Dil Mein Ho Tum By Mannat Riaz Readelle50188 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وه دل میں عہد کر گیا تھا اب سے آج سے وه اپنی جاناں کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دے گا جو چیز اسکی جان کو تکلیف دے گی وه اسے بہت دور کر دے گا ۔۔۔۔۔۔
“بس اتنی سی خواہش میری جان کی ۔۔۔۔۔ابھی پوری کر دیتا ہوں ۔۔۔۔اور آئندہ کبھی بھی کچھ ہو تو مجھے بتانا اپنے دل میں چھپا کر نہیں رکھنا ۔۔۔۔۔”
پھر وه جاناں کا سر اپنی گود میں رکھے اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے لگا جس پر جاناں اسکو اپنی زندگی کی ساری باتیں بتانے لگی ہر چیز نئے سرے سے وه چاہتی تھی اسکا شوہر اسکے بارے میں ہر بات جانتا ہو اسکے ہر دکھ سے واقف ہو اس سے محبت کرے تو اس کے دکھووں ازیتوں سمیت اس کا شاز اسکا ہمراز بنے اور پھر وه اسکا مہرم اسکا ہمراز بن گیا تھا ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے اگر کوئی اسکا ہمراز ہو تو وه اسکا مہرم ہو ایسے ہی جاناں کی بھی یہی خواہش تھی جس کی وجہ سے وہ آج تک شازل کو اپنے دکھوں سے لاعلم رکھے ہوئے تھی اور آج نجانے کتنے عرصے بعد اسے سکون کی نیند نصیب ہوئی تھی ۔
جان ۔۔۔۔۔۔۔
وه شازل کے پکارنے پر ایک دم رات کے حسین منظر سے نکلی تھی اور پھر اٹھ کر شازل کے سامنے بیٹھی تو وه مسکرا کر اس کی جانب جھکا اور عقیدت سے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔
میری زندگی کی یہ سب سے حسین صبح ہے جان اور میں چاہتا ہوں آنے والی سب صبح ایسے ہی ہوں اب تم سو جاؤ کچھ دیر ریسٹ کرو ساری رات نہیں سوئی تمہاری زبان بھی تھک گئی ہو گی ۔۔۔۔۔۔میں گھر جا رہا ہوں۔۔۔۔اور نکاح پر پہننے کے لیے ڈریس تمہیں دو تین گھنٹوں تک مل جائے سو تم میرا لایا گیا ڈریس پہنو گی ۔۔۔۔۔۔۔
شاز اس کے چہرے پر آتے ہوئے بالوں کی کچھ آوارہ لٹوں کو پچھے کرتا ہوا بولا تو جاناں نے مسکرا کر اسکے گال پر کس کی اور جلدی سے رخ موڑ گئی یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ شازل کو خود سمجھ نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے مگر پھر جاناں کو دیکھ کر قہقہ لگایا ۔۔۔۔۔۔۔
“جان تم اتنے پر شرما گئی ۔۔۔۔۔۔۔اگے چل کر کیا کرو گی ۔۔۔۔ابھی تو میں یہ بچوں والی کس پر گزارا کر لوں گا شادی کے بعد ایسا بلکل نہیں چلے گا مجھے روز بڑوں والی کس چاہیے ہوگی۔۔۔۔۔”
شازل بےباکی سے کہتا ہوا جاناں کو اپنی جانب کھنچا تو اسکی پشت شازکے سینے سے لگی تو وه سٹپٹا گئی اور اپنی خفت مٹانے کو بولی ۔۔۔۔۔
“بہت ہی کوئی واحیات انسان ہیں آپ مسٹر واحیات ۔۔۔۔میں خامخوا آپ کو رات سے شریف انسان سمجھ رہی تھی کہ آپ تو بہت شریف سے بندے ہیں آویں امریکی میڈیا نے آپ کو ہاٹ کالقب دے رکھا ہے آپ سچ میں بہت کوئی بےشرم انسان ہیں ۔۔۔۔۔۔”
وه خود کو اسکے مظبوط حصار سے چھڑوانے لگی جو اسکی خوبصورت صراحی دار دودھیا گردن کے پچھلے حصے سے بال ہٹا کر وہاں اپنا لمس چھوڑ رہا تھا جاناں کو اب واقعی بچھتاوا ہونے لگا کیوں سوئے ہوئے شیر کو جگایا جو اب اسکا رخ اپنی طرف کیے اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو اپنے لبوں سے چھو رہا تھا بلا آخر وه اس کی مزاحمت کو خاطر لاتا اسکا چہرہ چھوڑا اور اس کو اپنی باہوں سے آزاد کیا تو وه جلدی پچھے ہٹی اور اسکو گھورنے لگی جو اس کی گھوریوں کو نظر انداز کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔
