Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 12)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 12)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
منگنی کے لئے بال پنوں سے سیٹ کرتے ہوئے بینش کا موبائل بپ ہوا تھا ۔۔۔ بینش نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو اسکے لبوں پر دھیمی شرمیلی مسکان سج گئی اسکے منگیتر کی کال تھی حورعین نے مصنوعی تاڑنے والی نظروں سے اسے آئینے میں گھورا تو وہ کھلکھلائی تھی ۔۔۔
“بس دو منٹ…”وہ شرارت سے ملتجی ہوتی سیل لے کر بالکونی کی جانب بڑھ گئی تھی
“اگر تصویر مانگے تو کہنا انتظار بھی کوئی چیز ہوتی ہے “حورعین نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی اور واپس مڑ کر آئینے میں اپنا سراپا دیکھا اسی وقت آئینے میں پیچھے خضر کا تنومند وجود نمایاں دکھائی دیا تھا ہلکی سنہری شیروانی میں اسکی آنکھوں کا رنگ بھی ہلکا سنہری دکھائی دے رہا تھا اور آنکھوں کی چمک ۔۔۔۔اس سے پہلے دل بےایمان ہو حورعین نے نظریں گھما لیں اور ڈریسنگ پر پڑی نیل پینٹس بلاوجہ ادھر ادھر کرنے لگی ۔۔۔اسی اثنا میں لائٹ ڈم ہو کر چلی گئی تھی اس نے سر اٹھا کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی اور مڑی تو خضر کے مضبوط وجود سے ٹکرا کر واپس ڈریسنگ کے سٹول سے لگی تھی۔۔۔۔وہ دفعتاً اسکے سر پر پہنچ گیا تھا
اففف۔۔۔”وہ جھنجھلا اٹھی
“اندھیرے میں بھی سکون نہیں آپکو ۔۔۔”اس نے تلملا کر کہا تھا۔۔۔اور ناکام کوشش کی اٹھنے کی کیونکہ اسکے ڈوپٹے کا ایک کونہ خضر کے پاؤں کے نیچے تھا اٹھنے کی کوشش میں واپس ڈگمگا گئی تھی۔خضر اس کی جانب جھکا تھا
“فنکشن کے بعد آپ اپنے روم میں چاہیے ہیں “اندھیرے میں سے تیز گرم سانسوں کے ساتھ خضر کی آواز بہت قریب سے ابھری تھی وہ سمٹ سی گئی
“اوہ ہیلو میں آپکی رعایا نہیں ہوں۔۔۔۔جاکر لائٹ آن کروائیے” اس نے اندازے سے ہاتھ آگے کرکے خضر کو پیچھے دھکیلنا چاہا تھا لیکن ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا۔
“کہاں گئے “اس نے سوچا۔
“کہاں ہیں ؟؟؟؟حورعین نے پکارا تھا لیکن جیسے وہ چھلاوہ بن کر آیا تھا اسی طرح یک لفظی جملہ کہہ کر چھلاوے کی تیزی سے جا چکا تھا ۔۔۔۔ حورعین تپ گئی تھی
پورے فنکشن میں خضر نے اس پر ایک نگاہ غلط بھی نہ ڈالی تھی اور وہ کلستی رہی ۔۔۔قدسیہ اور شہناز نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ حورعین اسکے قریب ہی رہے لیکن وہ جیسے منظر میں ہوتے ہوئے تھا ہی نہیں ۔۔۔منگنی کے بعد حورعین شہناز بیگم کو لئے اپنے گھر واپس آگئی ۔۔۔تقریبا ایک گھنٹے بعد خضر شہناز بیگم کے کمرے کی دہلیز پر آکھڑاتھا ۔۔۔وہ انجان بنی شہناز بیگم کے آج فنکشن میں پہنے کپڑے ہنگ کرتی رہی ۔۔۔
“ماں جی ۔۔۔زرا حورعین کو بھیجئے گا میرے کمرے میں ۔۔۔”خضر کہہ کر رکا نہیں تھا شہناز بیگم نے خوشگوار حیرت سے حورعین کو دیکھا جو پیٹھ موڑے کھڑی اپنی دھڑکنیں سنبھال رہی تھی
“سنا تم نے ۔۔۔”
“جی”وہ فقط اتنا ہی کہہ سکی
“اب یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو جاؤ ناں “شہناز بیگم نے لتاڑا تھا وہ مڑ کر بے چارگی سے انہیں دیکھنے لگی شہناز بیگم نے گھورا۔
“تم چاہتی ہوں ناں خضر سے تمہارا رشتہ مضبوط ہو ۔”
جی”پھر یک لفظی جواب۔۔۔
“تو جاؤ ناں شوہر کو انتظار نہیں کرواتے ہیں “
جی”اس نے مسکین سی صورت بنائے اثبات میں سر ہلایا
