Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

وه آئی سی یو کے باہر یہاں وہاں چلتا بے صبری سے ڈاکٹر کا انتظار کر رہا تھا دل کی دھڑکنیں سو کی رفتار سے چل رہی تھیں اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ڈاکٹرز ابھی تک باہر کیوں نہیں آئے وه بےچین ہو رها تھا اسے لگ رہا تھا اگر ابھی ڈاکٹر نہ آیا تو اسکی سانسیں بند ہوں جائیں گی وه دوبارہ کبھی سانس نہیں لے سکے گا کیوں اسکی جان ٹھیک نہیں تھی پتا نہیں اندر کیا ہو رہا تھا نہ ہی ابھی تک ولی یہاں ہوسپیٹل پہنچا تھا شاز کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا دل بند ہونے کو تھا جس کی وجہ سے وه بار بار اپنے دل کے مقام پر ہاتھ پھیر رہا تھا اگر اسے اتنی تکلیف ہو رہی تھی تو اسکی جان کتنی اذیت میں ہو گی یہ سوچتے ہی شازل میران ملک کی آنکھ سے ایک خاموش آنسو فرش پہ گرتا ہوا بے مول ہوا تھا اور پھر وه ایک دم دل پر ہاتھ رکھتا نیچے گرا تھا اور یہ سب دیکھتا ولی لمبے ڈاگ بھرتا اسکا تک پھنچا تھا اور اسے تھاما تھا۔
“شاز یار کیا ہوا سمبھال خود کو ۔۔۔۔۔”
ولی اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا اسے حوصلہ دینے لگا۔
‘ولی اسے کچھ ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں مر جاؤں گا اگر اسے کچھ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔میں جی نہیں سکوں گا دیکھ ۔۔۔۔۔؟میرا دل بند ہو رہا ہے مجھے سانس نہیں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وه بہت تکلیف میں ہے بہت اذیت میں تھی میں کیا کروں میں اسکی تکلیف سے کیسے انجان رہا۔۔۔۔۔۔؟؟ میں تو اس سے عشق کرتا تھا میں کیسے جان نہ سکا وه تکلیف میں ہے مگر وه ایسے کیسے ہو گئ۔۔۔۔۔ وه مجھ سے محبت کرتی تھی میں اس کے ایک بار کہنے پر ہمیشہ کے لیے اس سے دور چلا گیا۔۔۔۔۔۔ پھر بھی اس نے اپنا خیال نہیں رکھا”
وه شدت سے روتا اپنا ہر دکھ ولی برہان ملک کو بتا رہا تھا جس نے آج تک کسی کو بھنک تک نہیں لگنے دی تھی کہ شازل میران ملک بھی عشق کی حدود کو پار کر گیا ہے جس نے اپنے محبوب کی خاطر ہجر کاٹا ہے جس نے اپنے عشق کی خوشی کی خاطر اپنے ماں باپ کو ناراض کر گیا جس نے اپنی بیٹیوں جیسی بہنوں سے دوری اختیار کر لی تھی وه شازل میران ملک جو سب کا لاڈلا تھا جس نے کبھی دکھ دیکھا تک نہ تھا جسے دکھ جیسے لفظ کے معنی کا بھی علم نہیں تھا وه کیسے اتنے سالوں سے خود میں دکھ درد قید کیے ہوئے تھا ایک دم ولی نے اسے اپنے گلے لگایا تھا۔
“شاز تو خود کو سمبھال تو اس سے عشق کرتا ہے تیرا عشق سچا ہے اللّه کبھی بھی تجھے اس سے جدا نہیں کرے گا وه اپنے بندو کا امتحان لیتا ہے یہ بھی تیرا امتحان ہے یوں اس طرح کمزور بن کر نہیں مضبوط بن کر اس امتحان کا سامنا کر۔”
وه اسے کھڑا کرتا ہوا بولا تو شازل نے ولی کی طرف دیکھا اور پھر ایک نظر بند دروازے کو دیکھتا آنکھیں بند کر گیا اور پھر کچھ دیر بعد کسی کی آواز پر اپنی سرخ سوجی ہوئی آنکھیں کھولتا سامنے والے کو کامپنے پر مجبور کر گیا اس نے سوال ہی کچھ ایسا کیا تھا جس پر ولی برہان ملک کے ماتھے پر بھی ڈھیروں بلوں کا اضافہ ہوا تھا_
سر آپ تو شاز دی نمبر ون ہیں آپ اس طرح کیوں رو رہے ہیں کیا آپ کا کوئی اپنا وفات پا گیا ہے_
وه کوئی نیوز اینكر تھی ساتھ بہت سارے لوگ تھے جو شائد شازل اور ولی کو بغیر کسی سیکورٹی کے یہاں کھڑے دیکھ خوشی سے بھاگے چلے آئے ورنہ اتنا سنہری موقع کب نصیب ہونا تھا۔
“بکواس بند کریں ورنہ میں آپ کو جان سے مار دوں گا آپ عورت ہیں اس لیے لحاظ کر رہا ہوں ورنہ میری جان میرے عشق کے بارے میں فضول بولنے والے کو زندہ زمین میں گاڑھ دیتا”۔
وه دھاڑتے ہوئے پورے ہوسپیٹل کو خاموش کرا گیا جو اسکی اور ولی کی خوبصورتی اور ڈیشینگ پرسنیلیٹی پر تبثرے کر رہے تھے عورت تو عورت مرد حضرات بھی ان سے بات کرنے کو بےتاب ہونے لگے تھے ہوتے بھی کیوں نہ آخر کو دنیا میں انکا ایک مقام اور نام تھا جو انکو سب میں خوبصورت بناتا تھا_
“سوری سر وه ھمیں غلط فہمی ہوئی تھی پلیز آپ بتا دیں کون ہے وه خوش نصیب اور جس نے شاز دی نمبر ون کو رونے پر مجبور کر دیا کیا وه آپ کی بہن”_
“شٹ اپ بیوی ہے میری دوبارہ بکواس مت کرنا اور دفع ہو جائیں یہاں سے ۔ولی اپنے گارڈز کو بلاؤ مجھے یہاں کوئی بھی نظر نہیں آنا چاہیے ۔”
وه ایک بار پھر سے دھاڑتا ان کے سروں پر ہسپتال کی چھت گرا چکا تھا اتنے بڑے انکشاف پر اور دھاڑ پر وہاں سے بھاگے تھے کیوں کہ انہوں نے شائد زندگی میں پہلی بار دی نمبر ون کو اس قدر جنونی اور غصے میں دیکھا تھا اور ولی ان کی شکلیں دیکھتا طنزیہ مسکرایا تھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو لو سن لیا سچ پڑ گئی ٹھنڈ پھر وه اپنے گارڈز کو بلاتا ان کو ہسپتال سے باہر کر چکا تھا اور شازل کی طرف متوجہ ہوا جو دیوار کے ساتھ سر ٹیکائے کھڑا تھا۔
