Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

مگر اب والے وعدے کو تو وقت نے بتانا تھا کہ وه اس کو نبھائے گی یا ہمیشہ کے لیے چکنہ چور کر دے گی کیوں کہ وقت انسان کو بہت کچھ کرنے میں مجبور کر دیتا ہے نہ چاھتے ہوئے بھی انسان وه کچھ کر جاتا ہے جس کے بارے میں اس نے سوچا ہی نہیں ہوتا کیوں کہ جو کچھ انسان سوچتا ہے وقت ہمیشہ اسکے الٹ چلتا ہے اب ناجانے زویا اور ولی کی زندگیوں میں کیا کچھ بدلنے والا تھا یہ تو وقت اور تقدیر دونوں نے بتانا تھا کسی نے پچھتانا تھا تو کسی نے ایک بار پھر سے ٹوٹنا تھا______
اسلام و علیکم!!!!!!
آمنہ بیگم ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی کہ کسی کی جانی پہچانی آواز پر اپنی گردن موڑ کر لاؤنچ کے دروازے پر دیکھا جہاں پورے 5 سال بعد وه اپنی تمام آن بان شان کے ساتھ لاؤنچ کے داخلی دروازے پر کھڑا تھا ہمیشہ کی طرح بلیک سوٹ پہنے آنکھوں پر بلیک گلاسی لگائے بے انتہا ہینڈسم سا ولی برہان ملک کھڑا تھا جس نے 5 سال پہلے خود سے وعدہ کیا تھا کہ وه کبھی بھی اس دہلیز پر قدم نہیں رکھے گا مگر اپنی شادی میں اپنے ماموں ممانی جن کو اس نے اپنے ماں باپ کے بعد سے ان کو زرام کی طرح موم ڈیڈ کہا تھا جن کی وجہ سے وه آج اس مقام پر تھا وہ کیسے ان کو بھول سکتا تھا جنہوں نے ہمیشہ اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر اسے پیار دیا تھا
ولی میرا جگر کا ٹکڑا

آمنہ بیگم ہوش میں آئیں تھی اور بھاگ کر اسکے گلے سے لگی تھی اور اپنے آنسوں بہانے لگی پھر اسکا ماتھے پہ بوسہ دیتی پھر سے گلے لگ گئیں

ولی تمہیں اس ماں کی کبھی یاد نہیں آئی کبھی دل نہیں کیا کہ مجھ سے ملنے آجاؤ یا اپنی قسم توڑ جاؤ کہ میں تم سے ملنے آ جاؤ ایک بار تو مجھے بتاتے کیا ہوا تھا تم کیوں سب کو چھوڑ کر چلے گئے
موم اب اپ کا ولی واپس بھی تو آگیا ہے اگر قسم توڑ کر گیا تھا آج اپنی سب قسمیں توڑ کر بھی تو واپس آیا ہوں میں بھی ہر پل آپ کو یاد کرتا رہا ہوں آپکے ڈیڈ کے بھائی کے ماہین کے اور سب کے پیار کو ترستا رہا ہوں میں اب ہمیشہ کے لیے واپس آگیا ہوں تو اب رونا نہیں ہے آپ نے ورنہ میں واپس چلا جاؤں گا

ولی ان کے ہاتھوں پہ بوسہ دیتا ہوا ایک بار پھر گلے لگا لیا ماں کی ممتا کے بغیر آج تک کون خوش رہ سکا ہے
ولی میری جان

ماہین کیچن سے بھاگتی ہوئی ولی کے پاس آئی تو وه آمنہ بیگم سے علیده ہوتا اسے اپنے گلے لگایا اور ایک آنسوں ٹوٹ کر ولی برہان ملک کی داڑھی میں جزب ہوا تھا اسے ہمیشہ ماہین میں اپنی ماما کی خوشبو آتی تھی صرف ایک شخص کی وجہ سے وه ان سب سے دور چلا گیا تھا کتنی بڑی نا انصافی کر گیا تھا خود کے ساتھ اور اپنے ان گھر والوں کے ساتھ مگر اب نہیں اب اس بار وه کوئی ناانصافی نہیں کرے گا_