“کیا جی جی ۔۔۔یہی جی حضوری اب خضر کی کر لینا جو کہے مان لینا”انہوں نے گھرکا تھا وہ مزید بےعزتی سے بچنے کے لئے لب بھینچتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔ اسکی نظر لاؤنچ میں لگے آئینے کے سامنے اپنے کیچر پر گئی تھی اس نے اٹھا کر اپنے بال سمیٹ لئے اور سانسیں بحال کرتی اسکے کمرے میں آئی تھی اس سے پہلے کے وہ دروازہ نوک کرتی اندر سے خضر نے کھول دیا تھا اور اسکو سر تا پاؤں گہری نظر سے دیکھا ۔۔۔
“کوئی خاص بات جو آپ نے کرنی ہو کیجئے ورنہ ۔۔۔”حورعین نے بے نیازی سے اسکی طرف دیکھے بنا کہہ رہی تھی کہ خضر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچا تھا اور دروازہ بند کردیا ۔۔۔وہ بوکھلا گئی ۔۔۔
“کیا۔۔۔کیا ہے؟”حورعین نے ماتھے پر بل ڈال کر اسکو رعب دکھانا چاہا لیکن خضر اسکے رعب سے کیا مرعوب ہوتا وہ تو اپنے نئے انداز سے روشناس کروانے کی دھن میں تھا۔۔۔۔ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے اسکے بالوں میں لگا کیچر کھولا تھا ۔۔۔حورعین نے اسکو پیچھے دھکیل کر مڑنا چاہا حورعین کی سانسیں اسکی اس اچانک اور بدلے روئیے پر اتھل پتھل ہو رہی تھیں ۔۔۔خضر نے اسکو یونہی جکڑے پیچھے دروازے سے لگایا تھا اور اسکی آنکھوں میں فاتحانہ دیکھا ۔۔۔
“فرائض پورے کر رہا ہوں کرنے دیجئے”خضر کا موبائل بپ ہوا تھا
“یہ زبردستی ہے”حورعین نے تڑخ کر کہا
“اور یہ مجھے پہلے کر لینی چاہیے تھی”اس نے ڈوپٹہ اتار کر سائیڈ پر پھینکا تھا حورعین کی آنکھیں اسکی بےباکی پر پھٹنے کو تھیں
خضر کا سیل مسلسل بپ ہو رہا تھا اس نے ایک ہاتھ سے اسکی کلائی جکڑے جکڑے ہی دوسرے ہاتھ سے سیل پاکٹ میں سے نکال کر کان سے لگایا۔حورعین مسلسل اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی وہ خضر کی پرتپش نظروں سے اوجھل ہو جانا چاہتی تھی۔۔۔
“ہاں بھابھی ۔۔۔؟خضر کے لہجے میں پہلے والی نرمی مفقود تھی ۔۔۔اسی سے حورعین سہم رہی تھی دوسری طرف رانیہ چونکی لیکن اپنے ازلی لاڈ بھرے لہجے میں گویا ہوئی
“میں ائیر پورٹ پر ہوں لینے آجاؤ “
“سوری بھابھی میں بزی ہوں ۔۔۔۔”خضر نے سنجیدگی و بےمروتی کی انتہا کی ۔۔۔رانیہ کی بھویں سمٹی ۔۔۔اس نے غور کیا تو دوسری طرف سے چوڑیوں کی آواز آرہی تھی حورعین خود کو چھڑوانے کی سعی میں مزاحمت کر رہی تھی جسکے بنا پر چوڑیاں آواز کر رہی تھیں خضر اسکے اتنا قریب تھا اس لمحے ۔۔۔۔۔۔
“چوڑیوں کی آواز۔۔۔کیا اس لمحے حورعین اسکے پاس ہے “رانیہ نے گھبرا کر سوچا تھا
حورعین کہاں ہے؟رانیہ نے ترنت پوچھا حورعین نے مزاحمت ترک کرکے لب بھینچ کر نفی میں سرہلایا تھا کہ وہ نا بتائے کہ حورعین اسکے قریب ہے مگر آج خضر کہاں ماننے والا تھا
“یہیں ہے میرے پاس ۔۔۔۔”خضر کے کہتے ہی اسکے قدموں سے زمین نکلی تھی
“حورعین ۔۔۔حورعین ۔۔۔تمہارے کمرے میں ہے۔۔۔کیوں ؟”رانیہ کو شاید پتا نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ گئی ہے دوسری طرف جو خضر کی سانسوں تک کے قریب کھڑی تھی بوکھلا گئی اسکی آنکھوں میں ہراسگی اتر آئی تھی جو خضر نے بھی نوٹ کی۔۔۔وہ استہزایہ مسکرایا تھا
“بھابھی حورعین میری بیوی ہے چاہوں تو نظروں سے اوجھل رکھوں چاہوں تو قریب تر آپ نے تو مکمل پیسے دئے تھے ناں اسکو میرے ۔۔۔اب میں جو چاہوں کروں “خضر کی طنز پر جہاں رانیہ کے سر پر ائیر پورٹ کی چھت آگری تھی وہیں حورعین نے کرب سے آنکھیں میچ لی تھیں ۔۔۔ سچائی آشکار ہونےکے باوجود اسکا وجود اب سنگسار کیا جانا تھا۔۔۔۔
مجھے جانے دیجئے”حورعین ملتجی ہوئی تھی ۔۔۔
“یہ ناممکن ہے “خضر کی آواز اسے دور سے آتی محسوس ہوئی تھی اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔پوری رات خضر نے اپنی شدتیں اس پر اتاری تھیں حورعین آنے والے کل سے پریشان اسکی بانہوں میں پنگھلتی رہی
