58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 01)

Garg Atishi By Atiqa Faiz

“تم ۔۔۔تم بس یہی کرتے رہنا کوشش نہ کرنا “حورعین نے تلملا کر ٹائپ کیا تھا اور اسکے جواب کا انتظار کرنے لگی چند منٹ بعد ہی اسکا جوابی پیغام موصول ہوا۔

تو کیا کروں رشتہ لے کر آیا تھا ناں ۔۔۔۔کیا کہا تھا تمہاری بہن اور بہنوئی نے ۔۔۔ہم کسی کنگلے کے ہاتھ میں رشتہ نہیں دیتے ۔۔۔

تو ۔۔تو تم یار کوئی چھوٹی موٹی ہی نوکری کر لو ۔۔کیا ماڈل و اداکار اتنی آسانی سے بنا جاتا ہے؟؟؟ حورعین کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ عباد کو کیسے سمجھائے دوسری طرف وہ کچھ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں تھا

“یار میرا خواب ہے یہ ۔۔۔”عباد کا رٹا رٹایا جواب دیکھ کر وہ بھنا گئی

“پھر میرا ملنا بھی ایک خواب ہی سمجھو”وہ پیغام بھیج کر موبائل بند کر کے تکیہ درست کرکے لیٹ گئی اور ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر تکئیے میں جذب ہو گیا ۔۔۔۔اس نے سختی اور مضبوطی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا تھا اور آگے کا لائحہ عمل ترتیب دینے لگی ۔۔۔۔اسکے بہنوئی کی دبئی میں نوکری لگ گئی تھی ساری سہولیات کے ساتھ ساتھ فیملی کو ساتھ رکھنے کی بھی سہولت دی گئی تھی بہنوئی رابعہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا اور رابعہ بھی جانا چاہتی تھی اور حورعین اسکو حق بجانب بھی سمجھتی تھی بھلا ایک گھر بار چھوڑ کر وہ حورعین کے ساتھ کیوں رکتی ۔۔۔؟؟….. المختصر وہ دونوں چاہتے تھے بنا کوئی زیادہ خرچہ ورچہ کئے حورعین کی اچھے اور مہذب گھرانے میں شادی ہو جائے لڑکا سہی کماتا کھاتا ہو اور حورعین کو بھی خوش رکھے یعنی وہ اس زمانے میں معجزہ چاہتے تھے ۔۔۔۔اور یہ معجزہ ہو کر نہیں دے رہا تھا ۔۔۔جس وجہ سے آئے دن گھر میں تلخی بڑھتی جا رہی تھی اور اس تلخی کی وجہ بنا کسی شک و شبہے کے وہی تھی ۔۔۔

اگلے دن صبح راسم کے آفس جاتے ہی حورعین باہر آئی تھی ۔۔۔رابعہ نے اسکو دیکھ کر سپاٹ چہرہ کر لیا تھا اور اپنےلئے چائے نکالنے لگی ۔۔۔لیکن رابعہ نے کن انکھیوں سے اسکے ہاتھ میں فائل اور دوسرے کاندھے پر پرس کو دیکھا تھا ۔۔۔مگرحورعین کو ناشتے کے لئے ٹیبل کی طرف آنے کے بجائے باہر جاتے دیکھا تو ٹھٹکی ۔۔۔

کہاں جا رہی ہو؟

“نوکری ڈھونڈنے اور ٹھکانا دیکھنے ۔۔۔”حورعین کا لہجہ لٹھ مار تھا

“ٹھکانا رہنا دینا تم یہاں ہی رہو گی تمہارے بھائی نے کہا ہے پیچھے یہ گھر خالی ہی رہے گا تو اسکی دیکھ بھال کیسے ہو گی ۔۔۔البتہ فراغت کے لئے نوکری کرنا چاہتی ہو تو اجازت ہے ۔۔۔”رابعہ نے برتن سمیٹتے ہوئے اپنے لہجے میں تھوڑا پیار سمویا تھا مگر لفظوں کا سہی چناؤ نہیں کر پائی ۔۔۔حورعین کے گلے میں ایک گولہ سا اٹک گیا تھا اور آنکھیں نم ہو گئیں ۔۔

کاش رابعہ تم یہ کہتیں کہ میں اکیلی کیسے رہوں گی؟اس کے لہجے میں بےبسی اور افسوس تھا رابعہ نے اسکو چونک کر دیکھا

اب رشتے ڈھونڈ تو رہے ہیں تمہارے لئے مگر ۔۔۔

“مگر آپ ایک معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں رشتہ نہیں۔۔۔۔”اس نے تلخی سے رابعہ کی بات کاٹی تھی

تمیز سے بات کرو حورعین ۔۔۔۔

“اچھا ۔۔۔۔سہی ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔میں جا رہی ہوں اور ایک بار نوکری مل جائے تو یہ گھر بھی آپکو مبارک ہو ” حورعین نے ایک گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کرنا چاہا تھا

صرف بی-اے پاس پر آجکل نوکری نہیں ملتی بھوکے پیٹ پھرنا پڑتا ہے دھکے کھانے پڑتے ہیں”رابعہ نے تیزی سے طنز کیا تھا

“تو آپ کونسا مجھے بھرے پیٹ بھیج رہی ہیں اور ہاں رہی دھکوں کی بات وہ منظور ہے مگر اس گھر کی دیکھ بھال نہیں “اس نے زہریلی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر دوبدو جواب دیا تھا جس سے رابعہ کلس گئی