ماہین بیٹا پیچھے ہوں اور بھائی کو صوفے پہ بٹھاؤ میرا بیٹا کب سے کھڑا ہے

ان کی بات سنتا ولی انکا ہاتھ تھامے صوفے پر ان کو بیٹھ کر اپنا کوٹ اتارتا ماہین کو پکڑا کر انکی گود میں سر رکھے صوفے پہ لیٹ گیا اور ماہین مسکراتی ہوئی اسکے سنگلاسسز اتارتی وہیں ٹیبل پر اس کے پاس بیٹھ گئی_ ولی تم آج بھی نہ آتے اگر تمہاری شادی کی تاریخ پکی نہ کرنی ہوتی میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں بیٹا ماں کی تو کبھی یاد نہیں آتی ہو گی باپ سے اور بھائیوں سے تو روز مل لیتے ہو گئے بس ہم ماں اور بہنوں سے مسلہ تھا
آمنہ بیگم اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی اس سے شکوہ کرنے لگی تو آنکھیں کھولتا ان کو دیکھنے لگا
سہی کہہ رہی ہیں مما جان آپ اس کو تو احساس ہی نہیں ہو گا ہم کتنا یاد کرتے ہیں اسے مگر یہ کہاں ہم بچا روں سے بات کرے گا ولی برہان ملک ہے کوئی عام تھوڑی ہے

ماہین بھی اپنی بھڑاس نکالتی ہوئی اسکے کندھے پر تھپڑ مارا
ارے یار اگر اب آپ دونوں نے اس ٹاپک پر بات کی تو میں واپس چلا جاؤں گا_

ولی اپنے مخسوس انداز میں بولا تو وہ لوگ اس سے اور کوئی باتیں کرنے لگی ان کو اس پر کون سا بھروسہ تھا ولی برہان ملک تھا کچھ بھی کر سکتا تھا اور ولی جانتا تھا اسکی دھمکیاں ہمیشہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں وه اس ٹاپک سے ہمیشہ غصہ کرتا تھا

اچھا ولی میں سب کو فون کر کے آتی ہوں کہ ولی برہان ملک واپس اپنے ٹھکانے پہ آ گیا ہے
ماہین ایک دم مسكراتی ہوئی شرارت سے بولی نہیں بلکل بھی نہیں میں ان کو سرپرآئز دینا چاہتا ہوں اس لیے میں زرام کے کمرے میں جا رہا ہوں_

وه اٹھتا ہوا ماہین کو روکتے ہوئے بولا_ ہاں سہی ہے مگر بیٹا کچھ کھا پی تو لو میں اپنے بیٹے کے لیے کچھ بناتی ہوں
آمنہ بیگم بھی اسکے ساتھ کھڑی ہوتے ہوئے بولیں_ نہیں موم ابھی میں ریسٹ کروں گا ساری رات نہیں سویا ایک پراجیکٹ کے چکر میں
وه اپنا کوٹ ماہین سے لیتا ہوا بولا اور سیڑھیاں چڑھ گیا کیوں کہ وه جانتا تھا زرام کا کمرہ ہمیشہ اوپر ہی ہوتا تھا تو وه بھی اسے جانے کا کہتی صوفے پہ بیٹھ گئیں
امی آپ نے ایک بات نوٹس کی ولی نے جاناں کے بارے میں ایک بار بھی نہیں پوچھا وه تو اسکی گڑیا تھی جس کو ولی نے سب سے پہلے اپنی گود میں اٹھایا تھا اور اپنی بیٹی کی طرح اس کا خیال رکھتا تھا پھر کیسے اتنے سال اس کے بغیر رہا اور نہ ہی کبھی جاناں نے ولی کے بارے میں ذکر کیا

ماہین کے دل کی بات آخر زبان پر آ ہی گئی تھی جو وه 5 سالوں سے سوچتی آئی تھی ہاں ماہین بیٹا یہ بات میں تو کب سے سوچتی آئی ہوں مگر پھر سوچتی کیا پتا میرا وہم ہو_

