Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 10)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 10)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
وہاں موجود سب لوگ اسے حقارت سے دیکھ رہے تھے سوائے خضر کے کیونکہ اسکی آنکھوں میں حزن و ملال کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔۔۔۔ حورعین شرمندگی سے زمین میں گڑی جا رہی تھی ۔۔۔۔
“آگئی آپکی لاڈلی ۔۔۔”رانیہ نے شہناز بیگم کو دیکھ کر استہزائیہ کہا تھا ۔۔۔۔ شہناز بیگم نے تلخ سانس خارج کر کے منہ پھیر لیا انہیں رانیہ سے اس حرکت کی توقع نہیں تھی ۔۔
“عباد جو کہہ رہا وہ سچ ہے ؟؟”خضر نے اسکے روبرو آکر کاٹ دار لہجے میں پوچھا تھا اسکی آنکھوں میں نمی آگئی ۔۔۔
“وہ میں ۔۔۔۔ہوہ بھیگی آواز میں گھگھیائی تھی کہ خضر نے اسکی بات کو تیز آواز میں کاٹا تھا
“ہاں یا نہ ؟”
“جی۔۔۔۔ “اسکے لبوں سے پھنسا پھنسا نکلا خضر نے ملامت بھری نظروں سے اسکو دیکھا تھا اس نے آگے ایک لفظ کہے بنا اپنے ہاتھ خضر کے آگے جوڑ دیے تھے اور سسکتے ہوئے اسکے قدموں میں ڈھیر ہوگئی رانیہ طنزیہ مسکرا رہی تھی اس نے فاتحانہ نظروں سے عباد کو دیکھا عباد نے آنکھوںہی آنکھوں میں سب ٹھیک کیا نہ کا استفسار کیا تھا رانیہ نے پلکیں جھپک کر اسکو داد دی اور واپس رونی صورت بناتے خضر کی جانب بڑھی ۔۔۔
“مجھے معاف کر دو خضر ۔۔۔۔میں نے جو کیا تمہاری خوشی کے لئے کیا مجھے بینش نے بتایا تھا کہ۔۔۔”
” بھابھی کسی سے بھی میری خوشیاں خریدنے کی آپکو ضرورت نہیں تھی میری خوشیاں کسی کے بھی وجود سے نہیں جڑی میں ۔۔۔۔ آپ نے بھی بہت غلط کیا بھابھی ۔۔۔خضر نے بامشکل تحمل سے جتایا تھا
میری نیت پر شک کر رہے ہو ؟رانیہ نے مگرمچھ کے آنسو بہائے
“نہیں میں شک نہیں کر رہا جو آپ نے کیا میری خوشی کے لئے کیا اور مجھے اس میں شک ہو ہی نہیں سکتا “حورعین نے ناسمجھی سے دونوں نفوس کو دیکھا وہ کس خوشی کی بات کر رہے تھے دونوں ۔۔۔اسے الہام ہوا کہ رانیہ نے کوئی ایسی چال چلی ہے جس سے سارا خسارہ اسکے ہاتھ آیا ہے ۔۔۔عباد کمرے سے نکل کر چلا گیا تھا کیونکہ اسکا ضمیر ملامت کرنے لگا تھا رانیہ نے بھی یہی بہتر سمجھا تھا کیونکہ جب تک وہ یہاں رہتا رانیہ کو دھڑکا ہی لگا رہنا تھا کہیں وہ سچ ہی نہ اگل دے ۔۔۔۔رانیہ نے زبردستی آنسو صاف کئے تھے اور کمرے سے خود بھی نکل گئی ۔۔۔۔اسے یقین تھا کہ ابھی وہ حورعین کو طلاق دے کر گھر سے نکال دے گا مگر یہ اسکی خام خیالی تھی۔۔۔۔۔خضر چند لمحے لب بھینچے کھڑا رہا پھر اسکو تاسف و غصے سے دیکھا تھا جو اسکے قدموں میں بیٹھی سسک رہی تھی ۔۔۔۔ طلاق ۔۔۔ عباد کا دھوکا ۔۔۔۔ واپسی میں اندھیرا اور اتنے پیسے کی ادائیگی ۔۔۔۔وہ کس بات کو سوچتی کس بات کا غم مناتی کس بات کی تدبیر کرتی اور کونسا ٹھکانہ ڈھونڈتی ۔۔۔۔