“ہانجی نظرین ہم آج آپکو بہت اہم خبر سے آگاہ کرنے جا رہے ہیں جس کا کسی کے وہم و گمان بھی نہ تھا جس نے کبھی نہیں سوچا تھا آج ہماری اس خبر سے نجانے کتنی معصوم لڑکیوں کے دل ٹوٹیں مگر ایک دن تو حقیقت کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے ہماری خبر سننے سے پہلے اپنے دلوں کو مضبوط رکھیں کیوں کہ یہ خبر دی نمبر ون شاز کے بارے میں ہے جنہوں نے آج تک سب کو یہی کہا کہ وه شادی شدہ نہیں ہیں ، نہ ہی وه شادی کریں گے اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا ہے تو ناظرین ایسا کچھ نہیں ہے یہ سب جھوٹ تھا جو وه آج تک کہتے آئے ہیں سچ تو یہ ہے وه آج ابھی ہسپتال میں میں اپنی بیوی کے لیے روتے ہوئے نظر آئے ہیں انہوں نے خود یہ قبول کیا ہے وه شادی شدہ ہیں ہمارا فرض بنتا ہے ہم آپ کو سچ سے آگاہ کریں تو اور بھی ایسی سچی اور اچھی خبروں کے لیے ھمارے چینل کے ساتھ جڑے رہیں-“
وہی نیوز اینكر جس نے ابھی ابھی اپنی تازہ بے عزتی شازل میران ملک سے کروائی تھی اب شائد اس بےعزتی کا بدلہ لینے کے لیے چیخ چیخ کر اسکی شادی کا بتا رہی تھی_
اور میران ملک مینشن میں شازل کی موم ،ڈیڈ زویا اور نور دمسادھے یہ خبر سن رہے تھے موم تو بےیقینی کے عالم میں گم سم سی بیٹھیں تھی اور میران صاحب غصے سے بار بار چلتی خبر سن رہے تھے اور نور کی بات نے جلتی آگ پر پیٹرول کا کام کر دیا تھا_
“افف جانو بھائی نے چھپ کر شادی کر لی اور جاناں آپی کو دھوکہ دے دیا ایسے تو نہیں تھے جانو بھائی زوئی کی بچی یہ تمہارے کھڑوس پرنس بھی ساتھ ہیں پکا یہ تمہیں بھی دھوکہ دیے رہے ہوں گے۔”
نور میڈم اپنی عقل کا استعمال کرتی ایل سی ڈی پر چلی ویڈیو کو دیکھ کر زویا کو بھی پریشان کر گئی جو بیچاری پہلے ہی ولی برہان ملک سے نفرت کا اظہار کرتی تھی مطلب اب یہ سب سچ ہے وه جاناں کے دکھ کو بھول کر ولی کے بارے میں سوچنے لگی ساتھ ساتھ دل میں گالیوں سے نوازنے لگی_
‘یہ کیا کر دیا شازل میرا نہیں تو جاناں بیٹی کا تو سوچ لیتے اس کا کیا قصور تھا اس کو کیوں دھوکہ دیا میں تمہیں معاف نہیں کروں گی شاز۔”
صوفیہ بیگم اپنے خیال میں شازل سے مخاطب ہوتے بڑبڑائیں جن کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی جو ساتھ غصے سے بھرے بیٹھے ان کے شوہر صاحب باآسانی سن چکے تھے جس پر ان کے غصے کے گراف میں مزید اضافہ ہوا تھا۔
“بس بیگم اب میں اس گدھے کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گا اس نے مجھے کہیں ک نہیں چھوڑا میں اسفند بھائی کو اور بھابی کو کیا جواب دوں گا اور جاناں بیٹی اس سے کیسے نظریں ملاؤں گا میں اس دن مر کیوں نہیں گیا جس دن یہ الو کا پٹھا پیدا ہوا تھا” میران صاحب ایک دم غصے سے دھاڑے اور ان کی آخری بات سب نے انکی طرف دکھ سے دیکھا نور اور زویا کو بھی معملہ بہت سنگین لگا اور دل میں اپنے بھائی کے لیے دعائیں کرنے لگی اور جاناں کے لیے اپنے آنسوں بہانے لگیں۔ اور دوسری طرف اسفند ملک ہاؤس کا بھی یہی حال تھا جہاں ماہین بھابی آمنہ بیگم کو چپ کروانے میں مصروف تھیں کیونکہ باکی سب مرد حضرات اپنے کام پر تھے تو گھر میں صرف ماہین اور آمنہ بیگم تھیں جو ٹی وی پہ چلتی خبر سن رہیں تھیں جس میں شازل دھاڑتا ہوا اپنی بیوی کا بتا رہا تھا زیادہ دکھ تو ان کو ولی کا ساتھ ہونا دے رہا تھا جو مسكراتا ہوا شازل کے ساتھ کھڑا تھا یہ تب کا سین تھا جب وه اینكر پر طنزیہ مسكرايا تھا اور آمنہ بیگم اس کو سچ سمجھتی بس روئے جا رہی تھیں رو تو ماہین بھی رہی تھی مگر وه آمنہ بیگم کو دیکھتی اپنے آنسوں پر کابو پا گئی تھی اگر وه روتی تو آمنہ بیگم کو کون سمبھالتا اسے اپنے بھائی پر غصہ آرہا تھا جو اپنی ہی بہن جاناں کی خوشیوں کا دشمن بن گیا تھا اور شازل جس کو کتنا پیار ملا تھا اس گھر سے پھر بھی وه ان کو تکلیف دے گیا تھا اور وہاں ہسپتال میں بیٹھے شازل اور ولی کو پتا چلتا کہ وه اینكر کیا کچھ کر چکی ہے اور اس کی فیملی کیا سوچے جا رہی ہے تو وه سچ میں آج کچھ کر بیٹھتے
“یہ کیا کہہ رہا ہے تو یہ ممکن نہیں ہے میں ایسا نہیں کر سکتا سب گھر والے ھم سے نفرت کرنے لگیں گے اور ان کا یقین ہم پر سے اٹھ جائے گا اور سب سے زیادہ اہم بات کہ جاناں نہیں مانے گی اس طرح بغیر گھر والوں کے اور ان کی مرضی کے بنا وه اس طرح نکاح نہیں کرے گی پہلے ہی میں نے اسے بہت مشکل سے منایا تھا وه بھی تیری وجہ سے ورنہ میں مر کر بھی اسے یوں بلیک میل نہیں کر سکتا تھا اب تو پھر سے مجھے نہیں یار میں نہیں کروں گا ابھی کچھ دیر پہلے توڈاکٹر نے اسکی زندگی کی نوید سنائی ہے اور اسے کسی بھی سٹریس والی بات اس کے سامنے نہیں کرنی ورنہ اسے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔”