ہاں امی اللّه کرے ہمارا وہم ہی ہو
آمین بیٹا اللّه تم سب بچوں کو ہمیشہ ایک ساتھ جوڑے رکھے
آمین امی آپ پریشان نہ ہوں آپ بیٹھے میں کیچن میں کھانا دیکھ کر آتی ہوں

اسلام و علیکم بھابی!!!!!!
جاناں کیچن میں داخل ہوتی ماہین کو سلام کیا جو سلاد بنانے میں مصروف تھی
واعلیکم سلام چندا کب آئی آفس سے؟؟؟؟
جی بھابی ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئی ہوں آج میران انکل کے گھر جانا ہے نہ
ہانجی شام کو جانا ہے ابھی تو 2 بجے ہیں
جی بھابی اس لیے تو جلدی آگئی ہوں اور ویسے بھی آج بہت کم کام تھا اور نہ ہی وه شازل صاحب آفس آئے تھے آج
وه شازل کے بارے میں سوچتی فریج سے پانی نکال کر پینے لگی___

ہاہاہا چندا وه آج کیوں آتا آج اس کو کتنے زیادہ کام تھے آخر اسکی بہن کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنی ہے_ ہاں یہ تو ہے بھابی اچھا آپ لوگوں نے سب سامان منگوا لیا؟؟؟؟؟؟ جاناں ماہین کے سامنے والی کرسی پہ بیٹھتی ہوئی پوچھنے لگی
ہاں چندا سامان تو سب آگیا ہے

بھابی آپ سے ایک بات پوچھنی تھی؟؟؟؟؟؟؟
جاناں اپنی انگلیوں کو مروڑتی ہوئی نظریں نیچے کیے بولی
ہاں چندا پوچھو نہ تم کب سے ایسے سوال کرنے لگی

ماہین چھوری سائیڈ پہ رکھتی اسکی طرف متوجہ ہوئی
بھابی کیا ولی بھائی بھی جائیں گے میران انکل کے گھر یا وه اپنے گھر ہی ہیں پلیز بتائیں نہ مجھے ان سے بات کرنی ہے_

جاناں اپنی آنکھوں میں نمی لائے بھابی کو دیکھنے لگی_ چندا کیا بات ہے تم اور ولی پہلے کی طرح بات کیوں نہیں کرتے ایسا بھی کیا ہوا ہے میں یہ نہیں پوچھوں گی کیوں کہ یہ تم دونوں کا معملہ ہے لیکن یہ ضرور کہوں گی کہ جو بھی ہوا ہے اسے سہی کرو بات کرو ولی سے غلط فہمیاں انسان کے بہت عزیز رشتے توڑ کر رکھ دیتی ہے میں نہیں چاہتی کہ تم دونوں کا رشتہ خراب ہو_
ماہین اسکے دونوں ہاتھ پکڑتی ہوئی سمجھانے لگی بھابی میں نے ان کا یقین توڑا ہے میں ایک اچھی بہن نہیں ہوں انہوں نے ہمیشہ مجھ سے پیار کیا مگر میں نے ان کی اس محبت کی بھی لاج نہیں رکھی اور ان کو ہوس پرست کہہ کر گھر سے چلے جانے کا کہہ دیا وه صرف میری وجہ سے آپ سب کو چھوڑ کر گئے تھے _____

جاناں کہتی رونے لگی اور ماہین حیرت سے اسکو دیکھنے لگی کیا جاناں اسکے بھائی کے ساتھ ایسا بھی کچھ کر سکتی ہے
(ماضی )
شاہزیب خان دیکھو تمہاری دوشمنی میرے ساتھ ہے اگر تو ان سب میں میری بہن کو بیچ میں لایا تو میں تیری جان لے لوں گا

