58.4K
16

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Garg Atishi (Episode 09)

Garg Atishi By Atiqa Faiz

خضر کی پرشوق نظریں اس کے گلنار گالوں پر ٹکی تھیں حورین نے اسکے سینے پر ہاتھ ٹکا کر اٹھنا چاہا تو اسکو یہ محسوس کرکے دھچکا لگا تھا کہ خضر نے اسکے گرد اپنا حصار باندھا ہوا تھا

“یہ کی۔۔کیا حرکت ہے ؟”حورعین شرم اور خوف کے ملے جلے جذبات سے دھیمی آواز میں کہتے اسکی بانہوں میں ہلکا سا کسمسائی ۔۔۔

“جیسے جگایا ہے اسکا انعام بھی تو دینا ہے ناں “خضر شوخ ہوا تھا اور تھوڑا سا اٹھ کر اسکے سرخ عارض کو اپنے لبوں سے چھوا اسکی سانسیں منجمند ہو گئ تھیں خضر نے دوسرے عارض جو چھوا تھا ۔۔۔ حورعین نے کچھ دیر پہلے والی خود کی حرکت پر دل ہی دل میں خود کو ملامت کی اور اس سے پہلے خضر مزید کوئی گستاخی کرتا وہ اپنا پورا زور لگا کر اٹھی تھی اور کمرے سے نکل گئی تھی ۔۔۔۔

باورچی خانے میں آکر اس نے اپنے بے ترتیب دھڑکتے دل کو اعتدال پر لانے کی ناکام کوشش کی تھی اور کپکپاتے ہاتھوں سے چائے بنانے کے لئے پانی چولہے پر چڑھا دیا تھا اور اپنے عارضوں کو چھوا جہاں ابھی بھی خضر کا لمس محسوس ہو رہا تھا وہ بے اختیار کیا گئی کچھ دیر بعد ہی اپنے پیچھے خضر کی پرتپش نظروں کا احساس ہوا تھا اسکا دل پھر بے ترتیب دھڑکنے لگا ۔۔۔

“آپ کو امی بلا رہی تھیں “

“آپکو مجھے بھیجنے کی جلدی ہے “؟؟خضر باورچی خانے کے دروازے سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے مستفسر ہوا تھا

“نہیں ۔۔۔ میں بھلا ایسا کیوں چاہوں گی “حورعین نے صاف گوئی سے کہا مگر لہجہ ابھی بھی دل کی حالت کی چغلی کھا رہا تھا

“تو آپ مجھے روکتی بھی تو نہیں ہیں “خضر نے اسکے پیچھے آکر سرگوشی میں ہلکا پھلکا شکوہ کیا تھا وہ اسکی قربت سے سٹپٹا کر مڑنے لگی تو اسکا ہاتھ چائے کی کیتلی پر لگا تھا اور گرم گرم قہوہ اسکے پاؤں پر گر گیا وہ بلبلا اٹھی تھی اور درد سے کراہتے خضر کے سینے پر اپنا سر ٹکا دیا ۔۔۔ خضر جو خود اس افتاد پر متوحش ہوا تھا اس نے اگلے ہی لمحے میں اسکو اپنی بانہوں میں بھرا تھا حورعین کو تو سانپ سونگھ گیا تھا اسکی جلن پر جیسے کسی نے ٹھنڈے میٹھے پانی کی پھوارکر دی ہو وہ سب کچھ بھلا کر اسکے سینے میں منہ چھپا گئی خضر اسکی بچکانہ حرکت پر دلکشی سے مسکراتا اسے یونہی اٹھائے لاؤنچ میں لے آیا اور صوفے پر بٹھایا تھا ۔۔۔۔

پھرکمرے میں سے فرسٹ ایڈ باکس لاکر اسکی جلن پر مرہم لگانے لگا ۔۔۔حورعین نے اسکی شرٹ کو کندھے سے پکڑا ہوا تھا ۔۔۔اسے جلن ہو رہی تھی ۔۔۔

خضر کو اسکا یہ والا انداز بہت بھلا لگ رہا تھا

“ویسے اس مرہم سے ذیادہ اچھا کام میرے لب کرتے “خضر نے اچانک سے ایسی بات کی تھی کہ اسے چند سیکنڈ لگے سمجھنے میں اور سمجھ آئی تو گلرنگ ہو گئی تھی ۔۔۔۔ غیر محسوس طور پر اس نے خضر کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا ۔۔۔خضر اسکا احتزاز محسوس کئے بنا اپنا کام کرتا رہا

“لوہو گئی آپکی بینڈیج ۔۔۔”خضر نے مہارت سے اسکے پاؤں پر مرہم لگا کر کہا تھا حورعین ہلکا سا مسکرائی اور اٹھنے لگی تو خضر نے اسے واپس بانہوں میں اٹھایا تھا۔۔۔

اب ۔۔۔اب کہاں لے جا رہے ہیں ؟حورعین کو آج اسکا الگ ہی روپ دیکھنے کو مل رہا تھا اور آنکھوں کہ چمک میں انوکھا پن ۔۔۔

