Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 03)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 03)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
خضر رات گئے گھر آیا تھا اور کنپٹی مسلتے ہوئے پہلے شہناز بیگم کے کمرے کا رخ کیا مگر کمرے میں ملگجا اندھیرا انکے سو چکنے کی گواہی دے رہا تھا۔
“آج شاید طبیعت خراب ہو گی اسلئے جلدی سو گئیں “خضر نے خود کلامی کی تھی اور احتیاط سے انکے کمرے کا دروازہ بند کرتا صوفے پر اپنا آورال رکھ کر باورچی خانے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔۔فریج سے اپنے لئیے سالن نکال کر جیسے ہی وہ مڑا اس نے اپنے پیچھے باورچی خانے کے دروازے میں رانیہ کو کھڑے پایا تھا اور ایسے حلئے میں خضر نے جلدی سے نظریں چرائیں لیکن رانیہ کو جیسے پرواہ ہی نہیں تھی ۔۔۔۔مصنوعی اسکو گھورتی اسی جانب آئی اور اسکے ہاتھ سے باؤل لیا تھا ۔۔۔خضر نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور واپس فریج سے پانی کی بوتل نکال کر برتنوں کے سٹینڈ سے گلاس اٹھا لیا ۔۔۔اور دانستہ بےنیاز بنا گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا
تم آج لیٹ آئے ؟؟رانیہ نے بات کی ابتدا کی تھی
جی ۔۔۔وہ میں فوزان کے ساتھ چلا گیا تھا اس نے اور اسکی وائف نے دعوت دی تھی”خضر نے بوتل واپس رکھنے کے بجائے ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔اور وہیں رکھی کرسی پر بیٹھ کر کھانا گرم ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔
“خضر ….”
جی ۔۔۔۔وہ ٹیبل پر نظریں جمائے جمائے دانستہ اسکی جانب دیکھنے سے احتزاز برت رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور اسکا یہ گریز رانیہ بھی محسوس کر رہی تھی اور اسلئے دل مسوس کر اسکو پکار بیٹھی تھی ۔۔۔کہ ایک بار تو وہ اسکی حشر سامانیو پر اپنی نظر کرم کرے بندہ بشر ہے ایک بار تو بہک جائے فریفتہ ہو جائے۔۔۔۔اور خضر نظر اٹھانے سے گریزاں تھا کہ بندہ بشر تھا کہیں بہک نہ جائے ۔۔۔۔۔خضر رانیہ کے ایسے روئیے پر تذبذب کا شکار تھا لیکن کھل کر بات کرنے سے بھی یچکچاتا تھا اسلئے فی الحال دانستہ و بادل نحواستہ چپ تھا۔۔۔۔۔مگر رانیہ کی ایسی حرکتوں پر خائف ہونے کے باوجود اسکا ذہن قبول نہیں کر پارہا تھا کہ اسکی بھابھی ۔۔۔جس نے اسکے بڑے بھائی سے محبت کی شادی کی تھی وہ اسکے لئے ۔۔۔۔۔؟وہ اپنی سوچ کو ملامت کرتا خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا کہ پہلے بھی تو بھابھی ایسی ہی ڈریسنگ کرتی تھیں اور ایسا ہی خیال رکھتی تھیں ۔۔۔۔مگر پھر بھی ۔۔۔وہ ذہنی و قلبی کشمکش میں مبتلا تھا کہ رانیہ نے اسکے سامنےٹیبل پر کھانا رکھا ۔۔۔۔خضر نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا رانیہ کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
“تھینک یو بھابھی ۔۔۔۔اب آپ جا کر ریسٹ کیجئے “خضر نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوئے سرسری سا کہا تھا رانیہ کی مسکرہٹ سمٹی
مگر میں ہوں تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت ہوئی ۔۔۔۔