ولی ایک دم بھڑکتا ہوا بولا تو شازل اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا اسکے کمرے کی طرف دیکھنے لگا جہاں وه دنیا جہاں سے بیگانی دوائیوں کے زیراثر پر سکون سو رہی تھی ابھی کچھ دیر پہلے تو اسے آئی سی یو سے روم میں شفٹ کیا تھا اسے کسی بھی قسم کے سٹریس سے دور رکھنے کا کہا تھا کیوں کہ وه ایپیلییپسی کی بیماری کی وجہ سے بیہوش ہو گئی تھی جس کو ڈاکٹرز بھی بڑی مشکل سے واپس ہوش میں لائے تھے ورنہ وہ کوما میں جا سکتی تھی_
‘ولی مجھے کچھ نہیں سننا گھر والوں کو میں دیکھ لوں گا یہ سب تو مجھ پر چھوڑ دے میں سمبھال لوں گا کچھ دیر میں اسے ہوش آجائے گا میں نے زرام کو میسج کیا ہے وه آتا ہو گا تجھے اور اسے جاناں کو نکاح کے لیے منانا ہے ورنہ یہ کام میں بہت اچھے سے کر سکتا ہوں مجھے تم لوگوں کی ضرورت نہیں ہے میں مولوی صاحب اور کچھ ضروری انتظام کر کے آتا ہوں تب تک یہ کام ہو جانا چاہئے۔”
وه ولی برہان ملک کو حکم دیتا ہسپتال سے باہر چلا گیا اور اس بار چہرے کو کور کرنا نہیں بھولا تھا پہلے بھی اتنا ڈرامہ ہو گیا تھا اور ولی اسکے انداز پر اور دهمكی پر سر جھٹک کر رہ گیا ولی نے صرف اسے حق دیا تھا اس پر حکم چلانے کا ورنہ وه حکم چلانے والے کو اسی وقت شوٹ کر دیتا وه سوچ ہی رہا تھا کہ اسے زرام کی آواز اپنے قریب سنائی دی جس پر اسکے چہرے کے نقوش میں سختی آئی تھی وه صبح والا واقع بھولا نہیں تھا اور پھر غصے میں اس کی طرف دیکھا جو پولیس یونیفارم میں اسی کی طرح غصے میں اسکو گھور رہا تھا جیسے ابھی اسے کچا چبا جائے گا۔
“جاناں کہاں ہے اور تم ابھی تک باہر بیٹھے ہو چلو اٹھو شازل ہمیں کچھ کام دے کر گیا ہے جو بدقسمتی سے ہم دونوں کو مل کر کرنا ہے۔”
وه بھاڑ کھانے والے انداز میں کہتا جاناں کے کمرے کا رخ کرنے لگا جو آتے ہوئے ریسیپشن پہ بیٹھی لڑکی سے پتا کر آیا تھا اور شاذل نے بھی کال پر اسے سب بتا دیا تھا پر وه جھٹ سے مان گیا تھا کیوں کہ اس کا کہنا تھا شازل سے ہی نکاح ہونا ہے تو اب ہو جائے تو بھی کیا ہے اور ولی اسکے انداز پر اپنے دانت پیس کر رہ گیا اور پھر اسے سائیڈ پر دھکا دیتا زرام سے پہلے کمرے میں چلا گیا اور زرام تو اسکی حرکت پر غصے سے کھولتا اس کے پیچھے ہو لیا۔


وه دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو جاناں بیڈ پہ لیٹی چھت کو گھورنے میں مصروف تھی کچھ دیر کی تکلیف نے اسے کتنا کمزور کر دیا تھا پیلی زرد رنگت بکھرے حلیے میں وه کوئی اور ہی جاناں لگ رہی تھی اسے اس طرح دیکھ کر ولی لمبی سانس خارج کرتا اس کے پاس آیا اور جھک کر اس کے سر پہ بوسہ دیا تو اس نے آنسوں سے بھری آنکھوں سے ولی کو دیکھا اور پھر زرام کو جو اس کے بیڈ پر بیٹھ چکا تھا تو ولی بھی بیڈ کے نزدیک رکھے سٹول پر بیٹھ گیا_
“یار جاناں یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے پتا بھی ہے تمہارا وه شازل کتنا پریشان ہے اور ہر ایک سے لڑتا پھر رہا ہے مجھے بتاؤ گی کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے تم اس حالت میں پہنچ گئی تم ہر بار ایسے کرتی ہو خود تو سکون سے سو جاتی ہو ہمیں پریشان کر دیتی ہو۔”
وه مصنوئی غصے میں کہتا جاناں کو دیکھنے لگا جو اپنی آنکھوں پر ظلم کرتی اپنے آنسوں بہانے لگی تو زرام ایک دم بوکھلا گیا وه تو اسے تنگ کر رہا تھا کہ وه تھوڑا ریلیکس ہو جائے ولی اپنے ازلی انداز میں اسے غصے سے گھورتا دھاڑا تھا۔
“بکواس بند کرو کیڑے مکوڑے ایس پی تمہیں اسکی حالت نظر نہیں آرہی جو اپنی بکواس کیے جا رہے ہو اگر ایسے بکواس کرنی ہے تو دفع ہو جاؤ باہر ورنہ میں خود تمہیں اٹھا کر باہر پھینکوں گا ۔”
وه غصے سے کہتا جاناں کے آنسوں صاف کرنے لگا جاناں تو اپنے بھائیوں کی محبت دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دی وه جانتی تھی زرام اس سے مذاق کر رہا تھا مگر اسکے تمہارا شازل کہنے پر رونا آنے لگا تھا جس کی وجہ سے کب سے بےتاب رکے ہوئے آنسوں اسکی نرم گلابی گالوں پر پھسل گئے تھے_
“کمینے تو زیادہ میرا باپ مت بنا کر تو اکلوتا اسکا بھائی نہیں ہے یہ میری بھی بہن ہے میں جو مرضی اسے کہوں جب تو میری بات نہیں سنتا نہ ہی مانتا ہے تو میں کیوں تیری بات سنو میں ایس پی ہو تو تمیز سے بات کیا کر جو تیرے پاس تو ہے نہیں۔”
زرام منہ بسورتا اسے صبح کی بات یاد دلا گیا جس پر ولی کی ایک سیکنڈ کی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی مگر زرام کے دیکھنے سے پہلے ہی وه واپس سنجیده ہو گیا کیوں کہ ابھی اسے شازل کا کام کرنا تھا اس سے الجھنا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ اسے تو اثر نہیں ہونا تھا خود کا ٹائم ضایع ہونا تھا۔
