Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Garg Atishi (Episode 13)
Rate this Novel
Garg Atishi (Episode 13)
Garg Atishi By Atiqa Faiz
صبح پو پھٹنے کے بعد وہ درد سے ٹوٹتے وجود کے ساتھ قدرے اٹھ کر مسہری سے ٹیک لگائے بیڈ گئی کمرے میں ابھی تک نیم مدھم روشنی پھیلی تھی اس نے یونہی اپنے ارد گرد خود کی مانند کمرے کہ بکھری حالت کو دیکھا بستر کے دوسری طرف کی جگہ خالی لیکن سلوٹوں اور ٹوٹی چوڑیوں سے ناگفتہ بہ ہو رہی تھیں
حورعین خود ذہنی ابتلا کا شکار تھی رانیہ اب نجانے اسکے ساتھ کیا کرتی جبکہ خضر کے رات والے رویے کے بعد اسے خضر کی امید بھی چھوٹتی نظر آرہی تھی
وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئی تو پیچھے سر ٹکا کر ہولے ہولے اپنی کنپٹی سہلانے لگی
دفعتاً اسے کمرے کہی دہلیز پر باہر سے کسی کی آہٹ محسوس ہوئی تھی قبل اسکے کوئی کمرے میں وارد ہوتا شہناز بیگم کی پاٹ دار آواز نے اسکے قدم وہیں روک دئیے تھے
بہو ۔۔۔کسی نو بیاہتا جوڑے کے کمرے میں جانے کے آداب بھول گئی ہو شاید۔۔۔؟
ماں جی مجھے خضر سے ضروری کام ہے رانیہ کی ضبط کی انتہا پر پہنچی سپاٹ آواز پر اندر بیٹھی حورعین کا دل کانپا ۔۔۔ لیکن شہناز بیگم پر جیسے اثر ہی نہیں ہوا تھا انہوں نے لٹھ مار لہجے میں کہا
“اس سے ملنا ہے تو جاؤ ہاسپٹل ۔۔۔وہ وہیں ہے”وہ مزید گویا ہوئی تھیں “حورعین اندر آرام کر رہی ہے رات دیر سے سوئی تھی خضر کہہ کر گیا تھا اسکے آرام میں خلل نہ آئے “شہناز نے آخر میں دروغ و گوئی سے کام لیا تھا رانیہ کا دروازے کے ہینڈل پر دھرا ہاتھ پھسلا تھا
اس نے مڑ کر شہناز کو دیکھا تھا شہناز کو اسکی اجڑی حالت دیکھ کر دلی افسوس ہوا اسکی ہوس نے اسے کس نہج پر پہنچا دیا تھا ۔۔۔رانیہ جس طرح آئی تھی اسی طرح تن فن کرتی واپس نکل گئی وہ اندر بیٹھی اپنی دھڑکنوں کو سنبھالتی تھی
___________________________
وہ آدھ گھنٹے بعد جھجھکتی ذہنی الجھنوں میں الجھی کمرے سے باہر آگئی اور باورچی خانے میں جا کر ناشتہ تیار کرنے لگی ۔۔۔زرا سی آہٹ پر اسکا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا ۔۔۔مستقبل کا خوف اسکا سکون فنا کئے دے رہا تھا اتنا کہ رات میں خضر کے ساتھ گزارے لمحات اسے لطف و کرم لگنے کے بجائے جاں کسل لگ رہے تھے وہ اس لمس سے مستفید بھی نہیں ہو پائی تھی جو اسکے محرم کا تھا اپنا اتنا بڑا حق پا کر بھی وہ اعصاب شکن لمحوں کو جھیل رہی تھی
___________________________
تم اب بھی کچھ پریشان لگ رہی ہو ؟؟ناشتے کی ٹیبل پر شہناز بیگم نے اسکا اضطراب پا لیا تھا وہ جھرجھری لے کر چونکی
جی ۔۔۔کچھ کہا آپ نے ؟
کیا ہوا ہے؟شہناز نے نرمی سے پوچھا تھا
“خضر کو سب سچ معلوم ہو گیا ہے “
‘یہ تو بہت اچھی بات ہے “
اور رانیہ کو بھی کہ رات میں خضر ۔۔۔”اس نے آداب و تہذیب کے پیش نظر جملہ ادھورا چھوڑا لیکن وہ جہاندیدہ تھیں سمجھ گئی تھیں کہ حورعین کیا کہنا چاہتی ہے
حورعین خضر نے سب جاننے کے بعد تمہیں وہ درجہ دیاہے ۔۔۔اب اس سے رانیہ تو کیا خود خضر بھی منحرف نہیں ہو سکتا اور اسکے بعد رانیہ کے اس فضول معاہدے کی کوئی وقعت نہیں رہتی خضر رات میں تمہیں چھوڑ بھی سکتا تھا ناں لیکن اس نے تمہیں قبول کیا اب جو آگے ہو گا وہ اللّٰہ پر چھوڑو ۔۔۔”شہناز نے اسے متانت و شائستگی سے سمجھایا تھا وہ چپ چاپ انکا چہرہ دیکھنے لگی
“ہمم۔۔۔۔”
