Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272

Garg Atishi By Atiqa Faiz Readelle50272 Last updated: 27 September 2025

58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi By Atiqa Faiz

شرٹ پہنتے ہوئے اس نے رانیہ کی بکھری بکھری حالت کی سمت دیکھا تھا اور مسکرایا رانیہ اتنی بولڈ ہوتے ہوئے بھی لجا کر ساڑھی درست کرنے لگی ۔۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھنے لگا تو رانیہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔۔رانیہ نہیں چاہتی تھی کہ ابھی وہ جائے نجانے جسم کی بھوک اتنی بےدید کیوں ہوتی ہے نہ تھال دیکھتی ہے نہ تھال میں پڑے کھانے کی قسم بھوک کو بس کھانے سے مطلب ہوتا ہے

کیا مجھے آج چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے ؟اس نے شرارت سے کہا تو رانیہ نے نفی میں سر ہلا کر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

"چاہتی تو یہی ہوں مگر مجھے ابھی میٹنگ میں جانا ہے اور ۔۔۔۔"وہ ساڑھی سنبھالتی اسکے مقابل کھڑی ہوئی تھی اور اسکی گردن پر لگے اپنے لپسٹک کے نشان پر ہاتھ پھیرا

"اور ۔۔۔۔؟"اس نے ایک جھٹکے سے رانیہ کو اپنے قریب کیا تھا

"اور پھر گھر بھی تو جانا ہے "رانیہ نے دوبارہ سے اسکا موڈ بدلتے دیکھ کر اسکے بازو پر چٹکی کاٹی تھی وہ شرارت سے سسکا ۔۔۔۔رانیہ کسمسا کر اسکی بانہوں سے دور ہوئی تھی

"آپ سے بدلا تو میں کل لونگا ۔۔۔۔"وہ اسکے وجود کو نظروں سے تعظیم کرتے معنی خیز سا بولا تھا رانیہ نے مڑ کر شیشے میں اپنا سرتاپا جائزہ لیتے اپنے لبوں پر سرخی درست کی تھی اور ایک ادا سے بولی

آج کیا کم بدلے لیے ہیں ؟؟

"ہائے۔۔۔کم ہی تھے ناں " وہ پیچھے ٹیبل پر ہاتھ رکھے ایک ادا سے بولا تھا اور رانیہ جو پہلے ہی جانا نہیں چاہ رہی تھی ہنستی ہوئی اسکی طرف مڑی اور قدم قدم قریب آکر اسکی بانہوں میں سما گئی تھی وہ بھی موقع غنیمت جان کر اسکو اپنی آغوش میں بھر چکا تھا ایک بار پھر وہ میٹنگ میں شریک ہونے سے قاصر تھی

دن بدن گزرتے گئے پہلے شہناز بیگم حورعین سے بالکل قطع تعلق کرکے بیٹھی تھیں مگر رانیہ کو خضر کے مزید قریب ہوتے دیکھ کر ان سے برداشت نہ ہوا اور انہوں نے اس سے بہتر حورعین کو ہی جانا تھا بہرحال وہ بیوی تو تھی خضر کی چاہے نکاح کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہو مگر سب کی نظروں میں وہ خضر کی شرعی بیوی تھی اور حورعین کے لئے اتنا کافی تھا کہ شہناز بیگم نے رانیہ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ حورعین ان کو ساری سچائی بتا چکی ہے لیکن سب وہ تھوڑی ڈری سہمی سی رہنے لگی تھی ۔۔۔۔۔اسکو اس بات کا عادی کھلنے سے پہلے ہی اپنا انتظام کرنا تھا مگر اتنے پیسے کہاں سے آتے ۔۔۔یہی سوچ اسکو ذہنی طور پر منتشر رکھتی تھی

حورعین ...؟ایک سرمئی صبح ناشتہ بناتے ہوئے اسکو لاؤ