“امی ۔۔۔جب میں آؤں مجھے یہ یہاں نہ ملیں “خضر نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا اور وہاں سے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا نکل گیا حورعین نے سکتے کی کیفیت میں اسے جاتے دیکھا تھا ۔۔۔ وہ خود سے تھوڑی تو رحم کی امید کر بیٹھی تھی مگر۔۔۔۔۔وہ پھپھک پھپھک کے رو دی ۔وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی کہ اسے اپنے سر پر شہناز بیگم کا شفقت بھرا لمس محسوس ہوا تھا اس نے بے یقینی سے سر اٹھا کر دیکھا ۔
ا”نہوں نے میری نہیں سنی ماں جی ۔۔۔”اس نے رندھے لہجے میں شکوہ کیا تھا شہناز بیگم نے لب بھینچے
“تمہارے کزن اور رانیہ نے بساط ایسی بچھائی کہ ۔۔۔۔”شہناز بیگم کے لہجے میں رانیہ کے لیے نفرت سی تھی حورعین چونکی
کی۔۔۔کیا کہا رانیہ نے ۔۔۔؟جو خضر ان سے نفرت نہیں کر رہے اور صرف مجھے ہی قصوروار قرار دے دیا “
“تم اتنی بھولی نہیں ہو تمہیں اندازہ ہونا چاہیے کہ اس نے عباد کو تمہارے خلاف استعمال کیا ہے تو کوئی نہ کوئی چال چلی ہو گی “شہناز بیگم نے اسکے کان کے کیڑے جھاڑے حورعین ہونقوں کی طرح انکا چہرہ دیکھنے لگی ۔
عباد کے بقول تمہاری شادی رابعہ اور ارسم نے خضر کا پیسہ دیکھ کر کروائی تھی تم پہلے پہل اس رشتے سے خوش نہیں تھیں لیکن خضر کی دولت کا سوچ کر تم نے عباد کے ساتھ پلان بنایا کہ تم خضر سے پیسے بٹور کر طلاق لے لو گی اسکے بعد عباد اور تم شادی کر لو گے رانیہ کو شادی کے دن بینش کے زریعے معلوم ہوا کہ خضر تمہیں پہلے سے پسند کرتا ہے تو رانیہ کے بقول وہ بہت خوش ہوئی لیکن عباد نے ایک پارٹی میں نشے میں دھت اپنا اور حورعین کا پلان رانیہ کے سامنے اگل دیا جس سے رانیہ کو دھچکا لگا وہ خضر کا گھر ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی اسلئے اس نے تم سے سودا کیا کہ جتنے پیسے چاہیے وہ تمہیں دے گی بس تم خضر کی زندگی سے نہ جاؤ اور عباد کو بھی ڈراموں میں مرکزی رول دیا کرے گی لیکن عباد کا ضمیر ملامت کرنے لگا وہ تم سے حقیقی محبت کرتا تھا اسلئے تمہیں پانے کے لئے اس نے سچ بولنے کا سوچا اور وہ خضر کے پاس چلا آیا اسکے آگے تم جانتی ہی ہو “شہناز بیگم نے ساری کہانی کہہ سنائی تھی حورعین صدمے سے آنکھیں پھاڑے رانیہ اور عباد کے ترتیب کردہ سکرپٹ کو سن رہی تھی اور دل ہی دل میں انکی حکمت عملی پر عش عش کر اٹھی۔۔۔
“یہ ۔۔۔۔ یہ جھوٹ ہے میں نے کوئی پلان نہیں بنایا عباد کے ساتھ ۔۔۔۔مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ میری شادی کالج والے خضر سے ہو رہی ہے “اس نے شدت سے نفی میں سر ہلا کر شہناز بیگم کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی شہناز بیگم نے اثبات میں سر ہلایا ۔
“میں جانتی ہوں چاہے میں تمہیں کبھی تمہارے عمل پر بلکل درست قرار نہیں دے سکوں گی لیکن تم نے رانیہ کی طرح اپنے مرتبے کا سودا نہیں کیا “
