Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 11)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 11)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
حورعین کا روم روم سماعت بنا ہوا تھا وہ جان بوجھ کر انتہائی سست روی سے بیڈ پر کپڑے سمیٹ رہی تھی ۔۔۔۔
“بس آنا ہے تو آنا ہی ہے خضر ۔۔۔۔میں نہیں ۔۔۔۔”وہ بات کرتے کرتے روم سے نکل گئی تھی حورعین کے ہاتھ بےجان سے ہو گئے اور کپڑے دوبارہ بیڈ پر بکھر گئے ۔۔۔۔۔ ایک بے نام سی سرخوشی اپنے آپ ہی مر گئی تھی ۔۔۔۔ وہ چادر لپٹتی کمرے سے باہر آگئی
راات میں اسے ٹی وی دیکھتے دیکھتے وہیں صوفے پر اونگ آگئی تھی اور وہ سو گئ ۔۔۔ رات کے کوئی ڈھائی بجے مرکزی گیٹ بجایا گیا تھا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔۔۔ بے آرامی سے لیٹنے کی وجہ سے اسکی ٹانگیں اور کمر شل ہو گئی تھی ۔۔۔ اتنے میں گیٹ پھر دھڑدھڑایا گیا تھا ۔۔۔ وہ حیرانی سے گھڑی میں وقت دیکھتی باہر چلی آئی ۔۔۔سینے پر دوپٹہ اچھی طرح پھیلایا تھا اور گیٹ کھولنے سے پہلے مستفسر ہوئی تھی
کون ؟؟
“میں ہوں اگر مہربانی کرنے کا ارادہ ہو تو دروازہ کھول دینگی؟”خضر نے تڑخ کر جواب دیا تھا حورعین کا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔۔
ج۔۔۔جی ۔۔۔میں کھولتی ہوں “اس نے گڑبڑا کر کہتے دروازہ کھولا تھا اور خضر اسکو تیکھے چتونوں سے گھورتا اندر آیا تھا ۔۔۔ حورعین اسکی تیز نظروں کو قطعی نظر انداز کرکے جانے لگی
اب کس ارادے سے رکی ہیں یہاں ۔۔۔۔؟
مجھے ماں نے روکا ہے
اچھاااااااا۔۔۔۔۔ ماں کا اتنا خیال ہے آپکو ؟وہ استہزایہ ہنسا حورعین جزبز ہوئی
بہت ہے کم از کم آپ اور بھابھی کی طرح ماں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں گئی ۔۔۔”وہ بھی کم نہیں تھی
“اب میں آگیا ہوں ناں تو جائیے ۔۔۔”خضر نے ترنت کہا
“ٹھیک ہے اسی وقت جاکر گلی میں بیٹھ جاتی ہوں تب آپکی عزت نفس گوارا کر لے گی کہ ایک لڑکی جو غلطی سے آپکی بیوی بن گئی گلی میں بیٹھی ہے ” وہ پاؤں پٹختی الٹے قدموں کھلے گیٹ کی طرف بڑھی تھی کہ راہ میں ہی خضر نے اسکی کلائی تھامی تھی
“غلطی سے نہیں ۔۔۔۔ سازش سے ۔۔۔”خضر نے اسکی آنکھوں میں جھانک کر تصیح کی
اور یہ ارادہ ہے یا سازش ۔۔۔۔حورعین کا اشارہ اسکی کلائی پکڑنے کی جانب تھا خضر نے اپنا غصہ اسکی نازک کلائی کو مزید دبوچ کر نکالا وہ سسکی۔
“حق ہے ۔۔۔”
حق تب جتائیے جب میرے فرض ادا کر سکیں “اس نے ایک جھٹکے سے اپنی کلائی چھڑائی تھی
اور باہر جانے لگی تو خضر کا لمبا چوڑا وجود اسکی راہ میں حائل ہوا تھا ۔۔۔وہ بھنا گئی
” روک رہے ہیں اب ؟”
“فرض نبھا رہا ہوں….. اندر جائیے “خضر نے آرام سے اپنا مدعا بیان کیا تھا
“کیسے اس گھر میں میرا وجود آپ دیور بھابھی کو برداشت ہو جائے گا؟؟؟”وہ طنزیہ گویا ہوئی
“مجھے نہیں ہے قطعی نہیں ہے لیکن میری ماں سے پوچھے بنا کچھ کہوں گا نہیں ۔۔۔”
“ہک ہا۔۔۔شکر آپ نے اپنی بھابھی کا نہیں کہا “وہ استہزایہ کہہ کر اندر کی جانب پلٹ گئی تھی پیچھے خضر کا دل کیا اسکے ساتھ ایسا کچھ کر گزرے کہ وہ پوری زندگی یاد رکھے
اگلے دن صبح صبح ہی خضر بینش کے ساتھ شاپنگ پر نکل گیا تھا وہ بینش کو کچھ اپنے سے بھی دلانا چاہتا تھا قدسیہ بیگم منع کرتی رہی گئیں لیکن خضر اور شہناز بیگم نے انکی ایک نہیں سنی تھی قدسیہ اور شہناز بیٹھیں آپس میں محوگفتگو تھیں کہ خضر کمرے میں آیا تھا
میں اور بینش نکل رہے ہیں چچی “
“تمہیں حورعین کو بھی لے کر جانا چاہیے “قدسیہ نے ازخود شہناز کے دل کی بات کر دی
“رہنے دیجئے”قطعی جواب آیا تھا
ماں کا حکم ٹالو گے “شہناز بیگم نے جذباتی حربہ آزمایا
“ماں وہ ڈیمانڈ ہی نہ کریں جو میں پوری کر سکوں “
“وہ بینش کے ساتھ چلی جائے گی تم نہ بات کرنا اس سے “قدسیہ نے اسے ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑا وہ مسکرا بھی نہ سکا
