Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 08)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 08)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
شرٹ پہنتے ہوئے اس نے رانیہ کی بکھری بکھری حالت کی سمت دیکھا تھا اور مسکرایا رانیہ اتنی بولڈ ہوتے ہوئے بھی لجا کر ساڑھی درست کرنے لگی ۔۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھنے لگا تو رانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔۔رانیہ نہیں چاہتی تھی کہ ابھی وہ جائے نجانے جسم کی بھوک اتنی بےدید کیوں ہوتی ہے نہ تھال دیکھتی ہے نہ تھال میں پڑے کھانے کی قسم بھوک کو بس کھانے سے مطلب ہوتا ہے
کیا مجھے آج چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے ؟اس نے شرارت سے کہا تو رانیہ نے نفی میں سر ہلا کر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
“چاہتی تو یہی ہوں مگر مجھے ابھی میٹنگ میں جانا ہے اور ۔۔۔۔”وہ ساڑھی سنبھالتی اسکے مقابل کھڑی ہوئی تھی اور اسکی گردن پر لگے اپنے لپسٹک کے نشان پر ہاتھ پھیرا
“اور ۔۔۔۔؟”اس نے ایک جھٹکے سے رانیہ کو اپنے قریب کیا تھا
“اور پھر گھر بھی تو جانا ہے “رانیہ نے دوبارہ سے اسکا موڈ بدلتے دیکھ کر اسکے بازو پر چٹکی کاٹی تھی وہ شرارت سے سسکا ۔۔۔۔رانیہ کسمسا کر اسکی بانہوں سے دور ہوئی تھی
“آپ سے بدلا تو میں کل لونگا ۔۔۔۔”وہ اسکے وجود کو نظروں سے تعظیم کرتے معنی خیز سا بولا تھا رانیہ نے مڑ کر شیشے میں اپنا سرتاپا جائزہ لیتے اپنے لبوں پر سرخی درست کی تھی اور ایک ادا سے بولی
آج کیا کم بدلے لیے ہیں ؟؟
“ہائے۔۔۔کم ہی تھے ناں ” وہ پیچھے ٹیبل پر ہاتھ رکھے ایک ادا سے بولا تھا اور رانیہ جو پہلے ہی جانا نہیں چاہ رہی تھی ہنستی ہوئی اسکی طرف مڑی اور قدم قدم قریب آکر اسکی بانہوں میں سما گئی تھی وہ بھی موقع غنیمت جان کر اسکو اپنی آغوش میں بھر چکا تھا ایک بار پھر وہ میٹنگ میں شریک ہونے سے قاصر تھی
دن بدن گزرتے گئے پہلے شہناز بیگم حورعین سے بالکل قطع تعلق کرکے بیٹھی تھیں مگر رانیہ کو خضر کے مزید قریب ہوتے دیکھ کر ان سے برداشت نہ ہوا اور انہوں نے اس سے بہتر حورعین کو ہی جانا تھا بہرحال وہ بیوی تو تھی خضر کی چاہے نکاح کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہو مگر سب کی نظروں میں وہ خضر کی شرعی بیوی تھی اور حورعین کے لئے اتنا کافی تھا کہ شہناز بیگم نے رانیہ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ حورعین ان کو ساری سچائی بتا چکی ہے لیکن سب وہ تھوڑی ڈری سہمی سی رہنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اسکو اس بات کا عادی کھلنے سے پہلے ہی اپنا انتظام کرنا تھا مگر اتنے پیسے کہاں سے آتے ۔۔۔یہی سوچ اسکو ذہنی طور پر منتشر رکھتی تھی