“مجھے جانا ہو گا “حورعین نے اپنے گالوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا اور اٹھنے لگی تو شہناز بیگم نے اسکی کلائی تھامی تھی
“تم کہیں نہیں جاؤ گی “
“مگر۔۔۔۔’
“اگر مگر کچھ نہیں ۔۔۔۔ نہ یہ گھر خضر کا ہے ناں رانیہ کا ۔۔میرا ہے تم یہاں ہی رہو گی میں خود بات کر لوں گی خضر سے ۔۔۔”
“اور رانیہ ۔۔۔۔”
وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی جب تک خضر تمہیں طلاق نہ دے تب تک وہ معاہدہ کبھی خضر کے سامنے لانے کی غلطی نہیں کرے گی اگر لانا ہوتا تو وہ پیپر استعمال کرتی ناکہ عباد کو ۔۔۔٫شہناز بیگم نے کہا تھا وہ انکا چہرہ دیکھتی رہ گئی اس نہج پر تو حورعین نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اصل قصوروار رانیہ تھی کیونکہ معاہدہ و شرائط اسکی عائد کردہ تھی خضر کو پراپرٹی اس نے سمجھا تھا وہ تو بس اپنا کردار نبھا رہی تھی اصلیت سامنے آتی تو خضر کی نظر میں رانیہ اس سے ذیادہ قابل نفرت ہوتی ۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔۔ ڈارلنگ “عباد نے اسکو پیچھے سے آکر باہوں میں بھرا تھا رانیہ کو یہ بے وجہ مداخلت زہر ترین لگی تھی مگر آج ہی اس گدھے کو باپ بنایا تھا اور ابھی اس سے پہلو تہی کرکے وہ اسکی ناراضی مول لے کر کھیل نہیں بگاڑنا چاہتی تھی اسلئے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسکی جانب گھرمی ۔۔۔ اور اسکے گال کو چھوا تھا
“آج تم نے دل جیت لیا ۔۔۔”
“کیا پہلے نہیں جیتا تھا “عباد نے اسکے بالوں میں منہ دے کر سرگوشی کی رانیہ کو اب اسکی قربت جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر رہی تھی مگر برداشت سے کام لینا پڑ رہا تھا ۔
نہ جیتا ہوتا تو خود کو سونپتی کیا؟
“لیکن جانو ایک بات سوچ رہا تھا میں …اب حورعین کہاں جائے گی ؟”
“وہ کہیں بھی جائے سوئیٹ ہارٹ اس نے تمہیں دھوکا دیا ہے اگر نہ دیا ہوتا تو وہ خضر سے شادی کیوں کرتی جب کہ میں اسے یہ خوشخبری دے چکی تھی تمہیں میں نے ڈرامہ آفر کر دیا ہے “
“جان میں نے یہ سب اس سے بدلا لینے کے لیے نہیں تمہاری محبت کے لئے کیا “عباد نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا تھا رانیہ زبردستی مسکرائی ۔۔۔عباد اس پر حاوی ہو رہا تھا اس نے بادل نحواستہ ہونے دیا لیکن یہ آخری بار تھا اب اسے عباد کو بھی راستے سے ہٹانا تھا
شام میں رانیہ آئی تو حورعین کو گھر میں دیکھ کر اسکے تلوؤں پر لگی تھی اور سر پر بجھی تھی ۔۔۔
“تم دفاع نہیں ہوئیں گھر سے ۔۔۔”رانیہ نے لاؤنچ میں اسے اطمینان سے بیٹھے دیکھ کر حقارت سے پوچھا ۔۔۔۔ وہ اسی طرح صم بکم بیٹھی میگزین کی ورق گردانی کرتی رہی ۔
کچھ پوچھا ہے میں نے ۔۔۔۔رانیہ سلگ کر دھاڑی تھی حورعین نے اطمینان سے میگزین سائیڈ پر رکھا اور اسکی طرف دیکھا تھا
“ایگریمنٹ میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ اگر تم سوال پوچھو گی تو جواب بھی دینا لازمی ہے “