“جان میں کتنا واحیات اور ہاٹ ہوں وه تمہیں شادی کے بعد بتاؤں گا جب تم مکمل طور پر میری دسترس میں ہوں گی ابھی کے لیے یہ چھوٹا سا ٹریلر تھا ۔۔۔”
وه اسے آنکھ مارتا ہوا بولا جو بیڈ پر لیٹ گئی تھی اور اسکو اپنی آنکھوں سے گھورنے لگی مگر بولنے سے خود کو روکے رکھا اگر اب اسکی اس بے باکی کا جواب دیتی تو وه اور زیادہ بے باک ہو جاتا جو وه بلکل نہیں جهیل سکتی تھی اور اسکی خاموشی پر شازل ہنسی ضبط کرتا ایک بار پھر اسکے نزدیک ہوا جس پر وه بھی پچھے کو ہوئی مگر شازل نے اسکے ہاتھوں کو گرفت میں لیتا اسکے خوبصورت ہونٹوں کو آہستہ سے چھو کر پچھے ہٹا۔۔۔۔۔۔
“مسٹر گھٹیا واحیات انسان ۔۔۔۔۔۔”
تو وه اسکے لقب میں اضافہ کرتی اپنے كمفرٹر میں گھوس گئی تو وه قہقہ لگاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا اور باہر کسی کو نہ پاکر ولی اور زرام کو میسج سینڈ کرتا گھر سے باہر چلا گیا اسکا ارادہ اپنے گھر جا کر کچھ دیر جم میں ورک آوٹ کرنے کا تھا اور پھر نکاح کی تیاریاں دیکھنے کا کام سر انجام دینا تھا ۔۔۔
میران مینشن کے خوبصورت لاؤنچ میں رشتے داروں کے شور شرابے سے گونج رہا تھا نکاح سادگی سے ہونا طے پایا تھا مگر ریشے داروں کے بغیر یہ نکاح ممکن نہ تھا اس لیے اسفند صاحب اور میران صاحب نے مل کر فیصلہ کیا کہ جتنے بھی مہمان آئیں گے وه سیدھا میران مینشن میں آئیں کیوں کہ نکاح وہیں پر ہونا تھا۔
نکاح تو سادگی سے ہونا تھا مگر لاؤنچ میں مہمانوں کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کیوں کہ خواتین کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا وه نور اور زرام کے نکاح میں نہیں بلکے انہوں نے رخصت ہو کر پیا کے گھر جانا ہے چمکیلے بھڑکیلے كپڑے پہن کر وہ کسی دلہن سے کم نہیں لگ رہی تھیں یہ دیکھ کر زویا کو بہت ہنسی آئی تو شازل نے اسکو اشارے خاموش رهنے کا کہا کیوں کہ شازل کا بھی دل چاہا رہا تھا کہ وه دل کھول کر قہقہ لگائے مگر ایسا کر کے وہ اپنے ڈیڈ کے ہاتھوں اپنی بچی کچی عزت کو داؤ پر نہیں لگا سکتا تھا اس لیے اپنے قہقے کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔۔۔۔اور خود کو لڑکیوں کی نظروں سے بچانے کے لیے کام میں مصروف ہو گیا کیوں کہ وه سب اسکو گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں ۔یہ بھی ان ٹوٹے ہوئے دل والی ہزاروں لاکھوں لڑکیوں میں شامل تھیں جن کا اسکی شادی اور نکاح کا سن کر دل چکنا چور ہو گیا تھا۔
بھائی ۔۔۔۔يہ نور کا اور میرا ڈریس ابھی تک نہیں آیا زرام بھائی اور سب لوگ آنے والے ہوں گے۔۔۔۔” ہم کیا کریں اب ؟؟
