Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 05)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 05)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
“سنئے حورعین “
جی؟
سو گئیں ؟
نہیں
“ایک بات پوچھوں آپ سے؟”خضر نے اسکی طرف کروٹ لے کر اسکی پشت پر پھیلے بالوں کو دیکھ کر پوچھا
“جی “
“آپ میری صورت کو دیو مالائی طنزیہ کہتی تھیں ناں ؟”خضر کی بات پر اسکی رنگت فق ہوئی تھی لیکن نائٹ بلب کی روشنی اس پر مصداق مخالف رخ ہونے کی وجہ سے خضر دیکھ نہیں پایا
“ارے نہیں ۔۔۔میں تو آپکی تعریف کرتی تھی “اس نے دانت پیس کر کہا “یا اللّٰہ اتنی بھی یاداشت تیز نہ ہو کسی کی “اس نے بے چارگی سے خود کلامی کی تھی اور پھر اسے اپنی انگلی بات یاد آئی تو وہ بے اختیار اللّٰہ پاک سے التجا کرنے لگی کہ وہ کوئی اگلا سوال نہ کر دے
“اچھا ۔۔۔لیکن مجھے تو تعریف نہیں لگی کبھی ۔۔۔”خضر نے کندھے آچکا کر صاف گوئی کی حد کر دی تھی وہ پیچ و تاب کھاتی رہ گئی
“کچھ اور پوچھنا ہے ؟”حورعین الفاظ چبا چبا کر بظاہر نرمی سے مستفسر ہوئی
“پوچھنا تھا لیکن جواب آپ نہیں پھر گول مول میں ہی دینا ہے اسلئے آپ سو جائیے “خضر نے رسان سے کہا تھا اسکا دل کیا وہ خضر کو تکیہ اٹھا کر دے مارے مگر خاموش رہی ۔۔۔۔
کالج میں خضر اسے پسند کرنے لگا تھا اسکی پسند سے وہ بھی واقف تھی لیکن وہ عباد کو پسند کرتی تھی اور کچھ معاشی حالات کی وجہ اسے کالج بیچ میں ہی چھوڑنا پڑا اور تب سے اب وہ خضر سے ملی تھی وہ بھی شریک حیات کی حثیت سے ۔۔۔۔رات اسکی آنکھوں میں کٹی تھی فجر کے وقت اسے نیند نے آلیا
صبح آنکھ کھلتے ہی باسی پھولوں کی مہک نے اسکا استقبال کیا تھا وہ لڑی ہاتھ میں پکڑے کچھ لمحے سوچتی رہی کہ آگے کا سفر کیسے جاری رکھنا ہے اسے کس کس طرح اپنے ہی مجازی خدا سے دامن بچانا ہو گا جبکہ وہ اچھی طرح واقف تھی کہ خضر اسے کالج سے ہی پسند کرتا تھا ۔۔۔مگر اب اسے یہ سب کرنا تھا ہر حال میں وہ اس گھر میں عہد کر کے آئی تھی کہ اسے کونسی چوٹ کب اور کس انداز سے لگانی ہے کہ وہ دونوں ٹوٹ جائیں اور اسکی جان خلاصی ہو منصوبے کی تکمیل اگرچہ مشکل تھی مگر جہاں عہد پکا ہو وہاں کچھ مشکل نہیں ہوتی۔۔۔باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی وہ بھی بال سمیٹتی اٹھ بیٹھی اور کلسمندی سے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی ۔۔۔
یا اللّہ میری مدد فرما ۔۔۔اس نے منہ آسمان کی جانب کرکے منت سے التجا کی تھی اور خود کی دل میں ملامت کی کسی کو دھوکا دینے میں کیسے بھلائی مانگ رہی ہوں ۔۔۔ایک کھسیانی مسکراہٹ اسے لبوں پر پھیل گئی ۔۔