“چندا تمہیں اپنے ولی بھائی پہ کتنا یقین ہے اگر وه تمہارے لیے کوئی فیصلہ کرے تو کیا تم اپنے بھائی کا بھرم رکھو گی کیا تم سے آج کچھ مانگوں تو کیا تم اپنے اس بھائی کو دو گی ۔مگر تم جو فیصلہ کرو گی میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا تو بتاؤ کیا تم ابھی اسی وقت اپنے بھائی کے کہنے پر شازل میران ملک سے نکاح کرو گی کیا تم ہم دونوں کا بھرم رکھو گی کیوں کہ شازل مولوی صاحب کو لینے گیا ہے ہم دونوں تمہارے ہاں کے منتظر ہیں_”
ولی برہان ملک نرمی سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا اسے راضی کرنے لگا جو اپنی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھی جیسے وه اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو اور زرام بھی اسکے دڑیپ لگے ہاتھ کو پکڑے اسکے جواب کا منتظر تھا۔
“مگر ولی بھائی ایسے کیسے میرا مطلب میں ان سے ابھی نکاح نہیں کرنا چاہتی آپ کیوں نہیں سمجھ رہے میں خود سے ہی بےزار ہوں میرا دل گھبراتا ہے میں ان سے نکاح نہیں کر سکتی اور بابا لوگ بھی تو نہیں ہیں اور میران انکل کیا سوچیں گے پلیز آپ لوگ یہ نہ کریں۔”
بلاآخر وه زرام کو دیکھتی ولی کو اپنے دل کی بات بتانے لگی وه ان کو بتانے لگی تھی کہ وه خود سے ہی بیزار ہے انکو کیا خوشی دے گی جو ایک بیمار لڑکی ہے وه کیا کسی کو خوشی دے گی جو خود ہی خوش نہیں رہ سکتی مگر باہر کھڑے شازل نے اسکی باتیں سنتا اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا اسنے سوچ لیا تھا یہ لڑکی اس طرح نہیں ٹھیک ہو گی اور نہ ہی اسکی محبت کی قدر کرے گی اب اسے اپنا جلالی روپ دکھانا ہی پڑے گا مگر یہ سب نکاح کے بعد ممکن تھا وه اس کے تمام حقوق اپنے نام کروانا چاہتا تھا تا کہ وه اسے پہلے جیسا بنا سکے جیسے پانچ سال پہلے وه تھی وه اپنے سارے دکھ اسے بتائے جو وه کسی کو نہیں بتاتی تھی خود میں چھپا کے رکھے ہوئی تھی۔
“چندا یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی دیکھو میں شازل سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ وه میری بات کا بھرم ضرور رکھے گی وه اپنے بھائی کو کبھی انکار نہیں کر سکتی مگر تم نے تو میرا بھرم توڑ دیا وه زویا کو ہی دیکھ لو وه اس کمینے سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر شازل اپنے بھائی کے بھرم کے لیے وه اس کھڑوس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گئی خیر تم نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اب ہم تمہیں فورس تو نہیں کر سکتے چل ولی کمینے باہر چلیں۔”
وه دکھی انداز میں کہتا کھڑا ہوا اور ولی کو آنکھ مارتا باہر جانے کا کہنے لگا جو زویا والی بات پر غصے سے دانت پیسے اسے دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا اب اسکی ڈرامے بازی دیکھ کر رہ گیا اور اپنی چندا کی طرف دیکھنے لگا جو اسے اٹھتا دیکھ ولی کا ہاتھ تھام گئی تھی ۔
“میں تیار ہوں بھائی آپ لوگ ناراض نہیں ہوں آپ کی چندا اپنے بھائیوں کو مایوس نہیں دیکھ سکتی آپ کہہ دیں شاز کو میں ان سے نکاح کرنے کو تیار ہوں۔”
اسکے کہتے ہی زرام نے آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوم لیا اور پھر وه اسکی طرف مسکرا کر دیکھتے باہر چل پڑے اور جاناں انکے باہر نکلتے آنسوں بہانے لگی اور پھر کچھ دیر بعد شازل میران ملک اپنے تنے ہوئے نقوش کے ساتھ مولوی صاحب اور ولی اور زرام کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو وه پہلے سے اٹھ کر بیٹھی تھی اب اپنے دوپٹے کو درست کرتی ایک نظر شازل کو دیکھتی سر جھکا گئی وه تو حیران ہو رہی تھی اسکے حلیے کو دیکھ کر بکھرے بالوں کے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولے سوجی سرخ انکھوں کے غصے سے بھرا نظر آیا جیسے خود کو کسی چیز کے لیے برداشت کیے ہوئے تھا پھر ولی اور زرام اسکے دائیں بائیں جانب بیٹھے اور مولوی صاحب سٹول پر بیٹھے جب کے شازل میران ملک سامنے صوفے پر بیٹھا اور پھر مولوی صاحب ان سب کی راضی و مرضی سے انکا نکاح پڑھانے لگے۔
“جاناں اسفند ولد اسفند سلطان کیا آپ کو شازل میران ملک ولد میران ملک سے بعوض بیس لاکھ روپے حق مہر یہ نکاح قبول ہے؟”
مولوی صاحب کے پوچھنے پر اسکے دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز رفتار سے چلنے لگی اور جسم کامپنے لگا یہ وقت ہی ایسا ہوتا ہے کہ ہر لڑکی کے لیے کیوں کہ اپنے اللّه اور اسکے رسول ﷺ کو حاضر ناضر جان کر اپنے تمام حقوق ساری زندگی کے لیے ایک شخص کے نام لکھ دی جاتی ہے وه ایک دم گم سم ہو گئی تھی کہ ایک بار پھر سے مولوی صاحب کی پکار اور ولی اور زرام کے سر پر رکھے ہاتھوں نے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لائے اور ایک بار پھر سے مولوی صاحب کے الفاظ کانوں میں گونجے ۔
