Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

وه ساری رات نہیں سوئی تھی اور اب صبح سے سر میں درد ہو رہا تھا اور پھر نکاح کی پریشانی ۔ان دونوں چیزوں کی وجہ سے اب وه سوئی ہوئی تھی جب کسی بھاری چیز کے گرنے سے وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور پھر کمرے میں اپنی نظریں دوڑآئی تو زرام اسفند ملک وائٹ کمیض شلوار میں دروازے کے قریب کھڑا بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا اور اپنی نیلی آنکھوں میں چمک لیے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جو وائٹ اور سكن کلر کلر کے خوبصورت لہنگے میں دوپٹے سے بے نیاز اپنے نازک سراپے سے زرام کا ڈل دھڑکا رہی تھی اور اسکے منہ زور جزباتوں بھڑکا رہی تھی۔
کافی دیر تک اسکے سراپے کو دیکھتا رہا پھر اس کو اٹھانے کی غرض سے دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کہ وه بیچاری دڑ کر اٹھ بیٹھی مگر اب اسکی ایكسرے کرتی نگاہوں سے گھبراتی ادھر ادھر اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی جو سوفے پر پڑا تھا اس کے چہرہ شرم اور اور خوف سے سرخ ہونے لگا زرام اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات سے لطف اندوز ہوتا اپنی آنکھوں میں شرارت لیے خوبصورت سی نور کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگا جو آج تمام خوبصورتی کے ساتھ اسے بہکنے پر مجبور کر رہی تھی۔
کمرے میں معنی خیز خاموشی اور زرام کے بہکے ہوئے تیوروں سے اور اپنے نازک وجود سے گهبرائی ایک تو اس کے پاس دوپٹا نہیں تھا اور پھر گہرے گلے کی وجہ سے اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگے زبان تو جیسے آج اسکو دھوکہ دے گئی تھی جو آج بولنے سے انکاری تھی وه ہمت جمع کرتی بیڈ سے اٹھنے لگی مگر زرام نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کو بیڈ پر ہلکا سا دھکا دیا تو وه ایک دم بیڈ پر پیٹھ کے بل گری تو آہستہ آواز میں چیخ منہ سے درآمد ہوئی تو زرام تمسخرے سے مسكرايا۔
“جانم کیوں اپنے نازک خوبصورت وجود کو مجھ سے چھپانے کی تنگ دو کر رہی ہو۔۔۔آج سے تم اپنے اس نازک وجود پر میرے نام کی مہر لگوا چکی ہو تو پھر کہاں بهاگنے کی تیاری ہے۔۔۔”
زرام اس پر جھکتا ہوا اسکے بلکل قریب ہوا اتنا کہ نور کو اسکی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہوئیں تو اسکے دل کی دھڑکنیں شور کرنے لگی تو وه آنکھیں بند کیے کانپنے لگی اور زرام کی نگاہیں اسکے خوف سے پھڑپھڑاتے ہونٹوں پر تھی جو اسے اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے پھر وه جھکنے لگا تو نور ایک دم اسکے سینے پر زور دیتی بول پڑی جو اسکی سانسیں اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہی تھی
“زر کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نکاح آپ نے صرف مجھ سے بدلہ لینے کے لیے کیا ہے جو میں آپ کی نقلیں اتار کر آپ کو تنگ کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے کسی اور سے کرتے ہیں تو پھر یہ سب میرے ساتھ مت کریں”
وه اپنے سرخ ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی اسکی نیلی آنکھوں کو دیکھ کر اپنے دل میں پیدا ہوئے سوالوں سے زرام کو غصہ دلا گئی جو اسکے سرخ ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا اور پھر وه اپنے غصے سے بھری آنکھوں کو اسکی ڈری سہمی آنکھوں میں گاڑتا اسے رونے پر مجبور کر گیا۔
“ہاں میں بہت محبت کرتا ہوں اسے ۔۔۔۔۔اتنی شدت سے اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں میں اتارنا چاہتا ہوں کہ جب وه سانس لے تو اسے خود میں زرام اسفند ملک کی خوشبو محسوس ہو ۔۔۔۔۔اسکی مسکراہٹ میں اپنی مسکراہٹ شامل کرنا چاہتا ہوں جب وه ہنسے تو اسے لگے اسکا زر کے پاس نہ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ہنس رها ہے اسکو خود کی محبت میں پور پور بھیگا کر اپنا بنانا چاہتا ہوں تاکہ اسے زرام اسفند ملک کے بغیر کوئی دکھائی نہ دے ۔۔۔۔میری محبت 1 سال 2 سال پرانی نہیں ہے میرے محبت بچپن سے اس نازک حسینہ سے ہے جب میں خود محبت کے معنی سے ناواقف تھا مگر میں بےبس ہوں وه آج بھی میری محبت کا نہ یقین کرتی ہے نہ ہی میری آنکھوں میں وہ محبت دیکھتی ہے جو میں اس سے بچپن سے کرتا آرہا ہوں کہ اب وه بچپن کی محبت میری رگوں میں خون کی طرح دوڑنے لگی ہے۔۔۔۔۔”
وه گھمبیر لهجے میں کہتا اسکی گردن پر جھک کر وہاں اپنی محبت کی مہر ثبت کرنے لگا اور اسکے کسی اور کے لیے محبت کا اظہار اور اسکا شدت بھرے لمس پر کسی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتی اسکے مظبوط وجود کو خود پر سے دور کرنے لگی مگر وه اسکی تمام مزاحمتوں کو نظر انداز کیے اس پر جھکا رہا یہاں تک کہ نور کو اپنی سانس لینا دوشوار لگنے لگا تو وه روتی ہوئی ایک دم چیخی۔اور زرام اسفند ملک کے اسکی گردن اور اسکے کندھوں پر سرسراتے ہونٹ پل میں رکے تھے اور وه اس کی گردن سے منہ نکالے اسکی آنسوں سے بھری آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
بس ۔۔۔۔بس کر دیں مت دیں مجھے اپنے لمس سے تکلیف مت کریں میری روح کو زخمی ۔۔۔۔۔۔۔کہ بعد میں یہ زخم نہ بھر سکیں ۔۔۔۔۔۔جب محبت کسی اور سے کرتے ہیں تو اپنی شدت اس پر ہی دیکھائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے یہ نکاح صرف اپنے جانو بھائی اور بابا کے لیے کیا ہے ۔۔۔۔۔مانا کہ میں ان کی سب سے چھوٹی بہن ہوں مگر ہر لڑکی اتنی بڑی ضرور ہوتی ہے کہ وه نکاح جیسے عمل سے اور اس کے معنی جانتی ہے میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں کہ سمجھ نہ سکوں کہ آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا ہے ۔۔۔۔میری روح کو زخمی کرنے کے لیے نہ ۔۔۔مگر میں آپ کو ایسا کبھی کرنے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔۔۔