حورعین …؟ایک سرمئی صبح ناشتہ بناتے ہوئے اسکو لاؤنچ میں سے شہناز بیگم کی آواز آئی تھی ۔۔۔وہ پیڑا بناتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے میں اکھڑی ہوئی اسکو گوناگوں مسرت ہوئی تھی کیونکہ کافی دنوں بعد ہی سہی مگر شہناز بیگم نے اسے پکارا تھا
“جی ۔۔۔جی ۔۔۔”اسکی آنکھوں کی چمک سے اسکے دل کی خوشی کا اندازہ ہوتا تھا جو شہناز بیگم نے بھی بھانپ لی دل میں کہیں حورعین کی مجبوری اور اچھائی کا اعتراف وہ بھی کرتی تھی
٫تم نے خضر کو اٹھایا آج ہاسپیٹل جاتے ہوئے اسے بینک بھی جانا تھا میرے کام کے سلسلے میں …”
“جی ابھی تک تو وہ سو رہے ہونگے میں رانیہ بھابھی کے لئے ناشتہ بنانے کے لئے پہلے ہی اٹھ گئی تھی “وہ منمنائی رانیہ کے نام پر انکے منہ میں جیسے کڑوا بادام آگیا تھا منہ بنا کر بولی
“اسکا کیا ہے اسکو تو اپنے لئے نوکرانی ملی ہوئی ہے اور تم بھی تھوڑا حلیہ درست کر کے رکھا کرو اور خضر کے قریب ہونے کی کوشش کرو ۔۔”
“ج۔۔۔جی میں ۔۔۔”وہ ہونقوں کی طرح انکا چہرہ دیکھنے لگی تو شہناز بیگم نے اسے ڈپٹا
“اور کوئی تو یہاں ہے نہیں جسکو میں کہوں گی تم ہی ہو ۔۔۔ رانیہ نے جو چال چلی ہے میں اس پر ہی الٹ چلانا چاہتی ہوں “انہوں نے دوسرہ فقرہ زیرلب ہی کہا تھا
“اب یہ ناشتہ چھوڑو مجھے ابھی بھوک نہیں میں خضر کے ساتھ ہی کروں گی اور تم خضر کو اٹھاؤ جا کر ۔۔۔” انہوں نے وہیل چئیر کا رخ موڑتے ہوئے حکم صادر کیا تھا
“جی ۔۔۔”اس نے مری مری آواز میں کہا تھا اور پیڑا واپس تھال میں رکھ کر ہاتھ دھوئے بنا ہی کمرے میں چلی آئی ۔۔۔ خضر کو جگانا اتنا مشکل ہرگز نہیں ہوتا تھا وہ ایک آواز دیتی تھی اور خضر جاگ جاتا تھا کمرے میں ملگجہ سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور وہ بیڈ پر سو رہا تھا غالباً وہ حورعین کے اٹھنے کے بعد بیڈ پر آیا تھا اور اب مزے سے گہری نیند سو رہا تھا ۔۔۔حورعین نے اسکے بغور اسکی بند پلکوں کو دیکھا تھا یہ آنکھیں کھلی ہوتے ہوئے بہت گھائل کرتی تھیں اسے ۔۔۔۔شرارت ہی شرارت سحر ہی سحر ۔۔۔۔وہ مسمرائز ہوتی جاتی تھی جیسے اب ہو گئی تھی اور اسی خمار میں اس نے خضر کے سرہانے جگہ بنائی تھی اور ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔۔ خضر کے ماتھے پر اسکے سنہری بال بکھرے ہوئے تھے اس نے شہادت کی انگلی سے وہ بال نرمی سے ہٹائے تھے اور مسکرائی ۔۔۔۔ اسے گوناگوں اپنی آدھی ادھوری شادی پر ہی رشک آیا ۔۔۔حورعین نے بے اختیار جھک کر اسکی پلکوں پر نرمی سے لب رکھے تھے وہ نیند میں کسمسایا تھا ۔۔۔حورعین بھی جیسے ہوش میں نہیں رہی تھی پلکوں کے بعد اس نے گال پر بنے تل پر لب رکھے تھے لیکن یہ احتیاط ملحوظ خاطر رکھی کہ اسکے لمس سے وہ جاگ نہ جائے ۔۔۔۔ حورعین کو دفعتاً ہوش آیا تھا وہ اپنے دل کی بےایمانی پر گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور جانا چاہتی تھی کہ خضر جو پہلے ہی جاگا ہوا تھا اس نے سرعت سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اور اپنے اوپر گرا لیا تھا وہ دم بخود اسکے سینے پر گری تھی