“پریشان ہونا چھوڑ دو اب یہ خضر اور اسکا مسلہ ہے “انہوں نے مزید اسکی دلجوئی کی تھی وہ شہناز کے اطمینان پر عش عش کر اٹھی۔
______________________
رانیہ نے دھڑ سے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔وہ جو ایک فائل کھولے اسکی جانب پشت کئے کھڑا تھا چونک کر مڑا اور رانیہ کو خود کے سامنے دیکھ کر فریب سے مسکرایا۔
وہ چیل کی تیزی سے اسکے سر پر پہنچی اور اسکا گریبان پکڑ لیا ۔
‘مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی “رانیہ نے غصے سے بگڑتے ہوئے کہا تھا اس نے یونہی مسکراتے اپنا گریبان چھڑایا تھا اور اسکی کلائیاں تھامے ہوئے ہی اسکی طیش سے بھنچی مٹھی کو چوما۔رانیہ نے کراہیت سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا ۔
“امید تو مجھے تم سے بھی’ اس کی ‘نہیں تھی “اس نے “اسکی”پر ذور دیا تھا رانیہ غصے سے لرز اٹھی ۔وہ ڈھٹائی سے آپ سے تم پر آگیا تھا۔
ک”یا کیا میں نے ہاں ؟؟؟بتاو مجھے ؟”
بتاؤں یا دکھاؤں ؟؟وہ ایک ادا سے دو قدم پیچھے جاتا ہوا بولا تھا ۔۔ رانیہ کا ماتھا ٹھنکا لیکن وہ اتنی جلدی کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔ سامنے کھڑے شخص نے اپنی جینز کی جیب سے موبائل نکالا تھا اور دو تین بار موبائل سکرین کو ٹچ کرنے کے بعد سکرین اسکے سامنے کی ۔۔۔ رانیہ نے اسکو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے سکرین کو دیکھا تو اپنی برگشتہ مقدر پر آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے ۔۔۔ ویڈیو اسکی تھی اور۔۔۔۔ اعصاب کو جھنجھوڑنے والی اسکی وہ ویڈیو ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ تمہیں کہاں سے ملی ؟وہ لکنت ذدہ آواز میں بولی تھی اسکی آواز اب پست تھی وہ سکرین کو اسکی نظروں کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے استہزایہ ہنسا تھا
“خوشی ہو رہی ہے تمہاری یہ المیہ صورت دیکھ کر “اس نے جیسے رانیہ کی حالت سے حظ اٹھایا تھا۔
“میں نے یہ ہم دونوں کی بہتری کے لئے کیا تھا “
“اپنی خودغرضی و ہوس کو ہماری بہتری کا نام مت دو” اس نے ناک سے مکھی اڑائی تھی
“تم نے ہماری امانت میں خیانت کی “
“ویٹ ۔۔۔ویٹ ۔۔۔ویٹ ۔۔۔کونسی امانت ؟”اس نے رانیہ کی بات کاٹ کر ابرو اچکائی۔
“جو تم نے حورعین کے ساتھ کل رات کیا خضر ۔۔۔۔”وہ المیہ صورت بنائے بے بسی سے بولی تھی خضر ایک کروفر سے اٹھ کر اسکے بالکل مقابل آیا تھا طنزیہ مسکراہٹ بدستور قائم تھی اسکے لبوں پر ۔۔۔۔
“وہ تو میری شرعی بیوی ہے آپ کس حثیت سے میری آغوش میں رہتی رہی ہیں”خضر نے یکسوئی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔وہ مضمحل سی لاجواب اسکا چہرہ دیکھتی رہی ۔
رانیہ کو آج ادراک ہوا تھا خوبصورت چہروں کے پیچھے بھیانک فطرت کوئی بھی رکھ سکتا ہے انسان منافقت در منافقت میں ڈھلا ہے ایک فطرت چہرے سے مشروط ہوتی تو ہر خوبصورت چہرہ فریب نہ دیتا اور ہر بدصورت چہرے کے پیچھے بھیانک فطرت نہیں ہوتی ۔
“تم ان سب میں شریک تھے خضر ۔۔۔”
“لیکن عباد سے ناجائز تعلق میں نہیں ڈئیر رانیہ ۔۔۔”خضر نے ایک آنکھ ونک کرکے اسکا گال تھپتھپایا تھا رانیہ کو اسکی مسکراہٹ زہر ترین لگی ۔۔۔۔
“میں ۔۔۔میں بہک گئی تھی “اس نے لرزیدہ لہجے میں کہا
چچ چچ چچ ۔۔۔کہسی ہو تم جو ہر ایک کے ساتھ بہک جاتی ہو کسی کو بہکا دیتی ہو کبھی خود بہک جاتی ہو “خضر نے تلخ مسکراہٹ سے اس پر کیچڑ اچھالا وہ بپھری تھی