وه روتی ہوئی زرام اسفند ملک کے جذبوں پر اسکے وجود پر بہت بھاری چپیٹ مار چکی تھی اسکے کچھ دن کے مزاق اور ولی کے جھوٹ پر اسکی محبت کو اسکی آنا پر بہت گہری چوٹ پہنچا گئی تھی جس پر زرام کسی ہارے ہوئے انسان کی طرح اس پر سے اٹھا تھا اور پھر اسکے وجود پر ایک نظر ڈال کر اپنا رخ پھیر گیا ایک آنسو ٹوٹ کر زرام اسفند ملک کی داڑھی میں گم ہوا تھا اور پھر جب نور سے مخاطب ہوا تو ناجانے کتنے عرصے کی تھکاوٹ اسکے لہجے میں تھی اور اپنے دل کے ہاتھوں ایک بار پھر مجبور ہو کر وه نور کے سر پر کمرے کی چھت گرا چکا تھا
“نور میں نے جس سے بچپن سے محبت کی ہے وہ صرف تم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس کو ہمیشہ خود سے جوڑنے کا عہد کیا وه تم ہو۔۔۔۔۔۔۔ نور میں ڈرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے بہت چھوٹی تھی میں تم پر اپنی محبت کا اظہار کر کے تمہاری نظروں میں خود کو گرانا نہیں چاہتا تھا مگر میں غلط تھا تم تو میری سوچ سے بھی بہت بڑی ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس نکاح سے میں نے خود کو تمہاری نظروں میں گرا لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں عام مردوں کی طرح اپنی آنا کا مسلہ بنا کر تم پر اپنے لمس سے ظلم نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم میرے لیے میری عزت ہو جس کی حفاظت کا وعدہ میں نے بچپن سے کیا تھا اور پھر اپنے اللّه اور رسول ﷺ کو حاضر ناظر جان کر تمہیں اپنے ساتھ جوڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری روح کو زخمی نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔زرام اسفند ملک نفس کے ہاتھوں اتنا کمزور نہیں ہے کہ اپنی محبت کی روح کو زخمی کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔آیندہ تمہارے نزدیک آنے کی کوشش نہیں کروں گ۔۔۔۔۔۔ا میں یہاں تمہیں نکاح مبارک کہنے آیا تھا اب کبھی تمہاری طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھوں گا۔۔۔۔۔ یہ زرام اسفند ملک کا تم سے وعدہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب تمہیں لگے تمہیں زرام کی ضرورت ہے تو بس ایک بار اپنے فون سے زر لکھ کر میسج کر دینا۔۔۔۔ میں سمجھ جاؤں گا زرام کی محبت کو اسکی ضرورت ہے ۔۔”
وه ازیت سے کہتا اسکی طرف دیکھے بغیر کمرے سے نکلتا چلا گیا اور نور تو جیسے ہللنے کے قبل بھی نہیں رہی تھی اسکا وجود بلکل ساکت ہو گیا تھا یہ کیا کر دیا تھا اس نے کیوں وه اتنے دن کا غبارا اسکے اندر انڈیل گئی تھی کیوں وه اس قدر محبت کرنے والے شخص کو تکلیف پہنچا گئی تھی روح تو اسنے زخمی کی تھی وه بھی زرام اسفند ملک کی جو آج کتنا خوش تھا اسکی محبت اسکی ہونے جا رہی ہے مگر وه تو اسکی تھی ہی نہیں ۔
زویا جیسے ہی دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کا دل زوروں سے دھڑ کنے لگا کیوں کہ ولی برہان ملک اپنی سحرانگیز پرسنیلیٹی کے ساتھ کھڑکی کے پاس کھڑا ہمیشہ کی طرح سیگرٹ پینے میں مصروف تھا جس پر زویا کو غصہ آیا اور دروازہ بند کرتی اس کے پاس گئی اور ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا تو وه اس کی حرکت پر حیران ہوتا ہوا منہ سے سیگرٹ نکال کر اپنی انگلیوں میں دبائی ماتھے پر بل آئے تھے ۔ اور پھر گھورتی ہوئی زویا کو دیکھنے لگا جو غصہ میں لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی ہارٹ بیٹ ؟جانتی ہو نہ ایسے کرنے والوں کے ساتھ میں کیسا سلوک کرتا ہوں؟
وه اپنی سیگرٹ کا آخری گہرا کش لیتے ہوئے نیچے پھینکتا ہوا اسے کھینچ کر اپنے نزدیک کیا تو وه سیدھا اسکے سینے سے آلگی۔
“یہی میں آپ سے پوچھوں تو پھر کیسا لگے لگا ؟؟؟آپ کا دم نہیں گھٹتا اتنی زیادہ سیگرٹ پینے سے ہاں ۔۔۔۔اور بتائیں کیا سلوک کریں گے میرے ساتھ ؟۔۔۔بیوی ہوں آپ کی ۔۔۔میرا جیسا دل کرے گا ویسا ہی آپ کے ساتھ کروں گی۔”
زویا بنا خوف کے ولی برہان ملک کی آنکھیں میں دیکھتی ہوئی بولی تو ولی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
اچھا تو ہارٹ بیٹ کیا کرو گی اپنے شوہر کے ساتھ ؟ میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔میری معصوم سی ہارٹ بیٹ کیا کچھ کر سکتی ہے؟
وه خمارآلودها لہجے میں بولتا اس کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتا مزید قریب کر گیا اتنا کہ زویا کو اسکے دل کی دھڑکن اپنے سینے پر محسوس ہونے لگی تو وه دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دور کرنے لگی اور نظریں اوپر اٹھنے سے انکاری تھیں مگر اسکا دل نہیں چاہ رہا تھا اپنے کھڑوس پرنس سے دور ہونے کو مگر ایک شرم اور جھیجک آڑے آ رہی تھی وه آج اسے اپنی محبت کا اظہار سنانا چاہتی تھی۔
“بولو ہارٹ بیٹ ۔۔۔۔۔”
وه اسکی شہ رگ پر اپنے لب رکھتا اسے محسوس کرنے لگا اور پھر آہستہ آہستہ وه اسکے لب زویا کی گردن پر گھومنے لگے تو زویا کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا کیوں۔زخمی شیر کو چھیڑا مگر اب وه اسے دور کر کے اسکو غصہ نہیں دلانا چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے اسکے لمس کو محسوس کرتی آنکھیں بند کر گئی وه معصوم سی لڑکی اسے بہت سالوں سے اپنی نفرت کا اظہار کرتی آئی تھی مگر اب اس سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی
کچھ دیر بعد ولی اس سے الگ ہوا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکی قربت میں کانپنے لگی تھی اور اسکے سینے پر سر رکھے سرگوشی کرنے لگی ۔۔۔
“ولی آپ کو میں بہت ازیت دے چکی ہوں میں نے ہمیشہ آپ کو جاناں کی تکلیفوں کی وجہ مانا پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔اور پلیز یہ سیگرٹ پینا چھوڑ دیں مجھے بلکل بھی نہیں پسند ۔۔۔۔۔”
اسکی بات سن کر ولی نے اسے اپنے سامنے کیا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔۔
” ہارٹ بیٹ ازیت تو تم نے ولی برہان ملک کو بہت دی ہے مگر میں تمہیں معاف کرتا ہوں اور یہ سیگرٹ والی بات میں نہیں مان سکتا کیوں کہ یہ میری زندگی کی وه واحد ساتھی ہے جو میرے ہر دکھ درد میں میرے ساتھ رہی ہے اور یہ کہہ سکتی ہو یہ میری پہلی بیوی ہے اور تم دوسری تو تمہیں اس کے ساتھ کمپرومائز کرنا پڑے گا۔۔”