اتنے میں باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا اور وہ تولیے سے اپنے بال رگڑتا سیدھا ڈریسنگ کے آگے جا کھڑا ہوا ۔۔۔حورعین نے کس قدر چور نظر سے اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔بلاشبہ ایک آزمائش تو اسکا سراپا ہی تھا وہ کہاں پھنس گئی تھی اس نے بےبسی سے لب کاٹے اسی کشمکش میں الجھی اسے ادراک ہی نہ ہوا خضر اسکو نرم مسکراہٹ سے آئینے میں سے دیکھ رہا تھا جب احساس ہوا تو گڑبڑا کر نظریں چرائیں اور ٹانگوں پر سے کمبل ہٹا کر الماری کی جانب بڑھی رات ہی رانیہ نے اسے بتایا تھا کہ سارے کپڑے اسکے اس الماری میں ہیں سو اپنے لئے کوئی مناسب سوٹ تلاش کرنا تھا اپنا کام وہ کل سے شروع کرنا چاہتی تھی اسکے خیال میں گرم گرم کھانے سے منہ اپنا ہی جلتا ہے اور وہ کسی بھی حال میں کوئی کوتاہی نہیں کرنا چاہتی تھی
الماری میں اپنے لئے کپڑے تلاشتے ہوئے اچانک دروازے پر دستک ہوئی تھی اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا سامنے رانیہ تھوڑی جزبز تاثرات لیے کھڑی تھی حورعین اسکو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی
ناشتے کے لیے بلانے آئی تھی “رانیہ نے کس قدر حسرت سے پیچھے خضر کو کلون لگاتے دیکھ کر سنبھل کر اپنی آمد کی وجہ بتائی۔
جی بس ابھی آتے ہیں “حورعین نے کہا تھا اور رانیہ دل کی دل نہیں کلستی واپس ہولی حورعین نے بھی دروازہ بند کیا تھا اور اپنے لئے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئی۔
حورعین پورے دن گھر کے کاموں میں لگی رہتی لیکن خضر کے کام اب بھی رانیہ سر انجام دیتی تھی شہناز نے دبے لفظوں میں حورعین کو جتایا تھا مگر وہ جیسے ایک کان سے سنتی دوسرے کان سے نکال دیتی تھی۔شہناز بیگم اپنی دوسری بہو کو بھی ایسے دیکھ کر کلس کر رہ گئی تھی کہاں انکی امیدیں کہاں انکی امیدوں پر پانی پھیرتی حورعین ۔۔۔ آج جب سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے تو رانیہ کو خضر کے لاڈ اٹھاتے دیکھ کر شہناز نے ٹوک دیا تھا
اب تو بچوں کی طرح اسکے لاڈ نہ اٹھاؤ خیر سے بیوی آگئ ہے اسکی آب اسے اٹھانے دو۔۔۔ شہناز بیگم کی کاٹدار بات پر خضر ہلکا سا کھسیا گیا تھا حورعین اور رانیہ کی رنگت متغیر ہوئی پھر رانیہ نے خود کو سنبھالتے ہوئے دوبدو طنز کیا تھا
بیوی کو خود سے جاننے کی تو فرصت نہیں کہ میرے لاڈلے دیور کو کیا پسند ہے کیا نہیں تو میں تو اٹھاؤں گی ناں ۔۔۔کیوں حورعین ؟؟رانیہ کی بات پر حورعین جل کر خاکستر ہو گئی تھی اور نوالہ پلیٹ میں چھوڑ کر اسکی طرف دیکھا دوسری طرف شہناز بیگم رانیہ سے لاکھ اختلاف رکھ کر بھی خاموش رہی کہ کسی بھی طرح باسی کڑھی میں ابال تو آئے
خیر سے بھابھی آپ یہ موقع کسی کو لینے ہی نہیں دیتیں پھر ہم بھی گستاخی کرنا نہیں چاہتے ۔۔۔”حورعین نے دانت پیس کر کہا تھا
“ارے بس بس ۔۔۔حورعین بھابھی کا جو اس گھر میں مقام ہے وہ آپ نہیں جانتیں اور حورعین آپکا جو میرے دل میں مقام ہے وہ کوئی نہیں جانتا ۔۔۔ہممم “خضر نے صورتحال بگڑتے دیکھ کر بات سنبھالی تھی اور حورعین کو میٹھی نظروں سے دیکھا تھا جو خضر کے اتنے سے اظہار پر بلش کر کے نظریں جھکا گئی تھی رانیہ البتہ لال بھبھوکا چہرہ لئے ٹیبل سے اٹھ کر چلی گئی تھی
پھر اسکے بعد حورعین نے خضر کے بھی کام اپنے ہاتھوں میں لے لئے تھے اور وہ دن رانیہ انگاروں پر لوٹتی
۔۔۔ ۔۔۔۔
