58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 07)

Garg Atishi By Atiqa Faiz

مجھے کیا کرنا ہو گا؟حورعین نے شکست خوردہ لہجے میں کہا تھا پوری رات وہ عباد کو کالز اور میسیجز کرتی رہی تھی لیکن وہ اس دن کا ہی سخت ناراض تھا جیسے اچانک بےزار ہو گیا ہو ۔۔۔آخر میں صبح تک وہ فیصلہ کر چکی تھی اور اب رانیہ کے سامنے ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھی تھی خیر کسی کو تکلیف اور دھوکہ دینا تو اسکی سرشت نہیں تھی مگر اب وہ دھوکہ دینے جا رہی تھی حالات نے اسے کس نہج پر لا کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔رانیہ نے ایک سائیڈ کی مسکراہٹ جس میں ہلکی سی استہزاء کی بھی جھلک تھی سے جانچا اور ایک فائل نکال کر اسکے سامنے کی ۔۔۔اس میں سب موجود ہے پڑھ لو اور سائن کر لو ۔۔۔اس نے مرے مرے ہاتھوں سے فائل تھامی اندر ایک ایگریمنٹ پیپر تھا جس میں کچھ شرائط کے بعد اس نے قبولیت کا عندیہ دیتے وہاں سائن کرنے تھے۔

1نکاح میں رہتے ہوئے اسے ہر ممکن طور پر خضر کے قریب نہیں جانا

2معاہدے کے مطابق جلد سے جلد اپنا کام کرنے کی کوشش اور ہر معاملے میں رانیہ کی منظوری لازمی ہو گی

3وہ صرف رانیہ کے بتائے گھریلو کام اپنے ہاتھ میں لے گی

4طلاق کے بعد عقد ثانی کر سکتی ہے کہیں بھی رہ سکتی ہے

5 طلاق کے بعد بھی اسکو رہائش اور تنخواہ دی جاتی رہے گی چاہے پھر وہ عقد ثانی ہی کیوں نہ کر لے ۔

6خضر کے نکاح میں رہتے ہوئے اسکو وہ تمام سہولیات دی جائیں گی جو وہ چاہے گی مگر خضر کے قریب نہیں جائے گی

7نکاح سے پہلے اسکے بعد اور طلاق کے بعد کبھی بھی وہ یہ راز کسی کو نہیں بتائے گی

8کسی کمزور لمحے میں اگر خضر اور وہ باہمی جسمانی رشتہ قائم کر بیٹھیں تو سب سے پہلے رانیہ کو بتائے اور رانیہ اسی وقت یہ معاہدہ ختم کرنے کی مجاز ہو گی اور حورعین کو اس گھر سے کسی کو بنا بتائے بنا کچھ لئے جانا ہو گا اور شادی و دیگر پیسے ایک ماہ میں ادا کرے گی

9اگر حورعین نے جذبات میں یا غصے میں کبھی کسی کو سچائی بتائی تو شادی سے لے کر تب تک جتنے پیسے بھی لگے ہونگے وہ ایک مہینے میں واپس کرنے کی مجاز ہے

اس نے ساری شرائط پڑھ کر ایک گہری بوجھل سانس لی تھی

آپکو کیوں لگتا ہے کہ میں غداری کروں گی ؟

“کیونکہ تم نے ابھی تک خضر کو نہیں دیکھا “رانیہ نے چمکتی آنکھوں سے ایسے کہا کہ حورعین کو بھی اسےدیکھنے کا اشتیاق ہوا تھا لیکن اسے رانیہ کی بات سے محبت کے بجائے ہوس کی بو آئی

“اور میں کب دیکھ سکتی ہوں؟”

شادی کی رات کو ۔۔۔۔انہوں نے پین اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا اس نے تھوڑی سوچ و بچار کے بعد پین تھام لیا اور سائن کرنے لگی تو رانیہ بول پڑی تھی

“میں نے تمہارے لئے ایک اور شرط رکھی ہے “

کیا ؟؟اسے شرط سننے میں دلچسپی نہیں تھا کیونکہ اسکا دل بہت بوجھل ہو رہا تھا پھر بھی اس نے پوچھ لیا

“تمہارے عباد کو بھی تین ڈراموں میں مرکزی کردار دیا جائے گا اور وہ یہ سب پہلے ہی سن چکا ہے اسی کے کہنے پر میں نے تمہارا انتخاب کیا تھا ” رانیہ نے مزے سے بتایا تھا وہ تلملا اٹھی