ولی برہان ملک میں تو ڈر گیا اب کیا کرو گے تم میرے ساتھ_
ھاھاھاھاھاھاھاھا
تونے میرے ڈیڈ کی عزت خراب کی تھی نہ اب دیکھنا میں تیری بہن کے ساتھ کیا کرتا ہوں کہ وه کبھی بھی خوش نہیں رہ سکے گی اور تجھ سے شدید نفرت کرے گی جیسے تو نے میرے ڈیڈ کو سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا اب میں تیری بہن کو بے عزت کروں گا وه بھی اسکی پوری یونیورسٹی کے سامنے اگر بچا سکتے ہو تو آجاؤ یونیورسٹی

ہاہاہا
بکواس بند کر کمینے اگر میری بہن کو کچھ ہوا تو میں تیری جان لینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا اور تو اپنے باپ کی کس عزت کی بات کر رہا ہے وه جو ایک معصوم لڑکی کو گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں بٹھا رہا تھا تاکہ اپنی ہوس پوری کر سکے اور آج میں تجھے بتاؤ گا ولی برہان ملک کون ہے _____
ولی کہتے جلدی سے اپنے روم سے باہر بھاگا اور سیڑھیاں اترتا باہر چلا گیا
افف جاناں اسفند ملک کتنی بےحیا ہے شاہزیب جیسے انسان کو مجبور کر کے اظہار مبحت کروایا دیکھنے میں کیسی پاکیزہ لگتی تھی _
ہاں سہی کہا کیسے دیکھاوا کرتی تھی کہ میں تو لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی اب دیکھو کیسے وه یونیورسٹی کے فیمس بندے سے اظہار کروا رہی تھی
وه پریشان سا جیسے ہی یونیورسٹی داخل ہوا سب لوگ جاناں کے بارے میں غلط باتیں کرتے دکھائی دیے مگر اسے کہیں بھی جاناں نظر نہ آئی__

افف کہاں ہو جاناں میرا دل بہت گبھرا رہا ہے اللّه کرے تم ٹھیک ہو ایک تو آج زویا بھی نہیں آئی میں کس سے پتا کروں_
ولی برہان ملک یہاں وہاں دیکھتا جاناں کی سلامتی کے لیے دعا کرنے لگا کہ پیچھے سے کسی لڑکی کی آواز آئی تو وه پلٹا
“”
کیا آپ جاناں اسفند ملک کو ڈھونڈ رہے ہیں
جی جی کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ وه اس وقت کہاں ہے؟؟؟؟
وه سامنے کھڑی ماڈرن لڑکی جس نے بھر بھر کےمیک اپ کیا ہوا تھا اور بالوں کو کھولا چھوڑے اور ٹائٹ سکن پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کا گلا حد سے زیادہ گہرا تھا جس پر ولی نے نفرت سے نظریں پھیری تھیں اور دل میں ناجانے کتنی گالیاں دی تھی
آئیں میں آپ کو وہاں لے چلتی ہوں
وه تو ولی برہان ملک کی خوبصورتی سے ہی پاگل ہونے لگی جو بلیک ڈریس شرٹ جس کے اوپر کے دو بٹن کھولے تھے اور بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا اور ساتھ بلیک جینز پہنے بالوں کو ماتھے پہ گرائے حد سے زیادہ غصہ میں وه انتہا کا ہینڈسم لگ رہا تھا___

جی نہیں شکریہ آپ کا محترمہ آپ مجھے بتا دیں میں چلا جاؤں گا
وه ماتھے پہ بل لائے غصے سے بولا
چل لیں ساتھ وه نہ ہو کہیں دیر ہو جائے

وه قہقہ لگاتی ہوئی بولی تو ولی اپنے غصے کو سائیڈ پہ رکھتا اس کے پیچھے چل دیا وه لوگ جیسے ہی بی بی اے ڈیپارٹمنٹ پہنچے تو ولی نے ارد گرد جائزہ لیا جہاں کسی کا نامو نشان تک نہ تھا پھر وه ایک کمرے تک پہنچے تو وه ارد گرد دیکھ رہا تھا جب ساتھ چلتی لڑکی نے اسے کھینچ کر کمرے میں کیا اور دروازہ بند کر دیا اور کمرے میں بلکل اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور ولی تو کچھ سمجھ ہی نہ سکا کیوں کہ وه جاناں کے بارے میں سوچتا اس قدر گم تھا کہ وه ولی جیسے ہٹے کٹے انسان کو کھینچ کر اندر لے گی