“تو میں وہ خود لے لوں گا بھابھی …..خضر نے نرمی سے اسکی بات قطع کی تھی ویسے بھی میں اپنے کمرے میں جا کر کھا رہا ہوں ۔۔۔
ٹھیک ہے
ہممم۔۔۔۔خضر نے ٹرے اٹھائی تھی اور کچن سے نکل گیا ۔۔۔۔پیچھے وہ سوچنے لگی ۔۔۔
ایسا کیا ہو جو خضر اسکی جانب متوجہ ہو جائے ۔۔۔۔مگر یہ اسکو خضر کے گریز اور شہناز بیگم کی موجودگی کی وجہ سے ناممکن لگ رہا تھا اسے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا تھا جس سے شہناز بیگم بھی راضی ہو جاتیں اور خضر بھی اسکا ہو جاتا ۔۔۔۔اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے یہ موقع جلد ہی مل جائے گا۔۔۔۔
ہاسپٹل جانے کے لئے تیار ہوتے ہوتے اچانک ایک جھمکا سا اسکے ذہن میں ہوا تھا ۔۔۔۔اور ہر بار کی طرح وہ کچھ سال پہلے والے اس منظر کی یاد میں کھو گیا جس نے اسے کئی سالوں سے جکڑ کر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔وہ بی ایس سی طالبعلم تھا۔۔۔اسکی دیو مالائی شخصیت کافی لڑکیوں کو اسکی جانب کھینچ لاتی تھی اور وہ بھی کسی کی دل آزاری کرنے سے بہتر سب کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کر لیتا تھا مگر اس نے ان دوستانہ مراسم کو کبھی بھی دوسرے ناجائز مراسم میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔۔ایک دن یونہی گزرتے گزرتے اسکا پین گرگیا تھا اور ۔۔۔۔
جلدی کرو ناں یار ۔۔۔۔تپتی دھوپ میں سڑک کنارے کھڑی فائل سے ماتھے پر چھجا سا بنائے ادھر ادھر ہراساں نظروں سے دیکھتی وہ اب کی بار جھنجھلا کر بولی تھی ۔۔۔۔۔بائک کو کک پر کک مارتے عباد نے اسے تیوری چڑھا کر دیکھا تھا ۔۔۔میری جگہ تم آجاؤ ۔۔۔اس نے سلگ کر کہا جس پر حورعین نے منہ بنایا تھا
میں اسلئے کہہ رہی کہ اس وقت میرے بہنوئی نے تمہیں میرے ساتھ دیکھ لیا تو بسسسسس۔۔۔۔
“میں نہیں ڈرتا ۔۔۔۔انہہہ”عباد نے تڑخ کر بائیک کو ایک زوردار ٹھوکر ماری تھی یعنی حورعین کا غصہ اس پر اتارا
اچھا ڈرتے نہیں مگر میں تو ڈرتی ہوں ناں….جلدی چلا لو اوپر سے گرمی بھی بہت ہے اففففف۔۔۔۔اس نے اب قدرے نرمی سمو کر پچکارا تھا وہ پھر ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتا بائیک کو کک پر کک مارنے لگا اسی وقت انکے آگے ایک کار آکر رکی تھی اور شیشہ نیچے ہوا ۔۔۔۔عباد نے اچھنبے سے مشہور پروڈکشن ہاؤس کی مالک رانیہ کو بیٹھے دیکھا تھا۔۔۔۔چند دن پہلے ہی وہ اسکے ڈرامے کے لیے آڈیشن دے کر آیا تھا آڈیشن میں تو ذیادہ کامیاب نہ ہو سکا مگر اپنی آنکھوں کے داؤ پیچ سے رانیہ کو ہلا کر آیا تھا ۔۔۔۔رانیہ کو اسکی آنکھیں خوبصورت لگی تھیں اور کچھ سوچ و بچار کے بعد خصوصا آجکل کے ڈرامہ معیار اورڈرامہ دیکھنے والوں کی اکثریت یعنی صنف نازک کی نفسیات سے کسی حد تک واقفیت نے اسکو عباد کی طرف راغب کیا آدھا ڈرامے کی آدھی شہرت تو اسکی انکھوں سے ہی ہو جاتی جس کی وجہ سے وہ اسکو ڈرامے میں ایک رول دے ہی دینا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ آج یاکل میں وہ اسے بلانے کا ارادہ رکھتی تھی اور آج وہ یہاں مل گیا تھا ۔۔۔