جاناں اسفند ولد اسفند سلطان کیا آپ کو شازل میران ملک ولد میران ملک سے بعوض بیس لاکھ روپے حق مہر یہ نکاح قبول ہے؟”
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
کہتے ساتھ ہی وه سر جھکا گئی اور شازل میران ملک کے دل پر ڈھیروں سکون اترا اور وه دل میں اللّه کا شکر ادا کرتا مولوی صاحب کی جانب متوجہ ہوا جو اب اس سے اسکی مرضی پوچھ رہے تھے۔
“شازل میران ملک ولد میران ملک کیا آپ کو جاناں اسفند ولد اسفند سلطان سے بعوض بیس لاکھ روپے حق مہر کے یہ نکاح قبول ہے؟”
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
وه دلوں جان سے سرشار ہوتا تین بار قبول ہے کہہ کر اپنی جان کے تمام حقوق اپنے نام کر گیا اور پھر تمام ایحاب و قبول کی رسم کے بعد سب اسے مبارک باد دینے لگے زرام اور ولی نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور دونوں شازل کا اشارہ سمجھتے مولوی صاحب کو لیے باہر کی جانب بڑھ گئے اور اس طرح سب کے چلے جانے پر جاناں شرم اور شازل کے تیور دیکھ کر ڈرنے لگی جو اپنے تنے نقوش کے ساتھ دروازے کو اچھی طرح بند کرتا اسکی جانب آرہا تھا اور پھر اسکے بلکل نزدیک آ کر بیڈ پر اسکے دائیں بائیں جانب ہاتھ رکھے اسکے سارے راستے بند کر گیا اور پھر تھوڑا اور زدیک ہوا یہاں تک کہ انکے درمیان ہوا کے گزرنے کا راستہ تک نہ تھا جس پر جاناں شرم اور خوف سے کامپنے لگی وه اسکی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہیں کر پائی تھی لمحہ ہی کچھ ایسا تھا کچھ دیر پہلے تو انکے درمیان تعلق بنا تھا ایک مضبوط اور پاک رشتے میں بندھے تھے ایک شرم اور جھیجک آڑے آرہی تھی وه اب اسکا شوہر تھا۔
“تم سے میری سانسیں جڑی ہیں اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو یہ شاز مر جاتا اسکا دل بند ہو جاتا میں تم سے عشق کرتا ہوں جان کیوں تم میری محبت کی توہین کرتی ہو کیوں میرے عشق کی قدر نہیں کرتی تمہیں اس حال میں دیکھ کر مجھ اپنا دل بند ہوتا محسوس ہونے لگا ایسا لگا اگر میں نے تمہیں ہوش میں نہ دیکھا تو میں اگلی سانس نہیں لے سکوں گا آیندہ اگر تمہیں کچھ ہوا تو سوچ لینا تمہارے بغیر شازل سانس نہیں لے سکے گا۔”
وه اسکے کان میں سرگوشی کرتا اپنے دل کا حال بتانے لگا اسے اسکی اهمیت بتانے لگا مگر پھر ایک دم وه غصے میں آیا۔
کیسا لگ رہا ہے جاناں اسفند سے جاناں شازل ملک بن کر میں نے تم سے کہا تھا نا جان تم صرف میری یعنی شازل میران ملک کی ہو تمہیں مجھ سے جدا تمہاری بیماری بھی نہیں کر سکتی تم سے نکاح کر کے تمہارے تمام حقوق اپنے نام کروا لیے ہیں چاہوں تو ابھی تمہیں رخصت کروا کر اپنے گھر اپنے کمرے میں لے جا سکتا ہوں مگر نہیں تم میری جان ہو تم پر اتنا رحم ضرور کروں گا کہ تمہاری رخصتی اسی ڈیٹ پر اور اسی دن میں ہو گی یہ صرف تمہیں یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ تم پر صرف شاز کا حق ہے تو آیندہ خود کو اذیت دینے سے پہلے ہزار بار سوچ لینا ۔”
وه اسکی آنکھوں میں دیکھتا غرایا تھا اور جاناں اسکا یہ جلالی روپ دیکھ کر بیڈ پر گری تھی اور دڑ سے کامپنے لگی آج تک اس نے کبھی بھی اس انداز میں اس سے بات نہیں کی تھی بلکے اس پر تو غصہ بھی نہیں کیا تھا جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھاتی تھی مگر آج تو اسکے انداز اور تیور ہی الگ تھے اور پھر اسکی سرخ آنکھیں جو اسے زیادہ خطرناک بنا رہی تھیں اور اسکی اگلی حرکت پر وه اپنی آنکھیں پھاڑے اس کے چٹانی وجود کو خود پر سے دور دھکیلنے لگی جو اس پر جھکا اسکی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا گیا اور خود کو سیراب کرنے لگا اور آہستہ آہستہ اسکی شدت بڑھنے لگی اور اپنے لمس کے زریعے اپنا سارا غصہ اسکے اندر منتقل کرنے لگا اور جاناں اسکے لمس میں شدت محسوس کرتی شازل کی شرٹ کے کالر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے پیچھے کرنے لگی مگر وه ڈھیٹ بنا اس پر جھکا رہا اور کچھ پل ایسے ہی خاموشی کے نظر ہو گئے اور کمرے میں معنی خیز خاموشی چھانے لگی اور پھر کچھ دیر خود کو سیراب کرنے کے بعد اسکے لبوں کو آزادی بخشتا اسکی گردن پر اپنے لب رکھتا پیچھے ہٹا اور مسكراتا ہوا اپنی شرٹ سہی کرنے لگا۔
“بہت ہی واحیات انسان ہیں آپ انتہا کہ گھٹیا اور چھچھورے لفنگے شرم نہیں آئی آپ کو ایسی حرکت کرتے ہوئے۔”