وه شریر مسکراہٹ لیے اسکے لبوں کو ہلکا سا چھوتا بیڈ پر جا کر بیٹھا تو زویا پہلے تو اسکی بات سن کر شاکڈ ہوئی اور پھر اسکی حرکت پر شرم سے سرخ ہوتی رونی صورت بنا کر اسے دیکھنے لگی دیکھنے کا انداز ایسا تھا کہہ دیں یہ جھوٹ ہے ورنہ میں رو دوں گی مگر وه اس سے انجان بنتا بیڈ پر لیٹ گیا تو وه معصوم سی شکل بناتی اسکے پاس آئی ۔۔۔
“ولی بہت غلط بات ہے۔۔۔۔ ایسے کیسے وه آپ کی پہلی بیوی ہو سکتی ہے؟ میں آپ کی پہلی بیوی ہوں یہ آپ نا انصافی کر رہے ہیں ۔۔۔”
وه سوں سوں کرتی اسکے سینے پر اپنی ٹھوڑی رکھتی معصومیت سے دیکھنے لگی تو ولی کو اسکی بیواقوفی پر پہلےتو ہنسی آئی مگر اسکے اتنے پیارے انداز پر انتہا کا پیار آیا مگر وه اس سے تنگ کرنا چاہتا تھا تاکہ وه اسکی معصومیت بھری باتیں سن سکے ۔۔۔
“نہیں ہارٹ بیٹ تم میری دوسری بیوی ہو پہلی بیوی میری سیگرٹ ہے مگر پیار تو میں دونوں سے برابر کرتا ہوں۔۔” تو پھر ناانصافی کیسے؟
وه اپنی مسکراہٹ روکتا اسکی ناک کو دبايا تو وه خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں آپ کی پہلی بیوی هوں وه تو آپ کو پیار نہیں کرتی میں تو بہت زیادہ کرتی ہوں پھر بھی آپ اسکو خود سے دور نہیں کریں گے۔۔”
وه ولی کے گال پر ہاتھ رکھتی ہوئی پیار سے بولی تو وه اسکے اتنے معصومیت بھرے اظہار پر اسکو ہگ کر گیا ۔۔۔۔
“میری ہارٹ بیٹ ولی برہان ملک صرف تمہارا ہے صرف تم سے محبت کرتا ہے مگر تم تو مجھ سے نفرت کرتی تھی تو میں نے پہلی بیوی کا حق اسے دے دیا اب وہی میری پہلی بیوی ہے جس کو میں نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔”
وه اسکے ماتھے پر لب رکھتا اپنی مسکراہٹ روک کر اسکی شکل دیکھنے لگا جو اب اسکی ایک ہی رٹ سے تنگ آگئی تھی اس لیے اس کا حصار توڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
“بس بہت ہو گیا ولی اب مجھ سے بات مت کریے گا ورنہ میں نے آپ کی پہلی بیوی کو اپنے ہاتھوں سے مار دینا ہے آویں میں آپ کے ایک میسج پر بھاگی چلی آئی میں جا رہی ہوں نور کے پاس۔۔”
وه غصے سے اسکے سینے پر تهپڑ مارتی باہر چلی گئی اور دروازہ زور سے بند کرنا نہ بھولی اور پیچے ولی اپنی ہارٹ بیٹ کی معصومیت پر مسکرا کر رہ گیا اور فون پر آتے زرام کے میسج کو دیکھنے لگا کہ لان کی بیک سائیڈ پر آکر اسے سیگرٹ دے جائے ولی کے لیے یہ بات کسی دهماکے سے کم نہ تھی کہ زرام اور سیگرٹ ناممکن کچھ دیر پہلے تو اسکا نکاح ہوا تھا اور پھر ایک دم سیگرٹ کی ضرورت ۔ولی غصے سے اٹھ کر لان میں جانے کی غرض سے کمرے سے باہر چلا گیا۔
وه اپنے وائٹ کلر کے خوبصورت لونگ فراک کے ساتھ ریڈ کام دار دوپٹے سے الجھتی ہوئی اوپر نور کے کمرے میں جا رہی تھی کہ ایک دم کسی نے اسے بازو سے کھینچ کمرے میں کیا اور دروازہ ایک ہاتھ سے بند کرتے اسے دروازے کے ساتھ لگا دیا جس پر جاناں کی چیخ نکلی تو شازل نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس چیخ کا گلہ گھونٹ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جان کیا کر رہی تھی میں ہوں تمہارا شاز کیوں چیخ کر سب کو اکٹھا کرنا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔۔”
شازل اسے گھورتا ہوا بولا اور پھر ہاتھ ہٹا دیا جو اسے اپنی آنکھوں کو بڑا کیے گھور رہی تھی۔۔۔۔
“افف شاز آپ پاگل تو نہیں ہو گئے میں ڈر گئی تھی” اور اگر کوئی دیکھ لیتا تو کیا سوچتا؟؟؟؟
“تو وه کہتا شاز اپنی بیوی سے رومینس کر رہا ہے آخر اتنی خوبصورت بیوی جو ملی ہے ۔۔”
شازل اپنے دونوں ہاتھ اسکے گرد دروازے پر دائیں بائیں رکھتا ہوا اسکے بےحد قریب ہوا تو جاناں کے چہرے پر لالی بکھر گئی تو وہ اپنے دل کی دھڑکنوں کو چپ کروانے لگی جو شازل میران ملک کے قریب آنے پر میراتھن ریس میں نکل پڑتی تھیں اور شازل تو اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں میں کھو گیا اور بےخود ہوتا اسکی گردن پر جھکا اور لبوں سے چھوتے ہوئے اسکی شہرگ پر اپنے لب رکھے تو جاناں بوکھلا گئی اور اسکے شدت بھرے لمس پر اسکی ٹانگیں کانپنے لگی تو وہ اسکے کالر کو اپنی مٹھیوں میں جکڑتی اسکا سہارا لینے لگی ورنہ وہ زمین بوس ہو جاتی اسکی جانلیواہ قربت جاناں کو کانپنے پر ماجبور کرنے لگی کمرے میں معنی خیز خاموشی کا دورانیہ بڑھنے لگا تو جاناں کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی تو وه دهیمی آواز میں منمنائی ۔۔۔۔۔
“شا۔۔ز شاز پچھے ہٹیں مجھے سانس نہیں آرہی ۔۔۔”
اس کی گھٹی گھٹی آواز پر شازل ہوش میں آتا پچھے ہٹا اور معنی خیز نظروں سے اسے سر سے پیر تک دیکھتا جاناں کی جان جوکهو میں ڈال گیا ۔۔۔۔
“ویسے جان بہت خوبصورت لگ رہی ہو میرے لائے گئے ڈریس میں اور پھر تمہاری خوشبو مجھے پاگل کرتی ہے کیوں نہ ماموں سے رخصتی مانگ لو ۔۔”
وه جو اسکے پچھے ہونے پر اپنی پھولتی سانسوں کو هموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی اسکی نظروں اور باتوں سے اسکے وجود میں کپکپاہٹ طاری ہو گئی پہلے کب اسنے شاز کی ایسی حرکتیں دیکھی تھیں نکاح کے بعد تو وه ایک دم چھچھور ہو گیا تھا ایک اور لقب سے جاناں نے شازل کو دل میں نوازا ۔۔۔۔۔۔
“بہت ہی کوئی چھچھورے انسان ہیں آپ پتا نہیں میری گردن کے ساتھ کیا مسلہ ہے آپ کو ۔۔۔”
وه اسکی نگاہوں سے پریشان ہوتی ہوئی بولی اور خود کو اسکی طرف دیکھنے سے گریز کیا کیوں کہ وه آج لگ ہی اس قدر خوبصورت رہا تھا زندگی میں پہلی بار اسنے قمیض شلوار پہنی تھی اور اس پر اسکا کسرتی جسم اور پھر بھاری بڑھی ہوئی داڑھی بلاکا حسین مرد تھا۔ اور پھر اپنی سوچوں کو جھٹکتی اسکی طرف دیکھا جو پھر سے اسکے نزدیک کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
“جان تم ڈیساآئڈ کر لو میں کیا ہوں پھر فرصت میں تمہیں ویسا بن کر دکھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔”