کیا بے ہودگی ہے لائٹ ان کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا
وه ابھی بول ہی رہا تھا جب اسے اپنی شرٹ کے سارے بٹن ٹوٹتے محسوس ہوئے اور کوئی نرم نازک وجود اسکے گلے لگا اور اس کے سینے پہ لب رکھے وه اس وجود کو دھکا دینے لگا تھا کہ ایک دم دروازہ کھولا اور کمرہ روشن ہو گیا کہ ولی نے اپنی آنکھیں بند کی __

ولی بھائی آپ آپ یہاں اور یہ سب_
جاناں کی آواز پر اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور جاناں کی طرف دیکھا جو بکھرے بالوں مٹا مٹا میک اپ جو رونے کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا پھر اسکی آنکھوں کے اشارے کو سمجھتا اپنے سینے کے ساتھ لگی لڑکی کو دیکھا جو پھٹے کپڑوں اور خراب لیپسٹیک کے اس کے ساتھ چیپک کر کھڑی تھی“”
واحیات عورت تم اس قدر گھٹیا ہو سکتی ہو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا
ولی اسے دھکا دیتا ہوا غصے سے دھاڑا تو وه مسکراتی ہوئی ولی کو آنکھ ماری جو جاناں تو نہ دیکھ سکی مگر ولی نے ضرور دیکھا تھا جس پر وه آگے بڑھ کر اسے مارنے لگا تھا کہ جاناں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور بازو کو زور سے جھٹک دیا اور وه حیرت سے جاناں کو دیکھنے لگ گیا
جاناں نے رکھ کر ایک تھپڑ ولی کے منہ پہ مارا
واحیات وه نہیں واحیات آپ ہیں ولی برہان ملک گھٹیا وه نہیں آپ ہیں آپ ایک ہوس پرست انسان ہوں گے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا آپ ایک گھٹیا مرد ہیں زویا سے نکاح کیا اور یہاں اسی کی یونیورسٹی میں اسکی ہی کلاس میں جہاں وہ پڑھتی ہے اسکی ہی کلاس فیلو کے ساتھ آپ ایک بند کمرے میں اپنی ہوس پوری کر رہے تھے میرا نہیں تو اس زویا کا خیال کر لیتے میں تو پھر بھی آپ کی کزن ہوں میرے ماں باپ کو تو پتا بھی نہیں ہو گا کہ وه ایک ہوس پرست انسان کو اپنے گھر میں رکھے ہوئے ہیں یہ تو شکر ہے آپ نے میرے ساتھ یہ سب نہیں کیا اور
بس جاناں اپنی بکواس بند کرو یہ سب تم ایسے کہو گی میں نی نہیں سوچا تھا تم ھمارے اتنے پاک رشتے پہ گھٹیا لفظ استعمال کرو گی اور مجھے جو تمہیں اپنی چھوٹی بہن نہیں بلکے بیٹی مانتا ہے اس کو ہوس پرست کہو گی میں یہ سوچ کیا میں اس سے پہلے مرنا پسند کرتا_

ولی جاناں کے دونوں کندهوں سے پکڑتا غصہ سے دھاڑا زندگی میں پہلی بار وه جاناں پر اس قدر دھاڑا تھا غصہ سے اسکی آنکھیں سرخ لال ہو گئی تھی اور وه لڑکی ان دونوں کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ موقع کا فائدہ اٹھاتی باہر چلی گئی
آپآپ ایک گھٹیا انسان ہیں میں بابا کو جا کر کہوں گی آپ کو گھر سے نکالیں ورنہ یہ آپ کی جاناں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنائے گا_