وه شرم سے سرخانار ہوئی اپنے ہونٹوں کو صاف کرتی غصے سے اس پر چیخی تو وه قہقہ لگاتا اسے سلگا گیا اور اسکی اگلی بات پر خفت سے اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا جیسے جسم کا سارا خون چہرے پر آگیا ہو۔
“هاهاهاهاها جان ویسے آپس کی بات ہے تم ٹیسٹی بہت ہو میرا دل دوبارہ تمہیں ٹیسٹ کرنے کو کر رہا ہے مگر تم ابھی ٹھیک نہیں ہو تو انشاء اللّه رات کو آؤں گا تمہارے پاس تمہیں ٹیسٹ کرنے ابھی ڈاکٹر نے تمہیں ریسٹ کرنے کا بولا ہے تو ولی اور زرام تمہیں گھر لے جارہے ہیں۔”
وه اسے آنکھ مارتا ایک بار پھر اس پر جھکا اور اسکے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا پچھے ہٹا اور پھر اندر تک سرشار ہوتا باہر نکل گیا وه اب خوش تھا سکون میں تھا اور جاناں اسکو گھورتی آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگی گھر والوں کو کیا کہے گی پھر میران انکل یہ سب سوچ کر ہی اسے رونا آنے لگا اور اپنے مسٹر واہیات کو دل میں برا بھلا کہنے لگی۔
وه کمرے سے باہر آیا تو ولی برہان ملک ہمیشہ کی طرح اپنے . مغرور ازلی انداز میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا جب کے زرام غصے سے ولی کو گھور رہا تھا جیسے اسے ابھی کچا چبا جائے گا ان کو اس طرح دیکھ کر شازل سر نفی سے هلاتا ہوا زرام کے پاس گیا اور اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔
“مجھے تم سے ایسی امید بلکل بھی نہیں تھی زر کہ تم بغیر سچ جانے بغیر کسی ثبوت کے ولی سے لڑو گے اور پھر اس پر ہاتھ اٹھاؤ گے چاہے تم لوگ دوست ہو ایک دوسرے کو گالی تک دیتے ہو مگر تم یہ کیسے بھول گئے وه تم سے بڑا ہے پہلے پتا تو لگاتے اسے مارنے والا کون تھا اگر میں کہوں ولی نے اسے نہیں مارا بلکے میں نے مطلب شازل میران ملک نے اس دریندے کو اپنے ہاتھوں سے اس دنیا سے اور اپنے ملک سے روانہ کیا ہے ۔۔۔۔تو کیا تم اب مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گے میرے منہ پر تماچہ مارو گے ؟؟صرف اس لیے کہ میں نے تم جیسی یونیفارم نہیں پہنی ہوئی کیا تم اسے پکڑ سکے کیا تم اس تک پہنچ سکے؟ کیا تم اس بےبس ماں کو اتنے مہینوں سے انصاف دلا سکے؟؟؟ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ایس پی زرام اسفند ملک یہاں ہزارو لاکھوں کی تعداد میں بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔کیا آج تک کوئی بھی مجرم پکڑا جا سکا؟۔۔۔۔۔نہیں بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔اگر میں اسے نہ مارتا یا ولی اسے مجھ تک نہ لے کر آتا تو تم کبھی بھی اس ماں کو ان ہزاروں لڑکیوں کو انصاف نہیں دلا سکتے تھے کیوں کہ تم نے یہ یونیفارم زیبتن کی ہوئی ہے جس سے غریب لوگ خوف تو کھاتے ہیں وہیں امیر لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہر بار تم اس شخص تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے مگر تمہارے ہی ہونہار آفیسرز تمہیں اس تک پوھنچنے سے پہلے غائب کر دیتے اور تمام ثبوت مٹا دیتے جو اسکو پھانسی تک پہنچا سکتے تھے۔”
وه کچھ پل رکا تھا اور زرام کو دیکھنے لگا جو بلکل خاموش کھڑا تھا مگر اسکے اگلے انکشاف پر اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر شازل کی طرف دیکھا تھا جو غصے سے بھرا سرخ آنکھیں لیے ہوئے تھا اور پھر ایک نظر ولی کو دیکھا تھا جو اس کو اگنور کیے جاناں کے روم میں جا رہا تھا۔
“اور جانتے ہو تمہاری بہن آج اس جگہ پر ہے تو صرف اور صرف اس دریندے کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔اسے اس کے انجام تک پہنچا چکا ہوں اب اس کے باپ کی باری ہے اب اسے مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا جب جب ایسے دریندے شازل میران ملک کے سامنے آئیں گے تب ان کو اس دنیا سے رخصت ہونے سے تمہارا قانون بھی نہیں روک سکتا ۔”
اور پھر وه اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا جو اس دن ہوا تھا جب ٹوٹی پھوٹی حالت میں ولی اس کے پاس گیا تھا جب اس نے سب کچھ اسے بتایا تھا اور پھر اس سے اگلے دن جاناں کا اس سے دور ہونا اور پھر اسکا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امریکہ چلے جانا وه اسے سب کچھ بتاتا چلا گیا شازل میران ملک جاناں کے ہر دکھ سے واقف تھا مگر اتنا جتنا جاناں نے اسے جاننے دیا کچھ درد وه ابھی بھی خود میں چھپائے ہوئی تھی جس کو جاننے کیلئے شاز نے خود سے وعدہ کیا تھا اور اتنے بڑے انکشاف پر زرام نے ایک دم دیوار کا سہارا لیا تھا اور شازل اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتا اسکو حوصلہ دینے لگا۔
اٹھو چندا گھر چلیں ۔۔۔ڈاکٹر نے چھوٹی دے دی ہے ۔۔۔”
زرام کمرے میں داخل ہوتا جاناں سے مخاطب ہوا جو ولی کا ہاتھ تھامے لیٹی ہوئی تھی اور ولی اسے کچھ بتا رہا تھا جو مسکرا کر سن رہی تھی ۔