وه جو رف سے حلیے میں بلیک ٹی شرٹ ٹراؤزر میں فون پر اپنے دوست کو ہدایت دے رہا تھا کہ قاضی صاحب کو وقت پر لے آنا وه نہ ہو دیر ہو جائے پھر زویا کی جھنجھلاہٹ بھری آواز پر فون بند کرتا اسکے طرف بڑھا جو بالوں کا رف سا جوڑا بنائے ،گلابی سوٹ پہنے ہم رنگ دوپٹے کو کندهوں پر پھلائے اپنی سبز آنکھوں میں خوفگی لیے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جو اسکی پریشانی پر بھی اپنے ڈمپلز کی نمائش کر رہا تھا۔۔۔۔
“ارے میری پریشان سی گڑیا ۔۔۔۔اپنے روم میں جا کر چیک کرو تم دونوں کے ڈریس ابھی میں بیڈ پر رکھ کر آیا ہوں ۔۔۔۔”
وه اسکے ہاتھوں کو تھام کر بولا تو زویا نے خوشی سے چیخ ماری کیوں کہ وہ برانڈڈ سوٹ زویا اور نور کی فرمائیش پر شازل نے منگوائے تھے اور پھر وه شازل کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتی اوپر بھاگی تو وه مسکرا کر رہ گیا اور پھر موم کی طرف چلا گیا جو کیچن کی سائیڈ پر کھڑی ملازمہ کو کچھ بتا رہی تھیں ۔
“جی موم “
وه انکے پاس آکر بولا جو مہرون اور بلیک کلر کی ساڑھی میں ہمیشہ کی طرح خوبصورت نظر آرہی تھیں ۔
“ساری تیاری مکمل ہو گئی ہے نہ۔۔۔اور قاضی صاحب کو ٹائم بتایا ہے نہ کوئی کمی نہ رہ جائے ایک بار سب کچھ چیک کر لو ۔۔۔”
“ارے موم یار ۔۔۔۔۔ڈونٹ وری ۔۔۔سب کچھ ہو گیا ہے اور قاضی صاحب کو احمد لے آیے گا۔۔۔۔”
“شاز نور کتنی بڑی ہو گئی نہ کہ آج وه نکاح جیسے بندھن میں بندھنے جا رہی ہے اللّه کا لاکھ لاکھ شکر ہے وه میرے زر کی بیوی بن رہی ہے اسکا نصیب بن رہی ہے ورنہ مجھے اس کو لے کر دھڑکا لگا رہتا۔”
“ہمارا زر ہماری نور کا بہت سارا خیال رکھے گا وه خود تو تکلیف برداشت کر لے گا مگر نور تک اس تکلیف کو پہنچنے نہیں دے گا ۔۔”
شاز نم آنکھوں سے بولا تو صوفیہ بیگم بھی اپنی نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا کتنا یقین تھا اسے زر پہ ولی کے لیے ایسے ہی زویا کے نکاح پر کہا تھا اسے ولی اور زرام سے بہت محبت تھی جن پر وه آنکھیں بند کر کے یقین کرتا تھا وه آج بہت خوش تھا کہ زر کو اسکی محبت ملنے لگی ہے مگر اپنی انیجل کے لیے دکھی بھی بہت تھا بھائیوں کے لیے یہ لمحہ بہت دکھ بھرا ہوتا ہے ساری زندگی جس بہن کے لاڈ بیٹی کی طرح اٹھایا کرتا تھا آج وه اتنی بڑی ہو گئی تھی جس پر بہت بڑی ذمہداری اس پر ڈالی جا رہی تھی۔
“ماڈل صاحب میری بیگم صاحبہ کو کیوں رلا رہے ہو دیکھ نہیں رہے کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔ “
میران صاحب صاحب ان کے پاس آتے ہوئے ماحول کو خوشگوار کرنے کی غرض سے شریر لهجے میں بولے تو صوفیہ بیگم جھنپ سی گئی اور وہیں شاز نے قہقہ لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دیکھ کیڑے مکوڑے ایس پی تیری شادی نہیں ہے جو تو اتنا تیار ہو رہا ہے ایک سادہ سا نکاح ہے جس میں تجھے اپنی 6 کی زبان کے ساتھ تین بار قبول ہے بولنا ہے اور پھر اپنے ہتھوڑے جیسے ہاتھوں سے نکاح نامے پر اپنے نام کے سیگنیچر کرنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اتنا کیوں تیار ہو رہا ہے مسلسل 2 گھنٹے ہو گئے سب تیرا لاؤچ میں انتظار کر رہے ہیں جتنا مرضی تیار ہو جا رہنا تو تو نے وہی گھسی پیٹی یونیفارم والا ایس پی ہی ہے جس کو نور نے کروڑوں دفع دیکھا ہوا ہے ۔۔”