“روم میں ۔۔۔اج آپ ریسٹ کرینگی کام نہیں ۔۔۔”خضر نے اسکی چھوٹی سی ناک سے اپنی ناک رگڑی تھی وہ جھنجھنا اٹھی یہ منظر باہر سے لاؤنچ میں آتی رانیہ نے بھی دیکھا تھا اور جیسے وہ تیزاب میں اندر تک ڈال دی گئی تھی وہ بلبلا اٹھی ۔۔۔۔اور اندر جانے کے بجائے واپس ہولی تھی ۔۔۔۔

“میں بتاؤں گی اب وعدہ خلافی کا کیا انجام ہوتا ہے “رانیہ نے انگارہ چباتے خود کلامی کی تھی اور کار جو اس نے گھر کے باہر ہی کھڑی کی تھی اس میں بیٹھ کرزن سے گاڑی بھگا لے گئی تھی ۔۔۔۔

دوسری جانب خضر نے اسکو بیڈ پر لاکر بڑھایا تھا ۔۔۔وہ سمٹ کر بیٹھ گئی ۔۔۔

ریلیکس کو جائیے ۔۔۔میں امی کی بات سن کر آتا ہوں وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تو حورعین نے دھونکی کی طرح چلتی سانسوں کو ہموار کیا تھا اور اپنی بے اختیاری کو کوسنے لگی اور ڈر گئی کی اگر یہ بات رانیہ کو پتا چل گئی تو وہ کیا کرے گی اسکے ساتھ ۔۔۔۔

“تم کیا کر سکتے ہو میرے لئے “رانیہ نے اسکے سینے پر لیٹے لیٹے یک دم سر اٹھا کر اس سے پوچھا تھا

“کچھ بھی ۔۔۔”عباد نے اسکے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے ہوئے ٹھوس لہجے میں کہا تھا ۔۔۔عباد اور رانیہ کے درمیان اس تعلق کی ابتداء رانیہ نے ہی کی تھی اور اسکو اپنے بدن کا عادی بنا چھوڑا تھا رانیہ کو عباد کا جسم چاہیئے تھا اور وقت آنے پر عباد کی گواہی اور عباد بھی رانیہ کے احسانوں تلے دبا ہوا اس پر متضاد جب اتنی خوبصورت عورت کا ہر طرح کا ساتھ ہو تو وہ پیچھے کیسے ہٹتا ؟؟۔۔۔اب بھی طویل وقت ایک دوسرے سے لذت کشید کرنے کے بعد رانیہ نے وہ بات کرنے کی ابتداء کی جس کے لئے آج عباد پر وہ ٹوٹ کر برسی تھی ۔۔ اور اسے یقین تھا کہ عباد اسکی محبت و بدن کے نشے میں چور کچھ بھی کر لے گا ۔۔۔

“جاؤ صرف باتیں آتی ہیں تمہیں…. “رانیہ نے کہنے سے پہلے ناز سے ناک چڑھائی تھی عباد نے اسکی ادا پر فدا ہوتے اسکے لبوں کو چھوا تھا اور مخمور لہجے میں بولا

ا٫ن لبوں کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں “

رانیہ نے اپنے لبوں پر حرکت کرتیں اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اسکے ہاتھ کو چوما تھا اور اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔

“کچھ بھی ۔۔۔”رانیہ نے اسکی مخمور آنکھوں میں جھانک کر رومانوی انداز میں سوال داغا ۔۔

٫کچھ بھی ۔۔۔۔”عباد کو اپنی آواز دور سے آتی محسوس ہوئی تھی اور پھر وہ دونوں دوبارہ ایک دوسرے میں ملیامیٹ ہو گئے تھے

خضر نے اسکا پاؤں جلنے کے بعد اسکی سہولت کے لئے نئی کل وقتی ملازمہ رکھ لی تھی جو کپڑے دھوتی اور گھر کی صفائی وغیرہ کرتی تھی حورعین کو کافی آرام مل جاتا تھا اب ۔۔۔ لیکن کھانا پکانا اور خضر کے کپڑے وغیرہ وہی دیکھتی تھی

آج خضر کی چھٹی تھی تو وہ ملازمہ کو دھونے والے کپڑے دے کر باورچی خانے میں جا کر خضر کے لئے کچھ سپشل بنانا چاہتی تھی کہ اسے شہناز بیگم کے کمرےسے کسی کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں اسے ان آوازوں میں سے ایک آواز پر عباد کی آواز کا گمان ہوا تھا ۔۔۔ اسکا دل ہولنے لگا اسے نجانے کیوں انہونی کا ہونے کا ڈر تھا مرے مرے قدموں سے وہ چل کر شہناز بیگم کے کمرے میں آئی تو اس نے چکراتے سر کے ساتھ دہلیز کو تھام لیا تھا سامنے عباد بیٹھا تھا اور خضر رانیہ شہناز بیگم ۔۔۔۔ آج اسے لگا یوم حساب ہے اور اسکو کچھ ہی دیر میں سنگسار کیا جائے گا ۔۔۔ عباد کی آنکھوں میں اجنبیت ۔۔۔ رانیہ کی آنکھوں نفرت خضر کی آنکھوں میں غصہ اور شہناز بیگم کی آنکھوں میں نمی و بے بسی تھی ۔۔۔۔وہ ایک ہی پل میں کئی لہجوں کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کرنے لگی ۔۔۔