Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Alhamd se Wannass (Episode 27)
Rate this Novel
Alhamd se Wannass (Episode 27)
“جو زخم تم مجھے دے چکے ہو اس کے بعد تم ایک اور موقع کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟”اندر کا لاوا آج باہر آ
رہا تھا۔
“میں ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔”نائل نے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔
“مجھے اعتبار نہیں ہے۔”وہ پہلے بھی اس سے معافی مانگ چکا تھا مگر اس کے بعد بھی وہ اسے اذیت پہنچاتا رہا تھا۔
جسمانی طور پر نا سہی مگر دماغی طور پر اس نے سنیہا کو بہت اذیت پہنچائی تھی۔
“ایک بار اور آزما لو۔میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں خوش رکھ سکوں۔”نائل دو قدم چلتا اس کے مزید قریب
آیا تھا۔وہ کچھ دیر نم آنکھوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی تھی
جہاں ہمیشہ کی طرح آج بھی سنجیدگی تھی۔پھر وہ اپنا تمام تر ضبط کھوئے اس کے سینے سے لگی ہچکیوں سمیت رو دی تھی۔نائل نے بہت آہستگی سے اس کے گرد حصار قائم کیا تھا۔
“تم بہت برے ہو بہت زیادہ…!”اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے وہ مسلسل سسک رہی تھی۔
“تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا،تم نے مجھے ذلیل کیا۔تم نے میری قیمت ادا کی۔تم نے مجھے بالکل توڑ دیا نائل…!”اس نے
اپنے ہاتھ کا مکا بنائے نائل کے دل کے مقام پر مارا تھا۔
“تم نے میرا سر فرش پر پٹخا تھا۔”اس سے الگ ہوتے وہ غصے سے گویا ہوئی تھی۔
“تم بھی پٹخ دو۔”نائل نے نہایت فراخ دلی سے اسے مفید مشورہ دیا تھا۔
“تم نے میرے بال بھی کھینچے تھے۔” اگلا شکوہ کیا گیا تھا۔
“اس کی اجازت میں تمہیں نہیں دوں گا۔ہیئر سٹائل خراب ہو جائے گا میرا!”
اس بات پر سنیہا نے اسے پیچھے کی طرف دکھیلا تھا۔
“تم نے مجھے گالی دی تھی۔”اس کےشکوے بالکل بجا تھے مگر وہ غلط شخص کے سامنے شکوے کر رہی تھی۔
“تمہیں نہیں تمہارے باپ کو دی تھی۔ویسے تم چاہو تو مجھے بھی دے سکتی ہو۔”کیا شاہانہ انداز تھا؟سنیہا تو دنگ ہی رہ گئی تھی۔
“تم سچ میں مجھ سے ایک اور موقع مانگ رہے ہو؟”
“ہاں…!”چہرے پر اب بھی وہی سنجیدگی تھی۔سنیہا کا سر صحیح معنوں میں چکرایا تھا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔”ہاتھ کھڑے کیے اس نے جیسے ہتھیار ڈالے تھے۔
“بھول جاتے ہیں سب کچھ اور ایک نئی زندگی شروع کرتے ہیں۔”نائل نے اسے بازوں سے تھامتے اپنے قریب کیا تھا۔
“ایک شرط پر…!”سنیہا نے اس کی سنہری آنکھوں میں دیکھتے بہت مان سے کہا تھا۔شاید اسے یقین تھا کہ وہ اس کی ہر شرط مانے گا۔
“کونسی شرط…؟”نائل کے ماتھے پر سلوٹیں ابھری تھیں۔
“تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ تم آج کے بعد اچھا شوہر بننے کی کوئی کوشش نہیں کرو گے؟”اب کی بار سنیہا نے اس کے آگے ہتھیلی پھیلائی تھی۔
وہ چند ثانیے اسے دیکھتا ہی رہا تھا پھر سنہری آنکھوں میں چمک ابھری تھی،ایک عجیب سی چمک…
“یعنی تم یہ تسلیم کر رہی ہو کہ میں اچھا شوہر ہوں۔”اپنے آگے پھیلایا ہوااس کا ہاتھ تھامتے نائل نے ایک آنکھ اچکا
کر کہا تھا۔
“استغفر اللہ!توبہ توبہ…!”اپنا ہاتھ واپس کھینچتے سنیہا نے ایک جھرجھری لی تھی۔
اس کے اتنے شدید ردعمل پر نائل کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا مگر فلحال اس نے صبر کا دامن تھامے رکھا تھا۔اتنی مشکل سے تو وہ مانی تھی اب وہ دوبارہ اسے ناراض نہیں کر سکتا تھا۔
“یعنی میں اچھا شوہر نہیں ہوں؟”نائل نے بھنویں سکیڑے استفسار کیا تھا۔
“بالکل بھی نہیں…!”سنیہا نے نفی میں سر ہلانے میں ایک لمحے کی دیر نہیں کی تھی۔
“ٹھیک ہے تو پھر میں اچھا شوہر بننے کی کوششیں جاری رکھوں گا۔”سنیہا کے اوسان فورا خطا ہوئے تھے۔
“میں تو مذاق کر رہی تھی۔تم بہت اچھے شوہر ہو بس پلیز تم ایسی کوئی کوشش مت کرنا۔”
“گڈ گرل!”نائل کو اس کی یہ تائید بہت پسند آئی تھی۔
“میں چینج کر کے آتی ہوں۔”اسے اچانک ہی ٹھنڈ کا احساس ہوا تھا۔
“میرے کپڑے بھی نکال دو۔”سنیہا کےبڑھتے قدم رک گئے تھے۔دل زور سے دھڑکا تھا۔
“کیا…؟”اسے اپنی جگہ سے نا ہلتا دیکھ نائل نے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجائی تھی۔وہ فورا ہوش میں آئی تھی۔
“میں نکالوں…؟”اس نے بےیقینی سےپوچھا تھا۔جو شخص اسے اپنے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا وہ شخص آج اسے نا صرف اپنےکمرے تک رسائی دے رہا تھا بلکہ اپنی الماری تک بھی…
“ایک سیکنڈ!کہیں تم اس خوش فہمی میں مبتلا تو نہیں ہو کہ میں تمہیں ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھوں گا اور تمہیں
کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا؟”نائل نے عجیب نظروں سے اسے گھورا تھا۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”سنیہا نےفورا اس کی بات کی تردید کی تھی۔نا تو اس نے ایسے کوئی خواب دیکھے تھے اور نا ہی اسے کام چوری کی عادت تھی۔
“گڈ!”نائل کی جان میں جان آئی تھی۔
“پلیز اب جا کر نکال دو کپڑے،سارےبھیگ گئے ہیں۔اتنا روتی ہو تم!ساری شرٹ بھگو دی تم نے…!”وہ عجیب و غریب شکلیں بنائے آگے بڑھا تھا۔
“کڑوا کریلا…!”سنیہا بھی بڑبڑاتی ہوئی اس کے پیچھے گئی تھی۔