جاناں ہمت کرتی روتی ہوئی بولی
تم
وه بولنے لگا تھا کہ باہر سے شور آنے لگا_

دیکھو کس قدر بےشرم اور بدکردارلڑکی ہے باہر کوئی اور اسے محبت کا اظہار کر رہا تھااور اب بند کمرے میں اپنے کسی اور عاشق کے ساتھ مزے کر رہی ہے
یہ ایسی ہی ہوتی ہیں دیکھنے میں پاکیزہ لگتی ہیں مگر حد سے زیادہ عیاش ہوتی ہیں میں بھی اس کی پاکیزگی کو دیکھ کر دیوانہ ہوا تھا مجھے کیا پتا یہ ایسی واحیات ہو گی

وه فضہ اور شاہزیب دونوں کھڑے مسکرا رہے تھے اور ولی برہان ملک شاہزیب کی سازش سمجھتا جاناں کو اپنے پیچھے کیا تھا جس سے وه پوری طرح چھپ گئی تھی کہ اسے کوئی اور نہ دیکھ سکے کیوں کہ جیسے اسکی حالت ہوئی ہوئی تھی سب اسکو اپنا نشانہ بناتے جو وه کبھی بھی چاہ کر نہیں ہونے دے سکتا تھا ابھی تو کچھ لوگ دیکھ رہے تھے آگے نجانے کتنے لوگ دیکھتے اور جاناں تو اس لڑکی فضہ کو جو اس کی کلاس فیلو تھی وه اس قدر گھٹیا ہو گی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا جاناں کا دماغ بہت کچھ غلط ہونے کی گواہی دے رہا تھا مگر اب تو بہت دیر ہو چکی تھی
بس بکواس بند کرو سب اور جاؤ یہاں سے دفع ہو جاؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا___

ولی اپنی شرٹ کے بٹن جو ٹوٹ گئے تھے انکو ہاتھوں کی مدد سے پکڑتا ان سب کو دیکھ کر دهاڑا جو جاناں کے بارے میں گندی باتیں بول رہے تھے_
میں تو اس لڑ کے کو جانتی تک نہیں میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے تم کیوں جھوٹ بول رہے ہو خدا کا واسطہ ایسا نہیں کرو

جاناں شازیب کے سامنے جاتی مینتیں کرنے لگی اہ بہن معاف کرو شکر ہے شاہزیب کو پتا چل گیا تمہارا ورنہ تو تم تو اس بچارے کی زندگی خراب کر دیتی_
ان 30_35 لوگوں میں سے ایک لڑکی نے کہا تو سب توبہ توبہ کرنے لگے اسکی حالت دیکھ کر سمجھدار یہی سمجھتا لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیوں کہ دوپٹہ نیچے فرش پہ پڑا تھا اور بکھرے حلیے میں وه ٹوٹی پھوٹی لگی تھی مگر یہاں سب ملے ہوئے تھے یہ سب شاہزیب خان کی چال تھی جس میں وه کامیاب ہو گیا تھا اور یہ فضہ اسکی ہی گرل فرینڈ تھی جس نے اسکا ساتھ دیا تھا

میں نے کہا دفع ہو جاؤ یہاں سے
ولی ایک بار پھر دهاڑا تو سب شاہزیب کا اشارہ سمجھتے چلے گئے مگر فضہ اور شاہزیب کے علاوہ_

تو کیسا لگا بے عزت ہونا یہ سب میری چال تھی میں نے کہا تھا نہ اس بار تم اپنی بہن کو بے عزت ہونے سے نہیں بچا سکو گے لے لیا میں نے اپنے ڈیڈ کی انسلٹ کا بدلہ خیر
مجھے تو بہت مزہ آیا ہے اور یہ تمہاری کزن ہے بڑی خوبصورت اگر تم چاہو تو میں کچھ دن رکھ لوں اسے اور تم فضہ کو رکھ لو کیا کہتی ہو فضہ

وه فضہ کو آنکھ مارتا ہوا بولا تو وه ایک ادا سے مسکرا دی اور ولی کی ہمت جواب دے گئی وه ایک دم آگے بڑھا اور اسکے منہ پر مکوں کی برسات شروع کر دی

