Dil Mein Ho Tum By Mannat Riaz Readelle50188 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
“مسکرا سکتا ہے۔ کیوں نہیں مسکرا سکتا ؟مگر تیرے جیسے کھڑوس مسکرانے لگیں تو بیٹا سمجھ جاؤ کچھ برا ہونے والا ہے اب جلدی سے شروع ہو جا کیا چھپا رہا ہے ہم سے ۔۔۔”
شازل اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اسے گھور کر دیکھنے لگا تو ولی کو اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل کام لگنے لگا ۔۔۔
“ہاں سہی کہہ رہا ہے شازل ۔۔میں تجھے بہت اچھی طرح جانتا ہوں جب تو کسی سے بدلہ لیتا ہے تو تو ایسے ہی مسکراتا ہے ۔۔۔کیا کیا ہے تونے کہیں تو ہم سے کسی چیز کا بدلہ تو نہیں لے رہا ۔۔۔”
زرام پرسوچ انداز میں کہا تو ولی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وه ان کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔
“سوچ لو اگر میں نے بتایا تو تم لوگ یا تو صدمے میں چلے جاؤ گے یا میری جان لینے کے در پہ ہو جاؤ گے ۔۔۔۔”
ولی اپنی جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتا ان دونوں کو غصہ دلایا ۔۔۔۔۔۔
“دیکھ اگر تو نے ھمارے ساتھ برا کیا تو ہم نے تجھے چھوڑنا نہیں ہے ۔۔۔۔”
شازل بھی اٹھ کھڑا ہوا تو زرام بھی ہاں میں سر هلاتا کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔
“اب اس طرح غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو ہونا تھا سو ہو گیا ۔۔میں نے تجھ سے بدلہ اس دن کے پرینک کا لیا ہے جو تو نے زرام کے ساتھ مل کر مجھے بیوقوف بنایا تھا اور اس کیڑے مکوڑے سے شادی کی ان تمام فضول رسموں کا بدلہ لیا ہے تم دونوں ہی بہت اچھے سے جانتے ہو ولی برہان ملک کبھی کسی کا ادھار نہیں رکھتا میں نے تو آج تک اپنی ہارٹ بیٹ کو نہیں بخشا پھر تم لوگ تو ٹھہے میرے فضول سے یار ۔۔۔”
وہ اپنی ہنسی ضبط کرتا صوفے کے پچھے جا کر کھڑا ہوا ان دونوں کو تو سدمہ ہوا تھا ۔۔۔
تو نے ہمیں فضول کہا ؟ “ابے فضول ہم نہیں تو ہے جو ہر چھوٹی سی باتوں کا بدلہ لینے لگ جاتا ہے کھڑوس کہیں کا”
زرام ہوش میں آتا غصے سے بولا تو شازل نے ہمدردی سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔
اب تو بتائے گا تو نے کیا کیا ہے ؟
شازل تحمل سے پوچھنے لگا ۔۔۔
“کچھ زیادہ نہیں اصل میں جو ڈریسز تم دونوں نے جاناں اور نور کے لیے آرڈر کیے تھے ان کو میں کینسل کروا چکا ہوں اسکے بدلے میں نے ریڈ گاؤن سلیکٹ کیے ہیں جو کہ گھر میں پہنچ چکے ہیں اور یہاں تک کہ سب کو بہت پسند آئے ہیں میں ان سے ہی بات کر رها تھا ویسے آپس کی بات ہے تم دونوں کو چوائس بہت بری ہے ھمارے بلیک سوٹس کے ساتھ ریڈ ہی سوٹ کرے گا ۔۔۔”
وه انکو پوری بات بتاتا آخر میں انکے فق چہروں کو دیکھ کر شرارت سے کہتا باہر کو بھگا ۔۔۔
“کمینے ہر بار تو ایسے ہی کرتا ہے ۔۔اپنی ہی منواتا ہے اب تیری خیر نہیں ۔۔۔”
وه دونوں چیختے ہوئے اسکے پچھے بھاگے تھے ۔۔۔ولی آگے آگے اور وه دونوں پچھے پچھے تھے پورا لان ولی کے قہقہوں اور زرام اور شازل کی چیخوں سے گونج ررہا تھا ایونٹ ارگناآئزر کی ٹیم ولی برہان ملک دی کھڑوس کو قہقے لگاتے دیکھ حیران پریشان ہورہے تھے یقینن وه ہںستے ہوئے بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا سب ملازم اپنے مالک کو مسكراتا دیکھ خود بھی مسکرا رہے تھے دل میں انہوں نے اپنے کھڑوس مالک کو ڈھیروں دعائیں دی تھیں وه ایسے ہی ہمیشہ مسکراتے رہیں اور تینوں دوست ایسے ہی ہمیشہ ساتھ رہیں ۔۔(آمین )