فارم ہاؤس سے وہ سیدھا گھر کے لیے روانہ ہوا تھا۔اسے وانیہ کی بےحد فکر تھی۔ایک بڑی اور سنسان سڑک پر گاڑی چلاتے وہ مسلسل وانیہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔اچانک سڑک کے بیچ و بیچ اس کی گاڑی اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی تھی۔نائل نے سٹیرنگ کو بہت مہارت سے گھمایا تھا مگر پھر بھی گاڑی سامنے موجود درخت سے ٹکرا گئی تھی۔اس کا سر بھی سٹیرنگ سے ٹکرایا تھا۔ماتھے پر ایک چھوٹا سا زخم آیا تھا۔اس نے لاپروائی سے ٹشو پیپر سے بہتے خون کو صاف کیا تھا۔ڈیش بورڈ پر پڑی گن اٹھائے وہ باہر نکلا تھا۔ اس نے اردگرد طائرانہ نگاہ دوڑائی تھی۔اب اس نے اپنی نگاہیں نیچےسڑک پر گاڑھی تھیں۔وہاں جگہ جگہ کیل بکھرے پڑے تھے۔ان کیلوں کی وجہ سے اس کی گاڑی کے چاروں ٹائر پینچر ہو گئے تھے۔وہ محتاط قدم اٹھاتا اپنی گاڑی تک گیا تھا۔اپنی گاڑی کی کھڑکی کے شیشے پر ہاتھ رکھے وہ ابھی ٹائروں کو دیکھنے کے لیے جھکنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک تیر اس کے ہاتھ سے آڑ پاڑ ہوتا شیشہ توڑ گیا تھا۔نائل نے فورا اس تیرکی سیدھ میں تین فائر کیے تھے مگر سب بےکار تھا۔وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اب وہاں کوئی نہیں تھا۔ تکیلف کی شدت کو برداشت کرتے اس
نے اپنے ہاتھ میں سے وہ تیر نکالا تھا۔تیر کے ساتھ ایک خط لپٹا ہوا تھا۔
“ڈیوڈ…!”خط کھولنے سے پہلے ہی اس کے لب ہلے تھے۔ذہن میں اچانک ہی ماضی کا منظر ابھرا تھا۔
“گاڑی کے پنچر ہونے کے بعد اندر موجود شخص ضرور باہر آئے گا۔لاشعوری طور پر وہ کھڑکی کے شیشے پر ہاتھ رکھے
گاڑی کو دیکھنے نیچے جھکے گا۔کسی اونچے درخت پر بیٹھ کر آپ باآسانی تیر سے وار کر سکتے ہیں اور تیر پھینکنے
کے بعد ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے پھرتی سے نکل سکتے ہیں۔”
“واہ نائل بھائی یہ تو بہت اچھا آئیڈیا یے۔”نائل نے سرخ آنکھوں کے ساتھ وہ خط کھولا تھا۔
“آپ کو اپنی جان پیاری نہیں ہے نا سہی مگر مجھے میری جان بہت پیاری ہے۔ آج کے بعد اسے کوئی نقصان پہنچا تو
آپ کی زندگی موت سے بھی بدتر بنا دوں گا سالے صاحب!” نائل نے سختی سے خط ہاتھ میں دبوچا تھا۔
“میری بلی مجھے ہی میاؤں!”اس کا غصے سے برا حال تھا۔
“میری سکھائی گئی ساری ٹیکنیکس مجھ ہی پہ آزما رہا ہے۔کمینہ!مجھےبھائی کہتا تھا اور اب میری ہی بہن پر
نظر رکھتا ہے۔”نائل کے کان کی لوئیں تک سرخ ہوئی تھیں۔ڈیوڈ اسے جس کی حفاظت کرنے کے لیے دھمکا رہا تھا وہ نائل کی اپنی ہی بہن تھی۔
“ایک بار ہاتھ لگ جا پھر بتاتا ہوں میں تجھے…!”ڈیوڈ نے اسے اچھا خاصا ذلیل کیا ہوا تھا۔
“کیوں سکھایا میں نے اسے یہ سب…!” نائل نے غصے سے گاڑی پر زور سے ایک پنچ مارا تھا۔
گھر آتے ساتھ ہی اسے ساری صورت حال کا علم ہوا تھا۔
“جو بھی تھا پھوپھو!آپ کو وانیہ پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا۔”
اسے وانیہ کی اس حرکت پر حیرانگی تو تھی مگر ماہم کا اسطرح سے اس پر ہاتھ اٹھانا اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔
“اس وقت جو مجھے سمجھ آیا وہ میں نے کیا۔”
“آپ نے غلط کیا پھوپھو!”
“ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔میں تو ہوں ہی غلط،سگی جو نہیں ہوں۔”
“پھوپھو!”وہ تڑپ اٹھا تھا۔
“کہتے ہو تو چلی جاتی ہوں یہاں سے،چلی جاتی ہوں تمہاری اور تمہاری بہن کی زندگی سے…!” ماہم کی آنکھیں بہنے لگی تھیں۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا پھوپھو! آپ میرے لیے بہت اہم ہیں۔آپ کے بہت احسانات ہیں مجھ پر۔ آپ نے وانیہ کو، مجھے اور اس گھر کو تب سنبھالا جب میں بالکل ٹوٹ
چکا تھا،جب میں بالکل ہار گیا تھا۔”نائل کی آواز میں بھی نمی گھلی تھی۔
“مجھے بھی وانیہ کی بہت پرواہ ہے نائل!میں نہیں چاہتی کہ وہ خود کو یا کسی اور کو نقصان پہنچائے۔”بستر پر بیٹھتے اس نے شکست خور حالت میں کہا تھا۔
“پھوپھو!میری بہن پاگل نہیں ہے۔وہ بچپن سے ایسی نہیں تھی۔ بس اس حادثے کے بعد…!”نائل بھی ماہم کے قریب بیٹھا تھا۔
“آپ ہی بتائیں پھوپھو!ایک آٹھ سال کی بچی تھی وہ،اس نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں پر بیتےظلم کو…!”اس کے الفاظ ایک بار پھر ٹوٹے تھے۔
“میں آج تک اس ٹراما سے نہیں نکل سکا تو پھر وانیہ نے تو سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔”نائل نے آنسوؤں کو گلے کے اندر اتارا تھا۔
“وہ ٹھیک ہو جائے گی۔مجھے یقین ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔” اتنے سالوں بعد بھی امید برقرار تھی۔
“ان شاءاللہ!”ماہم کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
“تم جانتے ہو وہ چار لوگ کون تھے؟”
“جانتا ہوتا تو اب تک قبر میں اتار چکا ہوتا انہیں…!”نائل کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔ماہم نے افسوس سے سر جھکایا تھا۔
الیکس آج بدر کے گھر آیا تھا۔اسی اندھیرے کمرے میں وہ لوگ آج پھر کسی کی زندگی کے خاتمے کی پلینگ کر رہے تھے۔
“تم ٹھیک تھے بدر،سارے فساد کی جڑ وہ لڑکی ہے۔”
“تو پھر کب کر رہے ہو اس کا بندوبست؟”بدر کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔
“بہت جلد…!”الیکس کے چہرے پر بھی شیطانیت در آئی تھی۔
“وہ بالکل نینا کی کاپی ہے۔نینا نے سیم کو پاگل کر دیا تھا اور اب یہ لڑکی ڈیوڈ کو پاگل کر رہی ہے۔”
الیکس کی بات پر بدر چونکا تھا۔
“کیا وہ واقعی نینا جیسی دکھتی ہے؟”آنکھوں میں چمک کے ساتھ ساتھ دلچسبی بھی ابھری تھی۔
“ہاں بالکل…!”الیکس کی تائید پر بدر کے لب مسکرائے تھے۔
“نینا تو بہت حسین تھی۔”وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔
“سوچنا بھی مت…!”الیکس نے اسے تنبیہہ کی تھی۔
“نائل اور ڈیوڈ دونوں ہی اس کے محافظ ہیں۔بہت برا پھنسےگے۔”
الیکس واقعی خوفزدہ تھا۔
“میں ایسا کچھ نہیں سوچ رہا۔ بس اس لڑکی کو جلد از جلد راستے سے ہٹاؤ۔میں بلیک مونسٹر کو کسی بھی قیمت پر کھو نہیں سکتا۔”وہ آج جس بھی مقام پر تھے،ڈیوڈ ہی کی بدولت تھے۔
“میں نے سوچ لیا ہے کہ کیا کرنا ہے۔”الیکس کے کہنے پر بدر نے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ سانپ بےحد زہریلا ہے۔”الیکس نے میز پر پڑے ڈبے کی جانب اشارہ کرتے کہا تھا۔اس لڑکی کے زندہ رہنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔میری معلومات کے مطابق وہ لڑکی آج مزار جانے والی ہے۔ ہم مزار میں ہی یہ کام کریں گے۔نائل اور ڈیوڈ دونوں ہی کو شک نہیں ہو گا۔”
“شاباش!”بدر نے اس کے منصوبےکو سراہا تھا۔