“ٹھیک ہے پھر بینش بھی گھر رہے میں خود ہی لے آؤنگا اس کے لئے کچھ ۔۔۔”
“تم کتنے ضدی ہو گئے ہو خضر “شہناز نروٹھی ہوئی تھیں
“مجھے ایسا بنانے میں آپکی لاڈلی کا ہاتھ ہے “
“حورعین کا نہیں رانیہ کا ۔۔۔”انہوں نے ترنت کہا تھا وہ انکو لب بھینچے دیکھتا رہا پھر جند لمحے توقف کے بعد گویا ہوا ۔
“اچھا میں چلتا ہوں “وہ اٹھ کر چلتا بنا تھا قدسیہ بیگم نے شہناز بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
یہ لڑکا تو بالکل رانیہ کی مٹھی میں ہے “وہ بےبسی سے گویا ہوئیں قدسیہ بیگم نے بھی تائید میں سر ہلایا تھا
تم حورعین کو کہو کہ خضر کو اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کرے “
“مناسب لگتا ہے ؟”
“وہ خضر کی بیوی ہے معذرت کے ساتھ تم نے رانیہ کو تو اتنی آزادی دی کہ وہ بھابھی ہو کر خضر کو مٹھی میں کر بیٹھی جبکہ حورعین کی باری میں تمہیں مناسب و غیر مناسب کا خیال آرہا ہے “قدسیہ بیگم نے تلخ لفظوں کو رسان سے شہناز کے کان میں انڈیلا تھا وہ چوں بھی نہ کر پائی اور اثبات میں سر ہلایا تھا
اس نے جھک کر اپنے سینڈل کے اسٹریپ باندھے تھے ۔۔۔۔ شہناز بیگم نے اسکو بغور دیکھا وہ شادی کے بعد پہلی بار اتنا تیار ہوئی تھی اور بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔ شہناز بیگم نے دل میں ماشاء اللّٰہ کہا ۔۔۔ اب وہ گولڈن ٹشو کا ڈوپٹہ اپنے کندھے پر سیٹ کر رہی تھی اور سیٹ کرنے کے بعد جیسے ہی بالوں کو سمیٹنے لگی شہناز بیگم نے اسے ٹوک دیا تھا ۔۔۔
“رہنے دو ایسے ہی۔۔۔۔ایک تم ہی نہیں ہو جو جن بھوت چمٹ جائنگے بال کھولنے سے “شہناز بیگم کی تعریف کا انداز ہی انوکھا تھا وہ کھسیا کر مسکراتی بالوں کو کھلا چھوڑ کر اس میں کنگھا کرنے لگی
“کیوں کال کر رہے ہو بار بار “
“آپکی یاد آرہی تھی “
“میں کسی کی میت میں آئی ہوں تمہارا یہ دو ٹکے کا رومینس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں “
“رومینس نہیں ۔۔۔یاد ۔۔۔۔”
“یاد بھی تو اسلئے ہی آرہی ہو گی ناں کہ ۔۔۔۔”اس نے تپ کر ادھورا جملہ چھوڑا عباد بچہ نہیں تھا اسکی بات سمجھ چکا تھا
آپ مجھے ہوس زادہ سمجھتی ہیں “عباد کی آواز صدمے میں گھر گئی
“میں سمجھتی نہیں تم ہو ۔۔۔اب ہر وقت انسان اسی موڈ میں نہیں ہوتا “رانیہ نے تلخ لہجے میں جھاڑا تو عباد کے دل میں چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا لیکن رانیہ کو احساس نہیں تھا کہ یوں اتنی جلدی گرم گرم حلوہ کھانے سے وہ خود جل جائے گی۔
آپکو میں نے کیا نہیں دیا؟
“اسکے بدلے تم نے وصول بھی کیا ہے عباد ۔۔۔ ترقی ،میرا وجود ،بینک بیلنس اور۔۔۔۔”
٫بس رانیہ ۔۔۔ حورعین ۔۔۔”
“ہاں حورعین ۔۔۔تم اسی حورعین کے پاس کیوں نہیں چلے جاتے ؟؟خیر سے اب وہ مطالقہ بھی ہونے والی ہے”
“رانیہ ہر کوئی لڑکی آپکی طرح گری ہوئی نہیں ہوتی کہ ایک کو چھوڑا دوسرے کو۔۔۔”عباد نے جوتا بھگو کر مارا تھا
“شٹ اپ ۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ “رانیہ سب پر آگ بگولہ ہو کر چلائی تھی عباد نے تلخ سا اونیہ کر کے کال کٹ کر دی ۔۔۔۔
وہ سیدھا آفس میں آیا تھا یہ وہی آفس تھا جس میں رانیہ اور وہ رنگ ریلیاں مناتے تھے اب چوکیدار بھی (صاحب) سے واقف ہو گیا تھا اسلئے آسانی سے اسے اندر آنے دیا اور دوسرا ماسٹر کی بھی اسی کے پاس تھی
رانیہ اور اس نے مختلف تصاویر بھی لی تھیں اور وہ تصاویر جس یو ایس بی میں تھی وہ یو ایس بی یہاں ہی پڑی تھی۔۔۔وہ اس یو ایس بی کی تلاش میں تھا جو وہ خضر کو دکھا کر رانیہ سے انتقام لیتا مگر یونہی مضطربانہ دراز کھنگالتے اسکی نظر ایک فائل پر گئی تھی ۔۔۔ اس نے بے دھیانی میں فائل اٹھا کر دیکھی ۔۔۔۔اسکے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی تھی ۔۔۔اس اپنی اور حورعین کی بےوقوفی پر غصہ آیا اب رانیہ کی عقل ٹھکانے لگانا تھی