“جی بھائی آپ دونوں مجھے سہارا دو ایسے مجھ سے اٹھا نہیں جائے گا۔۔”
وه زرام کو اپنے پاس آنے کا کہنے لگی جو شائد ولی کی وجہ سے دور کھڑا تھا وه ایسے کرتی ان دونوں کو بلکل بچی لگی تھی جس کی وجہ سے دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئی وه بچپن سے لے کر اب تک جب بھی بیمار ہوتی تھی ایسے ہی ان سے اپنے لاڈ اٹھواتی تھی تو وه خوشی خوشی اسکے لاڈ اٹھاتے جیسے اب وه دونوں اسے دائیں بائیں کھڑے ہو کر اس کو تھامے گھر کے لیے روانہ ہو گئے ۔پورے سفر میں ولی اور زرام دونوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی جب کہ جاناں بھی خاموشی سے کھڑکی سے باہر چلتی گاڑیوں کو دیکھتی اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔گھر پہنچے تو آمنہ بیگم جاناں کو ایسے دیکھتی پریشانی سے رونے لگی تو وہ لوگ ان کو چپ کرواتے اسے روم میں لے گئے کیوں کہ وه دوائیوں کے زیر اثر تھی جس کے باعث اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں تو ولی ماہین کو اسکے پاس ٹھہرنے کا کہتا آمنہ بیگم کو اپنے ساتھ لیے لاؤنچ میں آگیا جب کہ زرام کچھ کام کا بولتا گھر سے باہر چلا گیا۔
لاؤنچ میں وه دونوں بیٹھے تھے جب اسکی سوچ کے عین مطابق بولیں۔
“ولی میری جان جو خبر ٹی وی پر چل رہی ہے کیا وه سچ ہے۔۔۔؟ کیا شازل پہلے سے ہی شادی کر چکا ہے۔۔؟
موم مجھے یہ بتائیں کیا ہمارا شازل ایسا ہے ؟؟؟کیا وه ہماری جاناں کو دھوکہ دے سکتا ہے ؟؟؟؟؟؟ نہیں موم بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔
پھر وہ ان کو سب سچ بتانے لگا کیوں کہ اسے اپنے ذرائع سے معلوم ہو چکا تھا کہ شازل کی شادی کی خبر ہر جگہ پھیل چکی ہے اب سچ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اور ویسے بھی وه نکاح کا اسفند صاحب اور فیضان کو بتا چکا تھا جس پر وه معطمین تھے اب آمنہ بیگم بھی ہو گئی تھیں۔
گاڑی پورچ میں کھڑی کرتا جیسے ہی مینشن میں داخل ہوا تو میران صاحب کی دھاڑ پر وہیں حال کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ایک تو پہلے ہی تھکا ہوا تھا پھر جاناں کی بیماری کے بارے میں سوچ سوچ کر دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھیں جیسے وه جاناں کو تنگ کر کے آیا تھا اپنے لمس کو اس کی سانسوں میں اتار کر آیا تھا مگر دل میں اتنا ہی پریشان تھا۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا وه ٹھیک ہو سکتی ہے اگر وه خود چاہے تو کیوں کہ وه ڈیپریشن کا شکار ہے اسے محبت اور توجہ کی سخت ضرورت ہے جو اسے بار بار احساس دلائے سب اس کے پاس ہیں اس کے ساتھ ہیں تم سے ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے پہلے کرتے تھے کیوں کہ وه بےہوشی کے عالم میں بھی صرف ایک ہی بات کہہ رہی تھی اس کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔میں بدکردار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔میں پاک صاف ہوں۔۔۔۔۔میں گند نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔پلیز مجھ سے دور نہیں ہونا شاز ۔۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر کی باتیں سن کر اور اسکا یوں شاز کو اپنے پاس رهنے کا کہتی وه اسے اندر تک سرشار کر گئی تھیں وه جانتا تھا وه اس سے اسی کی طرح محبت کرتی ہے مگر وه سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ ولی اس سے ناراض تھا وه اسے معاف بھی کر چکا تھا پھر وه ساری باتیں کیوں سوچتی ہے کیوں خود کو بیمار کر رہی ہے یا پھر وه اس فیز سے نکلی ہی نہیں تھی جب اسے بدكرداری کا نشانہ بنایا گیا تھا مگر وه یہ سب اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
اب اس کے ڈیڈ کا غصہ شازل تک اسکے مینیجر نے آج کی ساری بات اسے فون پر بتا دی تھی کہ کس طرح اس نیوز اینكر نے اسکی شادی کی خبر ہر جگہ پھیلائی ہے یہاں تک کہ امریکی میڈیا تک بھی یہ خبر نشر ہو چکی ہے
وه نکاح کے بارے میں ابھی فلحال کسی کو بھی نہیں بتانا چاہتا تھا وه اس نکاح کے زریعے جاناں کو احساس دلانا چاہتا تھا وه اسکی ہے تو وه بھی صرف اسکا ہے وه اسکو اپنی عادت ڈالنا چاہتا تھا کہ وه ہر وقت اس کے بارے میں سوچے وه اپنے گزرے پانچ سالوں کے فیز سے باہر نکالنا چاہتا تھا مگر یہاں سب الٹا ہو گیا تھا ایک تو بار بار اسے امریکہ سے کالز آرہی تھیں ٹھیک چار دن بعد اسے پاکستان سے چلے جانا تھا وه اسکو اپنی عادت ڈال کر جانا چاہتا تھا جب واپس آئے تو وه صرف اسکی ہو مگر اب شازل کو مشکل کام لگ رہا تھا جس پر وه ٹھنڈی سانس پھر کر رہ گیا۔