بلیک کمیض شلوار کے ساتھ کیمل کلر کی پشاوری چپل پہنے اپنی بالوں کو اچھی طرح سیٹ کیے اپنی سحرانگیز پرسنیلیٹی کے ساتھ تقریبا 2 گھنٹوں سے مسلسل صوفے پر بیٹھا زرام کو تیار ہوتا دیکھ رہا تھا جس کی تیاری مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی جو اب شیشے کے سامنے کھڑا وائٹ کمیض شلوار پہنے خود پر بھر بھر کر پرفیوم چھڑکنے میں مصروف تھا بلا آخر ولی کو اپنی برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو دانت پیس کر بولا تھا۔۔۔۔۔
كمینے تو دیکھ اور سن ۔۔۔۔۔میرا اکلوتا نکاح ہے اور اس میں بھی تو چاہتا ہے میں تیار نہ ہوں اور ایسے ہی منہ اٹھا کر چلا جاؤں خود کو دیکھ جیسے میرا نکاح نہ ہو بلکے تیرا ہو ۔”
جس پر زرام نے اسے گھور کر دیکھا اور اپنی 6 فٹ لمبی زبان کے ساتھ جواب دیتا نیویبلو واسکٹ پہننے لگا اور اسکے جواب پہ ولی غصے سے اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔
“بھاڑ میں جا تو اور تیری تیاری ہم لوگ جا رہے ہیں۔۔۔۔ اگر نکاح کرنا ہو تو آجانا۔۔”
وه کہتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تو زرام بھی اپنا موبائل اٹھاتا اسکے پچھے ڈورا ولی کمینے کا کیا بھروسہ تھا وه اسے چھوڑ کر سب کو لے کر چلا جاتا ۔۔۔۔۔۔
وه دونوں لاؤنچ میں آئے تو سب ان کا انتظار کر رہے تھے اور ان دونوں کو ایک ساتھ آتا دیکھ سب نے دل میں ماشاءالله بولا وه دونوں لگ ہی اس قدر خوبصورت رہے تھے کہ کسی کی بھی نظر ان کو لگ جاتی آمنہ بیگم جاناں اور ماہین بھابی اٹھ کر ان کے پاس آئیں آمنہ بیگم نے ان دونوں کی نظر اتاری اور جاناں اور نے آگے بڑھ کر ہمیشہ کی طرح ان کے ماتھے پر بوسہ دیا تو وه دونوں مسکرا کر رہ گئے کتنی محبت کرتی تھی ان کی بہن اور ماہین نے ان دونوں کے سر پر بڑی بہنوں کی طرح سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی اور اسفند صاحب نے اور فیضان نے آگے بڑھ کر انکو گلے لگایا ان سب کو ڈر تھا کہیں ان کے بیٹوں کو کسی کی نظر نہ لگ جائے اور یہ سب دیکھ کر زرام کی زبان پر خارش ہوئی ۔۔۔۔۔
“یار۔۔۔۔ میرا نکاح ہو رہا ہے اسکا نہیں جو اسکو بھی پروٹوکول دے رہے ہو سب کے سب ۔۔۔”
زرام ولی کو سائیڈ پر کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔
“ارے سسرال تو ایک ہے نہ تو اس لیے اور جب ولی کا نکاح ہوا تھا تب ولی بیچارے کو کوئی پروٹوکول مل نہیں سکا تھا اس لیے ہم اسے بھی پروٹوکول دے رہے ہیں تاکہ زویا کے دل میں یہ نہ جائے کہ اسکے شوہر سے تو کوئی پیار کرتا ہی نہیں ۔”
فیضان کی شرارت بھری بات پر سب کا مشترکہ قہقہ پورے لاؤنچ میں گونجا تھا اور سب سے اونچا زرام اسفند ملک کا تھا انداز صاف چڑانے والا تھا۔ . جس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے وه سب کو آنے کا کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا پھر کچھ دیر بعد بڑی تعداد میں گاڑیاں میران مینشن کی طرف روانہ ہوئیں زیادہ تعداد ولی کے گارڈز کی تھی۔
“زویا بیٹا۔۔۔نور تیار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
صوفیہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولیں اور میرر کے سامنے بیٹھی اپنی پریوں جیسی بیٹی کو دیکھ کر باکی کے الفاظ ان کے منہ میں رہ گئے وه بہت خوبصورت لگ رہی تھی اسے دیکھ کر پری کا گمان ہوا تھا چھوٹی سی نور
