسکا ضبط ٹوٹا تھا اور اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے شہناز نے اسکا ہاتھ کھنچ کر اسے اپنے سامنے بٹھایا تھا وہ تڑپ کر انکے پاؤں سے لپٹ گئی اور گڑگڑانے لگی ۔۔
“مجھے معاف کر دیجئے ماں ۔۔۔میں بہت بری ہوں مفاد پرست ۔۔۔میں بہت بری ہوں “وہ سسکیاں بھرتی التجا کر رہی تھی اور شہناز بیگم نے اسے بولنے دیا کیونکہ انہیں وہم تو پہلے ہی تھا لیکن شاید انکا وہم سچ ثابت ہونے جا رہا تھا
یار کچھ کرو ناں ۔۔وہ جاب حاصل کرنے کی غرض سے نکلی تھی اور جس انٹرویو کے لئے گئی تھی اس کمپنی نے اسکی تعلیم کو ناکافی کہہ کر چلتا کر دیا تھا اسکی دوست رانیہ کا آفس قریب جس میں وہ کام کرتی تھی قریب ہی تھا اسلئے وہ ہاف ٹائم کے لئے اسکے پاس آگئی اب اسکے سامنے بیٹھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کے ساتھ ساتھ التجا کر رہی تھی
“کیا کروں ؟”رانیہ خود بےبس تھی “اس کمپنی میں بھی کوئی سیٹ خالی نہیں ورنہ میں سفارش کرکے کچھ نہ کچھ بندوبست کر دیتی اور تمہیں ساتھ رہائش بھی چاہیے “رانیہ نے ناامیدی سے نفی میں سر ہلایا تھا وہ بھی رونی صورت لئے ادھر ادھر دیکھنے لگی ہاف ٹائم ختم ہونے کے بعد وہ اٹھ کر باہر کی سمت جا رہی تھی تو سامنے سے تیزی سے آتی رانیہ سے ٹکرائی تھی اسکی فائل گر گئی تھی
“آئی ایم سو سوری “چاہے غلطی رانیہ کی تھی اور وہ رانیہ کو دیکھ کر اس دن والی حرکت بھولی نہیں تھی لیکن امیر پارٹی کے سامنے کون نہیں جھکتا اسلئے سوری کہہ کر بات ختم کرنا چاہی اور نیچے جھک کر فائل اٹھائی تھی دوسری طرف رانیہ بھی اس کے چہرے پر تھکان اور ٹھوکریں جانچ چکی تھی اسلئے خیر مقدمی مسکراہٹ سے اسکی معذرت قبول کی۔۔۔
“یہاں جاب کے لئے آئی تھیں ؟؟
نہیں ۔۔۔اپنی فرینڈ سے ملنے
“کہاں جاب کرتی ہو؟
“فی الحال ڈھونڈ رہی ہوں “
“اچھا شاید میں تمہارے کسی کام آسکوں یہ کارڈ رکھیں اور کل ایک بجے میرے آفس آجانا “رانیہ نے اپنے ہینڈ بیگ میں سے ایک کارڈ نکالا تھا اور وہاں سے چلتی بنی ۔۔۔ اصل میں وہ یہاں بینش کو پک کرنے آئی تھی دونوں نے شاپنگ کرتے ہوئے ساتھ گھر جانا تھا لیکن رانیہ کو نہیں معلوم تھا کہ یہاں اسکو اسکے مقصد یا ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لئے مرکزی کردار مل جائے گا
اگلے دن مقررہ وقت سے کچھ دیر پہلے ہی وہ رانیہ کے آفس میں موجود تھی اور اب انتظار کر رہی تھی رانیہ طے کردہ وقت سے بھی ایک گھنٹہ بعد آئی تھی لیکن یہاں اسکو یہ سکون تھا کہ وہ باہر اوس اور سخت سردی سے محفوظ تھی۔۔۔
رانیہ نے آفس آنے کے بیس پچیس منٹ بعد اسکو اندر بلایا تھا وہ فائل اور ہینڈ بیگ سنبھالتی اندر بڑھی تھی اندر باہر سے بھی زیادہ سکون تھا سامنے بڑی سی ٹیبل کے پیچھے رانیہ براجمان تھی اور اسکو خیر مقدمی مسکراہٹ سے نوازا تو اسکا اعتماد بحال ہوا وہ سبک روی سے چلتی ٹیبل کے اس پار رانیہ کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھی اور فائل اسکی جانب بڑھائی
“رکھ دو اسکی ضرورت نہیں ۔۔۔ کام کا تعلق تمہاری تعلیمی قابلیت سے نہیں ہوشیاری اور عمدہ اداکاری سے ہے جتنی اچھی اداکاری کرو گی اتنا تمہارے لئے بہتر ہوگا “
لیکن مجھے جاب چاہیے ایکٹنگ کے لئے رول نہیں
یہ رئیل لائف کے لئے رول ہے لڑکی ۔۔جتنی اچھی ایکٹنگ کرو گی اتنا ہی بہتر رہے گا اور تمہیں ہر وہ سہولت دی جائے گی جو تم مانگو “رانیہ کی بات پر حورعین نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا تھا
“فکر مت کرو تمہاری اور میری کوششوں سے تمہاری عزت پر بھی حرف نہیں آئے گا اور نہ میں آنے دونگی “
“کام کیا ہے ؟؟”
“خضر ۔۔۔میرا دیور مجھے پسند ہے مطلب آئی وانٹ ہم ۔۔۔میں نہیں رہ سکتی اسکے بنا مگر میری ساس وہ اسکو میرا ہونے نہیں دے گی کیونکہ وہ پہلے بھی مجھے ناپسند کرتی تھی اور اب بھی کرتی ہے وہ آئے دن لڑکیاں دیکھ رہی ہے اور انہیں کسی ستی ساوتری ٹائب لڑکی کی تلاش ہے جیسی کے تم ۔۔۔ویسے تم ستی ساوتری ہو تو نہیں مگر لگتی ہو اسلئے میں چاہتی ہوں تم میرے ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرو اور جب کام ختم ہو جائے گا تو میں تمہیں بتا دوں گی میں الگ تم الگ لیکن کام کے بعد بھی تمہیں تنخواہ ملتی رہے گی المختصر تمہاری شادی میں خضر سے کرواؤں گی اور شادی کے بعد تم ہر کام بمعہ خضر کے قریب جانے کے میرے مطابق کرنا تو جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے گا اور خضر کی زندگی سے تنگ نکل جاؤ گی پھر آگے میرا کام ہے “
فرض کریں اگر میں آپکی ساس کو پسند ہی نہ آئی تو؟…
“ایسا ہو ہی نہیں سکتا میں نے کہا نہ کہ تم لگتی ہو ستی ساوتری ۔۔۔”انہوں نے استہزایہ کہا تھا وہ اندر ہی اندر کلس گئی اور آٹھ کھڑی ہوئی
“کل تک سوچ کر مجھے بتا دینا باقی کی تفصیل میں تمہیں کل بتاؤں گی اور تنخواہ دوسری مراعات اور سہولیات بتاؤں گی “رانیہ نے اطمینان سے کہا تھا
وہ بنا کچھ کہے وہاں سے نکل آئی تھی اور گھر میں آتے ہی رابعہ نے کم دن اور اسکی وجہ سے پیش آنے والی رکاوٹوں کا رونا رویا تو اس نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے اگلے دن اس نے خود کو رانیہ کے آفس میں پایا تھا