وه اسے آنکھ مارتا ہوا بولا تو جاناں اپنے دوپٹے کو سمبھالتی باہر کی جانب لپكی مگر اسکے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی شازل نے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لی اور اسے اپنی طرف کھنچا جس پر وه اسکے سینے سے لگی اور اسکی حرکت پر اسے گھورنے لگی جو آج اسے تنگ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑرہا تھا ۔۔۔۔۔
“شاز کیا بدتمیزی ہے چھوڑ یں باہر سب ویٹ کر رہے ہیں میرا اور آپ کی چھچھوری حرکتیں ختم نہیں ہو رہی ۔۔۔”
جاناں اسکی ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی ہوئی بولی تو اس نے اسے مزید اپنے قریب تر کر لیا جس پر دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کو محسوس کرنے لگے جاناں کو اسکی سانس اپنے ہونٹوں پر محسوس ہوئی تو آنکھیں بند کر گئی جانتی تھی ایسے تو وه اسے کمرے سے باہر جانے نہیں دے گا اسکے انداز پر شازل مسکراتا ہوا اسکی سانسوں میں اپنی سانسیں منتقل کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بعد اس سے دور ہوا تو اپنی سانسوں کو هموار کرنے کے لیے لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔
بہت شکریہ جان ۔۔۔۔۔۔۔۔
وه مسکرا کر کہتا ہوا ایک نظر اسکے شرم سے سرخ پڑتے چہرے پر ڈال کر باہر چلا گیا تو جاناں اپنا میك اپ سہی کرنے لگی اور دل کی دھڑکنیں معمول پہ انے سے قاصر لگیں تو پھر سے لمبے سانس لینے لگی اور کچھ دیر بعد نور کے کمرے کی جانب بڑھ گئی
اوئے ولی کہا جا رہا ہے تو اتنے غصے میں ۔۔۔”
شازل اپنے کمرے سے نکلتا ہوا ولی کو دیکھ کر بولا جو غصے بھرے چہرے کے ساتھ سیڑیہوں کی جانب بڑھ رہا تھا اس کی آواز پر روک کر اسے دیکھا۔۔
“تو بھی آجا ۔۔۔پتا چل جائے گا”
ولی غصے سے کہتاتیز رفتار سے سیڑھیاں اترتا لاؤنچ عبور کرتا لان کی طرف بڑھ گیا تو شازل بھی پریشان ہوتا اسکے پیچھے جانے لگا ۔۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہا تھا تو ؟
ولی زرام کے سر پر کھڑا ہوتا ہوا دھاڑا جو لان کے پچھلے حصے میں نیچے گھاس پر بیٹھا سوچو میں گم تھا ۔۔۔۔۔
“بکواس نہیں کی ولی ۔۔۔۔۔مجھے ضرورت ہے اسکی ۔۔۔ابھی میں بحس کرنے کے موڑ میں بلکل نہیں ہوں۔۔۔”
وه اسی پوزیشن میں بیٹھا سریس انداز میں جواب دیتا ہاتھ کی پہلی دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی مسلنے لگا تو ولی اسکے انداز پر حیران ہوا یہ اسکا کیڑا مکوڑا ایس پی تو نہیں ہے
“کیا ہوا ہے زر بتا ؟؟؟؟
ولی اسکے پاس نیچے بیٹھتا ہوا پریشان ہوا تو وه اپنی سرخ پڑتی نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ولی تو تڑپ ہی گیا وه کب اپنے زر کی آنکھوں میں نمی برداشت کر سکتا تھا۔۔۔
زر کیا ہوا ہے تجھے ؟؟؟ “تو جانتا ہے نہ تجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا پھر ایسے کر کے تو مجھے غصہ دلا رہا ہے۔” “
ولی اسکے سامنے بیٹھتا ہوا نرمی سے بولا ۔۔۔۔۔مگر وه آنکھیں بند کرتا ولی کی گودمیں سر رکھتا لیٹ گیا اور ولی سمجھ گیا تھا وه بہت تکلیف میں ہے وه بچپن میں جب بھی پریشان ہوتا تھا ایسے ہی ولی کی گود میں سر رکھتا خاموشی سے لیٹا رہتا جیسے سارا سکون ولی کے پاس ہو۔۔۔۔
اور ولی بھی خاموشی سے بیٹھا اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتا ہلکا سا دبانے لگا اور دور کھڑا شازل ان کی محبت پر مسکراتا ہوا ان کے پاس آیا اور خاموشی سے زرام کے پاس بیٹھ گیا کتنی محبت تھی ان کے در میان ۔۔۔ایک دوسرے کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
“یار زر تو ولی کو ایسے ہی کہہ دیتا وہ اپنا پیار تم پر نچھاور کر دیتا اب تو پکا یقین ہو گیا ہے تم دونوں کا رشتہ میاں بیوی سے کم نہیں ہے ۔۔”
شازل زرام کے گال پر ہلکا سا تھپڑ مارتے ہوئے شرارت سے بولا تو ولی نے اسکی کمر پر مکہ جڑا اور زر آنکھیں کھولتا شازل کو آنکھ مارتا ہوا پھر سے آنکھیں بند کر گیا اور اس کی حرکت پر ولی نے اسکے ماتھے پر چپیٹ ماری تو وه بلبلا اٹھا۔۔۔۔۔
“کمینے اتنی زور سے کیوں مارا ابھی تو اتنا پیار جتا رہا تھا…..”
زرام زور سے چیخا ۔۔۔۔
“ہاں تو اب تو ایسی حرکت کرے گا تو کیا میں تجھے پیار کروں گا ۔۔۔”
ولی اسکے بالوں کو خراب کرتا ہوا گھور کے بولا۔۔۔
“اچھا ولی تو اتنے غصے میں کیوں تھا۔۔۔جیسے آج ہی سب کو آگ لگا دے گا۔۔۔۔”
شازل نے ولی کو دیکھ کر پوچھا تو وه اسکی بات پر پھر سے غصہ ہو گیا جب کہ زرام آنکھیں بند کیے لیٹا رہا ۔۔۔
“یار شاز اس کیڑے مکوڑے نے بات ہی ایسی کی تھی۔۔ مجھے کہہ رها تھا اپنی سیگرٹ دے کر جا مجھے بہت ضرورت ہے اس کی ۔۔۔۔۔”
ولی نے غصے سے بتایا تو شازل کا بھی یہی حال ہو گیا
کیا یہ بکواس کی تھی اس کتے کمینے نے ۔۔۔۔۔
شازل نے ولی کی بات سن کر غصے سے زر کے پیٹ میں مکہ مارا تو وه درد سے کراہتا اٹھ کر بیٹھا اور اسے گھونے لگا جو خود اسکو غصے سے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“کتے کمینوں ۔۔۔۔میں تم لوگوں کو فری کا مال لگ رہا ہوں جو مارے جا رہے ہو۔۔۔۔اب اسکی ضرورت تھی تو کیا کرتا سر درد ہو رہا تھا اب گناہ تو نہیں کر دیا جو اس طرح غصہ کر رہے ہو ۔۔۔۔”
زرام غصے سے چیخا تو ولی اور شازل حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے ایسے تو وہ کبھی بھی بات نہیں کرتا تھا اتنا غصہ وه بھی اپنے یاروں پر شازل اور ولی ایک دم سنجیده ہوئے تھے۔۔۔۔
کیا ہوا ہے زر ؟؟؟؟اتنا غصہ کس بات کا ہے ؟؟اور کیوں سر میں درد ہو رہا ہے ؟بتائے گا تو ھمیں ؟یا ہمیشہ کی طرح ہمیں اپنے طریقے سے پتا کرنا پڑے گا ؟
شازل اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہوا اور اسکے غصے بھرے چہرے کو دیکھ کر استفسار کرنے لگا اور ولی بھی اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑتا شازل کے ساتھ کھڑا ہوا اور زرام کے چہرے پر ازیت بھرے تاثر دیکھنے لگا۔
“کچھ نہیں ہوا بس يہ سمجھ لو کہ محبت زرام اسفند ملک کو آزما رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اسکا امتحان لے رہی ہے ۔۔۔۔۔اس معملے سے تم لوگ دور رہنا ۔۔۔۔۔اور ابھی میں پولیس سٹیشن جا رہا ہوں سب کو بتا دینا۔۔۔”