وائٹ اور سکن کلر کے خوبصورت لہنگے پہنے ،پنک کامدار دوپٹے کو سر پر سیٹ کیے ، بالوں کا جوڑا بنائے ، جیولری کے نام پر ماتھا پٹی لگائے گلے میں نفیس سا نیکلیس پہنے اور لائٹ براؤن میك اپ میں وه نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
“ماشاءالله میری بیٹی کو اللّه نظر بد سے بچائے “
صوفیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکو گلے لگایا تو نور کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔۔۔۔
“ارے میرا بچا رونا نہیں ورنہ میك اپ خراب ہو جائے گا ۔۔۔”
وه نور کی آنکھیں صاف کرتی ہوئیں بولیں تو زویا کی چیخ پر ہڑبڑا کر اسے دیکھا جو بلیک اور نیوی بلو کے خوبصورت لہنگے میں جو زیادہ بھاری نہ تھا بلکہ نکاح کے لحاظ سے بلکل پرفیکٹ تھا۔
بالوں کی فرنٹ کھجوری چوٹیا کیے لائٹ میک اپ کیے جیولری کے نام پر کانوں میں بڑے بڑے جھمکے ڈالے ولی کے دل کی دنیا ہلانے کو تیار تھی صوفیہ بیگم نے اسکو دیکھ کر ماشاءالله کہا اور اسکی سبز آنکھوں کی گھوری کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی جو ان دونوں کو گھور کر دیکھ رہی تھی نور تو خود پریشان ہو گئی تھی زویا کی بچی کو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
“یہ آپ لوگ کیا کر رہی تھیں ۔۔۔۔اگر نور کا میك اپ خراب ہو جاتا تو زرام بھائی نے تو ڈر جانا تھا کہ یہ کس چڑیل کو میرے پلے باندھ دیا ہے ۔۔۔۔”
زویا اپنی کہتی ان کی شکل دیکھ کر ہنسنے لگی تو صوفیہ بیگم بھی اسکی بات سن کر مسکرا دی اور نور تو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی جو اس کو تنگ کرنے کی کوئی قصر نہیں چھوڑ رہی تھی مگر وه بھی اپنی زبان کی تالا لگائے ہوئی تھی جس پر زویا زیچ ہو جاتی تو نور اسکی حالت پر ہنسنے لگتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مما جان اس زوئی کی بچی کو باہر لے جائیں ۔۔۔بہت تنگ کر رہی ہے ۔۔۔۔”
نور منہ بسورتے ہوئی بولی تو صوفیہ بیگم نے زویا کو گھورا تو وه معصوم سا منہ بنا کر ان کو دیکھنے لگی انداز ایسا تھا میں نے تو کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
“اچھا زویا سب لوگ آگئے ہیں کچھ دیر میں قاضی صاحب آئیں گے تو تم نور کے سر اور چہرے کو اچھی طرح کور کر دینا ۔۔جاناں اور ماہین بھی آتی ہوں گی وه نیچے سب مہمانوں سے مل رہی ہیں ۔”
صوفیہ بیگم کہہ کر روم سے باہر چلی گئی تو کچھ دیر بعد جاناں اور ماہین کمرے میں آ گئیں اور نور کو ریلیکس کرنے لگی جس کا نازک وجود کانپ رہا تھا جاناں اسے خود سے لگائے ہوئی تھی تو کبھی ماہین بھابی اسکے ہاتھ مسلتی جو ٹھنڈے پڑرہے تھے ۔۔۔۔۔۔
“جاناں آپی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔”
ارے میری بچی کو کیوں ڈر لگ رہا ہے ؟؟؟؟؟
صوفیہ بیگم کے ساتھ آمنہ بیگم کمرے میں داخل ہوتی ہوئی بولیں تو وه ان کے پاس گئی اور ان کے سینے سے لگی کیوں کہ نور ہمیشہ سے آمنہ بیگم کے بہت قریب رہی تھی
پتا نہیں مم جان ۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا میری بچی ۔۔۔۔۔۔۔
