Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 14)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 14)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
#رات کا دوسرا پہر شروع ہی ہوا چاہتا تھا کہ خضر تھکا تھکا کمرے میں آیا تھا اور بستر پر بیٹھ گیا ۔۔۔ اس نے بے سلوٹ بستر پر ہاتھ پھیر کر کل رات ہوئی اپنی حرکت کو تنفر سے سوچا تھا اور دونوں ہاتھ ڈھیلے چھوڑ کر پیچھے کو بیڈ پر گرا ۔۔۔۔ رانیہ عباد اور اس نے کیا کردیا تھا حورعین کے ساتھ ۔۔۔ اسے اپنے آپ سے گھن آنے لگی وہ ایسا تو نہیں تھا جیسا اپنے نفس کے ہاتھوں بن گیا تھا ۔۔۔ صرف رانیہ ہی کیا وہ خود بھی برابر کا شریک تھا اگر وہ الزام صرف رانیہ یا شیطان پر ڈالتا تو یہ اسکی کم ہمتی اور بے غیرتی ہوتی لیکن اس میں اب بھی حیا باقی تھی جو وہ خود سے بھی گھن کھا رہا تھا ۔۔۔۔ یہ یاد اور ضمیر کا ایسا کوڑا تھا جو اسے لہولہان کئے دے رہا تھا رانیہ ۔۔۔۔۔ مضطربانہ بال نوچتے اٹھا تھا اور چکر کاٹنے لگا اسے آج بھی یاد تھا وہ دن جب رانیہ اور اس نے پہلی بار اس مقدس رشتے کو تار تار کیا تھا۔
__________________
کھانے کے برتن واپس کچن میں رکھ کر اپنے کمرے کی طرف لوٹتے ہوئے اس کو کچھ ٹوٹنے اور رانیہ کی ہلکی سی سسکاری سنائی دی تھی وہ انسانیت کے پیش نظر گھبرا کر دروازہ نوک کئے بنا ہی اندر چلا گیا ۔۔۔ لیکن کمرے میں پہنچ کر اسے سامنے والے منظر نے نظریں جھکانے ہر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔ کمرے میں نیلا نیم اندھیرا تھا زمین پر کانچ بکھرا ہوا تھا اور پہلے سے بہت مختصر نائٹی میں رانیہ اپنا خون آلود انگوٹھا پکڑے بستر پر بیٹھی تھی جس سے رانیہ کی رانیں برہنہ ہو رہی تھیں رانیہ اسکو دیکھ کر چونکی تھی اور متحیر رہ گئی ۔۔۔وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکلنا چاہتا تھا کہ رانیہ نے اسے پکارا تھا
“خضر میرے پاؤں کی بینڈیج کر دو پلیز ۔۔۔”رانیہ نے ہلکے سے جھجھکتے ہوئے کہا تھا اسے گمان نہیں تھا کہ خضر پلٹے گا لیکن اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ پلٹ کر اسکی جانب آیا تھا اور اسکے قریب بستر پر ہی بیٹھ گیا ۔۔۔
کیوں کرتی ہیں آپ یہ سب ؟؟خضر نے اسکے پاؤں کو اسکی ران سے ہٹا کر زمین پر رکھتے دو ٹوک لہجے میں پوچھا تھا رانیہ کے چہرے پر زلزلے کے آثار نمایاں ہوئے لیکن جلد ہی آر یا پار کرنے کے لئے میدان میں کود گئی ۔
“میں ۔۔۔تم سے محبت کرتی ہوں “اس نے خضر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جذب سے اقرار کیا تھا۔خضر نے نظریں چرائی تھیں شفاف گورے چہرے پر پنک لپ سٹک اور ریشمی بال کمر پر کھلے چھوڑے رانیہ کہیں سے بھی اس سے بڑی نہیں لگ رہی تھی خضر کا دل اس ریشم کو چھونے کے لئے مچلنے لگا لیکن حورعین یاد آئی تھی جو اس وقت محض خیال بنی دور ہوتی جا رہی تھی کیونکہ سامنے رانیہ اور اسکی ادائیں تھیں
“محبت تو میں بھی کرتا ہوں “خضر کو اپنی آواز بہت کمزور سی لگی۔