وه سنجیدگی سے کہتا انکو بولنے کا موقع دیے بغیر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔حیران پریشان کھڑے شازل اور ولی اسے جاتا دیکھتے رہے ۔
یار نور نے اسے بہت تکلیف پہنچائی ہے ورنہ وه کبھی بھی ایسے نہیں کرتا ۔۔۔۔یار وه خوش تو تھی اس رشتے کے لیے ۔۔۔تم نے اور انکل نے اسے فورس تو نہیں کیا تھا؟؟
ولی شاز کو دیکھتا ہوا بولا جو بےچینی سے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر رها تھا پھر ولی کی طرف دیکھ کر سر نفی میں ہلایا کہ اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی تھی۔۔
پھر کیا ہوا ہو گا ان کے درمیان ؟
ولی اپنے ماتھے کو مسلنے لگا تو شازل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے تسلی دی۔۔
“یار ابھی تو پریشان نہیں ہو میں بعد میں نور سے پوچھوں گا اب چل اندر چلتے ہیں۔۔۔”
شازل کی بات سن کر ولی سر اثبات میں ہلایا تو دونوں اندر کی جانب بڑھ گئے ۔
اللّه پاک کے کرم سے سب بچوں کے نکاح کا فرض ادا ہو چکا ہے اب ولی اور شازل کی شادی کی تیاریاں کر دینی چاہیے کیوں کہ ھمارے پاس صرف صبح کا دن ہے۔”
میران صوفیہ آمنہ بیگم اور اسفند صاحب لاؤنچ میں سوفے پر بیٹھے تھے جب انہوں نے ان سب کو دیکھ کر کہا باکی ينگ جنریشن اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھی اور فیضان اور ماہین گھر چلے گئے تھے کیوں کہ ماہین کا پانچواں مہینہ چل رہا تھا وه اسفند ملک کے گھر ننها وجود لانے والی تھی اور اتنے شور شرابے پر فیضان کو آمنہ اور صوفیہ بیگم نے کہا تھا اسے گھر لے جاؤ وه تھک گئی ہو گی اور طبیت خراب نہ ہو جائے ۔
“جی بھائی ۔۔۔۔لیکن ایک دن بہت کم ہے..” کیسے سب تیاریاں ہوں گی؟
صوفیہ بیگم آمنہ بیگم کو دیکھ کر بولیں جن کے چہرے پر پریشانی جھلک رہی تھی ۔
“صوفیہ تیاریاں کیا کرنی ؟گھر کی شادی ہے ۔۔جہیز کے سامان والا تو کوئی چکر نہیں ہے ۔۔۔بس زویا اور جاناں کے كپڑے جوتے وغیرہ خریدنے ہیں ۔۔وه تو ولی اور شازل ان کے ساتھ جا کر خرید لیں گے۔”
اسفند صاحب کی بجائے میران صاحب بولے تو انہوں نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائی ۔۔
پھر بھی میران ۔۔۔باکی تیارياں ہیں ۔۔۔گھر کی سجاوٹ اور اتوار کو ابٹن کی رسم بھی تو رکھی ہے ۔
آمنہ بیگم نے چائے کا کپ سامنے رکھی میز پر رکھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا ۔۔۔۔
“کیا یار ؟آپ لوگ اب اس چیز کے لیے کیوں پریشان ہو رہے ہیں ؟یہ سب آپ لوگ ہم پر چھوڑ دیں سب کچھ ہو جائے گا ۔۔بس ہماری شادی کی ڈیٹ میں کوئی گڑبڑ نہیں کرنا ۔۔۔”
شازل ولی کے ساتھ لاؤنچ میں داخل ہوتا ہوا ڈرامائی انداز میں بولا تو ولی کے ساتھ سب اسکی بات سن کر مسکرا دیے اور پھر دونوں چلتے ہوئے میران صاحب کے سامنے رکھے صوفے پر براجمان ہو گئے۔
“تمہیں بہت جلدی ہے ماڈل صاحب ۔۔۔۔”
میران صاحب نے غور کر اسے دیکھا باکی سب ان کو مسکرا کر دیکھ رہے تھے ۔
“ارے میرے شکی ڈیڈ ۔۔۔ایسا تو ولی کہہ رہا تھا کہتا میرا تو کسی کو خیال ہی نہیں ہے اتنے سال ہو گئے نکاح کو مگر شادی کا تو کوئی نام ہی نہیں لیتا اب میں بار بار ایسا کہتا اچھا لگوں گا ۔۔۔۔میری شادی کرواؤ میری شادی کرواؤ۔۔۔”
وه ولی کو آنکھ مارتا ہوا بولا تو اس نے شازل کی کمر پر زور سے مکا جڑا باکی سب اسکی چالاکی پر مسکرا کر رہ گئے ۔۔
“خالو جان چلو مجھے تو جلدی ہے سو ہے ۔۔۔يہ تو کہہ رہا تھا اب نکاح ہو گیا ہے وه تو سہی ہے مگر اب اتنی جلدی شادی کی کیا پڑی ہے میرا تو کریر خراب ہو جائے گا۔”
ولی اپنی ہنسی ضبط کرتا ہوا بولا تو شازل تو اسکی بات سن کر صدمے میں چلا گیا ایسا کب کہا تھااس نے ۔۔۔اور وه بھی ولی برہان ملک تھا کسی کا ادھار رکھنا تو سیکھا ہی نہیں تھا اور باکی سب شازل کی شکل دیکھ کر قہقہ لگایا تھا اور وہیں میران اور اسفند صاحب نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے اس کو اچھلنے پر مجبور کیا۔
“تو بس پھر ولی کی شادی کر دیتے ہیں شازل کو تو ضرورت نہیں ہے ۔۔”کیا کہتے ہو میران؟
اسفند صاحب نے میران صاحب کو دیکھ کر کہا تو شازل ایک دم چیخا۔۔۔۔
“خدا کا خوف کریں آپ لوگ ۔۔۔۔میں نے ایسا کب کہا ؟؟؟اور رحم کھاؤ مجھ معصوم پر اور میرے بچوں پر جو اوپر بیٹھے مجھے بددعائیں دے رہے ہیں ۔۔۔۔”
اس کی بات سن کر جہاں ولی کا قہقہ پورے لاؤنچ میں گونجا تھا وہیں صوفیہ بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی تو وه اپنے کندھے اوچکا گیا باکی سبنے اسکے بے باک انداز پر سر نفی میں ہلایا۔۔
یہ آج ھمارے گھر کا شہزادہ نظر نہیں آرہا وه کہاں ہے ؟؟؟؟
میران صاحب نے زرام کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے شازل اور ولی سے پوچھا تو وه پھر سے پریشان ہوئے مگر ولی اپنے چہرے کے تاثرات چھپاتا ہوا اسکا پیغام ان سب کو دیا کہ وہ پولیس سٹیشن چلا گیا ہے کچھ ضروری کیس کے سلسلے میں اور پھر وه سب شادی کی تیاریوں پر مشورہ کرنے لگے ۔۔۔۔
نور بھابی ۔۔۔کیا ہوا ہے اتنا چپ کیوں ہیں ؟
جاناں زویا کو دیکھ کر نور کو چھیڑنے لگی جو اپنے نکاح کے ڈریس میں بیڈ پر ٹیک لگا کر خاموش بیٹھی اپنے ناخنوں کو گھور رہی تھی ۔اور وه دونوں صوفوں پر بیٹھی ہوئیں تھی ۔ کافی دیر سے وه دونوں اسکو ایسے دیکھ رہی تھیں ان کو حیرت ہو رہی تھی نور اور خاموش ۔۔۔۔۔
مگر جاناں کے سوال پر بھی اسکی ہنوز خاموشی پر دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا اب ان کو سچ میں پریشانی ہونے لگی تھی
وه دونوں اٹھ کر نور کے پاس آئیں جاناں اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھی اور زویا نور کے ساتھ بیٹھ کر اسکے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔
کیا ہوا ہے میری چھوٹی سی گڑیا کو ؟کیوں اتنی پریشان ہے ؟
جاناں اسکے دونوں ہاتھ تھامتی ہوئی پیار سے بولی تو وه اپنا ضبط کھوتی رونے لگی اور اسے روتا دیکھ زویا اور جاناں بوکھلا گئیں۔۔۔