“یو ۔۔۔۔”وہ تنتناتی اسکے سر پر آئی تھی اسکا چہرہ نفرت سے سرخ ہوا جا رہا تھا حورعین کے تاثرات طنزیہ سے سنجیدہ ہوئے اسکے مقابل کھڑی ہو کر حورعین نے اسے استہزایہ دیکھا تھا
“ایسا کچھ مت کرنا جس سے تم اپنے ہی ڈرامے میں پھنس جاؤ اور پچھتاؤ “
“تم مجھے دھمکی دے رہی ہو جانتی ہو ناں کہ تم میری زرخرید غلام ہو”رانیہ نے اسے سنگینی سے یاد دلایا لیکن پھر بھی حورعین کا اطمینان قابل دید تھا ۔۔۔
جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں آقا کے رازوں کا صندوق غلام کے پیٹ میں اور چابی زبان میں ہوتی ہے “
“تم ۔۔۔ تمہارا یقین کر ہی نہ لے خضر ۔۔۔۔”
“میرا یقین نہ کرے مگر۔۔۔۔”حورعین کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی رانیہ کا سیل گنگنایا تھا رانیہ نے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے سیل پر نمبر دیکھا فارن سے اسکے چچا کے گھر سے کال تھی اس نے پک کی اور جیسے جیسے سنتی گئی اسکے چہرے کی رنگت متغیر ہوتی گئی۔۔۔۔
اسکے سگے چچا کی وفات ہو گئی تھی وہ ہنوز الجھے اور قدرے پریشان ذہن کے ساتھ شہناز بیگم کے کمرے کی جانب چلی گئی تھی ۔۔۔۔ حورعین نے گہری سانس لے کر ماحول کی کثافت کو دور کرنے کی کوشش کی تھی اور واپس میگزین اٹھا لیا اگلا اور سب سے مشکل مرحلہ یعنی خضر سے سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کرنے لگی ۔۔۔
رانیہ کو بادل نحواستہ چچا کی تعزیت کے لیے جانا پڑا تھا حورعین کو اب پیچھے سکون تھا خضر کو بھی جو اس دن ہی ہاسپٹل سے سیدھا ڈاکٹرز کی ٹیم کے ساتھ شمالی علاقہ جات چلا گیا تھا جہاں ہاسپٹل کی طرف سے انہوں نے غریب لوگوں کے مفت علاج و معالجے کے لئے دو ہفتوں کے لئے کیمپ لگایا تھا اب اسے صرف خضر کا انتظار تھا وہ اسے منانا چاہتی تھی ادھر پیچھے اچانک ہی بینش کی منگنی کا ہنگامہ اٹھا تھا اور بینش کی منگنی کی تیاریوں میں اسکی ماں نے اپنے ساتھ تیاریوں میں لگا لیا تھا اور وہ بخوشی تیاریوں میں ہاتھ بٹا رہی تھی سب چیزیں بینش کی پسند سے لی جا رہی تھیں کیونکہ بینش اکلوتی بیٹی تھی اور منگنی بڑے پیمانے پر کی جا رہی تھی ۔
“آپ کب آئیں گے ؟”وہ بازار جانے کے لئے اپنی چادر لے کر آئی تو بینش فون پر خضر سے بات کر رہی تھی حورعین کا دل مضطرب ہوا ۔ بینش نے اسکے گالوں پر لالی بکھرتے دیکھی تھی وہ مسکرائی ۔ دوسری جانب سے شاید انکار کیا گیا تھا بینش مچلی
“نہیں ۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔۔اگلے سنڈے میری منگنی ہے اور آپ نے آنا ہے “
وہ بضد تھی ۔ حورعین جیسے منظر میں تھی ہی نہیں اسکو اپنا وہاں موجود ہونا غیر ضروری بھی لگ رہا تھا لیکن دل خوش فہم بھی تھا کہ کہیں خضر اس سے حورعین کا پوچھ ہی لے اسلئے وہ بیڈ پر بکھرے کپڑوں کو خواہ مخواہ آہستہ آہستہ سمیٹنے لگی بینش اسکی بے قراری محسوس کر رہی تھی اور زیرلب مسکرا رہی تھی