“کیا میری محبت اسکی محبت سے ذیادہ طاقتور ہے “رانیہ نے اسکا کمزور لہجہ محسوس کرتے ہوئے اسکے سینے میں منہ چھپایا تھا اور سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔ خضر اسکو چپ چاپ دیکھنے لگا ۔۔۔ محبت طاقتور تو تب ہوتی ناں جب وہ اسکا سراغ پاتا ۔۔۔ یہ تو یک طرفہ محبت تھی جو خضر کو گمان بھی نہیں تھا کہ ملے گی کبھی ۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا جہاں آج معصومیت ٹوٹ کر برس رہی تھی ۔وہ خضر کو چپ چاپ دیکھ کر پیچھے ہوئی تھی اور رخ پھیر لیا۔۔۔
ہمارا ایک رشتہ ہے اور رشتہ آپ جانتی ہیں ناں “خضر نے اسکی کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچ کر یاد دلایا تھا ۔۔۔
“بھائی کے مرنے کے بعد وہ رشتہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ اب ہمارے درمیان ہے میں تم سے نکاح کرنا چاہتی ہوں اور یہ میری دلی خواہش ہے “رانیہ نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر ایک جذب سے کہا تھا۔
“ماں جی ۔۔۔”
بس خضر آپ ہاں کیجئے کیا میں آپکی محبت کے لائق ہوں ؟؟”رانیہ اسکے لبوں پر ہاتھ دھر کر ایک ادا سے ملتجی ہوئی تھی خضر پگھلنے لگا۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں “رانیہ کی آنکھوں کی نمی میں ڈوبتے ہوئے خضر اس پر جھکا تھا رانیہ نے دل و دماغ کی ساری رضا مندی سے خود کو اسکے آگے بچھا دیا ۔۔۔۔۔بندہ بشر تھا بہک گیا
_________________
خضر نے اس رات کی سوچ سے نکلتے ہوئے جھرجھری لی تھی ۔۔۔کیا کر بیٹھا تھا وہ ۔۔۔ کاش وہ تھوڑا اور صبر کرتا تو حورعین اسکی محبت اسکو مل ہی جاتی لیکن وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ۔۔۔ اس نے آئینہ دیکھا تھا ۔۔۔ آئینہ آج بھی اسے بہت انمول بہت خوبصورت دکھا رہا تھا اسکا عکس آئینے میں کتنا بھلا تھا لیکن یہی عکس اگر ضمیر کے سچائی کے آئینے میں دیکھا جاتا تو کتنا گدلا ہوتا کتنا سیاہ ۔۔۔۔ اس کو جو لڑکیاں پلٹ کر دیکھتی تھیں یہ جان کر کہ اسکے اپنی ہی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات رہے ہیں تھوکتی بھی ناں ۔۔۔۔ خضر نے اپنے چہرے سے نادیدہ غلاظت صاف کرنے کی کوشش کی اور واپس گزشتہ دنوں میں بھٹکنے لگا
_____________________
٫ہم اتنے قریب آ تو گئے ہیں مگر ۔۔۔”خضر نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے سنجیدگی سے کہتے بات ادھوری چھوڑی تھی
“مگر کیا “
“آئی وانٹ ٹو میری یو “
“می ٹو “اس نے خضر کے سینے میں منہ چھپایا “
“پھر کیسے کریں گے ماں جی نہیں مانیں گی “خضر نے بے بسی سے اسکو خود سے آہستہ سے الگ کرتے کہا تھا وہ نظمیں سی مسکراتی ہوئی اسکی تھوڑی چوم کر بولی ۔۔
“میرے پاس آئیڈیا ہے اگر تم مانو تو ۔۔۔۔؟”
“کیا ۔۔۔”
رانیہ نے اسکو اپنے ارادے کی تفصیل بتائی تھی خضر متذبذب ہوا
لیکن ایک لڑکی ایسا کرے گی کیوں ؟؟وہ جھنجھلایا تھا اسکا ارادہ تھا کہ وہ خود شہناز کو منانے کی کوشش کرے گا
ہم ڈھونڈیں گے ناں ایک ایسی لڑکی ۔۔
“مگر یوں کسی کی زندگی خراب کرنا کیا ٹھیک ہو گا.؟؟
“تم فکر مت کرو وہ جو کرے گی اپنی مرضی سے کرے گی ۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے “اس نے خضر کو خود میں سموتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔ اور وہ اسکی آغوش میں آتے ہی مطمئن ہو گیا