اؤئے میری جان کیا ہوا ہے ؟کیوں رو رہی ھو؟ “اپنی جاناں آپی کو بتاؤ ۔۔۔”
جاناں اسے اپنے ساتھ لگاتی ہوئی اسکا سر تھپکنے لگی جو مسلسل رو رہی تھی زویا تو خود رونے کی تیاری کرنے لگی جس پر جاناں نے گھورا تو وه معصوم سی شکل بناتی رخ موڑ گئی جس پر جاناں کو اس پر انتہا کا پیار آیا تھا ۔
“وه ۔۔۔میں نے ۔۔۔۔زر کو ۔۔۔۔۔ناراض کر دیا ۔۔۔۔۔ان کو بہت برا بھلا کہا ۔۔۔۔۔۔وه مجھ سے کہتے رہے میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔
۔۔۔۔مگر میں نے یقین نہیں کیا اور ان کی انسلٹ کر دی۔”
وه اپنی انگلیاں چٹخاتی شرمیندگی سے بولی تو جاناں اور زویا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھوں میں حیرانگی تھی ۔
“پوری بات بتاؤ گڑیا “۔۔۔کیا ہوا تھا اور تم نے بھائی کو کیا کہا؟
جاناں اسکی انگلیوں کی موومینٹ روکتی پیار سے بولی تو نور ان دونوں کی سب کچھ بتانے لگی ۔۔اور پھر زور سے رونے لگی تو جاناں نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور چپ کروانے لگی ۔۔۔
“بس میری جان وه تمہیں معاف کر دیں گے ۔۔۔تم نے ہمت نہیں ہارنی وه تم سے بہت محبت کرتے ہیں تم نے اپنی غلط فہمی میں ان کو بہت تکلیف دی ہے مگر تم ایسے رو گی تو ان کو کون منائے گا۔”
جاناں اسے پیار سے سمجھانے لگی
وه ۔۔۔۔وه مان تو جائیں گے ۔۔۔مگر کیسے ؟؟
وه اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کنفیوز ہوئی ۔۔
“ارے یہ تو تمہیں ہی پتا ہو گا تم بیوی ہو ان کی ۔۔۔”
جاناں شرارت سے بولی تو وه شرما گئی ۔۔۔
“ہاں نور چلاک عورت” ۔۔۔۔تم ہی مناسکتی ہمیں کیا پتا ؟
زویا نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا تو نور کو غصہ آگیا ۔۔
زوئی کی بچی تم نے مجھے عورت کہا ؟ تمہیں کیوں نہیں پتا ؟تم اپنے کھڑوس پرنس کو نہیں مناتی ؟؟
نور اپنا رونا بھول کر زویا پر چڑھ دوڑی مگر زویا ولی کا نام سن کر منہ بنایا تو نور اور جاناں کو حیرت ہوئی اب اسے کیا ہو گیا ؟ ۔۔۔
اے ولی بھائی کی ہارٹ بیٹ ۔”کیا ہوا تمہیں ؟
جاناں نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔
انہوں نے مجھے دوسری بیوی کہا ۔۔وه کہتے ہیں میری پہلی بیوی سیگرٹ ہے جس کے ساتھ تمہیں كمپرومائیز کرنا پڑے گا ۔۔
زویا نے معصومیت سے کہا تو وه دونوں ہسنے لگی نور کا تو قہقہ روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا جس پر وه چیڑ گئی تھی ۔۔۔۔
تم سب بہت برے ہو میں جا رہی باہر ۔۔۔بات نہیں کروں گی کسی سے ۔۔۔
وه منہ بناتی ہوئی روم سے باہر چلی گئی تو جاناں نور کو چینج کرنے کا کہتی اسکے پچھے بھاگی ۔۔۔۔
آج کا دن ان کے لیے تھکا دینے والا دن تھا صبح سے بازار کے چکر لگا کر اب وہ لوگ لاؤنچ میں داخل ہوئیں تھیں ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپینگ بیگز تھے ۔
ارے میرے پیاری گڑیا نور ۔۔۔۔اچھا ہوا تم یہاں آگئی میں تمہیں بہت یاد کر رہی تھی ۔
لاؤنچ کے صوفے پر ماہین کو سیب کاٹ کر دیتی آمنہ بیگم جاناں کے ساتھ آتی نور کو دیکھ کر محبت سے بولیں تھیں جو ورینج کلر کے کمیض اور پٹیالہ شلوار کے ساتھ پنک دپٹے میں بہت پیاری لگ رہی تھی وه بھی بیگز کو صوفے پر پھینکتی ان کے گلے لگی ور پھر ماہین سے ملی ۔۔
جی مما جان ۔۔۔وه زویا کو شاز اپنے ساتھ گھر لے گئے اور میں نے نور کو کہا کہ آجاؤ میرے ساتھ صبح ولی بھائی یا زرام بھائی چھوڑ آئیں گے ۔۔۔۔۔
جاناں صوفے پر بیٹھتی ہوئی مسکرا کر بولی۔۔۔
“بہت اچھا کیا تم نے ۔۔۔”
ماہین نے اسے اپنے پاس بیٹھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“کچھ کھاؤ گی تم دونوں ۔”
آمنہ بیگم نے ان دونوں سے کھانے کا پوچھا ۔۔۔۔
“نہیں مم جان ۔۔۔۔مجھے جاناں آپی کے ہاتھ کی بريانی کھانی ہے ۔”
نور نے جھٹ سے کہا تو سب مسکرا دیں ۔۔۔۔
“چلو میں فریش ہو کر آتی ہوں پھر میری چھوٹی سی گڑیا کو بريانی بنا کر دیتی ہوں “۔
جاناں کہتی ہوئی اپنے کمرے میں بڑھ گئی تو نور ان دونوں کو اپنی شاپینگ دکھانے لگی ۔۔۔۔
چندا چائے بنا کر میرے کمرے میں دے کر جاؤ سر میں بہت درد ہو رہا ہے ۔”
زرام کیچن کے دروازے پر کھڑا ہوتا ہوا جاناں کو بولا جو نور کے ساتھ مل کر بریانی بنا رہی تھی اور نور اسکی آواز سن کر اپنا چہرہ مزید نیچے کر لیا جاناں زرام کی آنکھیں دیکھنے لگی جو درد کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
“جی بھائی ۔۔۔ابھی بنا دیتی ہوں ۔۔”
جاناں کی بات سن کر نور کو اگنور کیے واپس پلٹ گیا تو جاناں نور پر ایک نظر ڈال کر چائے بنانے لگی اور کچھ دیر بعد نور کو پكارا ۔
نور ۔۔۔۔
جی آپی ۔۔۔
نور فریج بند کرتی ہوئی جاناں کو دیکھا جو چائے کپ میں ڈال رہی تھی۔۔
“جاؤ یہ بھائی کو دے کر آو اور اب ان کو منا کر آنا میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی ۔۔”
جاناں اسکے چائے کی ٹرے اسے تھماتی ہوئی بولی تو نور کے چہرے پر خوف کے تاثرات ابھرے ۔۔۔
آپی میں نہیں ۔۔۔۔وه ڈانٹیں گے ۔۔۔۔۔
نور جاناں کا ہاتھ پکڑتی ہوئی ڈرنے لگی ۔
“کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔۔آب شاباش جاؤ “
لیکن وه ڈانٹ ۔۔۔۔۔
نور کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی جب جاناں نے اسے ٹوکا ۔۔۔
“میں کہہ رہی ہوں نہ وه کچھ نہیں کہیں گے تمہیں ہی ان کو جا کر منانا ہو گا ورنہ وه پکے والے ناراض ہو جائیں گے اور تم نے دیکھا نہیں ان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی وه بہت تکلیف میں ہیں۔”
جاناں کی بات سن کر ہمت کرتی چائے لے کر اس کے کمرے میں جانے لگی دل دڑ بھی رہا تھا اور بہت زور سے دھڑک بھی رہا تھا وه سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اسکے کمرے کے دروازے پہ آ کر روک گئی اور پھر کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو نظر سیدھا بیڈ پر بلیک شرٹ اور سکن پینٹ میں اندھے منہ لیٹے زرام پر گئی تو اسکو ایسے دیکھ کر نور کو رونا آنے لگا پھر ہمت کرتی ہوئی کمرے داخل ہوئی اور دروازہ آہستہ سے بند کرتی چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بیڈ کے قریب آئی اور چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی اسکے پاس کھڑی ہو گئی اور اپنے کندھے پر پھلائے پنک دوپٹے کو سمبھالتی كنفیوز ہونے لگی یہاں تک تو آگئی تھی اب کیسے اسکو اٹھائے پھر ہمت جمع کرتی ہوئی تھوڑا اور نزدیک ہوئی اور آہستہ کانپتی آواز میں زرام کو پكارا ۔۔۔۔