کمینے اب بول میری بہن کے بارے میں میں تجھے زندہ نہیں چھوڑو گا ____
ولی اسکو مارنے لگا اور جب وه مرنے کے نزدیک ہوا تو اسکا سر فرش پہ دے مارا اور آنکھوں پہ ناجانے کتنے موکے مارے کہ آنکھوں سے خون بہنے لگا تو فضہ ڈر کر بھاگ گئی اور جاناں گم سم ولی کو دیکھنے لگی جس کا کوئی قصور نہیں تھا مگر وه قصور وار بن گیا تھا اور وہیں فرش پہ گری بےہوش ہو گئی اور صبح جب اسکی آنکھ کھولی تو وه گھر میں تھی اور ولی ہمیشہ کے لیے گھر سے چلا گیا تھا بغیر اسکی سنے اور اسکے لیے ایک میسج چھوڑ گیا تھا کہ وہ کبھی بھی زندگی میں اس سے نہ ملے نہ ہی کبھی اپنی شکل دیکھائے
وه جو آج تک یہ بات سب سے چھپاتی آ رہی تھی وه آج ماہین کو سب بتا گئی تھی وه آج خود سے وعدہ کر کے آئی تھی وه ماہین سے کچھ نہیں چھپائے گی اور اسے کہے گی کہ ولی سے کہو واپس آ جائے وه اسکے بغیر بلکل تنہا ہے
وه روتے ہوئے ماہین کو سب بتاتی چلی گئی اور جب خاموش ہوئی تو ماہین کی طرف دیکھا جو خود آنسو بہا رہی تھی
چندا جہاں تک بات تم نے مجھے بتائی ہے کہ تم ولی کو برا سمجھ رہی تھی پھر تمہیں یہ کیسے پتا کہ ولی اور اس گھٹیا آدمی کی آپس میں کیا بات ہوئی _

جاناں جو دل میں ایک ہی بات سوچ رہی تھی کہ اب ماہین بھابی اس سے نفرت کریں گی مگر یہ کیا وه تو اب بھی اسے چندا کہہ رہی تھی تو کیا وہ آج تک یہ بات چھپا کر غلط کرتی آئی تھی _
بھابی یہ سب اس لڑکی فضہ نے بتایا تھا جب اسکے ساتھ اس شاہزیب نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر زیادتی کی اور ایک سنسان سڑک پر پھینک کر چلے گئے اور اس واقع کے کچھ مہینوں بعد وه مجھ سے معافی مانگنے آئی تھی___

تو چندا کیا تم نے اسے معاف کر دیا _
ماہین اسکے چہرے کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی جہاں آنسوں کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی_

بھابی میں کون ہوں معاف کرنے والی میں تو خود معافی کی طلبگار ہوں میں نے ایک بھائی کو جو میرے لئے باپ کی حیثیت رکھتا تھا میں نے اس بھائی کا دل دکھایا ہے میں اگر اچھی ہوتی تو کبھی میرے ساتھ یہ سب نہ ہوتا اور نہ میں ولی بھائی کے ساتھ کچھ ایسا کرتی جس سے وه ہمیشہ کے لیے سب سے دور چلے گئے
جاناں یہ کہتے روتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی اور ماہین اسکو جاتا دیکھ اسکی تکلیف کم ہونے کی دعا کی تھی وه چاہ کر بھی اس پر غصہ نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ جاناں اسے اپنی چھوٹی بہن کی طرح عزیز تھی جس سے جانے انجانے میں غلطی ہو گئی تھی اور اب خود 5 سالوں سے تکلیف میں تھی