پھر اپنے ڈیڈ کی جانب متوجہ ہوا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے یہی حال اس کی موم کا تھا جبکہ اسکی بہنیں غمگین نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“نکل جاؤ اس گھر سے ۔۔۔۔۔۔۔اس گھر میں اب تمہارے لیے کچھ نہیں بچا نہ ہی تم نے ہمیں کسی لائک چھوڑا ہے۔۔۔۔۔تم پیدا ہی مجھے بےعزت کرنے کے لیے ہوئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔پہلے گھٹیا شعبے میں تمہارا جانا ۔۔۔۔۔۔پھر اپنے باپ سے زد لگا کر پانچ سالوں سے گھر سے دور رہنا ۔۔۔۔۔۔اور پھر اچانک واپس آنا اور جاناں سے شادی کا کہنا ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر آج ہوں چیخ چیخ کر سب کو بتانا کہ تم شادی شدہ ہو جس کا نہ تو تمہارے ماں باپ کو علم ہے۔۔۔۔۔۔۔خیر مجھے ان سب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔تم اپنا بوریا بستر سمیٹو اور دفع ہو جاؤ اس گھر سے۔۔۔۔میں آج ہی تمہیں اپنی ہر چیز سے عاق کرتا ہوں۔۔۔۔میرا یا اس گھر کے کسی بھی فرد کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
وه غصے سے دهاڑتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا چکے تھے آج ان کے غصہ آخری حدود کو چھو رہا تھا۔آج وه فیصلہ ٹھان کر بیٹھے تھے۔ ان کی بات سن کر صوفیہ بیگم نے دھل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔یہ کیا ہو رہا تھا؟ یہ میران صاحب کیا کہہ چکے تھے۔ وه ایک ماں تھیں۔کیسے یہ سب برداشت کر سکتی تھیں؟اپنے لخت جگر کو خود سے دور کیسے کر سکتی تھیں؟ زویا اور نور اپنے بابا کی بات سن کر رونے لگی تھیں مگر ایک وہ تھا ہمیشہ کی طرح لاپروه جیسے ابھی بھی اسکو اپنے ڈیڈ کی بات ایک مزاق لگی تھی ۔
“کیا ڈیڈ یار کیوں ہر بار بغیر سچ جانے بھڑک جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور فضول میں اپنا بی پی ہائی کر لیتے ہیں سکون سے بیٹھ کر میری بات سنیں۔۔۔۔۔۔ پھر بعد میں مجھے عاق کرنا۔۔”
وه لاپروه انداز میں کہتا اکر صوفے پر بیٹھا اور پیچھے ٹیک لگائے ان کو آگ لگا گیا ۔صوفیہ بیگم اس کی ڈھٹائی پر آنسوں صاف کرتی اسکے پاس آکر بیٹھیں اور جب مخاطب ہوئیں تو شازل کو تڑپا گئیں۔
“کیسا سچ۔۔؟کیوں تم ہمیں اس عمر میں بےعزت کرنے پر تلے ہو۔۔۔؟کیا تمہارا پانچ سال ہم سے دور رہنا کسی ازیت سے کم تھا۔۔۔۔؟جو تم اب یہ شادی۔۔۔۔۔ہم خاندان والوں کو کیا جواب دیں گے۔۔۔؟یہ حرکت کرنے سے پہلے تم کیوں بھول گئے تھے کہ تمہارے گھر میں بھی بہنیں موجود ہیں۔۔؟؟؟اگر یہی کام ولی تمہاری بہن کے ساتھ کرے کیسا لگے گا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔؟اس سب کے بعد کیا اسفند بھائی اور بھابی ہم سے کوئی بھی تعلق رکھیں گے۔۔۔۔؟ جواب دو مجھے ۔۔۔۔۔پھر کیا ولی تمہاری بہن سے شادی کرے گا ۔۔؟جو کتنے سالوں سے اسکے نکاح میں ہے۔۔۔۔۔بولو جواب دو باپ کو نہ سہی ماں کو ہی جواب دے دو۔۔یا سیدھی طرح کہو ایک بار ہی مر جائیں آپ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اپنی موم کی باتیں سن کر وه تڑپ ہی گیا جیسے کسی نے اس کے دل پر گھونسا مار دیا ہو شازل نے انکو اپنے سینے سے لگایا جو بےآواز آنسوں بہا رہی تھیں ۔اس نے ایسا کب چاہا تھا مگر آج جانے انجانے میں دونوں کو بہت زیادہ تکلیف دے گیا تھا مگر اب جب بولا تو سب کو ڈھیروں سکون مہیا کر گیا۔
“موم میں نے صرف نکاح کیا ہے ۔۔۔۔وه بھی کچھ دیر پہلے ۔۔۔۔چند گھنٹے ہوئے ہیں مجھے نکاح کیے ۔۔۔۔۔۔مگر آپ لوگ تو میڈیا کی باتوں میں آکر بغیر میری سنے اپنے بیٹے کو عاق کرنے پر تلے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے آپ کی جاناں سے ہی نکاح کیا ہے وه بھی اسکے دنوں بھائیوں کی موجودگی اور انکی مرضی سے ۔۔۔۔۔۔۔کیوں آپ لوگ مجھ پر یقین نہیں کرتے مانا کہ میں ایک اچھا بیٹا نہیں ہوں ۔۔۔۔مگر اتنا برا بھی نہیں ہوں کہ سب کے سامنے آپ کو شرمندہ کر دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وه یہ سب کہتا انکو خوشی دے گیا اور انکے دلوں کو پرسکون کر گیا ۔اور میران صاحب سچ سنتے صوفے پر گرے تھے اور آنکھیں بند کر گئے کتنی بڑی شرمندگی سے بچ گئے تھے کتنا بڑا بوجھ ان کے سر سے اتر گیا تھا کچھ پل میں ہی وه اس اذیت سے نڈھال ہو گئے تھے ۔زویا اور نور اللّه کا شکر ادا کرتی کیچن میں گئی ان کے لیے پانی اور چائے بنانے ۔وه اپنی موم کے ہاتھوں پر بوسہ دیتا اٹھ کر اپنے ڈیڈ کے پاس گیا اور گھٹنوں کے بل ان پاس نیچے زمین پر بیٹھا اور پھر انکے ہاتھ تھامتا اپنی موجودگی کا احساس دلایاتو وه آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگے۔آج پہلی بار وه اس قدر کمزور نظر آئے تھے شاز کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں نے ان کو وقت سے پہلے کمزور کر دیا تھا جس کا احساس شازل میران ملک کو ہمیشہ ہونا تھا۔