“زر۔۔۔ “
مگر ہنوز خاموشی پر وه بیڈ پر ایک گٹھنا رکھ کر اس پر جھکی اور اسی پل زرام سیدھا ہوا جس پر وه خوف سے اسکی ہلک سے آہستہ آواز میں چیخ نکلی اور دھڑم سے زرام کے اوپر گر گئی جس پر زرام کی نیند سے آنکھ کھل گئی تھی اور غصے سے اپنے اوپر لیٹی اپنی بیوی کو دیکھنے لگا دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے نزدیک تر تھے نور آنکھیں بند کیے خوف اور شرم سے کانپنے لگی تو زرام نے اسکے گهبرائے چہرے کو دیکھتا اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر رکھے تو نور اسکے لمس پر پٹ سے آنکھیں کھولتی اسے دیکھنے لگی جو سرخ آنکھوں سے سپاٹ چہرے کے ساتھ اسکی کمر جکڑے ہوئے تھا نور کو اب اس سے خوف آنے لگا تو وه پھڑپھڑائی۔ زرام اسکے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں ہوائیاں اڑی ہوئیں تھی اور کمرے میں چھائی خاموشی نور کو زیادہ خوفزدہ کرنے لگی تو زرام نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے چہرے پر آیا پسینا صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔
زرام سنجیدگی سے کہتا سیدھا ہو کر لیٹ گیا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ گیا اور نور اسکی سنجیدگی بھری آواز پر آنسوں بہانے لگی ۔
“زر ۔۔۔ایسے نہیں کریں ۔۔۔۔۔میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔۔میں نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔۔۔۔۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔مجھے لگا آپ کسی اور سے ۔۔۔۔۔”
آہ
باکی کے الفاظ منہ میں رہ گئے جب زرام نے اسے کھینچ کر اپنے اوپر گرایا تو هلكی اواز میں چیخی اور اپنے دونوں ہاتھ اسکے کندھوں پر رکھتی اپنا سر اسکے سینے سے اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جو اسکے چہرے سے بال ہٹا رہا تھا نور کا دل زور سے دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اب بولو کیا کہہ رہی تھی ؟؟؟”میں نے سنا نہیں “
زرام ایک ہاتھ اسکی نازک کمر پر رکھے دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ تھامے اس سے پزل کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر نور کو رونا آنے لگا تو وه آنکھیں بند کیے رونے لگی ۔۔۔۔۔۔
“رونا بند کرو نور ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا ۔۔”
زرام اسکا سر اپنے سینے پر رکھے اسے وارن کرنے لگا وه کب اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ سکتا تھا اور اب تو وه اس سے اپنی محبت کا اظہار بھی کر رہی تھی ناراض تو وه اس سے ہو نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
“آپ معاف کر دیں پلیز ۔۔۔۔۔۔مجھے آپ کی ناراضگی اچھی نہیں لگ رہی ۔۔۔۔۔”
وه اسکے سینے میں منہ چھپائے بھیگی آواز میں بولی تو زرام نے كروٹ بدلی جس پر نور اسکے تكیے پر لیٹی تھی اور زرام اس کے اوپر جھکا تو نور نے اسکی طرف دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا جس پر اسے حیرت ہوئی تو آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
“تو جانم تمہیں میری ناراضگی اچھی نہیں لگ رہی ۔۔۔۔”
زرام اسکی ناک سے ناک رگڑی تو وه اپنی سانسیں روکے خود پر کابو پانے لگی وہ اپنی کسی مزاحمت سے اسے زیادہ ناراض نہیں کر سکتی تھی ۔
“ہاں میں آپ کو بہت تکلیف دے چکی ہوں اب اور نہیں ۔۔۔”
جانم میری ناراضگی تو تمہارا میرے اتنا قریب آنے پر ختم ہو گئی تھی ۔۔۔کیا اب بھی میرا لمس تمہیں تکلیف دے رہا ہے ؟؟؟
زرام اسکے کپکپاتے گلابی ہونٹوں کو دیکھنے لگا جو بغیر کسی لیپسٹیک کے بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
ایک لفظی جواب دیتی آنکھیں بند کر گئی کیوں کہوه زرام کی سانسیں اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہی تھی پھر زرام اسکا جواب سن کر خوش ہوتا اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتا اسکی سانسیں قید کر گیا زرام کے لمس میں شدت محسوس کرتی نور کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہونے لگی اور زرام تو خود کو سراب کرنے میں مصروف رہا پھر جب اسے لگا نور سانس نہیں لے پارہی تو اسکے ہونٹوں کو آزاد کرتا مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جو شرم سے سرخ ہوتی لمبے لمبے سانس لیتی اپنی سانس هموار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جانم ۔۔۔۔۔۔
زرام اسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑتا سر گوشی کرنے لگا تو نور کو اپنی جان نكلتی محسوس ہونے لگی ۔۔۔۔
“بہت محبت کرتا ہوں تم سے آیندہ میری محبت کی توہین مت کرنا ورنہ زرام اسفند ملک یہ سب برداشت نہیں کر سکے گا ” ۔۔۔۔۔۔۔
اسکی شہ رگ چھوتا پچھے ہٹا اور ایک سائیڈ پر لیٹ گیا وه نور کی خاموشی اور گهبراہٹ کو محسوس کر گیا تھا اس لیے اسکی جان پر رحم کھاتا پچھے ہٹا تھا اور نور کو لگا وہ پھر سے ناراض ہو گیا ہے۔۔۔۔
زر آپ پھر سے ناراض ہو گئے ؟؟
نور اٹھ کر بیٹھتی پریشان سی بولی ۔۔۔۔۔
جانم کیوں میرے منہ زور جزباتوں کو جگا رہی ہو ؟
زرام اسکے ہاتھ پر لب رکھتا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا تو اپنا سرخ ہوتا چہرہ جھکا گئی مگر کچھ یاد آنے پر چیخی تھی ۔
زر ۔۔۔۔
کیا ہوا جانم
زرام اسے اپنے قریب لٹاتا ہوا اسکے بالوں میں منہ چھپائے خمار الودھ آواز میں سرگوشی کی تو نور اسکی بڑھتی جسارتوں پر گهبرانے لگی۔
“زر میں آپ کو چائے دینے آئی تھی وه ٹھنڈی ہو گئی ہے پلز چھوڑیں آپی پتا نہیں کیا سوچ رہی ہوں گی پلیز جانے دیں