کیا بکواس ہے عاشر ایسے کیسے ہو سکتا ہے وه اسحاق خان کا بیٹا کہیں نہ ملے جب کے وه اس ملک سے کیا وه تو اس شہر کراچی سے بھی کہیں نہیں جا سکتا نہ ہی وه گیا تو وہ کیسے تم سب کو کہیں نہیں مل رہا اسکا ایک ہی مطلب ہے اس کو چھپانے میں اس کے باپ کا ہاتھ ہے __
زرام۔پولیس سٹیشن کے اپنے روم میں بیٹھا غصہ سے دهاڑا تو سامنے کھڑا انسپیکٹر عاشر کے پسینے چھوٹ گئے کیوں کہ اس وقت پولیس یونیفارم میں هنستا مسكراتا زرام نہیں تھا جو ہر وقت ولی کو تنگ کرتا رہتا تھا یہ تو ایس پی زرام اسفند ملک تھا جو اپنے ملک کا محافظ تھا جس نے یہ یونیفارم پہنتے وقت خود سے وعدہ کیا تھا وه ہر ایک کو انصاف دلائے گا
سر وه ہم لوگ ایک ہفتے سے پورے کراچی کا ایک ایک چپا چھان مارا ہے جہاں جہاں اسکے ملنے کے چانسیز تھے خان کے سب فارم ہاؤسز ہر جگہ یہاں تک کہ اسکے باپ کی خان انڈسٹری میں بھی اپنا ایک خبری چھوڑا ہے مگر وہاں سے بھی کوئی ایسی خبر نہیں ملی جس سے یہ پتا لگایا جا سکے کہ وه شاہزیب اسحاق خان کہاں چھپا بیٹھا ہے مگر سر ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں ___

جسٹ شٹ اپ تمہاری کوشش کا میں اچار ڈالوں وه ریپیسٹ شاہزیب اسحاق خان جس نے 15 سال کی بچی کا ریپ کیا ہے اور تین مہینوں سے سے ہم اسکو اپنی حراست میں نہیں لے سکے روز اسکی غریب بے بس ماں اس پولیس سٹیشن میں اپنی معصوم بچی کے انصاف کے لیے آتی ہے اور ہم جو اپنے ملک کی بیٹیوں ،ماؤں ، بہنوں اور ان سب کے محافظ ہیں اور ان محافظ کے منہ سے وه بے بس ماں تین مہینوں سے صرف ایک بات سن رہی ہے ہم کوشش کر رہے ہیں ہم کوشش کر رہے ہے ، بھاڑ میں گئی ایسی کوشش بھاڑ میں گئے ایسے محافظ جو ایک ریپیسٹ کو نہیں پکڑ سکے جو ناجانے اس شہر اور اس ملک کی کتنی بچیوں کے ساتھ زیادتی کر چکا ہے اور آج تک کوئی اسے پکڑ نہیں سکا صرف اپنے باپ کے پیسوں پر جو خود ناجانے رات کے اندھیروں میں کتنے گھٹیا کام کرتا ہو گا مگراب نہیں اب اس بار یہ دونوں باپ بیٹے نہیں بچ سکتے کیوں کہ اس بار ان کا پالا زرام اسفند ملک سے پڑا ہے اب ان کو انکا پیسا اور غیر قانونی پاور بھی نہیں بچا سکے گی_____
ایس پی زرام اسفند ملک غصے سے اپنی چیئر سے اٹھ کر عاشر کے پاس آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ رنگ کی آنکھیں گاڑھی جو پولیس والے ہونے کے باوجود عاشر کو ڈرا گئیں تھی__
سر وہ _
چپ ایک لفظ اپنی زبان سے نہ نکالنا میں تمہیں دو دن دیتا ہوں ان دو دنوں میں تم نے اس حرامزادے کا پتا لگانا ہے اور اسے اریسٹ کرنا میرا کام ہے ورنہ اپنا ٹرانسفر سمجھنا_

زرام اسکے کندھے پہ زور ڈالتا ہوا بولا تو عاشر یس سر کہہ کر سلوٹ کرتا چلا گیا کیوں کہ اسے اب اپنا کام پوری لگن کے ساتھ کرنا تھا ورنہ زرام اسفند ملک اسے خود سے دور کہیں اور ٹرانسفر کروا دیتا جو وه هرگز نہیں چاہتا تھا عاشر زرام اسفند ملک جیسا بننا چاہتا تھا ایک ایماندار اور اچھا محافظ جو اپنے ملک کی عزت کی خاطر جان دینے کو بھی تیار رہتا تھا ___
موم ڈیڈ__