شام کا وقت تھا میرر ہاؤس کو خوبصورتی سے سجادیا گیا تھا خوبصورت وسیع لان لائٹوں سے جگمگا رہا تھا ہر طرف خوشی کا سماں تھا سب مہمان آچکے تھے بڑی تعداد میں میڈیا اپنے کیمرے سیٹ کیے ہوئی جہاں سے دولہوں کے ساتھ ان کی دولہنوں کو آنا تھا گھر والے بھی بے صبری سے انکا انتظار کر رہے تھے کہ ایک دم پورے لان میں اندھیرا چھا گیا اور پھر سپاٹ لائٹس ان ہوئیں تھیں سب میڈیا اور مہمانوں کی نظرین سامنے ٹک گئیں تھی جہاں سپاٹ لائٹ میں وه تینوں ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔
جاناں ،زویا اور نور ریڈ گاؤن میں خوبصورت میك اپ کیے بالوں کا جوڑا بنائے ہائی ہیلز میں بہت خوبصورت لگ رہیں تھیں ۔شازل ولی اور زرام بلیک تھری پیس میں اپنی سحرانگیز پرسنیلیٹی میں بہت بہت ہینڈسم لگ رہے تھے سب کی نظریں تو ہٹنے سے انکاری تھی میڈیا والے اپنے کیمرے ان کیے دھڑا دھڑ انکی تصویریں بنانے میں مصروف تھے ۔۔
وه سب چلتے ہوئے سٹیج پر آئے اور دولہنوں کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بیٹھایا ماہین بھابی فیضان اسفند صاحب میران صاحب صوفیہ اور آمنہ بیگم انکے پاس آئے اور انکو ڈھیرو دعائیں دیتے مہمانوں کے پاس چلے گئے ۔۔۔
کچھ دیر بعد انکا فوٹوسیشن ہوا تو جاناں نور اور زویا شرم سے سرخ ہونے لگیں مگر ان تینوں نے بھر پور انجوائے کیا ۔۔
فوٹوسیشن کے بعد کھانے کا دور چلا کھانے کے بعد وه تینوں اپنی دولہنوں کا ہاتھ تھامے ڈانس فلور پر گئے اور انکی نہ نہ کے باوجود اپنی پسند کے گانے پر ڈانس کرنے لگے
چل دیا دل تیرے پچھے پچھے
دیکھتا میں رہ گیا
کچھ تو ہے تیرے میرے درمیاں
جو ان کہا سا رہ گیا
میں جو کبھی کہہ نہ سکا
آج کہتا ہوں پہلی دفعہ
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
یہ عشق کی ہے سازشیں
لا آملے ہم دوبارہ
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
سر پھرا سا میں مسافر
پاؤں کہیں ٹھہرے نہ میرے
پھر میری آوارگی کو
آنے لگے خواب تیرے
ہو ہو ہو سر پھرا سا میں مسافر
پاؤں کہیں ٹھہرے نہ میرے
پھر میری آوارگی کو
آنے لگے خواب تیرے
یہ پیار بھی کیا قید ہے
کوئی ہونا نہ چاہے ریہا
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
یہ عشق کی ہے سازشیں
لا آملے ہم دوبارہ
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
تیرے بن یہ سارے موسم
بے رنگ تھے بے مزہ تھے
شامل نہیں تھی تو جن میں
وه سارے پل بےوجہ تھے
وه زندگی ہے ہی نہیں
جو میں تیرے بن جی لیا
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
یہ عشق کی ہے سازشیں
لا آملے ہم دوبارہ
دل میں ہو تم آنکھوں میں تم
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
پہلی نظر سے ہی یارا ۔۔۔۔
“بس اب تو اپنے پیارے پیارے بچوں کا انتظار ہے وه بھی ایسے ہی عشق محبت میں مبتلا ہوں۔”
هاھاھاهاهاهاها
جہاں گانا ختم ہوا زرام کی بات پر سب نے قہقہ لگایا تھا وہیں نور نے شرم سے زرام کے سینے میں منہ چھپایا
ختم شد