نور اسے پچھے کرتی ہوئی ہلکان ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔
“جاؤ ۔۔۔”
زرام اسکے ماتھے پر لب رکھتا اٹھ کر بیٹھا تو وه بھی جلدی سے اپنا دوپٹا سمبھالتی بیڈ سے اتری اور کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔۔۔تو زرام بھی مسكراتا ہوا واپس لیٹ گیا۔
وه کمرے سے باہر آئی تو دیوار کا سہارا لیا اور دیوار کے ساتھ سر ٹیکا کر آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔۔
کتنا مشکل تھا اس شخص کی قربت میں رہنا جو اب اس کا شوہر تھا کچھ پل میں ہی اس نازک سی جان کو گھبرانے پر مجبور کر دیا تھا اس کے سامنے کتنی ہمت دکھا رہی تھی بس وهی جانتی تھی کہ وه کس طرح سانس لے رہی تھی وه ڈر گئی تھی کہیں مزاحمت کرنے پر وه ظالم پھر سے ناراض نہ ہو جائے شائد وه اب کبھی بھی اس کے سامنے پہلے جیسی نہیں رہ سکتی تھی اس کی ذرا سی ناراضگی پر وه ڈر چکی تھی۔
نور ۔۔۔۔کیا ہوا ؟ایسے کیوں کھڑی ہو ؟ٹھیک تو ہو ؟ زرام نے کچھ کہا ہے کیا ؟؟؟
ولی کی آواز سن کر ایک دم وہ بوکھلائی تھی
نننہیں۔۔۔نہیں ۔۔بھائی ٹھیک ہوں میں ۔۔۔۔میں چلتی ہوں آپی انتظار کر رہی ہوں گی ۔۔۔۔
وه جلدی سے وہاں سے بھاگی تھی اور ولی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔وه ہنستا ہوا زرام کے روم میں چلا گیا ۔
افف زر ۔۔۔یہ کیا ہو گیا ۔۔۔۔ولی بھائی کیا سوچ رہے ہوں میرے بارے میں ۔۔۔۔۔۔
نور بڑبڑاتی ہوئی لاؤنچ میں آئی تھی ۔
“بڑا مسکرا رہا ہے تو کیڑے مکوڑے ایس پی ۔۔۔۔۔کیا کیا ہے تو نے نور کے ساتھ اتنا ڈری ہوئی تھی۔”
۔ولی کمرے میں داخل ہوتا ہوا زرام کو دیکھ کر بولا جو بیڈ پر لیٹا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
“اب تجھے میاں بیوی کی آپس کی بات بتانے سے رہا۔”
زرام اسے آنکھ مارتا ہوا بولا تو ولی نے سر نفی میں ہلایا اور جا کر صوفے پر بیٹھا ۔۔
“بہت ہی کوئی واحیات قسم کا انسان ہے تو ۔۔۔میں کیوں تم لوگوں کے آپس کی باتیں پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔گھٹیا تو اور گھٹیا ہی تیری سوچ “۔
ولی اس کی شرم دلا نے لگا دل سے تو وه خوش تھا کہ شکر ہے سب ٹھیک ہو گیا ۔۔۔
“کیا کروں میرے کمینے یار تجھ سے ہی سکھا ہے سب کچھ خیر میں نے کبھی اپنی گھٹیا سوچ پر غرور نہیں کیا ۔”
زرام ڈھٹائی سے هنستا ہوا بولا تو ولی نے اسے گھوری سے نوازا مگر اثر کسے ہونا تھا۔۔
یار میں تو اپنے آپ کو آج خوش نصیب تصور کر رہی ہوں یہاں میرر ہاؤس میں آنا میرا ایک خواب تھا جو اب حقیقت میں بدل چکا ہے۔۔۔۔”
بلیک اور وائٹ کلر کی جینز شرٹ میں ملبوس ایک ماڈرن سی لڑکی گلاب اور گینڈے کے پھولوں سے سجے خوبصورت عالیشان لاؤنچ میں کھڑی اپنے باکی کے ساتھیوں کو دیکھ کر بولی ہو ڈیکوریشن کا بچا کچا سامان اکھٹا کر رہے تھے ۔۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں تم خود کو ایسے ہی تصور کر رہی ہو مگر بھول رہی ہو ہم یہاں سجاوٹ کے لیے آئے تھے جو ہو چکا ہے اب جلدی سے سامان سمیٹو وه نہ ہو ولی برہان ملک ہمیں یہاں سے بےعزت کر کے نکالے اس نے ہمیں 6 گھنٹے دیے تھے اور کہا تھا کہ
“تم لوگوں کے پاس 6 گھنٹے ہیں ان گھنٹوں میں پورا میرر ہاؤس سجا ہونا چاہیے اور جب ہو جائے تو یہاں سے فورن چلے جانا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا “
وہ لڑکا اسکے پاس کھڑا ہوتا ہوا کچھ جتاتے ہوئے بولا تو وه لڑکی دانت پیس کر رہ گئی ۔۔
“ہاں جانتی ہوں وه ظالم ہینڈسم مغرور انسان کسی کی عزت کرنا نہیں جانتا جیسے ہم تو کوئی اچھوت ہوئے ۔۔۔۔”
وه اپنا منہ بناتی ہوئی اپنا سامان اٹھانے لگی اور پھر ٹک ٹک کرتی باہر جانب بڑھی اور آخری بار ایک بھر پور نظر میرر ہاؤس کو دیکھتی ٹھنڈی سانس بھرتی یہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔
سب بڑوں کے فیصلے پر زویا اور جاناں کی ابٹن کی رسم اور باکی کے فنگشن کے لیے ولی برہان ملک کے میرر ہاؤس کا انتخاب کیا تھا اس کی بڑی وجہ میرر ہاؤس کا وسیع ہونا تھا جہاں سب انتظام باآسانی اور اچھے سے ہوجانے تھے جب کہ ولی اور شازل کی ابٹن کی رسم اسفند ملک ہاؤس ہونی تھی اور ان دونوں کی مہندی میران ملک مینشن میں اور جہاں سے ان دونوں نے بارات لے کر میرر ہاؤس پہنچنا تھا اور پھر وہاں سے اپنی دلہنوں کو لے کر اپنے اپنے مینشن میں چلے جانا تھا اس لیے ولی نے آج صبح سے اپنے سب ملازمین کو کام پر لگا دیا تھا اور بہت ایونٹ آرگنائزر کو ہائیر کیا تھا جن کو 6 گھنٹوں کا ٹآئیم دیا تھا اور اب ان کی محنت سے میرر ہاؤس کو پھولوں اور برقی قمقموں سے سجا دیا گیا تھا اور خاص خیال لائٹینگ کا رکھا گیا تھا جو ہر فنگشن کے کلر تھیم کے لحاظ سے جگمگانی تھی مایوں کے لیے ییلّو لائٹ کا انتخاب کیا گیا تھا مہندی کے لیے گرین ییلّو اور بلو لائٹ کو چوز کیا گیا جس کی وجہ سے شیشے کے بنے عالیشان میرر ہاؤس مختلف قسم کے رنگوں سے جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔ اور اسی طرح میران مینشن اور اسفند ہاؤس کو بھی سجایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
آنے والے مہمان ستاآئش سے اس عالیشان شیشے کے محل کو دیکھ رہے تھے سب مہمان آچکے تھے اور زویا جاناں اور نور اس وقت ولی برہان ملک کے کمرے میں تھیں جن کی خوائش پر ولی نے ان کو وہاں رهنے کی اجازت دے دی تھی ۔
آمنہ بیگم اور صوفیہ بیگم اور ماہین آنے والے سب مہمانوں سے مل رہی تھی اور ان کے کھانے پینے کا انتظام ملازموں کے حصے تھا جو باخوبی نیبھا رہے تھے جانتے تھے ذرا سی غلطی اور اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ۔جبکہ سب مرد حضرات اسفند ملک ہاؤس میں تھے ۔
“کتے ،کمینے اتنا تیل کیوں لگا رہا ہو پہلے ہی تو نے اتنا سارا ابٹن لگا دیا ہے تو میرے ہاتھ چھوڑ ایک دفع پھر تجھے بتاؤں گا ۔۔”
شازل زور سے چیخا مگر یہاں اثر کسے ہونا تھا ۔وه وائٹ قمیض شلوار پہنے بہت ہینڈسم لگ رہا تھا مگر اس وقت تیل اور ابٹن سے زرام اور اسکے کزنز نے بہت برا حال کر دیا تھا اس لیے وه چیخ رہا تھا ۔