ذلیل کمینہ ۔۔۔حورعین نے دل میں اسے گالیوں سے نوازا تھا اور جو تھوڑی بہت ردوکد تھی وہ بھی دور ہوگئی اس نے سائن کر دئیے تھے مگر عباد کی بے غیرتی کو سوچتے ہوئے اسے خضر کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہ ملی اور اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ خضر وہ کالج والا جو گا

پھر سارا کچھ رانیہ نے کیا تھا وہی شہناز بیگم کے ساتھ انکے گھر آکر رابعہ سے ملی تھی اور انکو کسی دور پار کے رشتے دار کا حوالہ (جو اس نے حورعین سے پوچھا تھا )دے کر اپنے آنے کا مدعا بیان کیا رابعہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی بیٹھے بٹھائے ڈاکٹر کا رشتہ اور رشتہ داروں کے بھی منہ پر بھی قفل لگ جاتا کہ سوتیلی تھی اسلئے تنہا چھوڑ کر چلی گئ شہناز کو بھی حورعین پسند آگئی تھی اور رابعہ کی میٹھی چھری جیسی زبان بھی اور ارسم نے رسمی سی جانچ پڑتال کے بعد ہاں کر دی بہت جلد سب ہوا تھا ایک ہفتے میں کیونکہ رابعہ نے انکو اپنی مجبوری مجبوری سے کئی گنا بڑھ کر دکھی لہجے میں بتائی تھی دو چار مگرمچھ کے آنسو بہائے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ ہو گیا وہ عباد سے کبھی رابطہ نہ رکھنے کی خواہشمند تھی اسلئے اس نے اپنی سم توڑ کر فون اپنے سامان میں رکھ لیا تھا ۔۔۔۔شادی کے دن نکاح کے بعد اسٹیج پر وہ خضر کو اور خضر اسکو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔۔۔۔دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کئی سال بعد وہ دونوں واپس ایک دوسرے کے سامنے ہونگے

وہ اسٹیج پر خضر کے ساتھ بیٹھی اسکی بار بار خود پر اٹھتی ستائشی نظروں سے کافی نروس ہو رہی تھی بینش نے بھی نوٹ کیا تھا ۔۔۔

آپکی ہی ہے اب تو ساری زندگی اسے ہی دیکھنا ہے بس کیجئے “بینش نے بات پر وہ گلابی ہوئی جبکہ خضر نے بینش کی جانب مسکراتی نظروں سے دیکھا تھا بینش کے دل میں ہلچل ہوئی تو خود کو ڈپٹا۔

“خواب مجسم ہو کر سامنے ہو تو پلکیں جھپکانے کی گستاخی کون کرتا ہے “

بینش نے اسکی شاعرانہ بات پر سر دھنا اور رابعہ دودھ کا گلاس اٹھائے اسٹیج پر آگئی تو نوک جھوک شروع ہو گئی ۔

رخصتی کے بعد گھر سے لے کر خضر سے گھر تک اور سیج پر بیٹھی وہ کبھی خود کے دل سے لڑتی اور کبھی ضمیر سے یہی سوچ رہی تھی کہ اپنا منصوبہ وہ کیسے پورا کرے گی خضر کو اپنے قریب آنے سے کیسے روکے گی لیکن رانیہ نے باہر سے خضر کو نجانے کیا کہہ کر بھیجا تھا خضر کمرے میں آیا تو اسکے بالکل سامنے بیٹھ کر نرمی سے گفتگو شروع کی تھی ۔۔۔۔وہ سکڑ سمٹ کر بیٹھی اس دشمن جو ہرانے کے سارے ہتھیاروں سے لیس تھا سن رہی تھی

دیکھیے آپ جب ذہنی طور پر آمادہ ہوں ہم اپنا رشتہ تب شروع کریں گے میں جانتا ہوں کہ آپکو سپیس چاہیے ابھی اتنی جلدی اجنبی سے روح کا ساتھی نہیں بنا جاتا اور نہ ہی میں جبر سے اپنی تسکین چاہتا ہوں نکاح محض دو جسموں کا ملاپ نہیں بلکہ دو دل کی ہم آہنگی اور سکون ہوتا ہے اسلئے جب آپ میری محبت کو قبول کریں تب تک آپ مجھ سے سب شئیر کر سکتی ہیں سب کچھ اور میں بھی آپکے کسی بھی معاملے میں حق تلفی نہیں ہونے دوں گا”خضر نے اپنا مدعا صاف لفظوں میں بیان کرتے اسکے سارے خدشے دور کر دئیے تھے اور وہ ذہنی طور پر خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔

“تھینک یو ۔۔۔” حورعین نے دھیمے سے کہا تھا

٫آئی لو یو “وہ شرارتی لہجے میں کہتا اٹھا تھا اور اسکے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ اترتے دیکھ کر میری۔ چرائیں

“آپ چینج کر لیجئے “

“آپ کہاں جا رہے ؟؟٫

“میں چینج کرکے صوفے پر جاؤں گا آئی تھنک آپکو اچھا نہیں لگے گا کہ میں بیڈ شئیر کروں “خضر الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گیا تھا پیچھے وہ سوچتی رہ گئی کہ خضر اگر ایسے ہی اسکے ساتھ رہا تو وہ اسے دھوکہ کیسے دے پائے گی

حال۔۔۔۔۔۔

حورعین سوجی آنکھوں کے ساتھ اب چپ بیٹھی تھی شہناز نے بھی ضبط سے لب بھینچے ہوئے تھے مبادا کوئی غلط بات نہ منہ سے نکل جائے کیونکہ انہیں غصہ ہی شدید تھا رانیہ پر حد درجہ اس نے ثابت کیا تھا کہ وہ اعتبار کے لائق ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔کمرے میں وحشت ناک سکوت تھا کہ شہناز کی سپاٹ آواز نے خاموشی کو توڑا

“حورعین تن ابھی میری نگاہوں کے سامنے سے چلی جاؤ ورنہ ۔۔۔”

“آپ خدا کا واسطہ مجھے کہیں جو آپ کہنا چاہتی ہیں ورنہ میں مر جاؤں گی اس شرمندگی سے اور ۔۔۔”حورعین مچل کر انکے قدموں سے لپٹی تھی اور گڑگڑائیں شہناز نے اسکی بات پوری ہوئے بنا زبردستی اپنے قدموں سے پیچھے دھکیل کر تیز لہجے میں کہا تھا

“میں نے کہا حورعین جاؤ میرا اتنا چھوٹا ظرف نہیں ہے “وہ دھاڑی تھیں حورعین سسکتے ہوئے اٹھی تھی اور وہاں سے بھاگ گئی تھی پیچھے شہناز بیگم کی آنکھوں میں نمی آگئی اسکے بیٹوں کے کیسے بخت تھے کون کہتا ہے حسن اور دولت ہی سب کچھ ہے اسکے دونوں بیٹوں کے پاس حسن بھی تھا اور دولت بھی مگر ایک نے موت سے مار کھائی تھی دوسرا نصیب سے کھا رہا تھا

رانیہ دوڑ کر اسکی پشت سے لگی تھی اور وہ مسکراتا ہوا پلٹا ۔۔۔۔

آگئیں آپ۔۔۔؟وہ اپنے سینے پر موجود اسکے نرم ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہوئے پلٹا تھا اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے چہرے کو نقش کو چھونے لگا جوابا وہ کسمسائی تھی ۔۔۔

“ارے ابھی نہیں نہ ۔۔۔؟”اسکی مزاحمت میں بھی خود سپردگی تھی وہ مزید بہکا اور اسکے لفظوں کو قید کر لیا ۔۔۔چند لمحوں بعد وہ پیچھے ہوا تو رانیہ نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا تھا اور سانس درست کئے

“بس کہیں بھی ۔۔۔۔”اس نے اپنے پرس سے شیشہ اور ٹشو نکال کر اپنی لپ سٹک درست کی تھی ۔۔۔

“ہم آپ کے لئے اتنا کر رہے ہیں اور آپ جناب ہمارے موڈ کا خیال ہی نہیں کرتیں “وہ بھی نروٹھا ہو کر واپس پیچھے صوفے پر جا بیٹھا تھا رانیہ نے اسکے موڈ کو بگڑتے دیکھ کر ایک ادا سے ساڑھی کا پلو جھٹکا تھا اور اسکی گود میں بیٹھ کر اسکی گردن کے گرد بانہیں پھیلائیں ۔۔۔۔

“ہم بھی تو آپ کے ہی ہیں ناں ۔۔۔”رانیہ نے لاڈ سے کہتے اسکی آنکھوں کو چوما تھا وہ اتنے سے ہی میں بہک کر اسکو اپنے ساتھ صوفے پر گراتا اس پر حاوی ہو چکا تھا اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن ہو گئے۔۔۔