“قدم قدم پر ثابت کرتی ہو کہ سوتیلے کبھی سگے نہیں ہوتے “رابعہ کی بات سے وہ سو فیصد متفق تھی ۔۔۔دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو ایسا مان ہی نہیں دیا تھا کہ وہ سگوں والا پیار کر سکیں۔ ۔۔۔

بالکل اسلئے تو ہی مجھے اندازہ ہے باپ ایک نہ ہوتا تو تین ٹائم کا کھانا بھی آپ نہ دیتیں “حورعین نے کہا تھا اور رابعہ کو پیچھے بھنا ہو چھوڑتی نکلتی چلی گئی ۔۔۔

“امی میں جا رہی ہوں ۔۔۔”رانیہ نزاکت سے ساڑھی سنبھالتی اندر آئی تھی ۔۔۔ہلکے پرپل کلر کی شفون کی ساڑھی جس میں سے اسکے بلاؤز کا نیلا کلر اور پانچ انچ کے بازو سے اسکے گورے مگر سڈول بازو صاف نظر آرہے تھے ہاتھ اوپر کو اٹھاتی تو بغل کا نظارہ بھی ہو جاتا “آپ نے ناشتہ کر لیا؟؟” وہ سبک روی سے چلتی انکے بیڈ کے سامنے رکھے صوفے پر ٹک گئیں شہناز نے اسکا حلیہ دیکھ کر برا سا منہ بنایا ۔۔۔انہیں رانیہ کا ایسا پہناوا سخت ناپسند تھا

“کتنی بار کہا ہے ایسے عجیب عجیب لبادے مت پہنا کرو۔۔۔گھر میں ایک جوان دیور بھی ہے اور ۔۔۔”شہناز نے نرم سے لہجے میں ٹوکا تھا بہرحال وہ ناگواری ظاہر کرنہیں سکتی تھیں مگر رانیہ نے سر جھٹک کر انکی بات کاٹی کیونکہ ان سے لڑنا وہ بھی افورڈ نہیں کر سکتی تھی

“دیور سے یاد آیا امی خضر کو جگا دیا تھا آپ نے ؟؟…اسکی میٹنگ تھی آج ۔۔۔”رانیہ نے انکی بات کو گول کر کے ماتھے پر ہاتھ مارا تھا ۔۔۔

“نہیں شاید ابھی بھی سو رہا ہے “شہناز نے اسکی بات کو گول کرنا محسوس کر کے ناگواری سے کہا

“میں جگاتی ہوں اسکو ۔۔۔”وہ اپنی ساڑھی کا پلو اپنی کمر کے گرد لپیٹ کر اٹھی

“تم خضر کے کمرے میں مت جاؤ ۔۔۔تم اپنے پروڈکشن ہاؤس جاؤ کہیں کیٹ نہ ہو جائے ۔۔۔ میں اٹھا دونگی اسے ۔۔۔”شہناز بیگم کسی مصلحت کے تحت بول پڑیں ۔۔۔منہ پھیرے کھڑی رانیہ کا چہرہ سپاٹ ہوا تھا اور آنکھوں میں ناگواری کی جھلک تھی مگر جبرا لبوں پر مسکان سجا کر مڑی ۔

“جی امی ۔۔۔ویسے بھی پروڈیوسر ہونا آسان تو ہے نہیں بہت تھک جاتی ہوں جبکہ ساتھ گھر کی زمہ داری بھی ہو ۔۔۔۔”اس نے کس قدر جتاتے لہجے میں کہا تھا اور پلو جھٹکتی باہر نکل گئی ۔۔۔پیچھے شہناز بیگم نے تھک کر سر بیڈ کراؤن سے لگایا تھا

احمر اور خضر انکے دو بیٹے ۔۔۔دونوں کو سلیم صاحب اور شہناز نے محبت سے پالا پوسا تھا چھ سال پہلے جب خضر نے میڈیکل میں داخلہ لیا تو سلیم صاحب کینسر کے مرض سے ہار کر شہناز کو اکیلا چھوڑ گئے ۔۔۔بہت دن شہناز کو خود کو سنبھالنے میں لگ گئے ۔۔۔پھر سنبھل گئی تو دل میں خیال آیا کیوں نہ احمر کی شادی کر دی جائے ویسے بھی اب انکی بوڑھی ہڈیوں سے کام نہیں ہوتا تھا۔۔۔انکی دیورانی قدسیہ اپنی بیٹی بینش کے لئے احمر کو چاہتی تھیں اور اس بات سے پوری طرح واقف شہناز بیگم نے قدسیہ کے سامنے اسکی سانولی بیٹی بینش جو فی الحال میٹرک میں تھی اپنے دونوں خوبصورت بیٹوں سے موازنہ بڑے تلخ انداز میں کیا تو قدسیہ بیگم کا دل جیٹھانی کے ایسے مغرورانہ روئیے پر کرچی کرچی ہو گیا تھا اور انہوں نے طے کیا وہ اپنی بیٹی بینش کی شخصیت کو ایسا بنائیں گی کہ اسکا سانولا رنگ کبھی اسکے لئے تضحیک کا نشانہ نہ بنے ۔۔۔۔ایک سال بعد احمر نے اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد پروڈکشن ہاؤس بنا لیا اور اسکے پروڈکشن ہاؤس کے بینر تلے ڈرامے مقبول ہونے لگے ۔۔۔شہناز بیگم کی گردن میں مزید سریہ فٹ ہو گیا تھا اور وہ شدو مد سے احمر کی ہم پلہ لڑکی تلاش کرنے لگیں مگر۔۔۔۔۔