“تم فرشتے نہیں ہو”
بالکل ۔۔۔بالکل نہیں ہوں میں بھی بہکا لیکن اسکے بعد میں نے تمہارے وجود کے علاؤہ کسی کو نہیں چھوا ۔”
جھوٹے فریبی ۔۔۔جو کل رات حورعین کے ساتھ کیا وہ ۔۔”
“میں نے کہا ناں میں فرشتہ نہیں ہوں لیکن اب ماضی میں جو ہوا سو ہوا میں اسکی سزا اپنی بیوی کو کیوں دوں اسکا یہ شرعی حق تھا اسکو مل گیا “
“یو باسٹرڈ ۔۔۔میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ماں جی کو بتاؤں گی “وہ اسکی جانب شیر کی طرح لپکی
پھر زرا ماں جی کو یہ بھی بتانا کہ کتنی راتیں تم نے عباد کے ساتھ بھی گزاریں “وہ مزے سے اسکا دھوااں دھواں چہرہ دیکھ رہا تھا رانیہ کے اعصاب کٹ رہے تھے وہ لاجواب ہوتی لڑکھڑاتی ہوئی باہر نکل گئی
__________________
ایک رات پہلے
منگنی کی تقریب جب اپنے عروج پر تھی خضر کو کسی نے پیچھے سے پکارا تھا خضر نے پکارنے والے کو دیکھا اور اپنے سامنے عباد کو کھڑے دیکھ کر لب بھینچے ۔۔۔عباد ازخود اسکے قریب آگیا تھا
اب آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟
“میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں “عباد نے ہاتھ میں پکڑی فائل اسکے سامنے کی تھی ۔۔۔خضر نے تیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے فائل جھپٹ لی اور فائل اسکے سامنے کر کے مسکرایا تھا ۔۔عباد نے اسکی مسکراہٹ کو ناسمجھی سے دیکھا
تم یہ فائل جسکو دکھا رہے ہو یہ معاہدے کو مقرر کرنے والا ماسٹر مائنڈ میں تھا “خضر کی بات پر اسکے سر پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے “رانیہ اور میرا دونوں کا منصوبہ تھا یہ”وہ ایک سائیڈ کی سمائل پاس کرکے آنکھ دبا گیا تھا عباد کو اسکی یہ ادا پسند آتی اگر اسکے پیچھے خضر کا دھوکے باز روپ نہ ہوتا تو
٫یو۔۔۔۔”عباد اسکی طرف جھپٹا تھا “تم سب نے حورعین کا استعمال کیا؟
نہیں ہم سب نے حورعین کا استعمال کیا “خضر نے سنجیدگی سے تصحیح کی تھی
بالکل تم صحیح کہہ رہے ہو ہم سب نے حورعین کا استعمال کیا “عباد کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگی تھی لیکن جاننا چاہو گے رانیہ نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ عباد نے حقارت سے کہتے اسکے سامنے اپنا موبائل کیا تھا اور ایک ویڈیو چلا دی وہ ویڈیو عباد اور رانیہ کی کی تھی ۔۔۔خضر کے اعصاب چٹخنے لگے ۔۔۔اسے رانیہ سے یوں دعا بازی کی توقع نہیں تھی
“تم نے جس کو پانے کے لئے یہ کیا ناں اس نے اپنا مقصد پانے کے لئے خود کو میری بانہوں میں گرا دیا …تم نے صحیح کہا خضر ہم ذیادہ گر چکے ہیں “عباد نے بھرائی آواز میں کہا تھا اور صم بکم کھڑے خضر کی جیب میں وہ موبائل ڈالتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔خضر نے جیسے صدمے میں سے نکلتے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔۔ یہ کیا کیا تھا رانیہ نے؟؟ وہ چٹختے اعصاب کو سنبھالنے کے لئے وہیں کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ اس نے ،رانیہ نے عباد نے تینوں نے ایک دوسرے کو حاصل کرنے کے لئے یہ کیا کر دیا تھا ۔۔۔ اس نے دور کرسی پر بیٹھی حزن و ملال کی کیفیت میں ڈھلی حورعین کو دیکھا تھا ۔۔۔اور شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا لیکن یہ شرمندگی سے ذیادہ حورعین پر غصہ تھا کہ اس نے اپنی ذات کو کھلونا بنا لیا تھا
____________________