وه اسے حوصلہ دینے لگیں اور کچھ دیر بعد سب بڑوں کے ساتھ قاضی صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور نور کو سوفے پر بیٹھایا صوفیہ اور میران اسکے دائیں بائیں بیٹھے جب کہ شاز اسکے پاس کھڑا ہوا اور قاضی صاحب کمرے میں رکھی کرسی پر بیٹھے اور باکی سب ایک سائیڈ پر کھڑے ہو گئے اور پھر قاضی صاحب نے سب کی موجودگی میں نکاح پڑھانا شروع کیا۔
نور میران ولد میران ملک کیا آپ کو زرام اسفند ملک ولد اسفند سلطان ملک سے بعوض 15 لاکھ روپے حق مہر یہ نکاح قبول ہے ؟
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
سب کی موجودگی میں کانپتی آواز میں اپنے دل پر پتھر رکھتی زرام کو اپنا شوہر قبول کر گئی اور پھر سیگنیچر کرنے کا مرحلہ شروع ہوا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے شازل نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں کو مظبوطی سے تھاما تو کچھ دیر بعد سائن کرتی اپنے تمام حقوق زرام اسفند ملک کے نام کر گئی تو شازل قاضی صاحب کو لیے باہر چلا گیا کمرے میں صرف خواتین رہ گئیں کیوں کہ زرام کا نکاح قاضی صاحب نے دڑآئنگ روم میں پڑھوانا تھا جہاں سب مرد حضرات جمع تھے۔
وه ولی کے ساتھ صوفے پر بیٹھا کسی بات پر اسے تنگ کر رہا تھا جب شازل کے ساتھ قاضی صاحب ڈرآئنگ روم میں داخل ہوئے تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ سیدھا ہو کر بیٹھا اور ولی نے اپنا موبائل بند کرتے اپنی کمیض کی جیب میں ڈالا۔۔۔۔
پھر قاضی صاحب نے سب کی موجودگی میں نکاح پڑھانا شروع کیا۔
زرام اسفند ملک ولد اسفند سلطان ملک کیا آپ کو نور میران ولد میران ملک سے بعوض 15 لاکھ روپے حق مہر یہ نکاح قبول ہے ؟
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
وه مسکرا کر دلو جان سے قبول ہے کہتا نکاح نامے پہ سائن کرنے لگا اور پھر مبارک بعد کا سلسلہ شروع ہوا تو سب اسے گلے لگا کر مبارک بعد دینے لگے ولی اور شازل نے اسے زور سے گلے لگایا تو وه چیخ پڑا تو سب ان کو دیکھ کر مسکرا اٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد سب مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ سب اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے۔
زویا نور کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب اسکے فون پر میسج کی ٹرن ہوئی جہاں کھڑوس کے نام کا میسج جگمگا رہا تھا تو زویا نے مسکرا کر میسج چیک کیا تو وه اسے اپنے روم میں آنے کا کہہ رہا تھا باکی سب بڑے نیچے چلے گئے تھے اور جاناں کو زرام نے نیچے بلايا تھا تو وہ بھی کچھ دیر پہلے روم سے باہر چلی گئی تھی اب وه نور کی رکھوالی کے لیے بیٹھی تھی کہیں یہ چینج نہ کر لے زرام بیچارے نے اسے ابھی تک دیکھا تک نہیں تھا اس نے زویا کو سختی سے کہا تھا جب تک میں اس کے پاس آنہ جاؤں تب تک تم وہاں سے اٹھنا مت اب اس لیے وه اسکے روم میں موجود تھی مگر نور میڈم تو نکاح کے بعد ایسے سونے میں مگن تھی جیسے نکاح میں قبول ہے کی بجائے سلیپینگ پیلز کھا لی ہوں۔ پھر زویا اسے ایک نظر دیکھتی زرامک کو میسج کرتی روم سے باہر چلی گئی۔