_____________________
حورعین سے سائن کروا کر اس رات رانیہ نے خوشی خوشی اسکو معاہدہ دکھایا تھا ۔۔۔وہ حورعین کا نام سن کر چونکا تھا لیکن ایک نام کے کئی لوگ ہوتے ہیں اس سوچ نے اسے آگے سوچنے نہ دیا ۔۔۔پھر شادی کے وقت اس نے حورعین کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا محبت یوں ملتی ہے اسے اندازہ نہیں تھا لیکن اب محبت کا نام لینا اسکی نظر میں محض بربادی تھی کیونکہ اب وہ رانیہ کو اپنا آپ سونپ چکا تھا ۔۔۔ دوسری طرف جب جب وہ حورعین کی جانب جانے لگتا اسے لگتا کہ وہ خود سے رانیہ سے حورعین سے دھوکا کر رہا ہے اسلئے ضبط کا دامن تھامے رکھتا اسکے باوجود بھی وہ حورعین کی طرف مائل ہونے سے خود کو روک نہیں پا رہا تھا اسلئے اس نے رانیہ سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تھا اور عباد والا ڈرامہ کیا گیا ۔۔۔ وہ طلاق دینے کی ہمت خود میں نہ پاتے وہاں سے نکل گیا تھا اسے لگا تھا کہ اسکے آنے تک شہناز نے حورعین کو گھر سے نکال دیا ہو گا لیکن حورعین کو اپنے گھر میں یونہی براجمان دیکھ کر حقیقی بےبسی کا احساس ہوا تھا اور اسکے بعد جو ہوا بہت جلدی ہوا اسے رانیہ سے اس حرکت کی توقع نہیں تھی ۔۔۔۔
“ماں جی کو بھی میری اس حرکت کی توقع نہیں ہو گی جو میں نے کیا “اسکے اندر نام نہاد انسان کرلایا تھا اسی وقت دروازہ کھلا تھا اور رانیہ سبز ساڑھی میں نشے میں ڈولتی اندر آئی
___________________
آج اپنے کمرے میں نہیں جانا کیا”شہناز بیگم نے حورعین کو اپنے بستر پر ہتھیلیاں گھورتے ہوئے پایا تو لتاڑا ۔حورعیں نے خالی خالی نگاہوں سے انکو دیکھا تھا ۔
“دل گھبرا رہا ہے “اسکی آواز اور آنکھیں ایک ساتھ بھرائی تھیں
“کیوں؟ کیا ہوا؟”شہناز بیگم نے اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف پچکارا وہ ننھی بچی کی طرح انکی بانہوں میں سما کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی نجانے اسکے دل میں آج کیا خدشات ابھر رہے تھے
میرے بچے ایسے نہیں روتے “اسکو یوں روتا دیکھ کر شہناز بیگم کو اس پر ترس آیا تھا وہ اسے سنبھالنے لگی لیکن وہ بکھری جا رہی تھی ۔۔
میری بچی رو مت اگر دل کرے تو چلی جاؤ ورنہ یہاں ہی سو رہو “اس نے پیار سے سمیٹ کر اسکی نم آنکھیں صاف کیں تو وہ تھوڑی سنبھل کر پیچھے ہوئی تھی
“چلو شاباش آج دل نہیں کر رہا تو نہ جاؤ یہاں ہی سو جاؤ لیکن میرا ایک کام کرو مجھے خضر کے کمرے میں چھوڑ آؤ”
اس وقت ۔۔۔”؟حورعین نے بھرائی آواز میں پوچھا
ہاں اس وقت میں اسے کہوں گی میری بہو کے لاڈ اٹھایا کرے مجھ سے اسکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں ہوتے “شہناز نے پیار سے اسے گلے لگاتے کہا تھا حورعین کو گوناگوں سکون ملا تھا۔
“آگیا ہے ناں خضر ؟”حورعین کا سہارا لے کر وہیل چئیر پر بیٹھتے انہوں نے پوچھا تھا
“جی آگئے ہیں میں نے دیکھا تھا انہیں کمرے میں جاتے ۔۔۔”حورعین نے کہا تھا
“ہممم”شہناز نے ہنکارا بھرا تھا .حورعین انکی وہیل چئیر گھسیٹتے ہوئے سوچنے لگی وہ خضر کا سامنا کیونکر کرے گی
___________________
